عشقِ خلیلؑ اور کائنات کا سب سے کٹھن امتحان:
کائنات کے اس بے پایاں، خاموش اور ریاضیاتی اصولوں پر کھڑے نظام میں اگر کوئی ایک جذبہ ایسا ہے جو تمام طبعی قوانین (Physical Laws) کو مات دے سکتا ہے، جو زمان و مکان کی حدود کو توڑ سکتا ہے اور جو انسان کے فرنٹل کورٹیکس (Frontal Cortex) یعنی اس کی عقل اور منطق کو مکمل طور پر شٹ ڈاؤن کر کے اسے ایک ماورائی ڈائمینشن میں لے جا سکتا ہے، تو وہ جذبہ 'عشق' ہے۔
اور جب یہ عشق کسی فانی انسان سے نکل کر اس کائنات کے خالق، اس کے الٹیمیٹ ماسٹر مائنڈ کے ساتھ جڑ جائے، تو پھر وہ تاریخ رقم ہوتی ہے جسے انسانی شعور آج تک ہضم کرنے سے قاصر ہے۔
آج میرے قلم کا رخ کسی عام واقعے کی طرف نہیں ہے، بلکہ آج میں آپ کو تاریخِ انسانیت کے اس سب سے لرزہ خیز، سب سے رقت آمیز اور سب سے کٹھن نفسیاتی و الہیاتی امتحان کی طرف لے کر جا رہا ہوں جس کے تصور ہی سے آج بھی نیک لوگ کانپ اٹھتے ہیں۔
یہ کوئی افسانہ نہیں، کوئی دیومالائی کہانی نہیں، بلکہ یہ اس کائنات کی بائیولوجیکل، نفسیاتی اور روحانی فزکس کا وہ الٹیمیٹ ٹیسٹ (Ultimate Test) تھا جہاں ایک باپ کو اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے جگر کے ٹکڑے کی شہ رگ پر چھری چلانے کا حکم دیا گیا تھا۔
ذرا اپنے دلوں کو تھام لیجیے، اپنے احساسات کو بیدار کیجیے اور تصور کی آنکھ سے تاریخ کے اس کائناتی کینوس کو دیکھیے جہاں خلیل اللہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہیں۔
ابراہیم علیہ السلام کوئی عام انسان نہیں تھے، وہ 'خلیل' تھے۔
خلیل کا مطلب محض دوست نہیں ہوتا، عربی لغت میں خلیل اس دوست کو کہتے ہیں جس کی محبت آپ کے رگ و پے میں، آپ کے خلیوں (Cells) میں سرایت کر چکی ہو اور جس کے بعد دل میں کسی اور کی محبت کے لیے ایک رتی برابر بھی جگہ باقی نہ بچے۔
اللہ نے انہیں اپنا خلیل چنا تھا، لیکن کائناتی اصول ہے کہ محبت جتنی بڑی ہوتی ہے، اس کا امتحان، اس کا لٹمس ٹیسٹ (Litmus Test) بھی اتنا ہی سفاک اور کٹھن ہوتا ہے۔
ابراہیم علیہ السلام کی پوری زندگی امتحانات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ تھی۔
ذرا سوچیے، جب انہیں نمرود کی دہکتی ہوئی آگ میں پھینکا گیا، تو وہ ان کے 'جسم' اور ان کے مادی وجود (Physical Survival) کا امتحان تھا۔
جب انہیں اپنی نوجوان بیوی حضرت ہاجرہ اور دودھ پیتے معصوم بچے اسماعیل کو مکہ کے اس بے آب و گیاہ، سیاہ اور بنجر پہاڑوں والے ریگستان میں تنہا چھوڑنے کا حکم ملا، جہاں نہ پانی تھا نہ کوئی انسان، تو وہ ان کے 'توکل' کا امتحان تھا۔
لیکن ابھی کائنات کا سب سے بڑا، سب سے خوفناک اور جذبات کو چیر دینے والا امتحان باقی تھا، ایک ایسا امتحان جس نے بائیولوجی اور نفسیات کے تمام اصولوں کو سجدے میں گرا دینا تھا۔سال گزرتے گئے، مکہ کی وہ بنجر وادی زمزم کے چشمے سے آباد ہو چکی تھی۔ وہ دودھ پیتا بچہ، جسے ایک بے رحم صحرا میں اللہ کے سہارے چھوڑا گیا تھا، اب ایک خوبصورت، کڑیل اور فرمانبردار نوجوان بن چکا تھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام اب اس عمر کو پہنچ چکے تھے جسے قرآن نے "سَعْيَ" کہا ہے، یعنی وہ عمر جب بیٹا باپ کے ساتھ دوڑنے، چلنے پھرنے اور اس کا ہاتھ بٹانے کے قابل ہو جاتا ہے۔
ذرا ایک باپ کی نفسیات (Father's Psychology) کو سمجھیں!
ابراہیم علیہ السلام کی عمر چھیاسی سال سے متجاوز ہو چکی تھی۔ ایک انسان جو جوانی سے لے کر بڑھاپے کی آخری سرحدوں تک ایک اولاد کے لیے ترستا رہا ہو، جس نے راتوں کے اندھیروں میں اپنے رب کے سامنے گڑگڑا کر، رو رو کر دعائیں مانگی ہوں کہ "رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ"[سورۃ الصافات: 100]
(اے میرے رب! مجھے ایک نیک بیٹا عطا فرما)
اور پھر جب زندگی کی شام ڈھلنے لگے، جب ہڈیاں کمزور ہو جائیں، تو اسے ایک چاند سا بیٹا عطا کیا جائے۔ یہ بیٹا محض ایک اولاد نہیں تھا، یہ دہائیوں کی دعاؤں کا ثمر تھا، یہ بڑھاپے کی لاٹھی تھا، یہ ایک بائیولوجیکل اور جذباتی معجزہ تھا۔
سائنس اور نفسیات:
سائنس اور نفسیات بتاتی ہے کہ جب انسان کو کوئی نعمت طویل اور اذیت ناک انتظار کے بعد ملتی ہے، تو اس کے ساتھ انسان کی جذباتی وابستگی (Emotional Attachment) عام نعمتوں سے ہزار گنا زیادہ ہوتی ہے۔ باپ کے دماغ میں ریلیز ہونے والا آکسی ٹوسن (Oxytocin) اور ڈوپامائن (Dopamine) اس بیٹے کی ایک مسکراہٹ پر اسے دنیا کا ہر غم بھلا دیتا تھا۔ ابراہیم علیہ السلام جب اپنے اس خوبرو اور فرمانبردار بیٹے کو اپنے ساتھ چلتا دیکھتے، تو ان کے بوڑھے دل میں محبت کا ایک سمندر ٹھاٹھیں مارنے لگتا۔ یہ محبت ایک طبعی، فطری اور بائیولوجیکل ضرورت تھی۔ لیکن کائنات کے ماسٹر مائنڈ کے الہامی ڈسپلن میں 'خلیل' کے دل میں کسی دوسری محبت کا اس حد تک بڑھ جانا کہ وہ اللہ کی محبت کے متوازی (Parallel) کھڑی ہونے لگے، یہ الہیاتی فزکس کے خلاف تھا۔ اللہ کو اپنے خلیل کا دل سو فیصد خالص چاہیے تھا۔ اور پھر وہ رات آئی جس نے تاریخ کے رخ کو موڑ دیا۔
رات کا پچھلا پہر تھا، کائنات پر ایک عجیب سی خاموشی طاری تھی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام سو رہے تھے کہ اچانک عالمِ رویا (خواب کی دنیا) میں ایک منظر دکھایا گیا۔ کیا منظر تھا؟ ایک باپ، اپنے ہی ہاتھوں سے، اپنے اس اکلوتے، چہیتے اور بڑھاپے کے سہارے کو زمین پر لٹا کر اس کی گردن پر چھری چلا رہا ہے۔
ذرا اس لمحے کی ہیبت کو محسوس کریں!
کوئی عام انسان یہ خواب دیکھے تو وہ چیخ مار کر اٹھ بیٹھے، پسینے میں شرابور ہو جائے اور اسے ایک بھیانک ڈراؤنا خواب (Nightmare) سمجھ کر بھولنے کی کوشش کرے۔ لیکن ابراہیم علیہ السلام جانتے تھے کہ یہ کوئی عام خواب نہیں ہے۔ انبیاء کے خواب محض دماغی خیالات یا لاشعور کی عکاسی نہیں ہوتے، بلکہ "رؤيا الأنبياء وحي" (انبیاء کے خواب وحی ہوتے ہیں)۔
کائنات کا الٹیمیٹ کنٹرول روم انہیں براہِ راست ہدایات دے رہا تھا۔ یہ خواب انہیں ایک رات، پھر دوسری رات، اور پھر مسلسل تیسری رات دکھایا گیا۔ اب کوئی شک باقی نہیں رہا تھا۔ یہ کائنات کے رب کا اٹل اور حتمی فیصلہ تھا، ایک ایسا الہامی آرڈر (Divine Order) جس پر عمل درآمد کرنا ناگزیر تھا۔ لیکن ذرا اس حکم کی نفسیاتی اور جذباتی شدت پر غور کریں!
اللہ نے یہ نہیں کہا کہ اسماعیل کو کوئی بیماری آ کر مار دے گی، یا کوئی فرشتہ آ کر اس کی جان نکال لے گا، یا کسی حادثے میں وہ دنیا سے چلا جائے گا۔ نہیں! حکم یہ تھا کہ "اے خلیل! تو نے اپنے ہاتھ سے اسے ذبح کرنا ہے"۔
کیوں؟ کیونکہ اللہ ابراہیم علیہ السلام کو نہیں، بلکہ ابراہیم علیہ السلام کے دل میں موجود اس 'محبت' کو ذبح کروانا چاہتا تھا جو خالق کی محبت کے مدمقابل آ رہی تھی۔ معاذ اللہ یہ کوئی خون کا پیاسا خدا نہیں تھا (حاشا وکلا)، کائنات کا رب تو رحمن اور رحیم ہے، اسے اسماعیل علیہ السلام کا خون نہیں چاہیے تھا، اسے تو ابراہیم علیہ السلام کا وہ الٹیمیٹ سرنڈر (Absolute Surrender) چاہیے تھا جہاں عقل، منطق، بائیولوجی اور باپ کی ممتا سب کچھ اللہ کے حکم کے سامنے گھٹنے ٹیک دے۔
صبح طلوع ہوئی۔ مکہ کی فضاؤں میں ایک نامعلوم سی اداسی تھی۔ ابراہیم علیہ السلام کی آنکھوں میں رات بھر کے بیداری کے آثار تھے۔ وہ اپنے بیٹے کی طرف دیکھتے تو دل میں پدراہٹ و باپتا کا ایک طوفان اٹھتا۔ وہ چہرہ جسے دیکھ کر ان کی آنکھوں میں چمک آ جاتی تھی، آج اسی چہرے پر انہیں موت کے سائے نظر آ رہے تھے۔ وہ گردن جس پر وہ پیار سے بوسہ دیا کرتے تھے، آج اسی گردن پر انہیں تیز دھار چھری چلانی تھی۔ ایک عام انسان کا اعصابی نظام اس سوچ سے ہی مفلوج ہو جائے، اس کا ہارٹ فیل ہو جائے، لیکن وہ اولوالعزم نبی تھے۔ انہوں نے اپنے جذبات پر قابو پایا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں ایک باپ کی طبعی محبت اور ایک نبی کی الہامی اطاعت کے درمیان تاریخ کی سب سے بڑی جنگ لڑی جا رہی تھی۔ انہوں نے چھری اور رسی لی اور اپنے لختِ جگر سے کہا کہ بیٹا آؤ، میرے ساتھ وادی کی طرف چلو۔ اسماعیل علیہ السلام، جو سراپا ادب اور فرمانبرداری کا پیکر تھے، خاموشی سے اپنے بوڑھے باپ کے قدم سے قدم ملا کر چلنے لگے۔ چلتے چلتے وادیِ منیٰ کے اس ویران مقام پر پہنچ گئے جہاں کوئی دوسرا انسان موجود نہیں تھا۔
اب وقت آ گیا تھا کہ اس کائناتی راز سے پردہ اٹھایا جائے۔ ابراہیم علیہ السلام رکے۔ انہوں نے مڑ کر اپنے نوجوان بیٹے کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تھے، آواز میں ایک عجیب سا دکھ اور ایک باپ کی تڑپ تھی، مگر لہجے میں وحی کا الہامی جلال تھا۔ وہ اپنے رب کا حکم چھپا نہیں سکتے تھے۔ لیکن یہاں قرآنِ مجید نے انسانی نفسیات اور تربیت کا وہ شاہکار منظر پیش کیا ہے جو رہتی دنیا تک کے لیے ایک کائناتی نصاب ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اچانک اسماعیل کو پکڑ کر زمین پر نہیں گرایا، انہیں زبردستی رسیوں سے نہیں باندھا۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو اس الہامی قربانی میں ایک 'شریک' (Participant) بنایا، اسے ایک اندھا مظلوم نہیں بنایا۔ انہوں نے انتہائی شفقت، محبت اور دکھ بھرے لہجے میں اپنے بیٹے کو مخاطب کیا اور وہ تاریخی الفاظ کہے جنہیں قرآن نے سورہ الصافات کی آیت 102 میں ہمیشہ کے لیے منجمد کر دیا ہے: "يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَى" (اے میرے پیارے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں، پس تو سوچ کر بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟)۔ ذرا اس جملے کی گہرائی، اس کی رقت اور اس کے اندر چھپے ہوئے ایک باپ کے درد کو محسوس کریں!
"یا بنیّ" (اے میرے چھوٹے سے پیارے بیٹے)، یہ وہ لفظ ہے جو عربی میں انتہائی لاڈ، محبت اور شفقت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ باپ کہہ رہا ہے کہ بیٹا، میرا رب مجھ سے تیری جان مانگ رہا ہے، اور وہ بھی میرے ہی ہاتھوں سے۔ میں مجبور ہوں، میں بندہ ہوں، لیکن میں تیری مرضی جاننا چاہتا ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ تو اس کائناتی امتحان میں میرا ساتھ دے، کیونکہ اگر تو نے مزاحمت کی تو ایک باپ کے لیے یہ حکم بجا لانا اور بھی ناممکن ہو جائے گا۔اب پوری کائنات کی سانسیں رکی ہوئی تھیں۔ آسمان کے فرشتے حیرت سے اس باپ اور بیٹے کے مکالمے کو دیکھ رہے تھے۔ زمان و مکان کا پہیہ گویا تھم گیا تھا۔ مادی دنیا کی فزکس ساکت تھی۔ ایک نوجوان، جس کی زندگی ابھی شروع ہوئی تھی، جس کے سامنے اس کی پوری جوانی، اس کے خواب، اس کی امنگیں کھڑی تھیں، اس سے اس کی جان مانگی جا رہی تھی، اور وہ بھی اس کے اپنے باپ کے ہاتھوں۔
نفسیاتی طور پر ایک نوجوان کا پہلا ردعمل کیا ہونا چاہیے تھا؟
وہ چیخ پڑتا، وہ بھاگ جاتا، وہ کہتا کہ "بابا آپ کو کوئی ڈراؤنا خواب آیا ہے، آپ کا دماغ بڑھاپے کی وجہ سے خراب ہو گیا ہے، آپ مجھے کیسے مار سکتے ہیں؟" لیکن کائنات کے ماسٹر مائنڈ کو معلوم تھا کہ جس طرح خلیل کا دل دنیاوی کثافتوں سے پاک ہے، اسی طرح اس کی نسل بھی خالص ہے۔ اس نوجوان بیٹے نے اپنے بوڑھے اور آنسوؤں سے تر باپ کی آنکھوں میں دیکھا، اور اس کے منہ سے جو جواب نکلا، اس نے عرشِ الٰہی کو بھی محبت اور وجد میں ہلا کر رکھ دیا...اس نوجوان، خوبرو اور فرمانبردار بیٹے نے اپنے بوڑھے اور آنسوؤں سے تر باپ کی آنکھوں میں دیکھا، اور اس کے منہ سے جو جواب نکلا، اس نے عرشِ الٰہی کو بھی محبت اور وجد میں ہلا کر رکھ دیا۔
یہ جواب کسی عام انسانی دماغ کی پیداوار نہیں تھا، یہ وہ کائناتی اور الٹیمیٹ سرنڈر (Absolute Surrender) تھا جہاں فزکس، بائیولوجی اور انسانی بقا کی جبلت (Survival Instinct) نے وحیِ الٰہی کے سامنے مکمل طور پر گھٹنے ٹیک دیے تھے۔
قرآنِ مجید نے اس تاریخی، لرزہ خیز اور رقت آمیز جواب کو قیامت تک کے لیے اس طرح محفوظ کر دیا: "قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ" (کہنے لگا: اے میرے پیارے ابا جان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے، اسے کر گزریے، ان شاء اللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے)۔ ذرا اس جملے کی الہیاتی اور نفسیاتی ڈائمینشن (Psychological Dimension) کو سمجھنے کی کوشش کریں!
ایک نوجوان بیٹا جسے موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے، وہ اپنے باپ کو ظالم نہیں کہہ رہا، وہ بغاوت نہیں کر رہا، بلکہ وہ محبت کی انتہا پر کھڑے ہو کر لفظ "يَا أَبَتِ" (اے میرے پیارے ابا جان) استعمال کر رہا ہے۔
اس نے یہ نہیں پوچھا کہ "مجھ سے کیا گناہ ہوا ہے؟"
یا "میری جان کیوں لی جا رہی ہے؟"
کیونکہ اس کا کگنیٹو سسٹم (Cognitive System) اور اس کا الہامی شعور یہ بات پوری طرح ڈی کوڈ (Decode) کر چکا تھا کہ یہ فیصلہ زمین کا نہیں، بلکہ ساتویں آسمان کے اس کنٹرول روم کا ہے جہاں سے کائنات کی فزکس آپریٹ ہوتی ہے۔
اسماعیل علیہ السلام نے یہ نہیں کہا کہ "میں صبر کروں گا اور آپ کو دکھاؤں گا کہ میں کتنا بہادر ہوں"، بلکہ اس نوجوان کی عاجزی اور بندگی کی معراج دیکھیے کہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی وہ اپنی طاقت پر بھروسہ نہیں کر رہا، بلکہ کہہ رہا ہے کہ
"إِن شَاءَ اللَّهُ" (اگر میرے رب نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے)۔
یہ وہ مقام تھا جہاں باپ اور بیٹے، دونوں نے اپنی انفرادی انا، اپنی مادی حقیقت اور اپنے بائیولوجیکل وجود کو کائنات کے ماسٹر مائنڈ کے حضور مکمل طور پر فنا کر دیا تھا۔ یہ زمین پر پیش آنے والا تاریخ کا وہ واحد واقعہ تھا جہاں قاتل بھی اللہ کی رضا کے لیے قتل کر رہا تھا اور مقتول بھی اللہ کی رضا کے لیے اپنی گردن کٹوانے پر مسکرا رہا تھا۔اس عظیم الشان اور کائناتی فیصلے کے بعد، جب یہ دونوں باپ بیٹے وادیِ منیٰ کی طرف اپنے حتمی سفر پر روانہ ہوئے، تو کائنات کی وہ تاریک اور منفی طاقت، جسے ہم ابلیس یا شیطان کہتے ہیں، اپنے پورے وجود کے ساتھ لرز اٹھی۔ شیطان نے سوچا کہ اگر آج خلیل اللہ نے اس الٹیمیٹ امتحان کو پاس کر لیا، تو زمین پر توحید اور بندگی کا ایک ایسا ناقابلِ تسخیر معیار قائم ہو جائے گا جسے قیامت تک کوئی توڑ نہیں سکے گا۔ چنانچہ اس نے ایک انتہائی منظم، نفسیاتی اور جذباتی وار کرنے کا فیصلہ کیا۔ وہ انسانی ذہن کی کمزوریوں اور اس کے ڈیفنس میکانزم (Defense Mechanism) کو بخوبی جانتا تھا۔
شیطان ایک ہمدرد اور خیر خواہ کا روپ دھار کر سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آیا۔ اس نے ان کے دماغ کے اس حصے پر حملہ کیا جہاں باپ کی ممتا اور بڑھاپے کا خوف آباد تھا۔ اس نے وسوسہ ڈالا کہ
"اے ابراہیم! تو کیا کرنے جا رہا ہے؟ کیا کوئی باپ اپنے ہی ہاتھوں سے اپنے بڑھاپے کے سہارے کو ذبح کرتا ہے؟ یہ کوئی اللہ کا حکم نہیں ہو سکتا، یہ ضرور تیرا کوئی وہم ہے، کوئی ڈراؤنا خواب ہے، اپنے ہی ہاتھوں اپنی نسل کو کیوں ختم کرتا ہے؟" ذرا ایک لمحے کے لیے اپنی جگہ اس بوڑھے باپ کو رکھ کر سوچیں!
شیطان کوئی عام دشمن نہیں، وہ انسان کے خون میں دوڑتا ہے، وہ منطق (Logic) کے وہ ہتھیار استعمال کرتا ہے جو بظاہر بالکل درست لگتے ہیں۔بائیولوجیکل نقطہِ نظر سے انسان کا سب سے بڑا مقصد ہی اپنی نسل (Genes) کی بقا ہوتا ہے۔ شیطان اسی بقا کی جبلت کو ابھار رہا تھا۔ لیکن وہ ابراہیم علیہ السلام تھے، کوئی عام انسان نہیں!
ان کا الہامی ریڈار اتنا طاقتور اور شفاف تھا کہ وہ فوراً سمجھ گئے کہ یہ عقل کی جو منطق دی جا رہی ہے، یہ دراصل شیطان کا کگنیٹو ٹریپ (Cognitive Trap) ہے۔ انہوں نے زمین سے سات کنکریاں اٹھائیں اور پوری کائناتی نفرت، جلال اور توحید کے غلبے کے ساتھ اس شیطان کو دے ماریں کہ "اے ملعون! دور ہو جا، میرے اور میرے رب کے درمیان اپنی یہ شیطانی اور مادی فزکس مت لے کر آ۔ "
آج صدیاں گزر جانے کے بعد بھی پوری دنیا کے مسلمان حج کے دوران منیٰ کے میدان میں انہی جمرات پر کنکریاں مارتے ہیں، جو دراصل اس بات کا الہامی اور نفسیاتی اعادہ ہوتا ہے کہ جب بھی اللہ کے حکم اور ہماری عقل یا خواہش کے درمیان تصادم ہوگا، ہم اپنی خواہش اور شیطان کی منطق کو اسی طرح پتھر مار کر رد کر دیں گے۔
جب شیطان حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کے ارادے سے ہٹانے میں بری طرح ناکام ہو گیا، تو اس نے اپنا رخ اس معصوم نوجوان، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی طرف موڑ لیا۔ وہ ان کے پاس آیا اور ان کے فرنٹل کورٹیکس (Frontal Cortex) کو ہیک کرنے کے لیے جوانی، زندگی کی امنگوں اور ممتا کا کارڈ کھیلا۔ اس نے کہا کہ "اے نوجوان! کیا تو جانتا ہے کہ تیرا باپ تجھے کہاں لے جا رہا ہے؟ وہ تجھے ذبح کرنے جا رہا ہے! وہ کہتا ہے کہ اسے اس کے خدا نے حکم دیا ہے۔ کیا تو اپنی اس خوبصورت جوانی کو، اس ہنستی کھیلتی زندگی کو محض ایک خواب کی بھینٹ چڑھا دے گا؟ تیری ماں ہاجرہ کا کیا بنے گا جو تیرے انتظار میں بیٹھی ہے؟"
شیطان کی یہ نفسیاتی بلیک میلنگ اتنی شدید تھی کہ کسی بھی عام انسان کا اعصابی نظام اس کے دباؤ سے ٹوٹ جاتا اور وہ بھاگ کھڑا ہوتا۔ لیکن شیطان یہ بھول گیا تھا کہ یہ نوجوان اس باپ کی نسل ہے جس نے دہکتی ہوئی آگ میں کودتے وقت بھی جبرائیل کی مدد لینے سے انکار کر دیا تھا۔ اسماعیل علیہ السلام مسکرائے اور پورے الہامی وقار کے ساتھ جواب دیا کہ " اگر یہ میرے رب کا حکم ہے، تو پھر میری جان اس کے حکم پر ہزار بار قربان ہے۔"انہوں نے بھی زمین سے کنکریاں اٹھائیں اور اس ملعون کو مار کر بھگا دیا۔ شیطان مایوس ہو کر حضرت ہاجرہ علیہا السلام کے پاس بھی گیا کہ شاید ایک ماں کی ممتا اس کائناتی قربانی میں رکاوٹ بن جائے، لیکن اس عظیم خاتون نے بھی جب یہ سنا کہ یہ اللہ کا حکم ہے، تو اس نے شیطان کو دھتکار دیا کہ "اگر میرے رب کا یہی فیصلہ ہے تو میں اس پر راضی ہوں۔"یہ وہ لمحہ تھا جب مادی دنیا کے تمام رشتے، تمام محبتیں، اور تمام بائیولوجیکل تعلقات ایک ہی ذات، یعنی کائنات کے ماسٹر مائنڈ کی محبت کے سامنے ہیچ اور بے وقعت ہو گئے تھے۔
اب وہ فیصلہ کن، رقت آمیز اور دلوں کو چیر دینے والا لمحہ آ پہنچا تھا، جس کا تصور کر کے آج بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دونوں باپ بیٹے وادیِ منیٰ کی اس مخصوص اور ویران جگہ پر پہنچ چکے تھے جو اس کائناتی قربانی کے لیے منتخب کی گئی تھی۔ آسمان کے فرشتے اپنی سانسیں روکے ہوئے تھے۔ سورج کی کرنیں جیسے مدہم پڑ گئی تھیں۔ یہ کوئی عام قربانی نہیں تھی، یہ تاریخِ انسانیت کا وہ الٹیمیٹ موڑ تھا جہاں انسان کی بندگی اور اللہ کے جلال کا آمنا سامنا ہونا تھا۔ باپ نے چھری نکالی اور اسے پتھر پر رگڑ کر تیز کرنے لگا تاکہ اس کے جگر کے ٹکڑے کو ذبح ہوتے وقت کم سے کم تکلیف ہو۔
ذرا ایک لمحے کے لیے اس منظر کو محسوس کریں!
ایک بوڑھا باپ، جس کے ہاتھ شاید بڑھاپے کی وجہ سے کانپ رہے ہوں، وہ اس چھری کو تیز کر رہا ہے جس سے اس نے اپنے ہی اس بیٹے کی شہ رگ کاٹنی ہے جس کی کلائی پکڑ کر اس نے اسے چلنا سکھایا تھا۔ وہ چھری کی دھار چیک کرتا ہے، اور ہر بار جب اس کی انگلی چھری کی دھار سے مس ہوتی ہے، اس کے دل میں ایک ٹیس اٹھتی ہے۔ دوسری طرف وہ نوجوان بیٹا ہے، جو بڑی خاموشی اور وقار کے ساتھ اپنے باپ کی اس تیاری کو دیکھ رہا ہے۔ اس کی آنکھوں میں کوئی خوف نہیں، کوئی بغاوت نہیں، بلکہ ایک الہامی سکون طاری ہے۔ قرآنِ مجید نے اس منظر کو انتہائی بلیغ اور لرزہ خیز الفاظ میں بیان کیا ہے: "فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ" (پھر جب ان دونوں نے اپنے آپ کو (اللہ کے حکم کے سامنے) مکمل طور پر جھکا دیا، اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل زمین پر لٹا دیا)۔یہاں ایک اور انتہائی باریک، دلدوز اور نفسیاتی پہلو ہے جس پر کم ہی غور کیا جاتا ہے۔
ماتھے کے بل کیوں لٹایا گیا؟ سیدھا لٹا کرگردن پر چھری کیوں نہیں رکھی گئی؟
تاریخ اور روایات بتاتی ہیں کہ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خود اپنے والد سے گزارش کی تھی کہ "اے میرے پیارے ابا جان! جب آپ مجھے ذبح کرنے لگیں تو مجھے منہ کے بل، الٹا کر کے لٹائیے گا۔ مجھے سیدھا مت لٹائیے گا، کیونکہ اگر میری آنکھیں آپ کی آنکھوں سے مل گئیں، اور آپ نے میرے چہرے پر موت کی تکلیف کے آثار دیکھ لیے، تو آپ کے دل میں باپ کی پدرانہ اور بائیولوجیکل محبت کا وہ طوفان جاگ اٹھے گا جو شاید آپ کے ہاتھ کانپنے پر مجبور کر دے، اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں کوئی خامی یا تاخیر نہ ہو جائے۔" اس کے علاوہ، بیٹا یہ بھی وصیت کرتا ہے کہ "ابا جان! میرے ہاتھ اور پاؤں مضبوطی سے رسی کے ساتھ باندھ دیجیے گا، تاکہ جب موت کی تکلیف سے میرا جسم تڑپے، تو کہیں نادانستگی میں میرا ہاتھ یا پاؤں آپ کو نہ لگ جائے اور میری فرمانبرداری کے ثواب میں کمی نہ آ جائے۔ اور ابا جان! میری قمیض کو ذرا سمیٹ لیجیے گا تاکہ اس پر میرے خون کے چھینٹے نہ پڑیں، ورنہ میری بوڑھی ماں جب میرے خون سے لتھڑے ہوئے کپڑوں کو دیکھے گی تو اس کا کلیجہ پھٹ جائے گا، اسے میرا سلام کہیے گا اور تسلی دیجیے گا۔"
(یہاں تک لکھتے لکھتے میرے جذبات بوجھل ہوگئے ہیں اور آنکھیں نمناک اور گلا رندھ گیا ہے، میں ایک مرحوم بیٹے کا باپ بھی ہوں اور ایک الحمدللہ حیات بیٹے کا باپ بھی ہوں لہذا بطور باپ کیا کیفیت ہوتی ہے یا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کیا کیفیت رہی ہوگی بہت اچھے سے جانتا ہوں۔)
کیا کائنات نے، کیا اس زمین و آسمان نے کبھی ایسی فرمانبرداری، ایسا عشق اور ایسی کائناتی تابعداری کا منظر دیکھا تھا؟
ایک بیٹا جو مرنے کے لیے تیار ہے، وہ اپنی موت کے آخری لمحے میں بھی باپ کی فرمانبرداری اور ماں کے دکھ کی فکر میں مبتلا ہے۔
یہ بندگی کا وہ پرفیکٹ (Perfect) اور الٹیمیٹ ماڈل تھا جس کے سامنے فرشتوں کے سجدے بھی چھوٹے پڑ گئے تھے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے لختِ جگر کی وصیت کے مطابق اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے۔ اسے ماتھے کے بل، الٹا زمین پر لٹا دیا۔ پھر انہوں نے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ لی۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ خون کا وہ فوارہ، وہ گردن کٹنے کا منظر اور اپنے بیٹے کے جسم کی وہ تڑپ ان کی آنکھوں کے راستے ان کے دماغ (Amygdala) تک پہنچے اور ان کے حواس پر حاوی ہو جائے۔ انہوں نے اپنے اور اپنے رب کے درمیان حائل ہونے والے ہر مادی، بائیولوجیکل اور نفسیاتی پردے کو گرا دیا تھا۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنا گھٹنا اسماعیل علیہ السلام کی کمر پر رکھا تاکہ ان کا جسم حرکت نہ کر سکے۔ ایک ہاتھ سے انہوں نے اپنے بیٹے کی گردن کو پکڑا، جس کے نرم خلیوں اور خون کی شریانوں کو وہ بخوبی محسوس کر سکتے تھے۔ اور دوسرے ہاتھ میں وہ تیز دھار چھری تھی جس کی چمک نے سورج کی روشنی کو بھی شرما دیا تھا۔ اب کائنات کا سارا نظام، ساری فزکس، کششِ ثقل، اور وقت کی حرکت گویا ایک ہی نقطے پر آ کر فریز (Freeze) ہو چکی تھی۔ آسمانوں کے دروازے کھلے تھے اور تمام فرشتے اس منظر کو دیکھ کر سسکیوں اور آہوں میں مبتلا تھے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنا ہاتھ بلند کیا، بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا، اور اپنی پوری طاقت، پورے الہامی جلال اور محبت کو ذبح کرنے کی نیت سے اس چھری کو اسماعیل علیہ السلام کی نرم و نازک شہ رگ پر چلا دیا۔
ذرا اس لمحے کی فزکس (Physics) پر غور کریں!
تھرمو ڈائنامکس اور مادی سائنس کا اٹل قانون ہے کہ جب ایک تیز دھار والا دھاتی آلہ (چھری) کسی نرم گوشت اور بافتوں (Tissues) پر دباؤ کے ساتھ رگڑا جاتا ہے، تو فرکشن (Friction) اور دباؤ کے نتیجے میں خلیے کٹتے ہیں اور خون بہہ نکلتا ہے۔ یہ اسباب اور علل (Cause and Effect) کا وہ کائناتی قانون ہے جسے اللہ نے ہی بنایا ہے۔ لیکن جب ابراہیم علیہ السلام نے وہ چھری چلائی، تو چھری نے گوشت کو کاٹنے سے انکار کر دیا۔ ابراہیم علیہ السلام حیران ہوئے۔ انہوں نے چھری کو بغور دیکھا، دھار تو بالکل تیز تھی۔ انہوں نے دوبارہ پوری طاقت لگائی، اپنے بوڑھے پٹھوں کا سارا زور اس چھری پر ڈال دیا اور اسے تیزی سے اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر رگڑا۔
لیکن یہ کیا؟
چھری اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر یوں پھسل رہی تھی جیسے کسی سخت اور ناقابلِ تسخیر دھات پر چل رہی ہو۔ چھری کی دھار گوشت کے ایک خلیے، ایک ٹشو کو بھی نقصان پہنچانے میں ناکام تھی۔ ابراہیم علیہ السلام نے غصے میں آ کر اس چھری کو پاس پڑے ہوئے ایک پتھر پر دے مارا، اور وہ پتھر دو ٹکڑے ہو گیا۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ جو چھری سخت ترین پتھر کو کاٹ رہی ہے، وہ ایک نرم و نازک گردن کو خراش تک نہیں لگا پا رہی؟
یہ جدید سائنس اور فزکس کے لیے ایک دھماکہ خیز اور ناقابلِ فہم صورتحال تھی، لیکن روحانی سائنس اور الہیاتی فزکس کے طلباء جانتے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا۔
اس کائنات کا ماسٹر مائنڈ، جس نے آگ کو جلانے کی خاصیت دی، چھری کو کاٹنے کی خاصیت دی اور کشش ثقل کو اپنی طرف کھینچنے کی طاقت دی، وہ ان مادی اسباب کا غلام نہیں ہے۔ وہ جب چاہے، جس لمحے چاہے، اپنے بنائے ہوئے ان طبعی قوانین کو معطل (Suspend) کر سکتا ہے۔ آگ کا کام جلانا ہے، لیکن جب اسی ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی آگ میں پھینکا گیا تھا، تو اللہ نے آگ کے اس کیمیائی عمل اور آکسیڈیشن (Oxidation) کو ایک الہامی کمانڈ کے ذریعے فریز کر دیا تھا اور فرمایا تھا کہ "يَا نَارُ كُونِي بَرْدًا وَسَلَامًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ" (اے آگ، ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا)۔
اور آج، جب وہی ابراہیم علیہ السلام چھری چلا رہے تھے، تو کائنات کے رب نے چھری کی اس 'کاٹنے کی صلاحیت' کو، اس کی فزکس کو سلب کر لیا تھا۔ چھری اللہ کے حکم کے بغیر ایک بال تک نہیں کاٹ سکتی تھی۔
اللہ تعالیٰ صرف یہ دیکھنا چاہتا تھا کہ کیا میرا خلیل میری خاطر اپنی سب سے پیاری چیز کو ذبح کرنے کے لیے عملی طور پر تیار ہے یا نہیں؟ چھری کا چلانا خلیل کا کام تھا، اور اس کا کٹنا اللہ کے ہاتھ میں تھا۔ خلیل نے اپنا کام صدقِ دل سے، پورے سرنڈر کے ساتھ مکمل کر دیا تھا، اور اب اللہ کی رحمت اور اس کے کائناتی انعام کا وقت آ پہنچا تھا۔جب ابراہیم علیہ السلام چھری چلا چلا کر تھک گئے اور ایک عجیب سی بے بسی کا شکار ہوئے کہ شاید میں اپنے رب کے حکم کی تعمیل میں ناکام ہو رہا ہوں، تو اچانک کائنات کے اس سکوت کو چیرتی ہوئی ساتویں آسمان سے ایک ندا آئی۔ ایک ایسی الہامی آواز جس میں محبت، شفقت اور کائنات کے خالق کی رضا پوری طرح جھلک رہی تھی۔ قرآنِ مجید نے اس ندا کو یوں بیان کیا ہے: "وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ، قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ" (اور ہم نے اسے پکارا کہ اے ابراہیم! تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں)۔ یہ آواز سن کر ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں کی پٹی کھولی۔ ان کے سامنے ایک ایسا منظر تھا جس نے ان کے اعصابی نظام کو شکر اور وجد کی کیفیت میں مبتلا کر دیا۔
انہوں نے دیکھا کہ ان کا لختِ جگر اسماعیل علیہ السلام بالکل صحیح سلامت بیٹھا ہوا مسکرا رہا ہے، اور اس کی جگہ ایک بڑا اور خوبصورت مینڈھا (دنبہ) ذبح ہوا پڑا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے عین اس لمحے جب چھری گردن پر چل رہی تھی، جبرائیلِ امین کے ذریعے جنت سے ایک مینڈھا بھیج کر اسے اسماعیل علیہ السلام کی جگہ رکھ دیا تھا۔ یہ کائنات کی سب سے بڑی 'ایکسچینج' (Exchange) تھی، جسے قرآن نے "وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ" (اور ہم نے ایک بہت بڑی قربانی کے بدلے اسے چھڑا لیا) کے الہامی الفاظ میں بیان کیا ہے۔ اللہ کو نہ ابراہیم کا خون چاہیے تھا، نہ اسماعیل کا۔ اللہ کو صرف وہ 'نیت'، وہ 'سرنڈر' اور وہ 'عشق' چاہیے تھا جو عقل کے تمام بتوں کو توڑ کر صرف اس کی رضا کے سامنے جھک جائے۔ جب دل ذبح ہو گیا، جب محبت ذبح ہو گئی، اور جب انا قربان ہو گئی، تو پھر مادی جسم کو ذبح کرنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی تھی۔
اس واقعے کی الہیاتی، نفسیاتی اور سائنسی وسعت اتنی بڑی ہے کہ اسے محض ایک رسم کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اسلام میں قربانی کا اصل تصور گوشت کے لوتھڑے یا جانور کے خون تک محدود نہیں ہے۔ قرآن واضح طور پر فرماتا ہے: "لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ" (اللہ تک ان جانوروں کا گوشت اور ان کا خون ہرگز نہیں پہنچتا، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے)۔
قربانی دراصل اس بات کا کائناتی اعلان ہے کہ "اے میرے رب! جس طرح خلیل اللہ نے تیری خاطر اپنی سب سے پیاری چیز کو ذبح کرنے سے دریغ نہیں کیا، میں بھی تیرے احکامات، تیری توحید اور تیری رضا کے سامنے اپنی ہر مادی خواہش، اپنی ہر انا، اپنے مال، اور اپنے ہر اس نظریے کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہوں جو تیرے کائناتی قانون سے ٹکراتا ہو۔" یہ وہ مقام ہے جہاں سے کائنات کی فزکس اور انسانی شعور کا ایک نیا اور حتمی باب شروع ہوتا ہے۔
ذرا تصور کی آنکھ سے اس منظر کی رقت اور اس کی نفسیاتی گہرائی کو دوبارہ زندہ کریں جب خلیل اللہ، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے آسمان سے آنے والی اس الہامی ندا کو سنا ہوگا اور اپنی آنکھوں سے پٹی کھولی ہوگی۔ ان کے سامنے ان کا وہ جگر کا ٹکڑا، ان کے بڑھاپے کا وہ واحد سہارا، حضرت اسماعیل علیہ السلام بالکل زندہ، سلامت اور مسکراتے ہوئے بیٹھے تھے، اور ان کی جگہ جنت سے لایا گیا ایک دنبہ ذبح ہو چکا تھا۔ ذرا ایک لمحے کے لیے اس بوڑھے باپ کے اعصابی نظام اور اس کی بائیولوجیکل کیفیت کو محسوس کریں!
وہ باپ جس نے پچھلے چند گھنٹوں سے اپنے دماغ کو، اپنے دل کو اور اپنی پوری باپتا کو موت کے اس ہولناک صدمے کے لیے تیار کر رکھا تھا، جس نے اپنے ہاتھوں سے اپنے خون کی شہ رگ پر چھری چلا دی تھی، جب وہ اپنے بیٹے کو زندہ دیکھتا ہے تو اس کے دل میں شکر، محبت اور کائنات کے رب کی بے پایاں رحمت کا کیسا طوفان برپا ہوا ہوگا؟ ابراہیم علیہ السلام نے آگے بڑھ کر اپنے نوجوان بیٹے کو اپنے سینے سے لگا لیا ہوگا۔ یہ کوئی عام باپ بیٹے کا گلے ملنا نہیں تھا، یہ دو ایسے کائناتی مسافروں کا ملاپ تھا جو بندگی کی آخری اور الٹیمیٹ حد کو چھو کر، موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سلامت واپس لوٹے تھے۔ اسماعیل علیہ السلام کے چہرے پر کوئی شکوہ نہیں تھا، کوئی خوف نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا الہامی نور اور وقار تھا جو صرف ان لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جو اپنا مادی اور بائیولوجیکل وجود اللہ کی رضا کے سامنے مکمل طور پر سرنڈر کر دیتے ہیں۔ یہ وہ لمحہ تھا جب ساتوں آسمانوں کے فرشتے بھی اس باپ بیٹے کے عشق، ان کے توکل اور ان کی اس کائناتی کامیابی پر اشک بار تھے اور یک زبان ہو کر کائنات کے ماسٹر مائنڈ کی تسبیح کر رہے تھے۔اللہ تعالیٰ نے اس باپ اور بیٹے کے اس الٹیمیٹ سرنڈر کو، اس بے مثال قربانی کو اتنی محبت اور اتنے جلال کے ساتھ قبول کیا کہ اسے قیامت تک آنے والی پوری انسانیت، اور بالخصوص امتِ مسلمہ کے لیے ایک ابدی اور کائناتی نصاب بنا دیا۔
کائنات کے رب نے یہ فیصلہ کر دیا کہ جب تک یہ زمین اور آسمان قائم ہیں، جب تک اس تھری ڈی (3D) ڈائمینشن میں وقت کا پہیہ چلتا رہے گا، میری اس زمین پر کوئی بھی انسان اس وقت تک کامل مسلمان نہیں کہلا سکتا، اور کوئی بھی حج اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک وہ میرے خلیل کی اس سنت کو، اس کی اس قربانی کی یاد کو اپنے عمل سے نہ دہرائے۔ یہ محض ایک جانور ذبح کرنے کی رسم نہیں تھی جسے اللہ نے ہم پر فرض کیا، بلکہ یہ ایک نفسیاتی، الہیاتی اور جذباتی ٹریننگ تھی تاکہ قیامت تک آنے والا ہر انسان اپنے اندر جھانک کر یہ سوال کر سکے کہ کیا وہ بھی اپنے رب کی خاطر اپنی سب سے پیاری چیز، اپنی سب سے بڑی خواہش، اپنے مال، اپنی انا اور اپنی زندگی کے ان تمام بتوں کو ذبح کرنے کے لیے تیار ہے جو اس کے اور اس کے خالق کے درمیان حائل ہو گئے ہیں؟
لیکن تاریخ کا المیہ دیکھیے اور انسانی شعور کی اینٹروپی یعنی اس کے زوال پر غور کیجیے کہ ہم نے اس عظیم الشان کائناتی فلاسفی اور اس الہامی فزکس کو محض ایک گوشت کا تہوار اور معاشرتی دکھاوے کا ذریعہ بنا کر رکھ دیا ہے۔
آج جب ذوالحجہ کا مہینہ آتا ہے، تو ہمارے معاشرے کی نفسیات اور اس کی ترجیحات کا سفاک پوسٹ مارٹم خود بخود ہو جاتا ہے۔ ہم منڈیوں میں جاتے ہیں، لاکھوں روپے کے جانور خریدتے ہیں، ان کی نمائش کرتے ہیں، ان کی ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر لگاتے ہیں تاکہ دنیا کو، اپنے رشتہ داروں کو اور اپنے پڑوسیوں کو یہ دکھا سکیں کہ ہمارا جانور سب سے مہنگا اور سب سے خوبصورت ہے۔ ہماری اس پوری مشق میں تکبر، ریاکاری، اور ایک دوسرے پر مادی برتری ثابت کرنے کی وہ دوڑ شامل ہوتی ہے جس کا سنتِ ابراہیمی کے الٹیمیٹ اور خالص شعور سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ذرا رک کر، اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو ذبح کرنے لے جا رہے تھے، تو کیا وہاں کوئی دکھاوا تھا؟
کیا وہاں کوئی دنیاوی واہ واہ تھی؟
کیا وہاں کسی کی گردن نیچی کرنے یا اپنا مال دکھانے کی کوئی ہوس تھی؟
وہاں تو صرف ایک بوڑھا باپ تھا، ایک معصوم بیٹا تھا، اور ایک ویران وادی تھی جہاں ان دونوں کے سوا اور کائنات کے اس بے نیاز رب کے سوا کوئی تیسرا موجود نہیں تھا۔ انہوں نے تو یہ قربانی اس تنہائی اور اس خلوص کے ساتھ دی تھی کہ شیطان بھی حیران رہ گیا تھا۔ اور آج ہم؟ آج ہم چھری تو جانور کی گردن پر چلاتے ہیں، خون زمین پر بہاتے ہیں، لیکن ہمارے اندر کا وہ متکبر اور حاسد حیوان، ہمارے اندر کا وہ غلو پسند مشرک، اور ہمارے اندر کی وہ 'انا' بالکل زندہ، موٹی تازی اور سلامت رہتی ہے۔ ہم جانور کے گوشت کے حصے تو ترازو میں تول تول کر برابر کرتے ہیں، فریزر گوشت سے بھر لیتے ہیں، لیکن سال بھر ہم اپنے غریب رشتہ داروں کا، یتیموں کا اور مسکینوں کا حق مارنے سے باز نہیں آتے۔ ہم اللہ کے نام پر جانور ذبح کرتے ہیں، لیکن ہماری عملی زندگیوں میں، ہمارے عقائد میں، ہماری مساجد کے منبروں پر اور ہماری درگاہوں میں غیر اللہ کی پوجا، بابوں کی منتیں اور پیروں کے شرکیہ وسیلے اسی طرح جاری رہتے ہیں۔
کیا کائنات کا وہ الٹیمیٹ منصف، جو دلوں کے بھید جانتا ہے، وہ ہمارے اس کگنیٹو ڈس اوننس (Cognitive Dissonance) اور اس فکری منافقت کو نہیں دیکھتا؟ اللہ نے تو قرآن میں حتمی فزکس بیان کر دی تھی کہ "لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ" (اللہ تک ان جانوروں کا گوشت اور ان کا خون ہرگز نہیں پہنچتا، بلکہ اس تک تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے)۔
اگر ہماری اس قربانی نے ہمارے اندر کا تکبر ذبح نہیں کیا، اگر اس چھری نے ہمارے دل سے دنیا کی ہوس، حرام کی کمائی اور جھوٹ کو نہیں کاٹا، اور اگر اس قربانی نے ہمیں خالص توحید کے اس مقام پر لا کر کھڑا نہیں کیا جہاں ابراہیم علیہ السلام کھڑے تھے، تو یقین جانیے ہم نے صرف ایک بائیولوجیکل وجود کی جان لی ہے، ہم نے کوئی سنتِ ابراہیمی ادا نہیں کی۔ ہم نے صرف خون بہایا ہے، بندگی کا حق ادا نہیں کیا۔یہاں اس کائناتی داستان کا ایک اور انتہائی اہم، رقت آمیز اور نفسیاتی پہلو بھی ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں، اور وہ ہے سیدہ ہاجرہ علیہا السلام کا کردار اور ان کی وہ الٹیمیٹ قربانی جسے اللہ نے رہتی دنیا تک کے لیے امر کر دیا۔
ذرا ایک ماں کی سائیکالوجی اور اس کی ممتا کو سمجھنے کی کوشش کریں!
جب ابراہیم علیہ السلام اس وادیِ غیر ذی زرع، اس بنجر اور سیاہ پہاڑوں والے مکہ میں، جہاں دور دور تک پانی کا کوئی قطرہ، کوئی سایہ اور کوئی انسان موجود نہیں تھا، اپنی نوجوان بیوی اور ایک دودھ پیتے معصوم بچے کو ایک پانی کے مشکیزے اور چند کھجوروں کے ساتھ تنہا چھوڑ کر واپس جانے لگے۔ ایک عورت، ایک تنہا ماں کا اعصابی نظام اس خوف، اس نامعلوم مستقبل اور موت کے اس یقینی خطرے سے کس طرح مفلوج ہو سکتا ہے، یہ آج کی ماڈرن نفسیات بہت اچھی طرح جانتی ہے۔ سیدہ ہاجرہ نے اپنے شوہر کے پیچھے بھاگ کر، ان کا دامن پکڑ کر حیرت اور خوف سے پوچھا کہ اے ابراہیم! آپ ہمیں اس ویران وادی میں، موت کے منہ میں کس کے سہارے چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ خلیل اللہ خاموش رہے، ان کا دل کٹ رہا تھا لیکن وہ وحی کے پابند تھے۔ جب ہاجرہ علیہا السلام نے ان کی خاموشی دیکھی تو ان کا الہامی ریڈار فوراً متحرک ہو گیا۔
انہوں نے ایک کائناتی اور الٹیمیٹ سوال کیا: "آللهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟" (کیا اللہ نے آپ کو اس بات کا حکم دیا ہے؟)۔
ابراہیم علیہ السلام نے بوجھل مگر پرعزم لہجے میں جواب دیا: "ہاں"۔
یہ سننا تھا کہ اس عظیم عورت کا تمام تر بائیولوجیکل خوف، اس کی تنہائی کی وحشت اور موت کا ڈر ایک لمحے میں فریز ہو گیا۔ اس نے بغیر کسی تاویل، بغیر کسی عقلی بحث اور بغیر کسی شکوے کے وہ تاریخی اور الٹیمیٹ جواب دیا جس نے توکل اور سرنڈر کی پوری فزکس بدل کر رکھ دی: "إِذًا لَا يُضَيِّعُنَا" (اگر یہ اللہ کا حکم ہے، تو پھر جائیے، وہ ہمیں کبھی ضائع نہیں کرے گا)۔
کیا آج کے جدید اور مادی دور میں، جہاں ہم اپنے بینک بیلنس، اپنی انشورنس پالیسیوں اور مادی سہاروں کے بغیر ایک قدم چلنے کو تیار نہیں، کوئی اس توکل اور اس الہامی شعور کا تصور بھی کر سکتا ہے؟ اور پھر جب وہ پانی کا مشکیزہ اور کھجوریں ختم ہو گئیں، دودھ پیتے اسماعیل کے ہونٹ پیاس کی شدت سے سوکھنے لگے، اور وہ معصوم بچہ ریت پر ایڑیاں رگڑنے لگا، تو اس ماں کی ممتا نے کیا کیا؟ وہ مایوس ہو کر بیٹھی نہیں، اس نے تقدیر کا شکوہ نہیں کیا، بلکہ وہ پانی کی تلاش میں صفا اور مروہ کے ان دو گرم اور جلے ہوئے پہاڑوں کے درمیان دیوانہ وار دوڑنے لگی۔ وہ ایک پہاڑی پر چڑھتی، دور تک دیکھتی کہ شاید کوئی انسان، کوئی پرندہ یا پانی کا کوئی چشمہ نظر آ جائے، پھر دوڑ کر دوسری پہاڑی پر جاتی۔ سات بار اس تنہا اور پیاسی ماں نے ان پہاڑوں کے درمیان اس تپتی ہوئی دوپہر میں چکر لگائے۔ اس کی اس تڑپ، اس کی اس سعی اور اس کی اس بائیولوجیکل مشقت میں اتنا خلوص، اتنی بندگی اور اتنا درد تھا کہ کائنات کا ماسٹر مائنڈ اپنے عرش پر مسکرا دیا۔ اللہ کو اس عورت کی یہ دوڑ اتنی پسند آئی، اتنی پیاری لگی کہ اس نے حکم دے دیا کہ آج کے بعد قیامت تک جو بھی میرے گھر کا حج یا عمرہ کرنے آئے گا، چاہے وہ دنیا کا کتنا ہی بڑا بادشاہ کیوں نہ ہو، اسے اس ماں کی سنت میں، صفا اور مروہ کے درمیان اسی طرح دوڑنا پڑے گا، ورنہ میں اس کا حج قبول نہیں کروں گا۔ اور پھر جب وہ مایوس ہو کر واپس اپنے بچے کے پاس آئی، تو کیا دیکھتی ہے کہ اللہ نے اس کی اس تڑپ کو ایک ایسے کائناتی اور طبعی معجزے میں بدل دیا تھا کہ اسماعیل کی رگڑتی ہوئی ایڑیوں کے پاس سے پانی کا ایک ایسا چشمہ پھوٹ پڑا تھا جسے آج دنیا 'آبِ زمزم' کہتی ہے۔
ایک ایسا پانی جو چودہ سو سال سے مسلسل بہہ رہا ہے، جس کی کیمسٹری اور جس کا منرل کمپوزیشن (Mineral Composition) آج کی جدید سائنس کے لیے بھی ایک حیران کن اور ناقابلِ حل معمہ ہے، اور جو قیامت تک خشک نہیں ہوگا۔ یہ وہ صلہ تھا جو اللہ نے اس توکل اور اس سرنڈر کے بدلے عطا کیا تھا۔
یہاں آ کر کائنات کا یہ الٹیمیٹ امتحان اور ابراہیم علیہ السلام کی یہ کائناتی فلاسفی ایک اور دیوہیکل موڑ لیتی ہے۔ جب اللہ نے یہ دیکھ لیا کہ اس کے خلیل نے، اس کی بیوی نے اور اس کے معصوم بیٹے نے اپنی ذات، اپنی محبت، اپنی عقل اور اپنے بائیولوجیکل وجود کی ہر چیز کو اس کی توحید اور اس کی رضا کے سامنے ذبح کر دیا ہے، تو اب اللہ نے انہیں وہ عظیم الشان پراجیکٹ، وہ الٹیمیٹ ٹاسک سونپا جو انسانی تاریخ کو ہمیشہ کے لیے بدلنے والا تھا۔ اللہ نے انہیں اپنا 'گھر' بنانے کا حکم دیا۔ وہ گھر، جسے دنیا کعبہ کہتی ہے۔
ذرا اس الہامی فزکس کو سمجھیے!
کعبہ محض اینٹوں اور پتھروں سے بنی ہوئی کوئی عمارت نہیں ہے، بلکہ یہ اس کائنات میں موجود اللہ کی توحید، اس کی وحدانیت اور اس کے جلال کا واحد، حتمی اور الٹیمیٹ سمبل (Symbol) ہے۔ ابراہیم علیہ السلام اور اسماعیل علیہ السلام، دونوں باپ بیٹے مل کر اس گھر کی دیواریں اٹھانے لگے۔ بیٹا پہاڑوں سے پتھر کاٹ کاٹ کر لاتا تھا اور بوڑھا باپ ان پتھروں کو جوڑ کر دیواریں تعمیر کرتا تھا۔ وہ ایک پتھر پر کھڑے ہو کر دیوار اونچی کر رہے تھے، جسے آج دنیا 'مقامِ ابراہیم' کہتی ہے، اور اللہ نے اس پتھر پر اپنے خلیل کے قدموں کے نشانات کو اس طرح فریز کر دیا کہ آج تک جدید ٹیکنالوجی بھی اس معجزے کے سامنے سرنگوں ہے۔ جب کعبہ کی دیواریں اٹھ رہی تھیں، تو یہ دونوں باپ بیٹے، جنہیں کائنات کی سب سے بڑی کامیابی مل چکی تھی، ان کے اندر کوئی تکبر، کوئی فخر یا کوئی ریاکاری نہیں تھی۔
وہ رو رو کر اور گڑگڑا کر اپنے رب سے یہ دعا مانگ رہے تھے: "رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ" (اے ہمارے رب! ہم سے یہ خدمت قبول فرما لے، بیشک تو ہی سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے)۔
یہاں سے اس عظیم الشان سیرت اور رقت آمیز تحریر کا وہ حتمی اور الٹیمیٹ پیغام جنم لیتا ہے جو ہم سب کے لیے، آج کے اس مادی اور الجھے ہوئے دور کے انسان کے لیے ایک کائناتی الارم (Cosmic Alarm) ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ پورا سفر، آگ میں کودنے سے لے کر بیٹے کی گردن پر چھری چلانے تک، اور پھر کعبہ کی تعمیر تک، محض ایک تاریخی داستان نہیں ہے۔ یہ دراصل 'خالص توحید' کی وہ عملی، سائنسی اور بائیولوجیکل تشریح ہے جو بتاتی ہے کہ توحید صرف زبان سے کلمہ پڑھ لینے یا کتابوں میں توحید کے فلسفے ڈسکس کرنے کا نام نہیں ہے۔ توحید اس کائنات کا وہ الٹیمیٹ آپریٹنگ سسٹم (Operating System) ہے جو انسان کو دنیا کی ہر مادی غلامی، ہر نفسیاتی خوف، اور ہر جھوٹے سہارے سے آزاد کر دیتا ہے۔ جب تک ایک انسان اپنے دل کے اندر موجود غلو، شرک، دنیا کی ہوس، اور اپنی نام نہاد 'عقل' کو کائنات کے اس ماسٹر مائنڈ کے حضور اسی طرح سرنڈر نہیں کرتا جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا، تب تک اس کا دین، اس کی عبادات اور اس کی قربانیاں محض ایک کھوکھلا خول ہیں۔ آج کا المیہ یہ ہے کہ ہم نے دین کو محض ظاہری رسوم، فرقہ وارانہ بحثوں، اور پیروں اور مجاوروں کی اندھی عقیدتوں میں بانٹ دیا ہے۔
ہم نے ابراہیم علیہ السلام کے اس خالص اور بے ملاوٹ خدا کو چھوڑ کر انسانوں، مزاروں اور تعویذوں میں اپنی تقدیر اور اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا شروع کر دیا ہے۔ جب آپ غیر اللہ کے سامنے جھکتے ہیں، جب آپ مردہ انسانوں کو اپنی دعاؤں اور اللہ کے درمیان وسیلہ بناتے ہیں، تو آپ دراصل اس خالص توحید اور اس کائناتی سرنڈر کی روح کو قتل کر رہے ہوتے ہیں جسے بچانے کے لیے ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کی گردن پر چھری رکھی تھی۔
میرے محترم قارئین!
جب ہم عید الاضحیٰ کے دن اپنے جانوروں کے گلے پر چھری پھیریں، جب خون کا وہ گرم فوارہ زمین پر گرے، تو اس خون کے ایک ایک قطرے کے ساتھ، اپنی ذات پر تنقید کیجیے، اپنے اندر کے شرک کو، اپنی اندھی عقیدتوں کو اور اپنی نفسانی خواہشات کو بھی اسی زمین پر بہا دیجیے۔ یہ محسوس کیجیے کہ ہم اس عظیم الشان، یکتا اور بے نیاز رب کی بارگاہ میں کھڑے ہیں جسے ہمارے مال اور ہماری قربانیوں کی کوئی ضرورت نہیں، وہ تو صرف ہمارے دلوں کا خ