(+92) 319 4080233
مولانا محمد اجمل خان رحمہ اللہ
آفتابِ شریعت و مہتابِ طریقت اور شناورِ حقیقت ، یادگار اسلاف بطلِ حُرِّیَّت پیکرِ اخلاص و وفا صدائے حق و صداقت مولانا محمد اجمل خان سن 1930 کو صوبہ KPK کے ضلع ہری پور کی نواحی بستی گاؤں کلینجر میں استاذ العلماء، یادگار اسلاف، حضرت مولانا غلام ربانی رحمہ اللہ کے گھر پیدا ہوئے، آپ کے والد گرامی قدر استاذالعلماء، حضرت مولانا غلام ربانی اپنی ذات میں متنوع ہمہ جہت اور پہلو دار شخصیت تھے اکابر علماءِ حق کی فکر ونظر کے امین اور ان کے مشنِ توحید وسنت کے پانی دیوا تھے، جس کا اندازہ ان کے مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ دہلوی رحمہ اللہ کے ساتھ سیاسی اور جماعتی تعلق سے لگایا جاسکتا ہے، اسی طرح حضرت مولانا غلام ربانی رحمہ اللہ کے پھوپھی زاد بھائی حضرت مولانا احمد رحمہ اللہ نہ صرف عالم اسلام کی عظیم یونیورسٹی دار العلوم دیوبند کے فاضل بلکہ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ کے استاذ بھی تھے۔

وادی کلینجر میں سارقین ختم نبوت کی آمد اور علماء حق کا احقاقِ حق و ابطال باطل کا مثالی کردار
وادی کلینجر کو ایک گاؤں سمجھ کر قادیانی مناظروں نے جب ادھر کا رخ کیا تو حضرت مولانا غلام ربانی رحمہ اللہ نے انہیں مضبوط علمی دلائل سے شکست دی اور بھاگنے پر مجبور کیا مولانا غلام ربانی رحمہ اللہ کو جہاں بھی ختم نبوت کے باغیوں کی سرگرمیوں کا علم ہوتا تو آپ فوراً باطل قوتوں کا تعاقب کرنے کے لیے کمر بستہ ہو جاتے تھے، آپ کی ان کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج وادی کلینجر فتنہ قادیانیت کی زہر ناکیوں سے ہمیشہ کیلئے محفوظ وادی تصور کی جاتی ہے گویا مولانا ریاست علی ظفر بجنوری رحمہ اللہ نے آپ کے لیے کہا ہو :

ا
اس وادی گل کا ہر زرہ خورشید جہاں کہلایا ہے

جو رند یہاں سے اٹھاہے وہ پیر مغاں کہلایاہے

اس بزم جنوں کے دیوانے ہر راہ سے پہنچنے یزداں تک

ہیں عام ہمارے افسانے دیوار چمن سے زنداں تک

مولانا امیر عبداللہ رحمہ اللہ ، جامع المعقول و المنقول استاذ العلماء حضرت مولانا امیر عبداللہ رحمہ اللہ خطیب اسلام مولانا اجمل خان رحمۃ اللہ کے دادا جان تھے ۔ اپنے وقت کے محقق عالم دین اور کہنہ مشق مدرس تھے، خیبر پختونخوا اور ہزارہ کے ہزاروں تشنگانِ علوم ومعارف نے آپ سے مختلف علوم وفنون کی کتب پڑھنے کی سعادت حاصل کی ۔ مولانا امیر عبد اللہ رحمہ اللہ کی اہلیہ محترمہ نواب آف ریاست امب کے قاضی القضاء قاضی جلال الدین کی صاحبزادی اور علم و ادب میں بہت اونچے مقام پر فائز تھی ، حدیث مبارکہ کی مشہور کتاب مشکواۃ شریف اور علمِ فقہ کی معرکۂ آرا کتاب ہدایہ کی حافظہ تھیں،

خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان کے والد گرامی نے مشکواۃ شریف اور ہدایہ اپنی والدہ ماجدہ سے پڑھنے کی سعادت حاصل کی تھی مولانا امیر عبداللہ رحمہ اللہ نصف صدی سے زائد عرصہ تک وہ مرکزی جامع مسجد کلینجر میں پڑھاتے رہے آپ کے اندازِ تدریس و طریقۂ تعلیم کے عام فہم انداز و اسلوب کے باعث شائقینِ علم و عرفاں ان کے گرد اس طرح جمع ہوتے جس طرح شبابِ شب میں ایک شمع رات کی تاریکیوں اور سہم ناکیوں سے بے نیاز ، بے پرواہ ہو کر تن تنہا جل کر پروانوں کو آداب سوختی بخشتی ہے بقول علامہ مضطر عباسی رحمہ اللہ

وفور شوق میں رندوں کو آج پینے دے

بلا حساب کہ ساقی بہار آئی ہے

ترا سوال کہ میں بے حساب پیتا ہوں

مرا جواب کہ ساقی بہار آئی ہے

مولانا شمس الاسلام رحمہ اللہ ،
حضرت مولانا شمس الاسلام رحمہ اللہ خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان رحمہ اللہ کے بڑے بھائی اور دار العلوم دیوبند کے فاضل،شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی رحمہ اللہ کے شاگرد اور فیض یافتہ تھے، جن کے فیوض و برکات آپ کی زندگی میں نمایاں نظر آتے تھے بقول اسد خان ملتانی

دل اے مسلم ترا اس عشق کی تفسیر ہو جائے

کہ جس سے کائناتِ دوجہاں تسخیر ہو جائے

ہے یہ بھی ایک مظہر رحمۃ للعالمینی کا

پھر اسلامی اخوت کیوں نہ عالم گیر ہو جائے

نبی ﷺ کا اسوۂ حسنہ مجھے یہ درس دیتا ہے کہ میری زندگی قرآن کی تفسیر ہو جائے
میں چند پھول کیسے چنوں سارا گلستان ہی سیر و مشاہدہ چاہتا ہے اور دل و نظر میں جذب ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے یہ پورا خاندان ہی علم و فضل وکمال کا مجسمہ اور نمونہ ہے بقول شاد عظیم آبادی

گلچیں وہاں چناؤ میں کیا کامیاب ہو

ہر پھول جس چمن کا گل نایاب ہو

خطیب اسلام کی ابتدائی تعلیم و تربیت
خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان رحمہ اللہ نے ابتدائی تعلیم و تربیت والد گرامی قدر مولانا غلام ربانی رحمہ اللہ سے حاصل کی، بعد ازاں والد گرامی قدر کے علمی وروحانی دوست رفیق و شفیق، مشفق و مہرباں یادگار اسلاف محسن امت، فخر المدرسین حضرت مولانا خلیل الرحمن سکندرپوری رحمہ اللہ سے دورۂ حدیث تک شرف تلمذ حاصل کیا ، مولانا خلیل الرحمن سکندر پوری رحمہ اللہ کی،پوری،زندگی قرآن وحدیث کی تعلیم و تدریس میں گزاری اور ہزاروں تشنگانِ علوم ومعارف ان کی مسند تدریس سے بادہ صافی سے سیراب ہو کر گئے آپ کی زندگی کا مشن و کاز گویا اس شعر کی مانندتھا ؎

ساز و ساماں پر غرور ان کو ہمیں ایماں پر ناز

ملت اپنی مختلف ہے دوسری اقوام سے

خود نمونہ بن کے پھر آگاہ کرنا ہے ہمیں

ساری دنیا کو رسول اللہ کے پیغام سے

ہے اسد اپنے لیے اور چشمۂ قوت یہی

پختگی حاصل کریں قرآن کے احکام سے

خطیب اسلام کی لاہور آمد و خطابت و تدریس ،
1947خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان رحمۃ اللہ نے سکندر پور ضلع ہری پور میں یادگار اسلاف جامع المعقول و المنقول حضرت مولانا خلیل الرحمن سکندرپوری رحمہ اللہ کے زیر سایہ تمام علوم میں سند فضیلت حاصل کرنے کے بعد لاہور کیلئے رختِ سفر باندھا ، جہاں نیلا گنبد میں شعبہ عربی میں تدریس کا آغاز فرمایا اور اپنے اچھوتے اندازِ تعلیم و تدریس حسنِ تکلم و دعوت و ارشاد سے شا ئقین علوم وفنون کے دل جیت لیتے اختتام درس پر تشنگانِ علوم ومعارف دل کی گہرائی سے پکارتے

خم لگادے مرے منہ سے ترے مے خانے کی خیر

ایک دو جام سے ساقی مرا کیا ہوتا ہے

جامعہ اشرفیہ لاہور آمد و دورہ حدیث

خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان رحمہ جب لاہور تشریف لے گئے تو آپ کے دل میں ایک بار پھر دورہ حدیث کی محبت انگڑائیاں لینے لگی تو آپ عالم اسلام کے عظیم ادارے جامعہ اشرفیہ لاہور تشریف لے گئے اور بانی جامعہ ھذا حضرت مولانا مفتی محمد حسن رحمہ اللہُ ، استاذ المحدثین حضرت مولانا ادریس کاندھلوی رحمہ اللہُ جامع المعقول و المنقول حضرت مولانا رسول خان ہزاروی رحمہ اللہُ ،حضرت مولانا مفتی محمد جمیل تھانوی رحمہ اللہُ جیسی نابغہ روزگار ہستیوں سے استفادہ کیا ۔

مولانا محمد اجمل خان کی جامع مسجد رحمانیہ لاہور آمد
یادگار اسلاف مفسر قرآن امام الاولیاء حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ کے پاس،قلعہ گجر سنگھ سے دینی تعلیم و تدریس، دعوتِ ارشاد کا درد و فکر رکھنے والے کچھ احباب کرام تشریف لائے ، حضرت سے درخواست کی کہ ہمیں امامت وخطابت کیلئے کوئی ایسا خطیب ضرورت ہے جو توحید وسنت کا مبلغ ہو اکابر علماء اہلسنت کی فکر و نظر اور منہج کا پابند علمی استعداد اور صلاحیتوں کا حامل ہو ، ہمارے ہاں جو علمی و فکری تشنگی ہے اس کا ازالہ ممکن ہو سکے،حضرت لاہوری رحمہ اللہ نے جب ان کی دینی ہمدردی و ایثار کا جذبہ دیکھا تو حضرت لاہوری رحمہ اللہ نے خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان کو بطور خطیب و مبلغ کے وہاں بھیج دیا بس پھر کیا تھا۔ گویا شاعر نے انہیں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہو کہ

صحنِ چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا

وہ آئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے

جامع مسجد رحمانیہ ایک چھوٹی سی مسجد تھی نمازیوں کے رش کی وجہ سے وسیع مسجد میں تبدیل ہوئی ،لیکن نمازیوں کی تعداد ہر آنے والے جمعۃ المبارک کے اجتماع کے ساتھ میں بڑھتی چلی گئی ، ایبٹ روڈ گراؤنڈ میں ہزاروں تک اجتماع پہنچا سڑکیں گراؤنڈ اپنی تنگ دامانی کی شکایت کرنے لگے، کیونکہ خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان جس موضوع پر بھی گفتگو فرماتے تھے دلائل کے انبار لگا دیتے تھے معلومات کا مینہ یوں برستا کہ سننے والے حیرت میں ڈوب جاتے ،اس پر مستزاد یہ کہ پوری روانی کے ساتھ پرمعانی الفاظ کو موتیوں کی لڑی میں پروتے چلے جاتے اور یہ منظر سحر بیانی کی شکل اختیار کر لیتا علماء و مشائخ اور عوام یکساں طور پر مسحور ہوتے آپ جس عنوان پر لب کشائی فرماتے اس کا حق ادا فرماتے۔ علمی و تحقیقی فکری و نظریاتی گفتگو کرتے وقت۔ آپ کی آنکھیں جلالِ علم کا منظر پیش کرتیں۔ بقول شاعر ،

تیری زباں کے پھول تھے دراہائے آبدار

تیرے بیاں پہ فن خطابت کو ناز تھا

دل و دماغ تیرے قدرت کا معجزہ

سینہ تیرا مدینہ سوز و گداز تھا

درس قرآن مجید کا حلقہ
دورس قرآن مجید اور لاہور کی تاریخ لازم و ملزوم ہے ، جس کے ساتھ اکابر علماء ومشائخ کی لازوال قربانیاں تاریخ میں سنہری حروف میں لکھی گئی ہیں ، اسی سلسلہ کی کڑی و تسلسل مولانا محمد اجمل خان کے دروس تھے ، خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان رحمہ اللہ قرآن و سنت کے مخلص و وفا شعار مبلغ تھے آپ کا اوڑھنا بچھونا ہی قرآن مجید کی دعوت تھا ۔ لاہور میں آپ کے خطبۂ جمعۃ المبارک کے ساتھ ساتھ آپ کی وجہ شہرت ایک یہ بھی تھی کہ دن میں دو مرتبہ قرآن مجید کا درس ارشاد فرماتے تھے۔ نماز فجر کے بعد عمومی درس ہوتا تھا اور نماز ظہر کے بعد خصوصی درس قرآن مجید کا سلسلہ تاحیات جاری رہا ،جس میں مختلف علمی و ادبی سیاسی و سماجی شخصیات وکلا و ڈاکٹر شریک ہوتے تھے ،اس سلسلہ میں آپ کی تفہیم قرآن مجید کے لیے تدریس القرآن کی دو جلدیں ہر شعبہ زندگی کے افراد کے لیے لاجواب تحفہ ہیں ۔

حضرت لاہوری رحمہ اللہ کی جامع مسجد رحمانی آمد
حضرت مولانا احمد علی لاہوری رحمہ اللہ، خطیب اسلام کی دعوت پر جامع مسجد رحمانیہ تشریف لائے درس قرآن کریم ارشاد فرمایا،ان بزرگوں کی محبتوں شفقتوں ،عنایات و ہم نشینی کا اثر اور اعتماد تھا کہ نکھرتے اور قرآن وحدیث کے موتی بکھیرتےچلے گئے ۔ بقول جگر

میرا کمال عشق بس اتنا ہے اے جگر

وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا

وفات حسرت آیات ،
یادگار اسلاف صدائے حق و صداقت اکابر علماء حق کی یہ نشانی، 21مئ 2002 بروز بدھ 9ربیع الاول کو علم وعمل کا یہ چراغ علم و عرفاں کا شناور ، اقلیمِ شاہِ خطابت ارض وطن سے دیار غیر تک ایک جہاں کو قرآن و سنت کی روشنی بکھیر کر غروب ہوگیا،آپ کی مسند کے جانشین خطیب ابن خطیب خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان کی مسند نشین مولانا محمد امجد خان ، حضرت مولانا محمد اجمل خان رحمۃ اللہ مولانا محمد،امجد خان مدظلہ العالی کی، صورت میں بہترین جانشین چھوڑ کے گئے جو ناصرف والد گرامی قدر رحمہ اللہ کی علمی و ادبی مسند پر رونق بخشے ہوئے ہیں بلکہ علم و ادب فکر و نظر کی امینی و جانشینی کا حق ادا کر رہے ہیں فکری و نظریاتی سیاسی اور سماجی طور پر بھی عہدِ وفا بنارہے ہیں ، خطیبِ اسلام کا تحفظِ ختم نبوت کے عنوان سے والہانہ عشق ومحبت آپ کا یہ جملہ زبان زد عام ہے عقیدہ ختم نبوت ایمان کی حیات ہے یہ عقیدہ ہے تو ایمان زندگی ہے اگر یہ عقیدہ نہیں تو نہ جان باقی ہے نہ ایمان باقی ہے، یہ عقیدہ سارے عقائد کا محافظ ہے ۔ مولانا ظفر علی خان رحمہ اللہ کے یہ اشعار جھوم جھوم کر پڑھا کرتے تھے ،

نماز اچھی روزہ اچھا حج اچھا زکوٰۃ اچھی ،

مگر باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا ،

نہ جب تک کٹ مروں خواجہ بطحاء کی عزت پر ،

خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا ،

نماز جنازہ اور تدفین
لاہور میں نماز جنازہ یادگار اسلاف عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر سید نفیس الحسینی شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے پڑھائی اور ضلع ہریپور کے نواحی گاؤں وادی کلینجر میں آپ کی نماز جنازہ قائد ملت اسلامیہ حضرت مولانا فضل الرحمن مدظلہم نے پڑھائی،

کیا لوگ تھے جو راہِ وفا سے گزرگے

جی چاہتا ہے کہ نقش قدم چومتے چلیں

کالم نگار : محمدسعدندیم
| | |
45    
جامعه بنوریه عالمیه

جامعہ بنوریہ عالمیہ کے پلیٹ فارم سے شائع ہونے والے کالمز نیک نیتی ا، رواداری ، باہمی ہم اہنگی اور اسلامی معلومات کے تناظر میں ہوتے ہیں ، کسی فرد یا گروہ کی دل آزاری قطعا پیش نظر نہیں ہوتی ہے ، کالمز مقررہ کونسل سے نظر ثانی کے بعد قابل اشاعت ہوتے ہیں ، لیکن ایک تحریر کسی کالم نگار کے سوچ کا آئنہ ہوتی ہے جس سے ادارے یا کسی بھی فرد کو اختلاف رائے کا حق ہے ۔

مزید پڑہیں
سوشل میڈیا

فالو ، شیئر ، سبسکرائب، لائک

خط و کتابت

جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی پاکستان ، پی او باکس نمبر 10698.

Visit Website
Google Map
Save Contact