(+92) 319 4080233
دن رات کی تبدیلی کانظام،اللہ کا عظیم انعام
دن رات کی تبدیلی کانظام، اللہ کا عظیم انعام (سورۃ القصص آیت71تا73کی روشنی میں) ذرا غوروفکر کر کے اللہ تعالیٰ کا احسان سمجھنے کی کوشش کروکہ بغیر تمہاری کوشش اور تدبیر کے دن اور رات برابر آگے پیچھے چل رہے ہیں۔ اگر رات دائمی ہوجاتی اور تا قیامت رات ہی رات رہتی تومخلو ق میں سے کون یہ قدرت رکھتا تھا کہ رات کو دن میں بدل دے؟یقیناکوئی نہیں۔ایسی صورت میں تم لوگ عاجز آجاتے، تمہارے کام کاج رُک جاتے، تم لوگوں پر زندگیاں وبال بن جاتیں، تم لوگ تھک جاتے، اُکتا جاتے،اس قدر پریشانی میں پڑجانے کے باوجود تم کسی کو نہ پاتے جو تمہارے لیے دن نکالنے کا انتظام کر سکتا ،تاکہ تم دن کی روشنی میں چل پھرسکو، دیکھ بھال سکو، اپنے کام کاج کرسکو۔اس سے اندازہ لگاؤکہ رات اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت اور اس کی قدرت کی کتنی بڑی دلیل ہے۔ اتنی واضح اور روشن دلیل کے باوجود تمہاری حالت تو یہ ہے کہ کانوں سے سُنی اور آنکھوں سے دیکھی ہوئی چیز کو بھی بے سنی اور بے دیکھی چیزوں کی طرح کر دیتے ہو۔اس تناظر میں فرمایا کہ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں ہو؟یعنی ایسا دیکھنا بھی کیا دیکھنا ہوا ،جسے تم خود ماننے کے لیے تیار نہیں ہو۔ اگر اللہ تعالیٰ تم پر دن ہی دن کیے رکھے اور سورج کو روک لے کہ رات آئے ہی نہیںاورقیامت تک دن ہی دن رہے تومخلو ق میں سے کون یہ قدرت رکھتا ہے کہ دن کورات میں بدل دے، تاکہ تم اس میں کچھ آرام کرکے سکون حاصل کرسکو؟یقیناکوئی نہیں۔ایسی صورت میں ذرا تصور تو کرو کہ تمہاری زندگیاں کس قدر مشکلات کا شکار ہوجاتیں، تمہارے بدن کا نظام بھی الٹ پلٹ ہو جاتا،کیونکہ اب تو یوں ہوتاہے کہ جب تم تھک جاتے ہوتو رات کی تاریکی میں آرام کرتے ہو۔ اگر رات ہی نہ آتی تو تم کیسے آرام کرتے؟بھلا،دن کی نیند اور آرام رات کے آرام کا نعم البدل بن سکتاہے؟جب تمہارے جسم کو آرام ہی نہ ملتا تو نتیجہ کیا نکلتا؟تم اپنی زندگی سے ہی تنگ آ جاتے۔ اس سے اندازہ لگاؤکہ دن کا چلے جانا،سورج کا غروب ہونا اور رات کا اس کی جگہ لیتے ہوئے ہر چیز کو اپنی دبیز سیاہ چادر میں لپیٹ لینا اللہ تعالیٰ کی کتنی بڑی نعمت اور اس کی قدرت کی کتنی بڑی دلیل ہے۔ اتنی واضح اور روشن دلیل کے باوجود تمہاری حالت تو یہ ہے کہ: تم دیکھتے ہی نہیں۔یعنی ایسا دیکھنا بھی کیا دیکھنا ہو ا،جس کے ساتھ ماننا نہ ہو۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد6 صفحہ657) نکتہ: اللہ تعالیٰ نے دن اوررات کے تذکرے میں رات کا فائدہ توذکرفرمایا:تسکنون فیہ: ''جس(رات ) میں تم آرام کر سکو۔''مگر اس کے بالمقابل دن کاکوئی فائدہ ذکرنہیں فرمایا، اس کی متعدد وجوہات ہیں:ایک تو یہ کہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ روشنی اپنی ذات میں ظلمت اورتاریکی سے افضل واعلیٰ ہے،روشنی کے بے شمار فوائد ہیں،جن کا ادراک سب کوہے اس لیے ان کے بیان کی ضرورت نہیں۔اس کے برعکس رات میںظلمت اور اندھیرا ہوتاہے جو اپنی ذات میںسوائے اس کے کوئی فضیلت نہیں رکھتا کہ اس میںلوگ آرام وسکون حاصل کرتے ہیں۔اسی باریک فرق کی وجہ سے جب دن کے معاملے کو ذکرکیاتو آخر میں فرمایا:''افلاتسمعون''(کیاتم سنتے نہیں ہو؟)کیونکہ دن کے فضائل وبرکات اور اس کے فوائد وثمرات بے شمار ہیں ،جن کا اوراک وحاطہ دیکھنے سے نہیں ہوسکتا، البتہ سناجاسکتاہے۔اس کے برعکس جب رات کے معاملے کو ذکرکیاتو آخر میں فرمایا:'' افلا تبصرون''(کیا تم دیکھتے نہیں ہو؟)کیونکہ رات کے فوائد بہ نسبت دن کے فوائد کے کم ہیں،جو وہ دیکھے بھی جا سکتے ہیں(معارف القرآن (مفتی محمد شفیع ) جلد6صفحہ660) خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کے ذریعے سے رات اور دن کو بنایا ،پھرچوبیس گھنٹوں میں ان کا اتنا خوب صورت نظام رکھا کہ یہ اُلٹتے اور بدلتے رہتے ہیں کہ پہلے رات آتی ہے پھر جب رات چلی جاتی ہے تو دن نکل آتاہے۔جب سے دنیا کا نظام بناہے ،دن رات کی تبدیلی کایہ سلسلہ پوری کامیابی ،تسلسل اورنظم وضبط کے ساتھ چل رہاہے،جو اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل بھی ہے اور اس کی قدرت کی واضح وروشن دلیل بھی۔اس آیت میں دن اور رات کے فوائد پر بھی ایک ایک جملہ ارشاد فرمایا گیاہے،جوکمالِ فصاحت وبلاغت کا شاہ کار اور اعجازِ قرآنی کاآئینہ دار ہے: ١ لتسکنوافیہ:'' تاکہ تم اس میں آرام کر سکو۔''رات کاذکرپہلے تھاتو اسی مناسبت سے اس کا ثمرہ بھی پہلے بیان فرمایا:تاکہ تم رات کی تاریکی میں نیند اورآرام کرکے سکون وراحت حاصل کرسکو۔دن بھر کی تھکاوٹ اتارکر اگلے دن کے لیے تازہ دم ہوسکو،کیونکہ جب انسان نیند پوری کرتاہے تو اس کے اعضا وجوارح اور دماغ کی تھکاوٹ دور ہوکر دماغی اور جسمانی راحت حاصل ہو جاتی ہے اور یہ سکون صرف انسانوں ہی نہیں، بلکہ درند، چرند، پرند وغیرہ سبھی کے لیے ضروری ہوتاہے اور اللہ کی یہ تمام مخلوق رات سے یہ فوائد حاصل کرتی ہے۔ ٢ ولتبتغوامن فضلہ:'' تاکہ تم اس کا فضل (رزق) تلاش کرو۔''یہ دن کا فائدہ ہے کہ تم دن کو کاروبار، محنت، مزدوری، تجارت، کھیتی باڑی اور دیگر ذرائع معاش اختیار کر کے اپنی معیشت کی بہتری کا سامان پیدا کر سکو۔ نکتہ:یہاں روزی کمانے کورحمتِ الٰہی کے تحت لا کر اس طرف اشارہ فرمایا کہ رزقِ حلال کی طلب میں اختیار کیے جانے والے معاشی مشاغل اسلام میں کتنی فضیلت رکھتے ہیں اور ایساشخص اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں کتنا معزز، محترم اور مکرم ہوجاتا ہے۔اسی طرح فضل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرکے اس بات کی طرف بھی رہنمائی فرمائی گئی کہ روزی ورزق کا انتظام اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتاہے،لہٰذا ظاہر میں دینے والے کو حقیقتاً دینے والا نہ سمجھ لینا چاہیے، بلکہ اس کو صرف ظاہری طور پررزق ملنے کا ذریعہ خیال کرنا چاہیے، جو کچھ ہمیں عطا ہو رہا ہے اس کو فضلِ ربی یقین کرنا لازم ہے ۔آخر میں شکر کی جانب متوجہ فرمایا کہ جب تم نے روزی کواللہ تعالیٰ کا فضل سمجھ لیا تو اب اس پروردگار کا شکر بھی ہر حال میں بجا لاؤ اور اپنے آپ کو کفران نعمت سے بچاؤ۔ (تفسیر ابن کثیر، جلد 6صفحہ657)
مأخَذ

تفسیر

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
1332     3