(+92) 321 2533925
چنگیزی فتنہ اور ہم
تیرہویں صدی کے شروع میں بر اعظم ایشیا کے عین درمیان میں ایک عظیم الشان مسلم سلطنت تھی جسے ”سلطنتِ خوارزم“ کہا جاتا تھا۔ سلطنت خوارزم عالمِ اسلام کی طاقتور ترین اور وسیع ترین سلطنتوں میں سے ایک تھی۔ سلطان علاؤالدین محمد خوارزم شاہ کے دور میں یہ اپنے عروج پر تھی، اس کی حدود ایران (عراقِ عجم) سے لے کر مشرق میں دریائے سندھ اور کاشغر (موجودہ چین) تک پھیلی ہوئی تھی۔ اس میں موجودہ ازبکستان، ترکمانستان، ایران، افغانستان، تاجکستان، کرغیزستان کے بڑے حصے اور پاکستان کے کچھ علاقے شامل تھے۔ سلطنت کے اہم ترین شہروں میں دارالحکومت گرگانج (اور گنج)، سمرقند، بخارا، اور مرو شامل تھے، جو اس وقت علم و ہنر اور تجارت کے عالمی مراکز تھے۔ خوارزم شاہی سلطنت نے غوریوں اور ترکان خطا جیسی بڑی طاقتوں کو شکست دے کر وسط ایشیا اور فارس پر مکمل بالادستی قائم کر لی تھی۔ترکانِ خطا ایک چھوٹی مگر طاقتور غیر مسلم ریاست تھی۔ یہاں کے باشندے لڑنے بھڑنے میں بڑے ماہر تھے۔ ترکان خطا کی سرحد ایک طرف خوارزم سے ملتی تھی تو دوسری طرف منگولیا سے جہاں متفرق جنگجو قبیلے آباد تھے۔
ایک حکمت نے کایا پلٹ دی:
یہ انھی دنوں کی بات ہے جب سلطان علاؤالدین محمد خوارزم شاہ کی ترکان خطا سے لڑائیاں چل رہی تھیں۔ ترکان خطا کے ایک سردار نے سمر قند پر کامیاب حملہ کیا۔ سلطان علاؤالدین خوارزم شاہ اس وقت وہاں موجود تھا۔ کچھ غداروں کی وجہ سے علاؤالدین کو شکست ہوگئی۔ اسی لڑائی میں دوسرے لوگوں کے ساتھ یہ بھی قید ہوگیا مگر جس ختائی سپاہی نے گرفتار کیا اس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ میری حراست میں سلطنت خوارزم شاہ حکمران بھی موجود ہے۔اس ختائی کے قبضے میں یہ دو قیدی تھے۔ ایک علاؤالدین اور دوسرا اس کا سالار ابنِ شہاب الدین مسعود۔ سالار نے ان کو کہا:"سلطان معظم! اس ختائی کو کچھ معلوم نہیں۔ اور سلطنت کی بقا کے لیے آپ کی رہائی ضروری ہے۔ اس کے لیے میرے دماغ میں ایک ترکیب موجود ہے بس آپ نے اس پر مکمل کرنا ہے، ان شاء اللّٰه رہائی آپ کا مقدر بنے گی۔"سلطان نے کہا:"وہ کیا ہے؟"سالار نے کہا:"آپ کسی پر یہ ظاہر نہ کریں کہ آپ خوارزم کے سلطان ہیں۔ آپ خود کو میرا غلام ظاہر کریں اور جیسے جیسے میں کہوں اس طرح کرتے جائیں۔"سلطان نے کہا:"ٹھیک ہے۔" پھر منصوبے کے مطابق سلطان علاؤالدین نے اپنے آپ کو غلام ظاہر کرکے سالار کی خوب خدمت شروع کردی۔ کبھی کپڑے پہناتا تو کبھی جوتے۔ کبھی جسم دباتا تو کبھی مالش کرتا۔ کبھی پانی پلاتا تو کبھی اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلاتا۔ ختائی نے یہ غیر معمولی منظر دیکھا تو اس نے شہاب الدین مسعود سے پوچھا:"یہ شخص تمھاری اتنی خدمت کیوں کر رہا ہے؟"شہاب الدین مسعود نے پورے اعتماد سے جواب دیا:"کیوں کہ یہ میرا غلام ہے۔"ختائی سپاہی کی آنکھیں چمکیں۔ اسے اندازہ ہوا کہ اس کی قید میں کوئی عام آدمی نہیں بلکہ ریاست کا عہدے دار ہے۔ اس نے مسعود سے پوچھا:"تم کون ہو؟"مسعود نے کہا:"میں خوارزم شاہ کا درباری امیر ہوں۔"اب تو ختائی سپاہی کے دل میں لڈو پھوٹنے لگے۔ کیوں کہ امیر قیدی کے بدلے اسے اچھا معاوضہ مل سکتا تھا۔ اس نے پتا پھینکتے ہوئے کہا:"اگر میرے دوسرے ساتھیوں کو تمھاری موجود گی کا علم نہ ہوتا تو میں تمھیں رہا کردیتا۔"مسعود کو اپنا منصوبہ کامیاب ہوتا نظر آیا۔ اس نے ختائی سے کہا:"اگر میں زیادہ دن یہاں قید رہا تو مجھے خطرہ ہے کہ گھر والے میری موت کا یقین کرکے میرا سارا مال آپس میں بانٹ لیں گے اور میں کنگلا ہو جاؤں گا۔ میری خواہش یہ ہے کہ ابھی زیادہ لوگوں کو ہمارا علم نہیں ہے، تم کچھ معاوضہ طے کرلو اور مجھے رہا کردو۔"ختائی کی تو دلی مراد بر آئی۔ اس نے خوشی چھپاتے ہوئے کہا:"مگر تمھارا معاوضہ مجھے کیسے ملے گا؟" مسعود نے لوہا گرم دیکھتے ہوئے ضرب لگائی اور کہا:"اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ تم اعتماد والا ایک ساتھی میرے ساتھ بھیج دو، میں وہاں پہنچ کر تمھارا معاوضہ اس کو دے دوں گا۔"ختائی نے کہا:"لیکن اس کی کیا گارنٹی ہے کہ تم اسے معاوضہ دے دو گے؟" مسعود نے کہا:"چلو ایسے کرلو کہ تم مجھے قید رکھو، میرے غلام کو اس بندے کے ساتھ بھیج دو، گھر والے غلام کو اچھی طرح پہچانتے ہیں تو وہ معاوضہ دے دیں گے۔"ختائی نے کہا:"ہاں ایسا کرنا ممکن ہے۔"چنانچہ اس نے اپنے اعتماد والے بندے کو مسعود کے غلام (اصل میں سلطان علاؤالدین) کے ساتھ روانہ کردیا۔سلطنت کے پایہ تخت اور گنج میں یہ افواہ پھل گئی تھی کہ سلطان جنگ میں مارا گیا ہے۔ چونکہ سلطان کافی دن سے غائب تھا اور کچھ اتا پتا نہیں چل رہا تھا، اس لیے لوگوں نے اب افواہ پر یقین کرلیا تھا۔ سلطان کے لالچی بھائی تاج الدین علی شاہ نے جب موقع دیکھا تو فوراً اپنی تاج پوشی کا اعلان کرکے تخت پر بیٹھ گیا۔ اِدھر سے یہ دونوں جب اور گنج کے قریب پہنچے تو سلطان علاؤالدین خوارزم شاہ جو اب تک ایک غلام کا روپ دھارے ہوئے تھا، اپنے گھوڑے کو تیز رفتاری سے آگے بڑھا کر شہر میں داخل ہوگیا۔ لوگوں نے سلطان کو یوں اچانک زندہ دیکھا تو حیرت زدہ رہ گئے اور ایک شور بپا ہوگیا۔ سلطان علاؤالدین خوارزم شاہ کے بھائی تاج الدین نے جب یہ خبر سنی تو تخت چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ یوں سلطان علاؤالدین خیر خیریت سے اپنے تخت پر دوبارہ براجمان ہوگیا۔ادھر مسعود کے پاس یہ ختائی سپاہی بہت دن سے انتظار میں تھا کہ کب معاوضہ آئے گا۔ ایک دن ختائی نے مسعود سے باتوں باتوں میں کہا:"میں نے سنا ہے خوارزم شاہ مارا گیا ہے۔ کیا یہ بات درست ہے؟"مسعود نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے کہا:"نہیں، خوارزم شاہ زندہ ہے۔"ختائی نے پوچھا:"تمھیں کیسے یقین ہے؟"مسعود نے کہا:"اس لیے کہ میرے جس غلام کو تم نے اپنے بندے کے ساتھ بھیجا ہے دراصل وہی خوارزم شاہ تھا اور میں اس کا درباری ہوں۔"ختائی نے جب یہ سنا تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ پھر بولا:"اگر یہی سچ تھا تو تم نے اس وقت کیوں نہیں بتایا میں اسے عزت کے ساتھ بھیجتا؟"مسعود نے کہا:"اصل میں مجھے خطرہ تھا کہ تم سلطان کو کوئی نقصان نہ پہنچا دو۔"ختائی نے کہا:"چلو جو ہوچکا سو ہوچکا۔ اب تم مجھے اس کے پاس لے جاؤ تاکہ اچھا معاوضہ مجھے ملے۔"مسعود اس ختائی کو لے کر جلد از جلد پایہ تخت پہنچا اور سلطان علاؤالدین خوارزم شاہ کے سامنے پیش ہوگیا۔ خوارزم شاہ نے ان دونوں کا بہترین اکرام کیا اور اس ختائی کو بھاری انعام سے نوازا۔جب ترکانِ خطا سے خوارزم شاہ نے آخری جنگ لڑی تو اس میں ختائیوں کی قیادت ایک ایسا شخص کر رہا تھا جس نے چالیس سے زائد کامیاب جنگیں لڑی تھیں۔ یہ ختائیوں کا بادشاہ طانیکو تھا اور اس کی عمر اس وقت سو سال سے اوپر ہوچکی تھی۔ ربیع الاول کے مہینے میں جمعہ کے دن یہ دونوں لشکر آمنے سامنے آئے۔ علاؤالدین خوارزم شاہ نے فوج کو حکم دیا کہ حملے کی ابتدا اس وقت تک نہ کریں جب تک خطبہ جمعہ کا وقت نہ ہو جائے۔ جب خطبہ جمعہ کا وقت ہوگا اور خطیب ہمارے لیے دعائیں کر رہے ہوں گے تو حملہ کیا جائے گا۔ فوج نے حکم کے مطابق ایسا ہی کیا۔ ایک ہولناک جنگ ہوئی اور علاؤالدین خوارزم شاہ کامیاب ہوگیا۔ اس لڑائی میں طانیکو زخمی ہوکر گرا تو ایک مسلمان سپاہی اسے مارنے کے لیے دوڑا۔ باندی نے چیخ کر کہا:"اسے نہ مارو، یہ ہمارا بادشاہ طانیکو ہے۔"سپاہی نے جب یہ سنا تو اسے گرفتار کرلیا اور خوارزم شاہ کی خدمت میں پیش کردیا۔جب علاؤالدین محمد خوارزم شاہ نے یہ ریاست فتح کرلی اور اپنی سلطنت کو چین تک وسیع کرلیا تو اس خوشی میں جشن برپا کیا گیا۔ اس جشن کے موقع پر ایک صاحبِ بصیرت بزرگ سید مرتضیٰ رحمۃ اللّٰہ علیہ وہاں موجود تھے اور رو رہے تھے۔ لوگوں نے دریافت کیا:"حضرت! لوگ خوش ہیں اور آپ رو رہے ہیں، یہ کیا ماجرا ہے، کیا آپ فتح پر خوش نہیں؟"آپ نے فرمایا: "مجھے ترکان خطا کی شکست پر خوشی نہیں ہے اور میں اسی لیے رو رہا ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ترکان خطا کی ریاست ہماری بقا کے لیے ضروری تھی۔ وہ ہمارے اور منگولیا کے وحشیوں کے درمیان ایک مضبوط آڑ تھی جو اب نہیں رہی۔"لوگوں نے ان کی بات کو صحیح طور پر نہ سمجھا اور جاکر جشنِ فتح میں منہمک ہوگئے۔
شہاب الدین غوری کی دلیری و دانائی:
کہتے ہیں طانیکو بعد میں مسلمان ہوگیا تھا۔ اس نے پینتالیس جنگیں لڑی تھیں۔ علاؤالدین اس سے لڑائیوں کے احوال بڑی دلچسپی سے سنتا رہتا تھا۔ اسی طرح ایک دن وہ علاؤالدین خوارزم شاہ کے ساتھ بیٹھا تھا تو علاؤالدین نے اس سے پوچھا: "آپ نے بہت لڑائیاں لڑی ہیں، کئی بادشاہوں کو خاک چٹائی ہے، ان سب میں باہمت اور دلیر کسے پایا ہے؟"وہ بولا:"میں نے سب سے زیادہ باہمت اور دلیر شہاب الدین غوری کو پایا ہے۔ جب اس کے ساتھ میری لڑائی ہوئی اس وقت اس کا لشکر بہت کم تھا اور گھوڑے بھی تھکے ہوئے تھے، اس لیے میں جیت گیا۔"خوارزم بولا:"ہاں! آپ نے ٹھیک کہا۔"علاؤالدین خوارزم شاہ کی متعدد بیویاں تھیں مگر کوئی نرینہ اولاد نہیں تھی۔ آخر ہندی نژاد بیگم سے اس کا پہلا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام جلال الدین رکھا گیا۔ اس بیٹے کے بعد دیگر تین بیگمات سے اس کے چار بیٹے ہوئے، رکن الدین غور شاہ، قطب الدین ازلاق سلطان، غیاث الدین پیر شاہ، آق سلطان۔ قطب الدین ازلاق اپنی دادی ترکان خاتون کو سب سے زیادہ لاڈلا تھا۔ غیاث الدین خوبصورت تھا مگر کسی قدر مغرور اور بے مروت، یہ عقل اور سمجھ میں بھی دوسروں کی بہ نسبت کم تھا۔ رکن الدین حسن و جمال کے ساتھ ساتھ بہادری اور سخاوت میں بھی زبردست تھا۔ سب سے بڑا بیٹا شہزادہ جلال الدین اپنے سب بہن بھائیوں سے بہت محبت رکھتا تھا مگر اپنی سوتیلی بہن شہزادی خان سے اس کا تعلق دوسروں سے بھی بڑھ کر تھا۔ شہزادی خان بھی اپنے بھائی کی بہت قدر دان تھی۔ جلال الدین کا اپنی سوتیلی ماؤں سے بہت اچھا مؤدبانہ تعلق تھا۔ جلال الدین کی والدہ اپنے بیٹے کے حسن سلوک اور وفا شعاری پر بہت فخر محسوس کیا کرتی تھی۔ سلطان علاؤالدین خوارزم شاہ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت کے معاملے میں کوئی کمی کوتاہی برداشت کرنے والا انسان نہیں تھا۔ اس لیے اس نے بہت سی پابندیاں عائد کی ہوئی تھیں۔ دوسرے شہزادے تو ان کو مجبوری میں برداشت کر رہے تھے البتہ جلال الدین باپ کی طرف سے تعلیمی و تربیتی پابندیوں کو خندہ پیشانی سے قبول کیا کرتا تھا۔اپنے بیٹوں کی جنگی تربیت کے لیے سلطان علاؤالدین نے بہترین افسروں کو منتخب کیا تھا اور ان کی دینی و دنیاوی تعلیم کے لیے بھی اس نے بہترین علماء اور اساتذہ کو مقرر کیا تھا۔ شہزادوں کے انہی اساتذہ میں سے ایک استاد کا نام فخرالدین رازی ہے جسے آج بھی دنیا "امام رازی" کے نام سے جانتی ہے۔ امام فخرالدین رازی ؒ وقت کے بہت بڑے مفسر، متکلم اور فلسفی تھے۔ جب آپ سلطنت خوارزم میں تشریف لائے تو علاؤالدین نے آپ کو دارالحکومت کی جامعہ کا سب سے بڑا عہدہ دیا اور شہزادوں کا استاد بھی مقرر کیا۔آپ شہاب الدین غوری کے لشکر میں ہندوستان بھی تشریف لائے تھے۔ سپاہیوں کو وعظ و نصیحت آپ کی ذمہ داری تھی۔ جب شہاب الدین غوری پر حسن بن صباح کے فدائیوں نے قاتلانہ حملہ کیا جس میں وہ شہــید ہوگیا تو الزام آپ پر آیا۔ کیوں کہ وہ فدائی آپ کے درس میں بھیس بدل کر شریک ہوا کرتے تھے۔ آپ نے بہت مشکل سے اپنی بے گناہی ثابت کی۔ جب آپ غوری لشکر کو چھوڑ کر ہرات میں واپس اپنے مدرسے آئے تو یہاں بھی یہی افواہ گردش کر رہی تھی۔ ہرات کے لوگ آپ کو جان سے مارنے کے درپے تھے، بڑی مشکل سے آپ جان بچا کر خوارزم آئے تو سلطان علاؤالدین نے آپ کو ہاتھوں ہاتھ لیا، کیوں کہ وہ آپ کے مقام و مرتبے سے واقف تھا۔ ایک روایت کے مطابق آپ تکش کے دور میں سلطان علاؤالدین کے بھی استاد رہے ہیں۔
سلطنت خوارزم کی خوشحالی:
غوری سلطنت اور ترکان خطا کے خاتمے کے بعد سلطنت خوارزم کی حدود بہت پھیل چکی تھیں۔ ایک طرف چین سے ملتی تھیں تو دوسری طرف ہندوستان کے شہر پشاور سے آگے نکل کر دریائے سندھ کو چھو رہی تھیں۔ سلطنت میں خوشحالی کا دور دورہ تھا۔ دور دور تک وسیع سبزہ زار اور محلات پھیلے تھے۔ لوگ پر امن اور خوشحالی کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ سلطنت تمام تر وسائل سے مالا مال اور ہنر مندوں سے بھری ہوئی تھی۔ ایک ایک شہر میں روزانہ لاکھوں کروڑوں کا کاروبار ہوتا تھا۔ نت نئے تجربات کے بعد بہترین اسلحہ سازی ہو رہی تھی۔ دریا اور نہریں جاری رہتی تھیں جن سے زراعت خوب چل رہی تھی۔ جگہ جگہ تعلیم گاہیں قائم تھیں جو طلبہ سے بھری ہوتی تھیں۔ کئی کئی علوم و فنون ان درسگاہوں میں پڑھائے اور سکھائے جاتے تھے۔ ہر تعلیم گاہ کے ساتھ مستقل لائبریری کا انتظام ہوتا تھا جہاں طلبہ اور دیگر علم کے شائقین اپنی علمی پیاس بجھاتے تھے۔ مملکت میں یہ ضروری تھا کہ ہر بچہ تعلیم حاصل کرے۔ ان کے لیے ہر ہر علاقے میں بہترین اساتذہ کا تقرر کیا جاتا تھا۔شہر کے شہر خوبصورت عمارتوں سے پُر تھے۔ بخارا کی جامع مسجد الکبیر فنِ تعمیر کا شاہکار تھی۔ دیکھنے والا اسے علاؤالدین خوارزم شاہ کا محل تصور کرتا تھا۔ ہر شہر اور محلے میں کشادہ سڑکیں اور گلیاں موجود تھیں۔ سڑکوں کے ارد گرد قطار در قطار گھنے درخت لگے ہوتے تھے جن کے پیچھے بنے مکانات چھپ جاتے تھے۔ سلاطین اور امراء مساجد و مدارس پر خوب خرچ کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے مسجدوں کی شان و شوکت نمایاں نظر آتی تھی۔ ان کے بلند و بالا میناروں سے دور دراز سفر کرتے مسافروں کو اندازہ ہوجاتا تھا کہ وہاں آبادی ہے۔ ہر شہر میں ایک نہر ہوتی تھی اور نہر سے پختہ نالیوں کے ذریعے ہر محلے اور گلی میں، پھر گلیوں میں سے گھروں تک پانی پہنچانے کا انتظام ہوتا تھا۔ غیر ملکی سیاح جب سلطنت اور اس کے دارالحکومت اور گنج میں آتے تو تعمیر و ترقی دیکھ کر دنگ رہ جاتے تھے۔سلطان علاؤالدین خوارزم شاہ کے علاوہ سلطنت میں ایک اور بااثر شخصیت تھی، یہ سلطان علاؤالدین خوارزم شاہ کی والدہ ترکان خاتون تھیں۔ چونکہ یہ علاؤالدین کے والد تکش کے دور سے ہی شاہی معاملات میں شامل ہوتی تھیں تو اب بیٹے علاؤالدین کے دور میں بھی ان کا الگ دربار لگا کرتا تھا اور یہ بڑے رعب و دبدبے سے رہا کرتی تھیں۔ بعض مرتبہ سلطنت کے کاموں میں ان دو درباروں سے مسائل بھی بن جاتے۔ کیوں کہ کسی معاملے میں سلطان کے احکامات اور ہوتے تھے اور ان کی والدہ ترکان خاتون کے اور۔ اگرچہ سلطان علاؤالدین والدہ کے ادب و احترام کا مکمل خیال رکھتا تھا مگر اس کے باوجود بہت سے معاملات میں مداخلت کی وجہ سے کشیدگی اور رنجش پیدا ہوجاتی تھی۔
خلافت عباسیہ کے اسبابِ زوال:
سلطنت خوارزم کے جنوب مغرب میں عباسی خلافت کے مقبوضات شروع ہو جاتے تھے۔ عالمِ اسلام کے اس مرکز بغداد میں اس وقت ابوالعباس ناصر خلافت کے عہدے پر براجمان تھا۔ عملاً اس وقت خلافتِ عباسیہ کی گرفت بہت کمزور پڑ چکی تھی۔ زوال اب قریب پہنچ چکا تھا۔ بہت سی ریاستیں خود مختار ہوچکی تھیں۔ لوگ خلیفہ کی پالیسیوں اور خود غرضیوں سے تنگ آ چکے تھے۔ بغداد شہر کے اندر بھی خلافت کی اب وہ پہلے جیسی عظمت باقی نہ رہی تھی۔ خلیفہ ناصر کی کوشش تھی کہ کسی بھی طرح خلافت کا دوبارہ رعب و دبدبہ قائم کیا جائے اور وہ اسی میں کوشاں رہتا تھا۔ بغداد اگرچہ اب بھی عالمِ اسلام کے مرکز کی حیثیت رکھتا تھا مگر سیاسی لحاظ سے وہ بالکل بے اثر ہوچکا تھا۔ بدانتظامی اور رشوتوں کا بازار گرم تھا۔ علماء اور صوفیاء اپنی حد تک اصلاح کی کوششوں میں مصروف تھے مگر لوگوں اور حکام میں اپنی اصلاح کرنے کی فکر نہ ہونے کے برابر تھی۔ معاشرے میں جو بگاڑ تھا وہ بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔ تفرقہ بازی عام ہوچکی تھی، جگہ جگہ مناظروں اور مباحثوں کی مجلسیں لگی ہوتی تھیں۔ اپنی اصلاحِ نفس کے بجائے ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر زور زیادہ تھا۔ سرکاری لوگ ہوں یا عوام، سبھی خود غرضیوں میں مبتلا ہوچکے تھے۔ خلیفہ ناصر اگرچہ کافی حدتک اپنا رعب قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا مگر اس نے اپنی اس حیثیت کو عالمِ اسلام کے اجتماعی مفاد میں استعمال کرنے کے بجائے اپنی ذات تک محدود رکھا۔ اس کے کامیاب جاسوسی نظام سے ہر کوئی خائف رہتا تھا۔ وہ دہلی کے دربار کی باتیں بغداد میں بیٹھا ہوا معلوم کرلیتا تھا اور قافلوں کی آمد سے پہلے ہی وہ ان کے معاملات سے باخبر ہوجاتا تھا۔ لیکن افسوس کہ اس کی خود غرضی پر مبنی پالیسیوں سے مسلمانوں کو ہی نقصان پہنچ رہا تھا۔ خلیفہ ناصر اپنے پڑوس میں پھیلتی پھولتی سلطنت خوارزم سے بہت خائف تھا اور اندرون خانے اس کو مِٹانے کے درپے تھا۔ اس کا کچھ پتا اس وقت چلا جب خوارزم شاہ نے غوریوں کو شکست دی اور وہاں سے خلیفہ ناصر کے خطوط ملے جو خوارزم کے خلاف تھے۔ ان میں سلطنت خوارزم پر حملہ کرنے کی ترغیب دی گئی تھی۔ ان سب خرابیوں کے باوجود عالمِ اسلام کے بڑے عہدے دار خلیفہ ناصر کا بطورِ سرپرست احترام کیا کرتے تھے۔
سلطان صلاح الدین ایوبی کے نالائق ورثاء:
شام و مصر سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ کی وفات کے بعد پہلے ان کے بھائی کے قبضے میں گئے پھر ان کی وفات کے بعد یہ چار حصوں میں بٹ کر ان کے پوتوں میں تقسیم ہوگئے۔ غرض سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ کی وفات کے چھبیس سال بعد ان کی مملکت چار ٹکڑوں میں بٹ چکی تھی۔قلعہ الموت میں حسن بن صباح کے فدائیوں نے عالمِ اسلام میں الگ سے تباہی مچائی ہوئی تھی۔ بڑے بڑے علماء، سلاطین اور وزراء ان سے محفوظ نہیں تھے۔ سلطنتِ خوارزم کے علاوہ باقی تقریباً پورے عالمِ اسلام میں افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ بدعملیوں اور خود غرضیوں سے معاشرہ تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا تھا۔سلطان علاؤالدین خوارزم شاہ اپنی وسیع و عریض مملکت میں جاہ و جلال سے حکومت کر رہا تھا مگر اس کے شمال میں بارہ سو میل لمبے پہاڑی سلسلے کے دوسری طرف وحشت و بربریت سے لبریز ایک ایسی قوم طاقت پکڑ چکی تھی جو دنیا میں بہت بڑی تباہی لانے والی تھی۔ یہ ایسی قوم تھی کہ ان کے ظلم و جبر کی داستانیں سن پڑھ کر آج بھی لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔صحرائے گوبی ایک بہت بڑا صحرا ہے۔ یہاں گرم موسم میں ریتلی آندھیاں چلتی ہیں جو آسمان کو چھوتے ہوئے معلوم ہوتی تھیں۔ گرد و غبار کے یہ طوفان یہاں اکثر اٹھتے رہتے تھے۔صدیوں سے متفرق جنگلی قبیلے یہاں آباد تھے جن کا گزر بسر شکار اور گلہ بانی پر ہوتا۔ کوئی جنگلی ریچھ، ہرن، چوہا بلی، گھوڑا بکری، گائے، کچھ بھی مل جاتی تو وہ شکار کرکے خوراک بنا لی جاتی تھی۔ اصول یہ تھا کہ پہلے طاقتور لوگ خوب سیر ہوکر کھاتے۔ پھر بوڑھے اور عورتیں کھاتیں۔ آخر میں جو کچھ بچتا وہ بچے کھاتے۔ اکثر ان کے حصے میں ہڈیاں آتیں جو یہ چوستے یا پھر گلہریاں شکار کرکے اپنا پیٹ بھرتے۔ان خانہ بدوشوں کی رہائش بڑے بڑے گول خیموں ہوتی جن کو "یورت" کہتے تھے، ان کو دوسری جگہ منتقل کرنے کے لیے بڑے بڑے چھکڑوں پر لاد لیتے جن کے آگے کئی کئی بیل جوتے جاتے تھے۔ ان میں سے ہر ایک قبیلہ بڑے بڑے ریوڑ کا مالک ہوتا تھا۔ اس ریوڑ میں سینکڑوں گائے، بکریاں، گھوڑے شامل ہوتے۔ گرمیوں میں ان کا دودھ پیتے اور سردیوں میں برفباری کی وجہ سے دودھ سوکھ جاتا تو خشک کیے گئے گوشت پر گزارا کرتے۔ ریگستان میں جہاں پانی ہوتا وہیں ڈیرہ ڈال دیتے، جب ختم ہو جاتا تو چھکڑوں پر یورت لادے کہیں اور چل پڑتے۔ہر قبیلہ اپنی حفاظت کے لیے چالاک، ہوشیار اور بہادر شخص کو سردار بنا لیتا تھا۔ پانی کے مقام پر قبضہ کے لیے یہ قبیلے اکثر لڑتے بھڑتے رہتے۔ یہ مضبوط بدن، سرخ اور زرد رنگت، چپٹی اور چھوٹی ناک، فاقہ کش، سخت جان اور چھدری داڑھی والے لوگ تھے۔ کوئی بھی غیر قوم کا شخص ان میں فوراً پہچانا جاتا تھا۔ کئی کئی دن فاقہ کرنا ان کے ہاں معمول تھا۔ جنگی مہارت ان کو ورثے میں ملی تھی۔ گھوڑوں کی پیٹھ پر سوار ہوکر کئی کئی دن رات مسلسل سفر کرنا ان کے لیے کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ جب کسی پر حملہ کرنا ہوتا تو ایسے ہی کئی کئی دن رات مسلسل سفر کرکے اچانک اس پر جا پڑتے۔ مکاری اور دھوکہ بازی ان کی طبیعت میں رچی بسی تھی۔ جانوروں کی کھال اوڑھے اور بالوں کے جوتے پہنے یہ لوگ صحرا میں جنگلی بھوت معلوم ہوتے تھے۔انھی قبیلوں میں سے ایک مغل قبیلے کے سردار کا نام یسو کائی تھا۔ یہ مغل قبیلہ دوسروں کی بنسبت اچھی جگہ پر قیام رکھتا تھا۔ ان کا ٹھکانہ جھیل بیکال کے آس پاس سرسبز جگہ پر تھا۔ یہ ہری بھری جگہ جھیل بیکال سے منچوریا کے سرحدی پہاڑوں تک پھیلی ہوئی تھی۔ صحرا میں موجود ان خانہ بدوش قبائل کے لیے یہ جگہ گویا جنت تھی۔ اس جگہ پر قبضے کے لیے کئی مرتبہ دوسرے قبیلوں نے حملہ کیا مگر کامیاب نہیں ہوئے۔ کیوں کہ مغل قبیلے کا سردار یسو کائی اپنے علاقے کی حفاظت کرنا بخوبی جانتا تھا۔ یسو کائی کی بیوی کا نام اولون تھا۔
چنگیز خان کے ابتدائی حالات:
سن 1154 میں ان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام "تموجِن" رکھا گیا۔ تموجِن جب بارہ تیرہ سال کا تھا تو اس کے باپ یسو کائی کو دشمنوں نے مار دیا۔ قبیلے نے دیکھا کہ تموجِن ابھی کم عمر ہے اور قبیلے کی دیکھ بھال اچھی طرح نہیں کرسکے گا تو وہ بکھر گئے۔ پیچھے تموجِن، اس کی ماں اولون، اس کا بھائی قسار اور چند وفادار ساتھی رہ گئے۔ دشمن اسی تاک میں تھا۔ انھوں نے حملہ کیا اور تموجِن کو قید کرلیا۔ اس کے گاؤں کو آگ لگائی اور چلے گئے۔ تموجِن چکما دینے میں کامیاب رہا اور فرار ہوگیا۔ کچھ دن بعد چھپ چھپا کر یہ گاؤں پہنچا تو ہر چیز جل کر خاکستر ہوچکی تھی۔ اس کا خاندان تو زندہ مل گیا مگر آبائی گاؤں دشمن کے قبضے میں چلا گیا۔یہ خاندان کو لے کر مختلف پہاڑی علاقوں میں چھپتا پھرتا رہا اور دشمن پر ضرب لگانے کی ترکیبیں سوچتا رہا۔ دشمن اس کی تلاش میں در بہ در پھرتا رہا مگر یہ ہاتھ نہ لگا۔ جب اس نے دشمن کا مقابلہ کیا تو اس کے کچھ پرانے ساتھی بھی آکر اس سے ملنے لگے۔ لوگ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا۔ کچھ ہی عرصے میں اس نے اپنے ارد گرد کافی بڑا لشکر جمع کرلیا۔ جب اس کی عمر سترہ سال ہوئی تو اس نے ایک لڑکی سے شادی کی جس کا نام بور تائی تھا۔ ایک دن جنگلی حملہ آور قبیلے نے اس کی بیوی کو اغوا کرلیا۔ یہ پہلے ہی انتقام کی آگ میں جل رہا تھا کہ اب تو شعلے بھڑکنے لگے۔ کسی طرح حملہ کرکے اس نے بیوی کو تو چھڑا لیا مگر اپنے پہلے بیٹے "جوجی" کے نسب میں اس کو شک ہی رہا۔جب قبیلے کے لوگوں نے تموجِن کی کامیاب کارروائیاں دیکھی تو وہ بھی واپس آنے لگے۔ اس کی خواہش بھی یہی تھی کہ کسی طرح قبیلہ جمع ہو جائے۔ مکاری، عیاری جفاکشی اور غیظ و غضب تو پہلے سے اس کی طبیعت میں تھا مگر اب تو یہ خصلتیں عروج پر پہنچ چکی تھیں۔ اس نے اپنے ساتھیوں کا جو لشکر جمع کیا تھا یہ لوگ تعداد میں تو کم تھے مگر تھے تموجِن کے پکے وفادار۔ یہ مختلف قبیلوں سے لڑتے بھڑتے رہتے۔ ایک حملے میں تموجِن کے گلے میں تیر لگا، دشمن مردہ سمجھ کر چھوڑ گیا مگر یہ ابھی زندہ تھا۔ ساتھیوں نے برف کے ٹکڑوں کے ذریعے تیر نکال کر اس کا علاج کیا تو کچھ عرصے بعد یہ تندرست ہوگیا۔ دشمن سے بچنے اور خوراک کے لیے ان کو بار بار جگہ بدلنی پڑتی تھی اس لیے اکثر لڑائیاں چلتی رہتیں۔ یہاں تک کہ اس نے تیرہ ہزار کا لشکر جمع کرلیا۔ ایسے ہی ایک سفر کے دوران ان کی مڈبھیڑ تایجوت قبیلے سے ہوگئی۔ دشمن مقابل تیس ہزار تھا اور یہ اس کے نصف۔ لیکن تموجِن نے ماہر جنگجو کی طرح صف بندی کرکے لڑائی لڑی اور فتح حاصل کی۔ چونکہ تایجوت قبیلے کو ناقابلِ شکست سمجھا جاتا تھا۔ اس لیے ان کو مار بھگانے کے بعد تموجِن اور اس کے ساتھیوں کے حوصلے آسمان سے باتیں کرنے لگے۔ اب تو اس نے باقاعدہ سرداروں والے ٹھاٹ باٹ اختیار کرلیے تھے۔ اس نے قبیلے کا پرچم بنوایا جس پر یاک کی نو دموں والا نشان تھا۔ اب اس کے ساتھی دن بہ دن بڑھنے لگے۔ اس کے سب سے بہادر ساتھی اور سالار تین تھے۔ سوبدائی بہادر، مقولی بہادر اور جبی نویان۔ یہ تینوں بلا کے بہادر اور سفاک انسان تھے۔ تموجِن نے اپنے باپ کے دوست اونگ خان سے امدادی فوج لی اور ایک تاتاری قبیلے پر حملہ کرکے ان کو فنا کردیا۔تموجِن کے دماغ میں اب دن بہ دن طاقت بڑھانے کا جنون چڑھتا چلا جا رہا تھا۔ اس کے ارد گرد مختلف جنگجو جمع ہوچکے تھے۔ کبھی جن کا پیشہ لوٹ مار تھا وہ بھی اس کی فوج میں شامل ہوچکے تھے۔ تیس سال کی عمر میں تموجِن نے ٹھیک ٹھاک قوت حاصل کرلی تھی۔ اس نے اپنے باپ کے سابق دوست طغرل اونگ خان پر حملہ کرکے اسے مار دیا اور اس کے ملک پر قبضہ کرلیا۔ اب تموجن کے پرچم تلے اڑھائی لاکھ تک لشکر جمع ہوچکا تھا۔ مختلف تاتاری قبیلے اس کے سامنے سرنگوں ہوچکے تھے۔ اسے اونگ خان کا علاقہ قراقرم بہت پسند آیا تو اس نے اپنا مستقل ٹھکانہ وہیں بنا لیا۔ اب اس کا دربار قراقرم میں سجنے لگا جس میں باقاعدہ مجلس مشاورت منعقد ہوتی۔ اس مجلس مشاورت کو "قرولتائی" کہا جاتا تھا۔ ایک دن اس نے قرولتائی منعقد کی اور اپنے ماتحت تمام سرداروں سے حلف لیا کہ وہ چین پر حملہ کرنے اس میں اس کا ساتھ دیں گے۔ عہدو پیمان کے بعد اس نے اپنے لیے "چنگیز خان" کا لقب اختیار کرلیا اور اس طرح یہ تموجِن سے چنگیز خان بن گیا۔ آج تک دنیا بھر میں یہ اسی نام سے جانا جاتا ہے۔
دیوار چین کی وجہ تسمیہ:
منگولیا کے جنوب میں چینی قوم آباد تھی جن میں پانچ ہزار سال سے بادشاہت چلتی آرہی تھی۔ یہ دنیا کی قدیم ترین بادشاہت تھی۔ یہ بہت بڑا اور ترقی یافتہ ملک تھا۔ اس کے شہروں میں لوگ چاولوں کی شراب پیتے اور عورتوں کے ہاتھوں میں بجتی ہوئی گھنٹیوں میں خوبصورت گیت سنتے۔ یہ لوگ ہر وقت اچھے سے اچھے کھانے پینے اور نت نئے فیشن اختیار کرنے میں مشغول رہتے۔ منگولیا کے لوگوں کو وہ آوارہ جنگلیوں سے زیادہ اہمیت نہ دیتے تھے۔ ان کے حملوں سے بچنے کے لیے انھوں نے عظیم الشان دیوارِ چین بنا رکھی تھی۔ اس کے اندر وہ اپنے قدیم بادشاہوں کے زیرِ سایہ چین و سکون کی زندگی بسر کر رہے تھے۔ چنگیز خان کو حملے کے لیے کسی بہانے کی تلاش تھے۔ اتفاق سے اسے یہ بہانہ جلد ہی مل گیا۔ چینی شہنشاہ کا انتقال ہوا تو اس کا بیٹا "دائی دنگ" کا لقب اختیار کرکے تخت نشین ہوا۔ چونکہ چینی شہنشاہ منگولیا کے قبیلوں کو اپنا باج گزار سمجھا کرتے اور ان سے خراج لیا کرتے تھے، اس لیے دائی دنگ نے بھی اپنے لوگ خراج وصول کرنے کے لیے چنگیز خان کے پاس بھیجے۔ چنگیز خان کو بہانہ مل چکا تھا۔ اس نے خراج دینے سے انکار کردیا۔ چنگیز خان نے نفرت سے تھوکتے ہوئے سفیروں سے کہا"میں اس بے وقوف کو خراج ادا کروں؟ ہاں یہ ممکن ہے کہ وہ میرے ماتحت رہ کر کام کرے۔ اگر منظور نہیں تو میں عظیم الشان لشکر کو لے کر چین آرہا ہوں۔" چنگیز خان کی فوج میں ایسے لوگ موجود تھے جو چین کے اہم راستوں سے واقف تھے۔ وہ خفیہ رستے بھی جانتے تھے اور اندر ملکی کمزوریوں کو بھی پہچانتے تھے۔ بس اب کسی چیز کی دیر نہیں تھی۔ چنگیز خان اپنے لشکر کو لے کر چین کی طرف بڑھا۔ تیس ہزار کا دستہ بطورِ ہراول آگے بھیجا جس نے ارد گرد علاقوں میں خوب لوٹ مار کی۔ جاسوسی نظام کی بدولت چنگیز خان اپنے مجموعی طور پر تین لاکھ کے لشکر سمیت دیوار چین کو عبور کرکے ملک میں داخل ہوگیا۔ یہ لڑائی کئی سال وقفے وقفے سے چلتی رہی۔ یہاں تک کہ چین کا دفاع کمزور ہوگیا اور چن خاندان کا آخری چشم و چراغ دائی دنگ دارالحکومت پیکنگ کو چھوڑ کر فرار ہوگیا۔ چنگیز خان نے اس کے فرار کے چند دنوں بعد ہی سارا علاقہ فتح کرلیا اور اسی کے ساتھ ہزاروں سال پرانی چینی شہنشاہیت ختم ہوگئی۔ چنگیز خان اپنے مایہ ناز سپہ سالار مقولی بہادر کو وہاں نائب مقرر کرکے خود واپس قراقرم آگیا۔چنگیز خان کی فوج نے قراقرم میں گھاس پھونس کے بنے کچے پکے مکانات تعمیر کرلیے تھے۔ چین کی فتح کے بعد ان مکانوں میں لوٹ مار کا اتنا سامان جمع ہوچکا تھا کہ دنیا کی اچھی سے اچھی چیزیں یہاں موجود تھیں۔ خود چنگیز خان ایک بہت بڑے خیمے میں رہتا تھا۔ یہ خیمہ مضبوط بھی تھا اور خوبصورت بھی۔ اس خیمے میں اس کے بیٹے، جوجی خان، چغتائی خان، اوکتائی خان اور تولی خان، اس کی خدمت کے لیے ہر وقت موجود رہتے تھے۔ جوجی لشکر کے لیے شکار کا ذمہ دار تھا، چغتائی وزیر قانون، اوکتائی وزیر مشاورت اور تولی خان سپہ سالار اعلیٰ تھا۔ چین کی فتح کے بعد عیش و عشرت کے سامان کی صحرائے گوبی میں ریل پیل ہوگئی تھی۔ تاتاریوں نے دنیا بھر کے ساز و سامان کا ذائقہ چکھا تو ان کی حرص مزید بڑھ گئی۔چنگیز خان کی عمر پچپن سال ہوچکی تھی۔ اب مزید کسی پیش قدمی سے پہلے وہ آرام کرنا چاہتا تھا۔ چین کی طویل لڑائی نے اسے تھکا دیا تھا۔ اس لیے کچھ دن وہ اپنے علاقے میں عیش و عشرت سے گزارنا چاہتا تھا۔اب چنگیز خان چند قبیلوں کا سربراہ نہ تھا بلکہ وہ ایک بہت بڑی مملکت کا سربراہ بن چکا تھا۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس کے اندر مزید ممالک فتح کرنے اور لوگوں کو قـتل کرنے کا شوق کا بڑھ چکا تھا۔
عجیب وغریب چنگیزی قوانین کا نفاذ:
چنگیز خان نے اپنی ریاست میں عجیب و غریب قانون نافذ کر رکھے تھے۔ یہ قانون خود اس کے اپنے دماغ کے تراشے ہوئے تھے۔ جس دستاویز میں یہ قانون درج تھے اسے "یاسا" کہا جاتا تھا۔ یاسا کے مطابق ایک خدا پر ایمان لانا ضروری تھا۔ لیکن اس خدا کی کوئی تفصیل موجود نہیں تھی کہ چنگیز خان کے نزدیک خدا کون ہے؟ہر فرد کو اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنے کی آزادی تھی مگر اس بات کا خیال رکھنا ضروری تھا کہ اپنے مذہب پر عمل کرنے سے چنگیز خان کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہ ہو۔ یعنی چنگیز خان کا حکم سب سے بڑھ کر تھا۔کالا جادو کرنا، دشمن کا جاسوس بننا، مردوں کا مردوں سے جنسی تعلق قائم کرنا، چوری کرنا، ان سب جرائم کی سزا صرف اور صرف موت تھی۔اس بات کی اجازت تھی کہ مہینے میں تین بار نشہ کرسکتے ہیں۔ گرج چمک کے ساتھ اور بارش کے دوران پانی استعمال کرنا منع تھا۔ دوسری قوموں کے ساتھ دھوکہ فراڈ کرنا، ان کی عورتوں کی بے حرمتی کرنا، ان کا قتـلِ عام کرنے کی مکمل اجازت تھی الغرض چنگیز خان کی تیار کی گئی دستاویز میں ایسے عجیب و غریب قوانین موجود تھے جو عقل و فراست سے ماورا تھے۔
چنگیز خان کی جنگی حکمت عملی:
چنگیز خان حملے کے لیے مختلف طریقے استعمال کرتا تھا۔ اس کے ہر سپاہی کے پاس کئی کئی گھوڑے ہوتے تھے۔ یہ مہینوں کا سفر ہفتوں میں اور ہفتوں کا دِنوں میں طے کرلیتے تھے۔ یہ رات دن مسلسل سفر کرتے اور سفر کے دوران گھوڑے بدلتے رہتے تھے۔ یہاں تک کہ اچانک دشمن کے سر پر جا پہنچتے۔یہ لوگ دشمن کی طرف کئی اطراف سے بڑھتے تھے۔ ایک لشکر دشمن کے سامنے کی طرف سے آتا تو دوسرا لمبا چکر کاٹ کر پیچھے سے پہنچ جاتا۔ دشمن ایک سرحد پر انتظار کر رہا ہوتا تو چنگیز خان کسی اور طرف سے نمودار ہو جاتا۔ اس کے لشکر کا ایک حصہ مخالف کو ایک رخ پر الجھا کر رکھتا تو دوسرا حصّہ اچانک دوسرے رخ پر حملہ آور ہو جاتا۔چنگیز خان جس قوم پر حملہ کرتا پھر اس پر رحم کھانا وہ نہیں جانتا تھا۔ جو لوگ اس سے ڈر کر اس کے تابع ہو جاتے تو ان کا قتــلِ عام تو نہیں کرتا تھا البتہ ان کا سب مال و اسباب لوٹ لیتا تھا۔ ان کی خواتین کی سرعام عصمت دری کی جاتی تھی اور جو چیز اچھی لگتی ہتھیا لی جاتی تھی۔ایک مرتبہ اس کی مملکت میں ایک مسلمان قافلہ داخل ہوا تو انھوں نے دور سے دیکھا کہ ایک سفید پہاڑ نظر آرہا ہے۔ یہ سمجھے شاید کوئی برف پوش پہاڑ ہے، مگر جب قریب پہنچے تو دیکھ کر ان کو خوف سے جھر جھری آگئی۔ کیوں کہ یہ کوئی پہاڑ نہیں تھا بلکہ قتـل کیے گئے ہزاروں انسانوں کی کھوپڑیوں کا ڈھیر تھا۔ چنگیز خان اگرچہ ایک خدا کا قائل تھا مگر اس کے قبیلے میں شرک بہت زیادہ تھا۔ اس کے لوگ مخلتف چیزوں کی عبادت کرتے تھے۔ چنگیز خان خود روزانہ ایک پہاڑ پر چڑھتا اور وہاں روحوں سے باتیں کیا کرتا تھا۔ ان کا نام اس نے "تینگری" رکھا ہوا تھا۔ جس پہاڑ پر یہ چڑھتا تھا اس کے نزدیک یہ تینگری کا ٹھکانہ تھا۔ چنانچہ وہ روزانہ وہاں چڑھ کر چاروں طرف کی ہواؤں سے دعائیں مانگتا تھا۔یہ لوگ صبح سویرے سورج کو سجدہ کرتے تھے اور جب آسمان پر بجلی کڑکتی تو بہت خوف زدہ ہو جاتے تھے۔ سورج کے ساتھ ساتھ ان میں ستارہ پرستی بھی پائی جاتی تھی۔
چنگیزی جاسوسی نیٹ ورک:
چنگیز خان نے جب تبت اور چینی ترکستان کا علاقہ بھی فتح کرلیا تو وہاں کچھ بدھ مت اور مسلمان آباد تھے۔ ان کے ہاں ہندوستان، مصر، خوارزم، بغداد سمیت دیگر مسلم علاقوں سے تاجروں کا آنا جانا ہوتا تھا، انہی کے ذریعے چنگیز خان کو پتا چلا کہ پہاڑ کی دوسری جانب بھی قومیں آباد ہیں اور وہاں بڑی خوش حالی ہے تو اس کے اندر حرص جاگ اٹھی۔ چنگیز خان نے اپنے دربار میں مختلف قوموں کے لوگ بطورِ ترجمان مقرر کردیے تھے جن کے ذریعے دنیا کی بہت سی معلومات اسے ملتی رہتی تھی۔ اس کی سلطنت اور عالمِ اسلام کے درمیان ایک قدرتی سرحد تھی۔ یعنی کوہ تیان شان کی بارہ سو میل لمبی پٹی عالمِ اسلام اور چنگیز خان کی سلطنت کے درمیان حائل تھی۔ چنگیز خان کے علاقے کے مسلمان جب کسی دوسرے مسلم ملک کا سفر کرتے تو ان کو ہدایت دی جاتی تھی کہ وہاں پہنچ کر ہر چیز پر نظر رکھنی ہے اور واپس آکر تمام تر معلومات بالکل سچ سچ بیان کرنی ہیں۔ یعنی ان لوگوں کے ذریعے اس نے جاسوسی کرنا شروع کردی تھی۔ چونکہ یہ لوگ اپنے خاندانوں کی وجہ سے مجبور تھے، اسی وجہ سے ان کو چنگیز خان کے لیے جاسوسی کرنا پڑتی تھی۔ چنگیز خان کے دربار میں عربی، فارسی اور ترکی زبانوں کے ترجمان موجود ہوتے تھے جو ایک ایک لفظ کا ترجمہ کرکے اسے سب کچھ بتا دیتے تھے۔
چنگیزی حملہ سے قبل مسلم امہ:
چنگیز خان کے حملے سے پہلے عالمِ اسلام کے حالات کچھ زیادہ اچھے نہیں تھے۔ زیادہ سے زیادہ مال و دولت جمع کرنا خاص و عام کا مشعلہ بن چکا تھا۔ دین سے دوری دن بہ دن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ مسلمان فریضہ جـہا د سے غافل ہوچکے تھے۔ معاشرے میں انتشار اور تقسیم پھیل چکی تھی۔ گنے چنے لوگوں کو چھوڑ کر اکثر لوگ دین پر عمل کرنے اور دین کی دعوت دینا چھوڑ چکے تھے۔ تفرقہ بازی عروج پر تھی۔ ہر کوئی دوسرے کو نیچا دکھانے میں مگن تھا۔ امت کے اجتماعی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دی جانے لگی تھی۔ جوانوں نے تلواریں رکھ کر گانے بجانے کے آلات سنبھال لیے تھے۔ موسیقی اور ناچ گانے کی محفلیں سجنے لگی تھیں۔ خلیفہ ناصر امت کی رہنمائی کرنے کے بجائے لوگوں کو کھیل کود میں مصروف رکھتا تھا۔ فوجی تربیت چھوڑ کر لوگوں نے کھیل کود اور ناچ گانا سیکھنا شروع کردیا تھا۔ لوگوں کے اندر عقیدے کا بگاڑ پیدا ہوچکا تھا۔ نئے نئے عقیدے اور نظریے جنم لے چکے تھے۔ عالمِ اسلام ایک ایسے مریض کی طرح تھا جس کو بیک وقت کئی امراض نے گھیرا ہوا تھا۔قدرت کی طرف سے مسلمانوں کو مختلف تنبیہی اشارے دیے گئے تھے مگر وہ انھوں نے اسے سنجیدہ نہیں لیا۔ وہ چند اشارے کیا تھے ؟ آئیے ان پر نظر ڈالتے ہیں۔
قدرت کی واضح تنبیہات:
عراق میں سرخ آندھی آئی اور سورج کی روشنی ختم ہوکر رہ گئی۔ دن کے وقت بھی اندھیرا چھا گیا اور لوگ چراغ جلا کر اپنی ضروریات پوری کرنے لگے۔جمعے کی رات کو تیز آندھی اور طوفان نے ستاروں کی چمک دمک ختم کردی۔ ہوا کی شدت کی وجہ سے دیواریں لرز گئیں۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ جہنم کی وادی بہہ نکلی ہو۔ مرد و خواتین اور بچے خوف سے مسجدوں میں جاکر چھپ گئے اور توبہ کرنے لگے۔ بہت بڑی تعداد میں لوگ ہلاک ہوئے اور ہزاروں درخت جڑوں سمیت زمین سے اکھڑ گئے۔مصر میں شدید قحط پڑا جس سے بہت سارے انسان اور جانور ہلاک ہوگئے۔ لوگ بھوک کی وجہ سے انسانوں کو ہی مار کر کھانے پر مجبور ہو گئے۔ مصر کے حاکم الملک العادل نے دو لاکھ لوگوں کا کفن اپنے خرچ پر تیار کروایا جو قحط سے فوت ہوچکے تھے۔حجاز اور یمن کے درمیان عنزہ نامی علاقے میں ایسی وبا پھوٹی کہ اٹھارہ بستیوں میں کوئی ذی روح زندہ نہ بچا۔ سب کے سب ہلاک ہوگئے۔جزیرہ، شام، عراق اور روم میں سخت زلزلہ آیا جس میں ہزاروں مکانات زمین بوس ہوگئے۔ بصرہ میں ایک پوری آبادی زمین میں دھنس گئی اور بعلبک کا قلعہ پارہ پارہ ہوگیا۔ کئی شہروں میں تباہی ہوئی اور کم و بیش گیارہ لاکھ لوگ ابدی نیند سو گئے۔یمنی سردار جس کا نام عبداللہ بن حمزہ تھا، اس کے بارہ ہزار سے زائد کے لشکر پر آسمانی بجلی گری اور چند ایک کے سوا باقی سب جل کر خاکستر ہوگئے۔آسمان پر عجیب و غریب منظر لوگوں نے دیکھا۔ انھوں نے دیکھا کہ ستارے ٹڈیوں کی طرح آسمان پر پھیل کر پتنگوں کی طرح ادھر ادھر اڑ رہے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی پیدائش سے پہلے آسمان پر ایسا منظر نظر آیا تھا اور اس کے بعد اب لوگوں نے دیکھا تھا۔ اس منظر کا مطلب ہوتا تھا کہ دنیا میں کوئی غیر معمولی واقعہ رونما ہونے والا ہے۔مصر، قبرص، شام، الجزیرہ اور نیشا پور میں شدید زلزلہ آیا جس سے کئی آبادیاں مٹ گئیں اور ہزاروں لوگ جان سے گئے۔ان سب حادثات کے باوجود بھی جب مسلمانوں نے ہوش کے ناخن نہیں لیے تو پھر مصائب کا ایسا ریلہ چل پڑا کہ ایک کے بعد ایک لہر آنے لگی۔ چونکہ مسلمان اجتماعی غفلت کا شکار تھے تو اس لیے مصائب کی شکل بھی ایسی ہی تھی۔قدرت نے مسلمانوں کو سنبھلنے کے چند مواقع اور دیے۔ اب ان کی شکل ذرا اور طرح کی تھی۔
اللہ والے ہدایت کے چراغ ہیں:
خوارزم میں ایک اللہ والے تھے جن کا نام شیخ نجم الدین کبریٰ تھا۔ یہ معروف بزرگ تھے۔ان کے ایک خلیفہ تھے جن کا نام شیخ مجدد الدین تھا۔ ان کی مجلس میں بڑے بڑے لوگ شامل ہوتے تھے۔ سلطان علاؤالدین کی والدہ ترکان خاتون بھی ان کی مجلس میں بیان سننے آیا کرتی تھی۔ کسی بدخواہ نے سلطان کے کان بھرے اور کہا کہ "تمہاری والدہ شیخ مجدد الدین کی مجلس میں بہت زیادہ جاتی ہے، لوگوں کہتے ہیں کہ شیخ اس سے نکاح کرنا چاہتے ہیں۔"علاؤالدین خوارزم شاہ نے جب یہ سنا تو اسے سخت غصہ آیا۔ اس نے طیش میں حکم دے دیا کہ شیخ مجدد الدین کو دریا میں غرق کردیا جائے۔ شاہ کے حکم پر فوری عمل ہوا اور ان کو دریا برد کردیا گیا۔بعد میں سلطان کو سخت افسوس ہوا کہ بغیر تحقیق کے میں نے بزرگ کو سزا دے دی۔ وہ شیخ مجدد الدین کے پیر و مرشد شیخ نجم الدین کبریٰ کے خدمت میں تحفے تحائف لے کر خود حاضر ہوا۔ ایک تھال میں اس نے کفن اور تلوار بھی رکھی ہوئی تھی۔ شیخ کے پاس پہنچ کر کہا:"اے شیخ مکرم! یہ مال و دولت مجدد الدین کے فدیہ میں قبول کیجیے یا پھر تھال میں رکھی تلوار سے میرا سر قلم کرکے قصاص لے لیجیے۔" شیخ نے کہا:"مجدد الدین کے بدلے میں صرف تیرا سر نہیں بلکہ تیری پوری سلطنت تباہ ہوگی۔ میں بھی اسی میں مارا جاؤں گا اور دوسرے بہت سے لوگ بھی اس میں کام آئیں گے۔"یہ خدا کے برگزیدہ بندے کی جانب سے تاتاری حملے کی طرف اشارہ تھا جسے اس وقت لوگ بالکل نہیں سمجھے۔ایک مرتبہ خوارزم کا لشکر محو سفر تھا۔ اس میں چھ لاکھ سپاہی تھے۔ رات کو جب پڑاؤ کیا تو خوفناک آواز گونجی جو سب نے سنی۔ آواز نے کہا،"اے کــافرو! گناہ گاروں کو قـتل کردو۔"لوگوں نے آواز دینے والے کو تلاش کیا مگر نہ ملا۔ البتہ یہ ضرور دیکھا کہ اندھیری رات میں بھی آسمان پر پرندے چکر کاٹ رہے ہیں اور یہ آواز انھی میں سے آرہی ہے۔ تین رات تک مسلسل یہ آواز سنائی دیتی رہی اور یہی منظر نظر آتا رہا۔ لوگ بہت خوف زدہ ہوئے۔ انھوں نے سمجھ لیا کہ بہت جلد کوئی غیر معمولی واقعہ پیش آنے والا ہے۔سلطان علاؤالدین خوارزم شاہ اور خلیفہ ناصر کے تعلقات بہت کشیدہ ہوگئے تھے۔ یہاں تک کہ خوارزم شاہ بغداد پر چڑھائی کے لیے لشکر لے کر روانہ ہوگیا۔ چھ لاکھ کا لشکر جرار دیکھ کر خلفیہ ناصر کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ مگر اس کی خوش قسمتی کہ اچانک ہونے والی برفباری نے خوارزم شاہ کو واپس لوٹنے پر مجبور کردیا۔خلیفہ ناصر اور خوارزم شاہ دونوں ہی آنے والی مصیبت سے بالکل غافل آپس میں ہی ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں مصروف تھے۔ ایک دوسرے کے خلاف نئی نئی سازشیں اور نئے نئے جال بچھاتے رہتے تھے۔ ادھر قراقرم کے یخ بستہ ماحول میں بیٹھا چنگیز خان عالمِ اسلام کی سب سے مضبوط سلطنت خوارزم پر اپنی لالچی اور خونیں نگاہیں گاڑے ہوئے تھا۔ کافی عرصہ سے لڑنے بھڑنے کا موقع نہ ملنے کی وجہ سے وہ سخت اکتاہٹ کا شکار ہوچکا تھا۔ اب اسے اپنی درندگی کو تسکین پہنچانے کے لیے نئے میدان اور انسانی سروں کی تلاش تھی۔"بغورچی نویان! انسان کی خوشی کس چیز میں ہے؟" چنگیز خان نے اپنے بہترین سالار سے ایک دن پوچھا۔نویان بولا:"خانِ اعظم! یہی کہ انسان گھوڑے پر سوار کھلے میدان میں اس کو دوڑاتا جارہا ہو۔ ایک ہاتھ پر باز بیٹھا ہو اور شکار کا تعاقب کر رہا ہو۔"چنگیز خان نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا:"نہیں نویان! میری خوشی تو اس میں ہے کہ میں قومیں فتح کرتا جاؤں،ان کی شان و شوکت کو پاؤں تلے روندتا جاؤں پھر ان کی عورتوں کی آنکھوں میں خوف سے آنسوؤں کی لڑیاں بہتے ہوئے دیکھوں۔"ان عزائم سے اندازہ لگا لیں کہ چین جیسی بڑی سلطنت کو تباہ کرنے اور لاکھوں لوگوں کس قـتل عام کرنے کے بعد بھی اس بھیڑیے کی تسکین نہیں ہوئی تھی۔
چنگیزی ایلچی دربار خوارزم میں:
بغداد کی مہم سے واپس آکر علاؤالدین خوارزم شاہ ان دنوں سمرقند میں ٹھہرا ہوا تھا۔ جب ایک سفارتی وفد اس کے سامنے حاضر کیا گیا۔ یہ عجیب سے حلیے کے لوگ تھے جو شاہی آداب سے خاص واقف نہیں لگتے تھے۔ لمبے لمبے بال جن کی چٹیا بنائی گئی تھیں، ہاتھوں میں دھاگے اور کڑے، گریبان بے ڈھنگے طریقے سے کھلے ہوئے۔ ان کے انداز سے ایک قسم کی لاپروائی ٹپک رہی تھی۔ہوا یوں کہ چنگیز خان اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی خاطر چاہتا تو بغیر کسی اعلان کے سلطنت پر اچانک حملہ آور ہوجاتا مگر اسے اطلاعات مل چکی تھیں کہ خوارزم شاہ اسلامی دنیا کا بڑا طاقتور حکمران ہے، اس لیے بہتر یہ ہے کہ اس سے بات چیت کی جائے۔"خانِ اعظم آپ کو سلام کہتا ہے۔"ایک تاتاری سپاہی نے ترجمان کے ذریعے بتایا۔ وہ پھر بولا:"خان اعظم کا کہنا ہے کہ مجھے تمھاری طاقت و قوت کا اچھی طرح اندازہ ہے۔ اور تم یہ بھی جانتے ہو گے کہ میں نے بھی چین جیسی سلطنت کو قدموں تلے روند دیا ہے۔ کئی ترک قبیلے میرے ماتحت ہیں۔ تمھیں اس بات کا بھی پتا ہوگا کہ میرا علاقہ عسکری تربیت گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ معدنیات سے بھی مالا مال ہے۔ مجھے اب مزید علاقے فتح کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تمھیں میں اپنے بیٹے کی طرح سمجھتا ہوں، میں چاہتا ہوں ہم آپس میں صلح کے ذریعے معاہدے کرلیں تاکہ امن کے ساتھ تجارت کو فروغ دیں۔" پھر وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہیے تھا۔خوارزم ہی کیا بغداد بھی تاتاریوں نے مسل کر رکھ دئیے۔امت مسلمہ بے دردی سے تہہ تیغ کردی گئی اور مسلمانوں کا رعب و دبدبہ ہمیشہ کے لیے قصہ پارینہ بن کر رہ گیا۔

کالم نگار : 194- محمد عثمان انصاری
| | |
100