(+92) 319 4080233
بچوں کے سامنے میاں بیوی کا لڑنا ایک طبی، نفسیاتی، سماجی اور اسلامی تجزیہ
نفسیاتی نقطہ نظر بچے کا دماغ کیا دیکھتا ہے؟

بچے کا دماغ 0 سے 12 سال تک Sponge کی طرح ہوتا ہے۔ وہ ہر چیز جذب کرتا ہے، سمجھے یا نہ سمجھے۔

جب والدین لڑتے ہیں تو بچے میں 3 چیزیں ہوتی ہیں:
1. Insecurity بچہ خود کو غیر محفوظ سمجھتا ہے۔ اسے لگتا ہے میرا گھر ٹوٹ رہا ہے۔ اس سے Sleep Disorder، Bed Wetting، Stammering شروع ہو جاتی ہے۔

2. Modeling بچہ سیکھتا ہے کہ غصہ اور اختلاف اسی طرح حل ہوتے ہیں — چیخ کر، گالی دے کر، ہاتھ اٹھا کر۔ بڑا ہو کر وہ بھی یہی کرتا ہے۔

3. Guilt اکثر بچے سوچتے ہیں یہ سب میری وجہ سے ہو رہا ہے۔ یہ احساس Self-Esteem کو تباہ کر دیتا ہے اور Depression کی بنیاد بنتا ہے۔

سائنس میں اسے Toxic Stress کہتے ہیں ایسا دباؤ جو دماغ کی نشوونما روک دیتا ہے۔

2. طبی نقطہ نظر: جسم پر کیا اثر پڑتا ہے؟
مسلسل جھگڑا دیکھنے والے بچوں میںCortisol ہارمون مسلسل بڑھا رہتا ہے۔ نتیجہ: کمزور قوتِ مدافعت، بار بخار، نزلہ، پیٹ درد۔ Heart Rate Variability خراب ہوتی ہے، جس سے بڑے ہو کر دل کی بیماری کا خطرہ بڑھتا ہے۔ Growth Hormone متاثر ہوتا ہے۔ ایسے بچے اکثر قد میں چھوٹے رہ جاتے ہیں۔ نیند نہ آنے سے Concentration کم، پڑھائی خراب، اور ADHD جیسی علامات پیدا ہوتی ہیں۔یعنی لڑائی صرف دل نہیں توڑتی، جسم بھی توڑتی ہے۔

3. سماجی نقطہ نظر: گھر کا ماحول پورے معاشرے کی بنیاد ہے
گھر وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں بچہ رشتہ سیکھتا ہے۔

اگر بچہ روز چیخ و پکار دیکھے گا تو وہ شادی کو بوجھ سمجھے گا۔ احترام ختم ہو جائے گا۔ Conflict Resolution نہیں آئے گا، اس لیے اس کی اپنی شادی بھی ٹوٹے گی۔ یہی وجہ ہے کہ طلاق اور گھریلو تشدد ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا ہے۔ اسے Cycle of Violence کہتے ہیں۔

4. اسلامی نقطہ نظر: سکون اور رحمت کا حکم
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً ( الروم: 21)

(اور اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو، اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھی)

گھر کا مقصد سکون ہے، میدانِ جنگ نہیں۔
نبی ﷺ نے کبھی حضرت عائشہؓ پر آواز نہیں اٹھائی۔ اختلاف ہوا تو پردے میں، نرمی سے حل کیا۔

بچوں کے سامنے والدین کا احترام کرنا خود عبادت ہے۔

5. تو حل کیا ہے؟
1. اختلاف ہو تو کمرے میں ہو بچوں کے سامنے صرف محبت اور ادب دکھائیں۔

2. Cool Down Period غصے میں کوئی فیصلہ نہ کریں۔ 10 منٹ الگ ہو جائیں، پانی پییں، پھر بات کریں۔ 3. بچے کے سامنے ایک دوسرے کی عزت کریں یہی چیز بچے کو Emotional Security دیتی ہے۔

4. ضرورت ہو تو Counseling لیں شادی کا مشیر یا فیملی فزیشن سے بات کرنا کمزوری نہیں، عقل مندی ہے۔ 5. دعا کریں ربنا هب لنا من أزواجنا وذرياتنا قرة أعين یہ دعا روز پڑھیں۔

خلاصہ:
بچے کے لیے ماں باپ کی لڑائی، زلزلے سے کم نہیں ہوتی۔

گھر میں سکون ہوگا تو بچہ صحت مند دماغ، مضبوط جسم اور بہتر کردار کے ساتھ بڑا ہوگا۔

یاد رکھیں: آپ کا غصہ 5 منٹ کا ہوتا ہے، لیکن بچے کے دل پر اس کا اثر 50 سال تک رہتا ہے۔

اللہ ہمارے گھروں کو سکون کا گھر بنائے۔ آمین!

کالم نگار : ڈاکٹر طارق حسین، فیملی فزیشن، لاڑکانہ
| | |
58