نبوی اسلوب مکالمہ غیر مسلم معاصرین کے ساتھ اور جدید اصول
نبوی اسلوبِ مکالمہ: عصری تقاضے اور علمی تناظر
داستانِ حرم ہو یا ایوانِ سیاست، انسانی تاریخ میں ابلاغ اور گفتگو وہ کلید ہے جس نے بند دلوں کے قفل بھی کھولے اور بگڑی ہوئی تقدیریں بھی سنواریں۔ جب ہم صحرائے عرب سے پھوٹنے والی اس ضیا پاشی کا ذکر کرتے ہیں جسے "نبوی اسلوبِ مکالمہ" کہا جاتا ہے، تو محسوس ہوتا ہے کہ یہ محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ حکمت و دانائی کا ایک ایسا بحرِ بے کنار ہے جس کی لہریں آج کے جدید اصولِ تحقیق اور بین الاقوامی تعلقات کی بنیاد بن سکتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے غیر مسلم معاصرین سے گفتگو کرتے ہوئے جس اعتدال، توازن اور علمی متانت کا مظاہرہ فرمایا، وہ رہتی دنیا تک کے محققین کے لیے مینارہِ نور ہے۔ آپ ﷺ کا اندازِ تخاطب کبھی جارحانہ نہیں رہا، بلکہ آپ ﷺ نے ہمیشہ مخاطب کی نفسیات، اس کے سماجی مرتبے اور ذہنی سطح کو پیشِ نظر رکھا۔ نجران کے مسیحی وفد سے علمی مباحثہ ہو یا قریش کے سرداروں سے توحید پر مکالمہ، آپ ﷺ کے لہجے کی مٹھاس اور استدلال کی قوت نے ہمیشہ دشمن کو بھی حیرت زدہ کیا۔
آج کی جدید دنیا جس "ڈائیلاگ" اور "پلو رلزم" کا ڈھنڈورا پیٹ رہی ہے، اس کی اصل روح چودہ سو سال قبل اس "کلمۃ سواء" (قدرِ مشترک) کے اصول میں پنہاں تھی جسے قرآن نے پیش کیا اور صاحبِ قرآن ﷺ نے برت کر دکھایا۔ نبوی اسلوب میں مکالمہ محض اپنی بات منوانے کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ فریقِ مخالف کو عزت دے کر اسے سچائی کی دہلیز تک لانے کا ایک نفسیاتی سفر تھا۔ آپ ﷺ کی گفتگو میں منطق کا جلال بھی تھا اور شفقت کا جمال بھی۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپ ﷺ کسی سے مخاطب ہوتے تو وہ شخص خود کو دنیا کا اہم ترین انسان تصور کرنے لگتا۔ جدید اصولِ تحقیق بتاتے ہیں کہ کسی بھی مکالمے کی کامیابی کا انحصار "ایمپیتھی" (Empathy) یعنی دوسرے کے نکتہ نظر کو سمجھنے پر ہے، اور سیرتِ طیبہ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ ﷺ سے بڑھ کر انسانی جذبات کا پارکھ اور کوئی نہ تھا۔
اس علمی و تحقیقی کالم کا ماحصل یہ ہے کہ عصرِ حاضر کے فکری انتشار اور مذہبی منافرت کے خاتمے کے لیے ہمیں اسی نبوی نہج پر پلٹنا ہوگا جہاں گفتگو میں طنز کے نشتر نہیں بلکہ دلیل کی خوشبو ہوتی ہے۔ ایک محقق اور قلمکار کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اسلوب میں اتنا انیس اور غمگسار ہو کہ اس کی تحریر سے محبت کی چاشنی ٹپکے اور پڑھنے والا علمی گہرائی کے ساتھ ساتھ قلبی تسکین بھی محسوس کرے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ جب تک مکالمے میں نبوی حکمت اور انسانیت کا احترام شامل نہ ہو، وہ محض لفظی جنگ تو بن سکتا ہے، فکری انقلاب نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جدید ابلاغی مہارتوں کو سیرتِ طیبہ کے سانچے میں ڈھال کر دنیا کے سامنے وہ علمی چہرہ پیش کریں جو رحمدل بھی ہو اور مدلل بھی۔
کالم نگار
مولانا ابنِ انیس شجاع الرحمٰن بہاولپوریؔ
A PHP Error was encountered
Severity: 8192
Message: nl2br(): Passing null to parameter #1 ($string) of type string is deprecated
Filename: views/column_item_view.php
Line Number: 116
Backtrace:
File: /home/binoria/public_html/ColumnNigar/application/views/column_item_view.php
Line: 116
Function: nl2br
File: /home/binoria/public_html/ColumnNigar/application/controllers/Home.php
Line: 171
Function: view
File: /home/binoria/public_html/ColumnNigar/index.php
Line: 315
Function: require_once
کالم نگار :