ختم نبوت دور حاضر کی اہم ترین ضرورت
آج سے چند دہائی قبل جب ٹی وی، کمپیوٹر آنے شروع ہوئے تو دنیا کو گلوبل ولیج کہا جانے لگا۔ جہاں سب کے بارے میں سب ہی جاننے لگے تھے۔ اس لیے یہ سمجھا جانے لگا کہ اب ان زرائع ابلاغ کی وجہ سے دنیا ایک گاؤں بن کر رہ گئی ہے۔
لیکن آج سے کوئی پندرہ سولہ سال قبل جب سوشل میڈیا نے زندگیوں میں شمولیت اختیار کی۔
سوشل میڈیا ہی ،زریعہ معاش بن گیا، جس کی بدولت یہ کاروبار ہرقسم کی اخلاقی حدود و قیود کو پار کرگیا اور یہی وجہ ہے کہ اس وقت ان سے نشر ہونے والا مواد اہل خرد کیلیے باعث فکر و تشویش بن گیا ہے۔
دشمنان اسلام اپنے مضموم عزائم کے ساتھ سوشل میڈیا پر ایسے شوشے چھوڑ دیتے ہیں جو کم علمی کے ناپختہ ذہنوں کو سوالوں کی آماجگاہ بنا دیتے ہیں۔
ایسا ہی ایک توجہ طلب مسئلہ ہے، عقیدہ ختم نبوت کا فروغ، جس کے لیے بہت سے ادارے اور انفرادی سطح پر بےشمار لوگ کام کررہے ہیں۔
اللہ ان سب کی کاوشوں کو قبول و مقبول فرمائیں۔ آمین
مسلمان خانوادے میں پیدا ہونا اور پھر وہاں تربیت پانے کی بدولت ہم بنیادی طور پر اس نظریے سے واقف ہیں کہ عقیدہ ختم نبوت ہے کیا۔ لیکن عمومی طور جس موضوع پر گفتگو کم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ ضروری کیوں ہے؟
پہلے جان لیتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت مبارک کامقصد کیا تھا؟
مختصرا تذکرہ کروں گی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لیے نبی اور رسول بنا کر بھیجا گیا تاکہ آپ کے زریعے قرآن مجید کو ہم تک پہنچایا جاتا اور اس کے اسلوب خاص کو سمجھایا جاتا، عملا اور لفظا
لیکن اس سے بھی اہم مدعا آپ کی بعثت کا یہ تھا کہ آپ کے ساتھ ہی نبوت کوتم کردیا جائے ۔
قرآن الکریم میں اللہ رب العزت فرماتے ہیں، " مَا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ وَلَكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا" (سورۃ الاحزاب ۔ آیت 40)
محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ وہ اللہ کے رسول ہیں اور سب نبیوں (کی نبوت) کو ختم کرنے والے ہیں، اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھنے والا ہے۔
اس سلسلے میں بارہا احادیث مبارکہ بھی موجود ہیں۔یوں ایک بات ثابت ہوئی کہ جب نبوت کا سلسلہ ختم ہوگیا تو پھر شریعت کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا اور جب فل اسٹاپ لگ گیا تو کوئی اس میں تبدیلی یا تحریف کا حق بھی نہیں رکھے گا۔
آپ جانتے ہیں ایسے سوال اٹھانا جس سے آپ اپنے ہی عقیدے پر شک کرنے لگیں ، اس کے ان لوگوں کو پیسے ملتے ہیں۔ یہ سارے لوگ فنڈڈ ہوتے ہیں ۔
ایک مخصوص طبقہ یہ کہتا ہوا پایا جاتا ہے کہ وحی کا سلسلہ جاری ہے،وہ دنیا کے سب سے بدترین کافر ہیں۔ کیونکہ دین اسلام سے خارج ہوکر بھی وہ خود کو مسلمان کہتے ہیں۔
قرآن کہہ رہا ہے کہ نبوت کا سلسلہ نبی کریم ﷺ پر تمام ہوگیا ، اب وحی تو پیغمبروں کے ساتھ خاص تھی۔ جب وصول کرنے والا ہی نہیں ہے تو وہ اترے گی کس پر اور کیوں ؟
لیکن سوچا ہے دشمنان اسلام نے جھوٹا دعوی کیا ہی کیوں؟ جنگ آزادی ہند 1857ء کے بعد انگریزوں نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ مسلمانوں کا نظریہ شہادت ان کو موت سے نہیں ڈرا سکتا اور جس قوم کو موت سے خوف نا ہو اس سے جیتنا ناممکن ہے۔ انہوں نے لک آلائیک بنانے کی کوشش کی ۔ جس کا اس وقت کے علماء کرام نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر اتنا شاندار رد کیا کہ جھوٹ کا پردہ چاک ہوگیا۔
لیکن ایک صدی سے زائد گزر جانے کے بعد آج مسلمانوں کودین سیکھنے کی ضرورت پڑگئی ہے۔ بڑے اپنی خواہشات پورے نا ہونے کا بوجھ اپنی دعاؤں کے قبول نا ہونے پر ڈال کر اللہ سے خفا ہیں۔ اس بات سے بے خبر کہ
(الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ)
سورہ الملک کی یہ آیت زندگی کا مقصد بیان کرتی ہے، ہم یہاں آزمائش کیلیے بھیجے گئے ہیں۔
دوسری طرف نوجوان نسل ہے جو مسلک کے فرق کو تفرقے سے مشتق کرکے بےدین ہورہی ہے۔ ایسے میں کوئی بھی ان کے سامنے دنیا جہاں کے قلابے ملا کر کچھ اوٹ پٹانگ پیش کردے، وہ باتوں میں الجھ جاتے ہیں۔
مشہور زمانہ غیر عالم شخص جس کو عربی زبان و ادب کی بھی کوئی تمیز نہیں وہ سوشل میڈیا پر اس سے دین سیکھ رہے ہیں، جو ان کو علماء اور امام اہل سنت والجماعت سے بدظن کررہا ہے۔
کچھ سوال جو ختم نبوت پراٹھائے جاتے ہیں ان کے حوالے سے گفتگو کررہی ہوں جن پر علماء کرام نے کامل گفتگو کرتے ہوئے بڑی بڑی اور تفصیلی کتب لکھی ہیں۔ لیکن ہم یہاں مختصر بیان کریں گے۔
کیا حضرت عیسیٰؑ کا قرب قیامت سے قبل اس دنیا میں آنا ، نبوت کا سلسلہ جاری رہنے کی دلیل ہے؟ تو جواب ہے نہیں۔ کیوں ؟ کیونکہ حضرت عیسی ٰؑ کو آسمانوں پر زندہ اٹھایا گیا تھا ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام اورحضرت محمد ﷺ کی ولادت کے درمیان تقریباً 569 سے 600 سال کا فرق ہے۔ وہ پہلے آئے تھے حضرت محمد ﷺان کے بعد،یوں وہ ان سے پہلے ہی رہیں گے۔
خطبہ حجت الوداع جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج ان کے نزول کی حجت تمام ہوئی۔ چونکہ وہ آخری نبی ہیں تو نبوت کی حجت بھی ان کے ساتھ تمام ہوگئی۔ یوں یہ دعوٰی بے بنیاد ہے کہ حضرت عیسی ؑ کا نزول کا انتظار کرنا ختم نبوت کے وقیدے کے خلاف ہے۔ وہ شریعت لے کر آئیں گے نا ہی وہ پہلی بار بھیجے جارہے ہیں۔
اس کے علاوہ ایک مضحکہ خیز دعوی اور ہے لیکن اس سے پہلے میں آپ کو اس سلسلے میں بتا چاہتی ہوں کہ ہم نے 1857 کی جنگ آزادی کا ذکر کیوں کیا تھا؟ ایک تو فتنہ وقت اسی وقت پھوٹا تھا ۔ دوسرا اس کی بنیاد رکھنے کی وجہ یہ تھی کہ جہاد جیسے اہم جزو کو ہم سے کاٹ کر الگ کردیا جائیے۔
شام، سیریا ، کشمیر، لبنان، سوڈان ، فلسطین، اوگھیر،روھینگیا، بہار ،بھارت کی موجودہ صورتحال غرض دنیا میں اس وقت مسلمان سب سے ابدتر حالت میں ہیں۔ وہ قرآن میں موجود جہاد کے حکم کی صفائیاں دینے میں الجھے ہوئے ہیں۔ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ فساد پھیلانے والوں کے خلاف جہاد کا حکم ہے تم فسادی ہو۔ جو پر امن اور نہتے لوگوں کو اپنی اسلام دشمنی میں قتل کررہے ہو۔ کیونکہ وہ طاقتور ہیں۔ اس لیے کیونکہ مسلمانوں نے جہاد کرنا چھوڑ دیا۔کافر کو ہم نے ایسے تو روک دیا کہ ان کے جھوٹےدعویدار کو کھلے میں رد کردیا مگر جس مقصد کیلیے یہ سب ہوا تھا ۔ وہ مقصد پورا ہوگیا، یعنی ہم جہاد سے دور ہوگئے۔
یاد رہے اس جھوتے دعویدار نے سب سے پہلے جہاد کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے تک خاص کہا ہے۔
ایک دعوٰ ی اور کہ وہ کہتے ہیں ، خاتم بمعنی بہترین
أَنا خَاتم الْأَنْبِيَاء ومسجدي خَاتم مَسَاجِد الْأَنْبِيَاء وَإِن أَحَق الْمَسَاجِد أَن تزار وتشد إِلَيْهِ الرَّوَاحِل الْمَسْجِد الْحَرَام ومسجدي "
اس حوالے سے چند ایک مختلف متن کے ساتھ اور بھی روایتیں موجود ہیں۔ ہر ایک حدیث میں مساجد الانبیاء موجود ہے۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری مسجد انبیاء کی آخری مسجد ہے۔
یعنی ان کے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا تو مسجد بھی نہیں بنوا سکتا۔ جو ان کی مسجد ہے وہ انبیاء کی آخری مسجد ہے۔
اس کا یہ ترجمہ کرنا کہ خاتم کے معنی بہترین کے ہیں ، کسی لغت سے ثابت نہیں ہے۔
میرا اس تمام گفتگو کا بنیادی مدعا یہی تھا کہ ہمیں عقیدہ ختم نبوت پر قائم رہنے اور اس کو جاننے کی ضرورت اس لیے ہے کہ اس میں زرا سا بھی شک دشمن کو آپ کا ایمان خراب کرنے اور دین سے ہٹانے میں کار گر ہوجائے گا، جو بہت برا ہے۔ انسانیت کی معراج ہے وہ دین اسلام پر زندگی گزارے ۔ وگرنہ انسان اور جانور کے بیچ کوئی فرق نہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات: حضرت عیسیؑ کا آسمانوں پر زندہ اٹھایا جانا ، (سورۃ اعمران آیت 55، سورۃ النساء 158-157)
خاتم الانبیاء حدیث، (تہذیب الکمال فی السماء الرجال جلد 8 ، صفحہ صفحہ 451-450)
A PHP Error was encountered
Severity: 8192
Message: nl2br(): Passing null to parameter #1 ($string) of type string is deprecated
Filename: views/column_item_view.php
Line Number: 116
Backtrace:
File: /home/binoria/public_html/ColumnNigar/application/views/column_item_view.php
Line: 116
Function: nl2br
File: /home/binoria/public_html/ColumnNigar/application/controllers/Home.php
Line: 171
Function: view
File: /home/binoria/public_html/ColumnNigar/index.php
Line: 315
Function: require_once
کالم نگار :