(+92) 321 2533925
جلا وطن قیدی یا مہمان ؟
صدیوں سے ہمیں سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ایک جھوٹ پڑھایا جا رہا ہے، ایک ایسا سفید جھوٹ جسے "ارتقاء" (Evolution) کا نام دے کر ہمارے ذہنوں میں ٹھونسا گیا ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہم اسی کیچڑ، اسی مٹی اور انہی کیمیائی جوہڑوں سے پیدا ہوئے ہیں جہاں سے مینڈک، بندر اور ڈائنوسار پیدا ہوئے۔ ہمیں بتایا گیا کہ ہم اس سیارہ زمین کے "نیٹیو" (Native) ہیں، ہم سدا سے یہیں کے باسی ہیں۔ ہمارا خمیر اسی زمین سے اٹھا ہے یہ ایک الگ بحث ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ یہاں ایک بات یاد رہے کہ جب کسی مسلمان کو انتقال کے بعد دفن کر دیا جائے اور اس کی قبر پرتختے لگانے کے بعد مٹی دی جائے تو اس وقت مستحب یہ ہے کہ ا س کے سرہانے کی طرف دونوں ہاتھوں سے تین بار مٹی ڈالیں ۔ پہلی بار کہیں ’’مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ‘‘ دوسری بار ’’ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ‘‘ اورتیسری بار ’’ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى‘‘ کہیں گے۔جس کا مفہوم یہ ہے کہ ہم نے تمہیں اسی مٹی سے بنایا تھا اسی مٹی میں لوٹا رہے اور اور پھر اسی مٹی سے ایک بار پھر اٹھا کھڑا کریں گے۔ آج اکیسویں صدی میں سائنس خود اپنے اس نظریئے کا گلا گھونٹ رہی ہے۔ جب انسانی جسم کو جدید ترین ٹیکنالوجی اور مائیکرو بائیولوجی کی خوردبین کے نیچے رکھا گیا تو ایک ہولناک اور حیران کن سچائی سامنے آئی۔ وہ سچائی یہ ہے کہ انسان زمین پر "فٹ" (Fit) نہیں بیٹھتا۔ جی ہاں!! ہمارا جسم، ہماری نفسیات، ہماری بیماریاں اور ہماری ضروریات چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ہم اس سیارے کے نہیں ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ہم اس سیارے کے نہیں ہیں بلکہ ایک جلاوطن مخلوق ہیں تو پھر ہماری اصل کیا ہے ؟ اور یہ سچ سامنے لانے میں کیا عار ہے ؟؟
مہمان یا قیدی ؟؟
در حقیقت ہم کہیں اور سے آئے ہیں یا لائے گئے ہیں۔ ہم یہاں "مہمان" نہیں، بلکہ "قیدی" (Prisoners) یا "جلاوطن" (Exiles) کی حیثیت سے ہیں۔آج ہم ان دعوؤں کو نہ صرف سائنسی دلائل سے ثابت کریں گے بلکہ قرآن و حدیث کی ان گہری نشانیوں کو بھی سامنے لائیں گے جو 1400 سال سے ہمیں بتا رہی تھیں کہ "تمہارا گھر یہ نہیں ہے، تم جنت سے نکالے گئے ہو اور ایک مقررہ مدت کے بعد تمہاری وآپسی بھی یقینی ہے" سب سے پہلا اور سب سے بڑا ثبوت خود آپ کے جسم کا ڈھانچہ ہے۔ اگر ہم زمین پر لاکھوں سالوں کے ارتقاء کا نتیجہ ہوتے تو ہمارا جسم زمین کی کششِ ثقل (Gravity) کے ساتھ مکمل ہم آہنگ (Compatible) ہونا چاہیے تھا لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ لیجیے جناب اب ہم نمبر وائز اپنے دعوے کے دلائل پیش کریں گے۔
1) کمر درد کی عالمی وباء:
دنیا کا شاید ہی کوئی انسان ہو جسے زندگی میں کبھی نہ کبھی کمر درد، گھٹنوں کے درد یا مہروں کے مسائل The Back Pain Epidemic کا سامنا نہ کرنا پڑا ہو۔ معروف سائنسدان ڈاکٹر ایلس سلور کہتے ہیں کہ یہ درد اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان ایک ایسے سیارے پر ارتقاء پذیر ہوا (یا ڈیزائن کیا گیا) جہاں کششِ ثقل زمین سے کم تھی۔ہم زمین پر سیدھے کھڑے ہونے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن زمین کی کشش ہمیں نیچے کھینچ رہی ہے۔ ہمارا ریڑھ کی ہڈی کا نظام (Spinal Column) زمین کی 1G فورس کے لیے ڈیزائن ہی نہیں ہوا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا اصل گھر ایک "کم کشش والا سیارہ" (Lower Gravity Planet) یا ایک ایسی جگہ تھی جہاں ہمارے جسموں پر مادی بوجھ نہیں تھا۔
2) دورانِ خون اور رگوں کا پھولنا:
انسانوں میں ویریکوز وینز (پاؤں کی رگوں کا پھولنا) ایک عام بیماری ہے، جو کسی اور جانور میں نہیں پائی جاتی۔ کھبی سوچا ہے کہ آخر یہ کیوں ہے؟ کیونکہ ہمارا دورانِ خون کا نظام زمین کے بھاری پن کے خلاف خون کو واپس دل تک پمپ کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے۔ یہ "ڈیزائن فالٹ" نہیں ہے، یہ "Wrong Planet Syndrome" ہے۔اب ذرا دوسرے زاوئیے سے پرکھتے ہیں اور غور وفکر کرتے ہیں کہ ابدی و دائمی سچی کتاب اس بارے میں کیا آگاہی فراہم کرتی ہے؟؟ اسلام ہمیں بتاتا ہے کہ ہمارا اصل گھر "جنت" ہے۔ اور جنت کے بارے میں جو روایات ملتی ہیں ان کا مختصراً خلاصہ یہ ہے کہ وہاں ہمارے جسم کثیف (مادی بوجھل) نہیں ہوں گے بلکہ لطیف( ہلکے) اور نورانی ہوں گے۔ وہاں کششِ ثقل کا یہ جبر نہیں ہوگا جو ہمیں زمین پر تھکا دیتا ہے۔ ہماری کمر کا درد دراصل ہماری روح کی اس یادداشت کا درد ہے جو "ہلکے پھلکے وجود" کی عادی تھی۔زمین پر موجود ہر جانور چاہے وہ چھپکلی ہو، کتا ہو یا پرندہ سورج کی روشنی میں گھنٹوں رہ سکتا ہے اور اسے کچھ نہیں ہوتا لیکن انسان؟ وہ تو ذرا سی حدت بڑھ جانے پر جان کی بازی ہار جاتا ہے۔تلخ حقیقت یہی ہے کہ ہم زمین کے "بادشاہ" ہونے کا دعویٰ تو کرتے ہیں لیکن ہم اپنے ہی سیارے کے سورج کے سامنے چند گھنٹے بھی ننگے جسم نہیں بیٹھ سکتے۔
3) جلدی سوجن اور کینسر :
اگر ہم یہیں پیدا ہوئے ہوتے تو لاکھوں سالوں میں ہماری جلد کو سورج کی الٹرا وائلٹ (UV) شعاعوں کے خلاف مکمل مدافعت پیدا کر لینی چاہیے تھی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ہمیں سن بلاک چاہیے، ہمیں کپڑے چاہئیں، ہمیں چھاؤں چاہیے جلدی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان جس جگہ سے آیا ہے وہاں سورج اتنا تیز نہیں تھا یا وہاں کی فضا ایسی تھی جو مضر شعاعوں کو مکمل روکتی تھی۔
4) آنکھوں کی حساسیت:
انسان کی آنکھیں سورج کی تیز روشنی برداشت نہیں کر سکتیں جبکہ زمین کے دیگر جانور (جیسے عقاب) سیدھا سورج کو دیکھ سکتے ہیں لہذٰا معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس ستارے (Sun) کے لیے ڈیزائن ہی نہیں ہوئے۔دور دراز کی چیزیں، موسمی حالات ہماری حد نگاہ پر اثر انداز ہوتے ہیں۔قرآن مجید میں جنت کا نقشہ کھینچتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:"لَا یَرَوْنَ فِیهَا شَمْسًا وَلَا زَمْهَرِیرًا" وہاں وہ نہ دھوپ کی تپش دیکھیں گے اور نہ سخت سردی سے واسطہ پڑے گا۔یہ آیت ثابت کرتی ہے کہ ہمارا قدرتی مسکن Original Habitat ایک ایسی جگہ ہے جہاں روشنی تو ہے، مگر جلانے والی دھوپ نہیں۔ ہماری جلد آج بھی اسی "نورانی ماحول" کی متلاشی ہے، اسی لیے یہ زمین کا سورج اسے جلا دیتا ہے۔یہ سب سے زیادہ ٹھوس سائنسی ثبوت ہے۔
5) وقت کا دورانیہ:
زمین اپنے محور پر 24 گھنٹے میں چکر پورا کرتی ہے۔ یہاں رہنے والے تمام جانوروں اور پودوں کی "حیاتیاتی گھڑی" Circadian Rhythm 24 گھنٹے پر سیٹ ہے۔لیکن آپ یہ سن کر حیران رہ جائیں گے کہ جب انسانوں کو غاروں یا بنکرز میں رکھا گیا جہاں سورج کی روشنی نہیں تھی Isolation Experiments تو حیرت انگیز طور پر انسانی جسم نے قدرتی طور پر 25 گھنٹے کا سائیکل اپنا لیا۔یہ کیا ظاہر کرتا ہے؟یہ اس بات کا ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ ہمارے اجداد (آدمؑ اور ان کی نسل) کسی ایسی جگہ سے آئے ہیں جہاں دن کا دورانیہ زمین سے بہرحال مختلف تھا۔ ہمارا جسم آج بھی اسی "کائناتی گھڑی" پر چلنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن زمین زبردستی اسے 24 گھنٹے کے چکر میں گھسیٹ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان ہمیشہ "تھکا ہوا" اور "وقت کی کمی" کا شکار رہتا ہے۔ ہم اس سیارے کے وقت Time Zone کے ساتھ مطابقت نہیں رکھ پا رہے۔
6) افزائشِ نسل:
زمین پر موجود تمام جانوروں کے بچے پیدا ہوتے ہی چلنے پھرنے لگتے ہیں۔ بکری کا بچہ منٹوں میں کھڑا ہو جاتا ہے انڈے سے نکلا چوزہ فر فر دوڑنے لگتا ہے لیکن انسان کا بچہ؟ وہ سالوں تک بے بس، لاچار اور محتاج رہتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ انسانوں میں پیدائش کا عمل پیچیدہ اور تکلیف دہ ہوتا ہے جسکی بنا پر نوزائیدہ بچہ کمزور اور محتاج پیدا ہوتا ہے۔سائنسدان اسے "The Obstetric Dilemma" کہتے ہیں۔یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ انسانی سر (جو ہماری اجنبی ذہانت کا مرکز ہے) اس سیارے کے ارتقاء کا حصہ نہیں ہے۔ ہم ایک "بڑے دماغ والی مخلوق" ہیں جسے ایک ایسے سیارے پر زبردستی اتارا گیا ہے جہاں کی حیاتیات اتنے بڑے سر کی متحمل نہیں ہو سکتی۔کچھ مذہبی دلائل کی روشنی میں سامنے آیا ہے کہ یہ تکلیف، یہ زچگی کا درد، دراصل "سزا" کا حصہ ہے۔ بائبل اور اسلامی روایات میں اشارہ ملتا ہے کہ جنت سے نکالے جانے کے بعد حواؑ (عورت) پر "حمل اور جنم کی تکلیف" بڑھا دی گئی۔ یہ تکلیف زمین پر ہمارے "جلاوطن" ہونے کی قیمت ہے۔ جانوروں کو یہ تکلیف نہیں ہوتی کیونکہ وہ یہیں کے ہیں؛ ہم "باہر" کے ہیں، اس لیے ہمارا "ہارڈ ویئر" یہاں فٹ نہیں بیٹھ رہا۔
نظافت و نزاکت:
آپ نے کبھی غور کیا کہ جنگلی جانور شاذ و نادر ہی بیمار ہوتے ہیں؟ وہ گندا پانی پیتے ہیں، کچا گوشت کھاتے ہیں، اور فٹ رہتے ہیں۔لیکن اک نظر ہمارے بود و باش اور طرزِ معاشرت پر ڈالیں ہم ابال کر پیتے ہیں، پکا کر کھاتے ہیں، دھو کر پہنتے ہیں، پھر بھی ہمیں ہزاروں بیماریاں لاحق ہیں۔ نزلہ، زکام، الرجی، معدے کے مسائل کی فہرست لا متناہی ہے ان تمام حالات و مشاہدات کے سرسری سی نظر ڈالنے پر ایسا لگتا ہے کہ ہم سب یہاں ’ٹرمینلی اِل‘ (Terminally Ill) ہیں۔ ہماری غذائی نالی (Digestive System) زمین کی قدرتی خوراک (کچی سبزیاں اور گوشت) کو ہضم کرنے کے قابل ہی نہیں ہے۔ ہمیں اسے "پکانا" (Process) پڑتا ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہمارا معدہ "جنت کے لطیف پھلوں" اور "پاکیزہ مشروبات" کا عادی تھا، زمین کی کثیف غذا اس کے لیے "زہر" ہے۔یہ میرا ذاتی اور سب سے مضبوط فلسفیانہ اور مذہبی نکتہ ہے۔
آرائش و زیبائش:
زمین پر لاکھوں اقسام کے جانور ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی، جی ہاں! ایک بھی ایسا نہیں ہے جسے "ننگا" رہنے میں شرم محسوس ہو یا جو اپنا جسم ڈھانپنے کی کوشش کرے۔ سوائے انسان کے۔کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہے؟ بالفرض اگر ہم بندر سے ارتقاء پاتے تو ہمیں بھی ننگا رہنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ سؤال یہ ہے کہ "شرم" اور "حیا" کا مادہ آخر آیا کہاں سے ؟سب سے پہلے ہم لاریب کتاب کی طرف رجوع کرتے ہیں۔چنانچہ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ جب آدمؑ اور حواؑ نے ممنوعہ درخت کا پھل کھالیا تو پروردگار کی ناراضگی کے آثار شروع ہو گئے:{بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا وَطَفِقَا یَخْصِفَانِ عَلَیْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ}[طٰہٰ: 121] "ان کے ستر ایک دوسرے پر کھل گئے اور وہ جنت کے پتوں سے اپنے آپ کو ڈھانپنے لگے۔" معلوم ہوا کہ یہ "کپڑے پہننے کی جبلت" زمین کی نہیں ہے۔ یہ اس "لباسِ جنت" کے چھن جانے کا صدمہ ہے جو ہمارے ڈی این اے میں محفوظ چلا آرہا ہے۔ ہم واحد مخلوق ہیں جو کپڑے پہنتے ہیں کیونکہ ہم واحد مخلوق ہیں جو اپنی "اصلی حالت" (Original State) سے محروم ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس جانور یہیں کے ہیں، وہ جیسے ہیں ٹھیک ہیں؛ ہم "بادشاہ" تھے جن کے "شاہی لبادے" اتروا دیئے گئے اور اب ہم زمین کے چیتھڑوں (کپاس، اون) سے اس شرم کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
بے زاری و بے قراری:
انسان کسی حال میں شاداں و فرحاں نہیں انسان کی نفسیات کا سب سے بڑا معمہ اس کا "دائمی عدم اطمینان" ہے۔ آپ اسے دنیا کی ہر نعمت دے دیں، محل، گاڑیاں، سونا، حوریں وغیرہ لیکن وہ کچھ عرصے بعد بور ہو جائے گا اور کہے گا "کچھ اور چاہیے"۔ جب کہ روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ کوئی جانور ایسا نہیں کرتا۔ شیر کا پیٹ بھر جائے تو وہ مطمئن ہو جاتا ہے۔اسی طرح دوسرے جاندار ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ انسان مطمئن کیوں نہیں ہوتا؟کیونکہ انسان کے لاشعور (Subconscious) میں کمال (Perfection) کا ایک معیار موجود ہے۔ ہم نے ماضی میں ایک ایسی جگہ (جنت) دیکھی ہوئی ہے جہاں کوئی دکھ نہیں تھا، کوئی موت نہیں تھی، کوئی بوریت نہیں تھی۔ہم اس دنیا میں "کمال" ڈھونڈ رہے ہیں، جو یہاں موجود ہی نہیں ہے۔ ہمارا ڈپریشن، ہماری خودکشیاں، ہماری بے چینی... یہ سب دراصل ہمارے اس چھوٹے ہوئے گھر کی یاد Homesickness ہے۔ ہم ایک ایسے مسافر ہیں جو صحرا میں "سمندر" ڈھونڈ رہا ہے۔
روح کا ٹوٹا ہوا کنکشن:
جیسا کہ پچھلے پیرائے میں ذکر ہوا، ہماری روح عالمِ ارواح سے آئی ہے۔ یہ اس مادی دنیا میں "پردیسی" ہے۔ یہ جو ہمیں ستاروں کو دیکھ کر اداسی ہوتی ہے، یہ جو ہمیں نامعلوم کی تلاش رہتی ہے، یہ سب اس بات کی گواہی ہے کہ ہم یہاں کے باسی نہیں۔ قرآن نے انسان کے زمین پر آنے کے لیے لفظ "اِهْبِطُوا" (نیچے اتر جاؤ) استعمال کیا۔ یہ لفظ ظاہر کرتا ہے کہ انسان زمین پر "پیدا" نہیں ہوا بلکہ کہیں اوپر سے "اتارا" گیا ہے۔ سائنسدان ڈاکٹر ایلس سلور کا نظریہ ہے کہ شاید انسانوں کو کسی اور سیارے سے یہاں بطور "قیدی" لا کر پھینکا گیا کیونکہ ہم ایک پرتشدد مخلوق تھے۔ لیکن اسلام اس کی تصحیح کرتا ہے۔ ہم قیدی تو ہیں، مگر "امتحان" کے قیدی۔ زمین ہمارا "جیل خانہ" (Prison Planet) بھی ہے اور "امتحان گاہ" بھی۔ چنانچہ حدیث میں وارد ہے: (الدُّنْیَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ)یعنی مومن کے لیے یہ دنیا "قید خانہ" ہے۔ اگر ہم یہیں کے ہوتے تو یہ جگہ ہمارے لیے "گھر" ہوتی، قید خانہ نہ ہوتی۔ قید خانہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں آپ کی طبیعت کے خلاف ماحول ہو۔ اور یہ بدیہی حقیقت ہے کہ زمین کا ماحول (کشش، دھوپ، جراثیم) ہماری طبیعت کے خلاف ہے۔ یہ تمام سائنسی، حیاتیاتی اور نفسیاتی شواہد ایک ہی تصویر پیش کرتے ہیں کہ ہم خلائی مخلوق (Aliens) ہیں۔ہم اس زمین کے نہیں ہیں۔ ہم یہاں "پناہ گزین" ہیں۔ ہماری کمر کا درد، ہماری جلد کا جلنا، ہماری نیند کا خراب ہونا اور ہمارے دل کا خالی پن... یہ سب گواہیاں ہیں کہ ہم ایک "کھوئی ہوئی جنت" کے باسی تھے اور اب اسی کے متلاشی ہیں۔یہ مان لینا کہ ہم زمین سے نہیں ہیں، مایوسی کی بات نہیں بلکہ "امید" کی بات ہے۔ کیونکہ اگر ہم یہاں کے نہیں ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہمارا "اصلی گھر" کہیں اور موجود ہے، جہاں نہ کمر دکھے گی، نہ دھوپ جلائے گی، اور نہ دل اداس ہوگا۔بلکہ جو چاہو جیسا چاہو ملے گا۔چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: { وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَشْتَهِیْۤ اَنْفُسُكُمْ وَ لَكُمْ فِیْهَا مَا تَدَّعُوْنَ} "اور تمہیں جنت میں ہر وہ چیز ملے گی جو تمہارا جی چاہے اور تمہارے لئے اس میں ہر وہ شے ہے جو تم طلب کرو" سائنس اب گھٹنوں کے بل چلتے چلتے اسی حقیقت تک پہنچ رہی ہے جسے وحی نے صدیوں پہلے بیان کر دیا تھا۔ہمیں زمین کو سنوارنا ہے لیکن دل اس سے نہیں لگانا۔ کیونکہ مسافر سرائے کو سجاتے نہیں، وہاں رات گزار کر اگلی منزل (واپسی) کی تیاری کرتے ہیں۔ اس دھرتی پر جب آہی گئے تو یہاں جیون کے گزارنے کے لیے اللہ تعالٰی نے مرد وعورت کا جوڑا بنایا اور نسل انسانی کا نظام چلایا۔فرمانبردار لوگ راستی کی زندگی گزارتے ہیں جبکہ نافرمان لوگ کجی تلاش کرتے ہیں۔
خیانت کا ڈی این اے اور زنا کی وراثت:
اس موضوع پر بات کرنا شاید بہت سے لوگوں کے لیے "شاکنگ" (Shocking) ہو لیکن سائنس کے لیبارٹری کوٹ اور مذہب کی چادر کے پیچھے چھپی یہ وہ حقیقت ہے جسے اب مزید جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ آج ہم اس بحث کو اس مقام پر لے جا رہے ہیں جہاں "اخلاقیات" اور "جینیات" (Genetics) ایک دوسرے میں ضم ہو جاتے ہیں۔ہم صدیوں سے اپنے بزرگوں سے ایک جملہ سنتے آ رہے ہیں"یہ خاندانی ہے" یا "اس کا خون ہی گندا ہے۔" لبرل دانشور اور جدیدیت کے علمبردار ہمیشہ ان جملوں کو "دقیانوسی سوچ" اور "تعصب" کہہ کر رد کرتے رہے ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ انسان ایک "کوری سلیٹ" (Blank Slate) کی طرح پیدا ہوتا ہے اور صرف ماحول اسے اچھا یا برا بناتا ہے۔ وہ کہتے تھے کہ باپ اگر چور یا زانی ہے تو ضروری نہیں کہ بیٹا بھی وہی ہو، ہر انسان کا اپنا اختیار ہے۔ بظاہر یہ بات بڑی منطقی اور انصاف پسند لگتی ہے لیکن اکیسویں صدی کی جینیات (Genetics) اور رویوں کی سائنس (Behavioral Science) نے اس "خوش فہمی" کے پرخچے اڑا کر رکھ دیئے ہیں۔ آج سائنس ایک خوفناک انکشاف کر رہی ہے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ اگر آپ کے والدین نے رشتہ ازدواج میں ہوتے ہوئے خیانت (Cheating) کی ہے، اگر انہوں نے اپنی جوانی میں جنسی آوارگی (Promiscuity) دکھائی ہے، تو اس بات کے 40 سے 60 فیصد امکانات موجود ہیں کہ یہ "بے وفائی کا وائرس" آپ کے ڈی این اے میں منتقل ہو چکا ہے اور آپ بھی اپنی بیوی یا شوہر کے ہوتے ہوئے کسی اور کے بستر کی زینت بنیں گے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا بلکہ یہ وہ ڈیٹا کہہ رہا ہے جو ہزاروں جوڑوں اور جڑواں بچوں پر کی گئی تحقیقات سے کشید کیا گیا ہے۔ آج ہم اسی "جینیاتی خیانت" کا پوسٹ مارٹم کریں گے اور ان تمام "نیم خواندہ نقادوں" کو بھی جواب دیں گے جو پرانی نصابی کتابیں بغل میں دبائے پھرتے ہیں۔
ایک تجربے نے حقیقت منکشف کردی:
اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے سائنسدانوں نے قدرت کے سب سے دلچسپ نمونوں یعنی "جڑواں بچوں" (Twins) کا مطالعہ کیا۔ تحقیق کا مقصد یہ جاننا تھا کہ "دھوکہ دہی" (Infidelity) ماحول (Nurture) کی وجہ سے ہوتی ہے یا جینز (Nature) کی وجہ سے؟سائنسدانوں نے دو طرح کے جڑواں بچوں کا ڈیٹا لیا۔ پہلا جڑواں جوڑا (Monozygotic Twin)ہم شکل کا ڈی این اے 100% ایک جیسا ہوتا ہے۔ دوسرا جڑواں جوڑا مختلف شکلوں والے جڑواں (Dizygotic Twins) ان کا ڈی این اے عام بہن بھائیوں کی طرح صرف 50% ملتا ہے۔ یونیورسٹی آف کوئینز لینڈ (University of Queensland) کے ماہرین نفسیات اور جینیات دان Brendan Zietsch نے 7,000 سے زائد جڑواں بچوں کا مطالعہ کیا جس کے نتائج نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ تحقیق نے ثابت کیا کہ ہم شکل جڑواں (Monozygotic) میں دھوکہ دینے کا رجحان حیران کن حد تک ایک جیسا تھا۔ اگر ایک بھائی نے اپنی بیوی کو دھوکہ دیا تو قوی امکان تھا کہ دوسرے بھائی نے بھی ایسا ہی کیا، حالانکہ ان کی پرورش مختلف ماحول میں بھی ہوئی ہو۔ اس کے مقابلے میں Dizygotic Twins میں یہ مماثلت بہت کم تھی۔اس بنا پر محققین نے حتمی نتیجہ نکالا کہ جنسی رشتے میں دھوکہ دینے کے پیچھے 40% سے 60% کردار ہماری جینیات (Genetics) کا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مذہب کا وہ قدیم اصول سچ ثابت ہوتا ہے کہ "زنا کا بیج" نسلوں میں فساد پیدا کرتا ہے۔ اگر آپ کے خون میں "بے وفائی" کوڈ ہو چکی ہے تو آپ کو نیک رہنے کے لیے عام انسان سے سو گنا زیادہ جدوجہد کرنی پڑے گی۔ سوال یہ ہے کہ یہ "خیانت" ڈی این اے میں کہاں چھپی ہوتی ہے؟سائنس نے اس کا جواب مذکورہ تحقیق (Dopamine Receptor D4) میں ڈھونڈا ہے۔ اسے عرفِ عام میں خطرہ پسند طبیعت یا سسنسی خیز رجحان (Thrill-Seeking Gene)کہا جاتا ہے۔ جن لوگوں میں اس جین کی ایک خاص قسم متعدد اشکال میں (Polymorphism) ہوتی ہے، ان کا دماغ "ڈوپامائن" (لذت کے کیمیکل) کا بھوکا ہوتا ہے۔اب دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ ایک عام انسان کو گھر کے سکون، بیوی کی محبت اور بچوں کی مسکراہٹ سے مطلوبہ ڈوپامائن مل جاتا ہے۔لیکن جس کے اندر یہ "جینیاتی خرابی" (جو والدین کی آوارگی سے منتقل ہوئی) موجود ہو، اسے یہ سکون کافی نہیں لگتا۔ اسے نئی لذت، خطرہ اور چھپ کر گناہ کرنے کا سنسنی خیز احساس بہرحال چاہیے۔جب والدین زنا کرتے ہیں تو وہ اپنے دماغ کو زیادہ جوش (High Dopamine) کا عادی بناتے ہیں۔ ایپی جینیٹکس کے ذریعے یہ بلند حساسیت کی دہلیز (High Threshold) بچوں میں منتقل ہوتا ہے۔جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بچہ پیدا ہی اس "طلب" کے ساتھ ہوتا ہے کہ اسے ایک عورت یا ایک مرد کافی نہیں لگتا۔ اسے متعدد شریک تعلق (Multiple Partners) درکار ہوتے ہیں۔ سادہ لفظوں میں آپ اسے"ہوس" نہیں بلکہ اب اس کی "جینیاتی مجبوری" کہہ سکتے ہیں۔اب آتے ہیں ان "لبرل سائنسدانوں" کی طرف جن کا یہ ماننا ہے کہ جسمانی اعمال (Somatic) کا اثر اسپرم (Germline) پر نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا ہے کہ زنا دماغ (Soma) کا فعل ہے اس سے جینز کیسے خراب ہوں گے؟تو اس کا منطقی جواب یہ ہے کہ یہ انہی خلیاتی ذرات (Exosomes) کے ذریعے ہوا جو خون کے راستے سفر کرتے ہوئے مردانہ تولیدی نظام (Epididymis) تک پہنچے اور باپ کے جسم کا ڈیٹا اسپرم میں لوڈ کر دیا۔اب یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ جب ایک شخص زنا کرتا ہے، تو اس کے جسم میں ذہنی و جسمانی تناؤ (Stress Hormones) خلیاتی آکسیجن دباؤ(Oxidative Stress) دماغی کیمیائی پیغام کے بگاڑ Altered Neurotransmitters کا طوفان بپا ہوتا ہے۔یہ "بائیولوجیکل ڈیٹا" Exosomes کے پیکٹس میں بند ہو کر اس کے اسپرم میں چلا جاتا ہے۔لہٰذا وہ بچہ جو اس اسپرم سے پیدا ہوگا (چاہے وہ حلال نکاح سے ہی کیوں نہ ہو) گویا اس کے پاس وہ "سافٹ ویئر" پہنچ چکا ہے جس میں لکھا ہے کہ وفاداری مشکل ہے، دھوکہ دہی میں لذت ہے اور سکون ایک جگہ نہیں ملتا۔یہ ہے وہ 60 فیصد جینیاتی منتقلی جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔
ایک لغو اعتراض اور اسکا جواب:
بار بار یہ اعتراض سامنے آتا ہے کہ مغرب میں رضامندی ہے، وہاں ضمیر کی خلش (Guilt) نہیں ہے تو نقصان کیسے ہوگا؟تو اس کا معقول جواب یہ ہے کہ"DRD4 جین" اور وفا داری کا جین(Vasopressin Receptor) آپ کے سوشل کنٹریکٹ یا رضامندی کو نہیں پہچانتے۔اگر آپ نے بیشمار شراکت دار (Multiple Partners) کے ساتھ تعلق رکھا، تو آپ نے بائیولوجیکلی اپنے خصوصی پروٹین کی منتقلی کے ہارمونز (Vasopressin Receptors) کو جلا دیا۔ یہی وہ ہارمون ہے جو ایک مرد کو اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ جذباتی طور پر باندھتا ہے۔جو مرد رومانوی عیش پسند (Playboy) ہوتے ہیں ان کے اندر یہ جین خاموش(Silenced) ہو جاتا ہے۔ اور سب سے خوفناک بات یہ ہے کہ یہ خاموش شدہ یا غیر فعال جین (Epigenetically Silenced Gene) اس کے بیٹے میں منتقل ہوتا ہے۔ یعنی باپ نے عیاشی کی اور بیٹا "حیاتیاتی طور پر نااہل" پیدا ہوا کہ وہ اپنی بیوی سے وفاداری کر سکے۔ وہ چاہے گا بھی تو وفادار نہیں رہ سکے گا کیونکہ اس کے پاس وہ "کیمیکل ٹول" ہی نہیں ہے جو رشتے کو جوڑتا ہے۔ کیا یہ سراپا ظلم نہیں ہے؟ کیا یہ نسل کشی نہیں ہے؟
زنا کاری پر سختی کی علت:
یہاں تک کہ بحث سے آپ یقیناً یہ سمجھ گئے ہوں گے کہ اسلام نے زنا پر اتنی سخت سزائیں کیوں رکھیں؟اسلام نے زنا کو "فاحشہ" (بے حیائی) اور "سآء سبیلا" (برا راستہ) کیوں کہا ہے؟وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ صرف ایک رات کا گناہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک "جینیاتی ٹائم بم" ہے جو نسلوں تک پھٹتا رہتا ہے۔جب اسلام کہتا ہے کہ{اَلْخَبِیْثٰتُ لِلْخَبِیْثِیْنَ وَ الْخَبِیْثُوْنَ لِلْخَبِیْثٰتِۚ-وَ الطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیْنَ وَ الطَّیِّبُوْنَ لِلطَّیِّبٰتِۚ} "گندی عورت گندے مرد کے لیے اور گندے مرد گندی عورت کے لیے ہیں اور ستھری عورت ستھرے مرد کے لیے اور ستھرے مرد ستھری عورت کے لیے ہیں۔" تو یہ صرف اخلاقی حکم نہیں ہے بلکہ یہ "جینیاتی مطابقت" (Genetic Compatibility) کا اصول ہے۔اگر ایک پاک دامن عورت کی شادی ایک ایسے مرد سے ہو جائے جس کا ڈی این اے اس کی "زناکاری" کی وجہ سے کرپٹ ہو چکا ہے تو وہ عورت اپنی نسل کو ایک "بیمار باپ" کا ڈی این اے دے رہی ہے۔ وہ بچے "جذباتی یتیم" اور "اخلاقی بیمار" پیدا ہوں گے۔تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس کے والدین نے غلطی کی کیا وہ برباد ہو گیا؟ کیا وہ 60 فیصد امکانات کا قیدی ہے؟ بالکل نہیں!! یہاں سے قدرت کا غیبی نظام کارفرما ہوتا ہے اور "تدبیر" اور "توبہ" کام آتی ہے۔سائنس کہتی ہے کہ جینز "پتھر پر لکھی لکیر" نہیں ہیں۔ وہ "سوئچ" ہیں۔ اگر آپ کو ورثے میں "چیٹنگ جین" ملا ہے تو آپ کے لیے امتحان سخت ہے، لیکن آپ اسے "Switch Off" کر سکتے ہیں۔بس ذرا اضافی توانائی درکار ہوگی۔شدید تقویٰ اور ضبطِ نفس دماغ کی عصبی لچک (Neuroplasticity) کو متحرک کرتا ہے اور پرانے راستے توڑتا ہے۔ماحول کی تبدیلی بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ حتیٰ الامکان ان محرکات (Triggers) سے دور رہنا جو اس جین کو ایکٹیویٹ کرتے ہیں۔اور آخر میں سچی توبہ جس کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔ ندامت کے وہ آنسو جو تنہائی میں بہہ جائیں، وہ نیورو کیمیکل لیول پر اتنی بڑی تبدیلی لاتے ہیں کہ وہ باپ کی طرف سے ملے ہوئے "منفی ٹیگز" کو دھو سکتی ہے۔یہ جنگ اب آپ کو خود لڑنی ہے۔ آپ کے خون میں آپ کے باپ دادا کی غلطیاں دوڑ رہی ہیں، (اگر انہوں نے کی تھیں تو) لیکن آپ کے پاس "اختیار" کا وہ اسٹیئرنگ موجود ہے جسے اللہ نے آپ کے ہاتھ میں دیا ہے۔ آپ اس 60 فیصد امکان کو شکست دے کر وہ "پہلی کڑی" بن سکتے ہیں جو اپنی نسل کو پاکیزگی کی طرف واپس موڑ دے۔ یہاں تک تو تفصیلی بات ہوئی زنا کاری کے اسباب و نتائج اور سد باب کی اب ذرا دور حاضر کے فتنے پر بھی بات کرلیتے ہیں۔
فطرت سے بغاوت کا حیاتیاتی اور ارتقائی انجام:
انسانی تاریخ میں کچھ جرائم ایسے ہوتے ہیں جو صرف "فرد" کو نقصان پہنچاتے ہیں اور کچھ جرائم ایسے ہوتے ہیں جو پوری "نوعِ انسانی" (Human Species) کے وجود کے لیے خطرہ بن جاتے ہیں۔ قومِ لوط کا عمل، جسے آج کے بد فطرت LGBTQIA+ کی لبرل اصطلاحات کے پیچھے چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں، کوئی "ذاتی پسند" یا "محبت" کا معاملہ نہیں تھا بلکہ یہ "حیاتیاتی خودکشی" (Biological Suicide) کی وہ پہلی کوشش تھی جس نے انسانی ارتقاء اور بقا کے بنیادی اصولوں کو چیلنج کر چھوڑا تھا۔آج مغرب جس چیز کو "ترقی" اور "آزادی" کہہ کر بیچ رہا ہے، بائیولوجی کی اصطلاح میں اسے ارتقائی بند گلی (Evolutionary Dead-end) سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگر ہم سطحی جذبات اور نعروں سے ہٹ کر خالص سائنسی اور منطقی بنیادوں پر اس کا جائزہ لیں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ یہ تحریکیں انسانیت کو آزادی دینے نہیں بلکہ اسے "معدوم" (Extinct) کرنے آئی ہیں۔
ہم جنس پرستی کا انسائیکلوپیڈیا:
سب سے پہلے اس "ہم جنس پرستی" (Homosexuality) کے سائنسی پہلو کو دیکھتے ہیں سر دست ہمیں دیکھنا ہوگا کہ فطرت (Nature) کا سب سے بڑا مقصد کیا ہے؟ ظاہر سی بات ہے بقا اور افزائشِ نسل (Survival and Reproduction) ہی اس کا سادہ سا جواب ہے۔کائنات کا ہر جاندار، چاہے وہ ایک خلیے کا بیکٹیریا ہو یا اشرف المخلوقات انسان، اس اصول پر قائم ہے کہ اسے اپنی جینز اگلی نسل میں منتقل کرنی ہیں۔ مرد اور عورت کی تخلیق، ان کے اعضاء کا تناسب اور ان کے ہارمونز کی کیمسٹری، سب کچھ تولید (Procreation) کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جب قومِ لوط نے مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کیا تو انہوں نے دراصل فطرت کے اس ڈیزائن کے خلاف بغاوت کی۔سائنس کی رو سے یہ عمل جسمانی ساخت میں عدم مطابقت (Anatomical Mismatch) کہلاتا ہے۔ صاف سی بات ہے مرد کا فضلہ خارج کرنے والا مقام (Rectum) جنسی عمل کے لیے ڈیزائن ہی نہیں ہوا۔ وہاں کی جلد (Mucosa) انتہائی نازک ہوتی ہے اور وہاں خون کی شریانیں بہت زیادہ ہوتی ہیں۔ جب اسے غیر فطری طریقے سے استعمال کیا جاتا ہے، تو یہ جراثیم (Pathogens) کے لیے ہائی وے بن جاتا ہے۔ ایڈز (HIV)، ہیپاٹائٹس اور دیگر مہلک بیماریاں جو ہم جنس پرست کمیونٹی میں وبا کی طرح پھیلیں، یہ کوئی "مسلمانوں کی بددعائیں" نہیں تھیں بلکہ یہ فطرت کا انتقام تھا۔ جب آپ گاڑی کے پیٹرول ٹینک میں پانی ڈالیں گے تو انجن تباہ ہوگا بالکل اسی طرح جب آپ جسم کے اعضاء کو ان کے غیر فطری مقصد کے لیے استعمال کریں گے تو حیاتیاتی تباہی یقینی ہے۔پھر بے حیائی کی انتہا دیکھیں کہ ایک بہت بڑا جھوٹ بڑی ڈھٹائی سے بولا جاتا ہے کہ یہ لوگ ایسے ہی پیدا (Born this way) ہوتے ہیں۔باقاعدہ میڈیا کے ذریعہ کچے ذہنوں میں یہ راسخ کیا جارہا ہے کہ "اوپر والے" کی غلطی کو ہم نے گے میں تبدیل ہوکر درست کرلیا ہے۔سائنسدانوں نے دہائیوں تک "Gay Gene" تلاش کرنے کی کوشش کی لیکن آج تک ناکام رہے۔ 2019 میں Science Magazine میں شائع ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی جینیاتی تحقیق (جس میں 5 لاکھ لوگوں کا ڈیٹا لیا گیا) نے واشگاف الفاظ میں اعلان کیا کہ "There is no single gay gene."واضح ہوا کہ یہ رویہ جینیاتی مجبوری نہیں بلکہ یہ "ماحولیاتی، نفسیاتی اور جنس کے کوڈز میں تبدیلی (Epigenetic) جیسے عوامل کا نتیجہ ہے۔ بچپن کے صدمات، ہارمونل عدم توازن اور غلط صحبت انسان کے نیورل سرکٹس کو بگاڑ دیتی ہے۔ جسے یہ پہچان (Identity) کہتے ہیں، سائنس اسے رویہ جاتی عارضہ (Behavioral Disorder) یا اپنی جنس سے عدم اطمینان (Gender Dysphoria) کہتی ہے۔ اور دنیا کے تمام سمجھ دار اس بات پر متفق ہیں کہ ڈس آرڈر کا علاج کیا جاتا ہے اس کا جشن (Pride) نہیں منایا جاتا۔ اب آتے ہیں میرا جسم میری مرضی (My Body My Choice) اور جدید فیمنزم کے نعرے کی طرف۔ بظاہر یہ نعرہ ایک سماجی، فکری اور سیاسی نظریہ ہے جس کا مقصد عورت اور مرد کے درمیان مساوات قائم کرنا اور عورتوں کے ساتھ ہونے والے امتیاز، ظلم اور ناانصافی کا خاتمہ کرنا ہے لیکن اس پرکشش نعرے کی تہہ میں "خاندانی نظام (Family System) کے خلاف ایک گہری سازش چھپی ہوئی ہے۔ بائیولوجیکلی، عورت کا جسم صرف اس کا نہیں ہے بلکہ یہ انسانی نسل کی امانت ہے۔ عورت کے اندر "رحم" (Womb) کا ہونا، اس کے ہارمونز (Oxytocin/Estrogen) کا سیٹ اپ، یہ سب اسے "ماں" اور "نگہبان" بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ جب فیمنزم عورت کو یہ سکھاتا ہے کہ ماں بننا ایک بوجھ ہے اور کیریئر بنانا اصل کامیابی ہے، تو یہ دراصل عورت کو اس کی فطری جبلت (Biological Instinct) سے لڑا رہا ہوتا ہے۔
فیمنزم کے بھیانک نتائج:
مغرب کی عورتیں 40 سال کی عمر میں بظاہر کامیاب تو ہیں مگر بھری دنیا میں اکیلی ہیں اور یہی تنہائی انہیں ڈپریشن کی مریضہ بنا دیتی ہے۔ انہوں نے اپنی فطرت کو دبا کر جو نام نہاد "آزادی" حاصل کی تھی اس نے انہیں اضطراب کو متوازن کرنے والی ادویات (Anti-depressants) کا محتاج کر دیا۔ میرا جسم میری مرضی کا نعرہ مستانہ دراصل اللہ کی ملکیت کو چیلنج کرنا ہے۔ یہ جسم آپ نے نہیں بنایا، یہ آپ کو ایک مقصد کے لیے دیا گیا ہے۔ جب آپ اس میں "اسقاطِ حمل" (Abortion) کے ذریعے ایک زندہ جان کو مارتے ہیں تو آپ صرف ایک گناہ نہیں کرتے بلکہ آپ اپنے اندر موجود مامتا (Mammary Instinct) کا قتل کرتے ہیں، جس کے گہرے نفسیاتی اثرات (Post-Abortion Syndrome) عورت کو تا حیات ذہنی مریضہ بنا دیتے ہیں۔اگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ لبرل ازم (Liberalism) اس سارے فساد کی جڑ ہے۔ لبرل ازم دراصل "نفس پرستی" کا جدید نام ہے۔ یہ انسان کو سکھاتا ہے کہ "تمہاری خواہش ہی تمہارا خدا ہے۔"اس کے برعکس ہمارے پالنہار کا ابدی کتاب میں ارشاد ہے:{اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ وَ اَضَلَّهُ اللّٰهُ عَلٰى عِلْمٍ وَّ خَتَمَ عَلٰى سَمْعِهٖ وَ قَلْبِهٖ وَ جَعَلَ عَلٰى بَصَرِهٖ غِشٰوَةًؕ-فَمَنْ یَّهْدِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ اللّٰهِؕ-اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ} "بھلا تم نے ایسے شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنالیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کردیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا تو اللہ کے بعد اسے کون راہ دکھائےگا؟ تو کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟"
قومِ لوط اور موجودہ لبرلز میں قدر مشترک:
ہر صاحب عقل جب دونوں کا موازنہ کرے گا تو لا محالہ ایک مشترکہ چیز نظر آئے گی اور وہ ہے فوری لذت (Instant Gratification) اور ذمہ داری سے فرار۔ ہم جنس پرستی ہو یا زنا، ان دونوں میں "لذت" تو ہے مگر ذمہ داری (بچہ پالنا، خاندان بنانا) بالکل نہیں ہے۔ اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ فطرت ان لوگوں کو قطعاً پسند نہیں کرتی جو صرف لیتے ہیں اور دیتے (نسل بڑھاتے) نہیں ہیں۔ارتقاء (Evolution) کا اصول ہے کہ جو نسل بڑھائے گا، وہی باقی رہے گا۔آج آپ دیکھیں کہ جن معاشروں نے LGBTQ اور فیمنزم کو گلے لگایا (جیسے جاپان، یورپ وغیرہ) وہاں آبادی کا بحران (Population Collapse) آ چکا ہے۔ وہ قومیں بوڑھی ہو کر حسرت ناک موت مر رہی ہیں لیکن ان کے پاس نسل بڑھانے کے لیے بچے نہیں ہیں۔ یہ ان کے نظریات کی "ارتقائی شکست" ہے۔ دوسری طرف وہ معاشرے (مسلم معاشرے) جو آج بھی فطرت (نکاح، خاندان) پر قائم ہیں، وہ پھل پھول رہے ہیں۔
قومِ لوط پر پتھروں کی بارش کیوں ہوئی؟
اگر گہرائی سے تجزیہ کریں گے تو واضح ہوگا کہ انہوں نے زمین کے "بیج" کو ضائع کیا اسکی پاداش میں انہیں اسی زمین میں دھنسا کر اوپر سے پتھر برسا دیئے گئے۔انہوں نے وہ راستہ اختیار کیا جو "عدم" (Extinction) کی طرف جاتا تھا سو ہمیشہ کے لیے معدوم ہو چکے۔آج کی LGBTQIR+ تحریک بھی اسی انجام بد کی طرف تیزی سے گامزن ہے۔ جب ایک مرد اپنی جنس تبدیل کروا کر عورت بننے (Transgenderism) کی کوشش کرتا ہے تو وہ ہارمونز اور سرجری کے ذریعے اپنے جسم کے ساتھ جو کھلواڑ کرتا ہے گویا وہ ایک طرح سے جسم کی ساخت کو بگاڑ (Biological Mutilation) رہا ہے۔لاکھوں سال کے ارتقاء نے جو XX اور XY کروموسومز بنائے، آپ انہیں "احساسات" کی بنیاد پر تبدیل نہیں کر سکتے۔ یہ لوگ قدرت سے لڑ رہے ہیں، اور قدرت سے لڑنے والا ہمیشہ ہارتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خودکشی کی سب سے زیادہ شرح اسی کمیونٹی میں ہے اور یہ اسے "معاشرتی رویے" کا نام دیتے ہیں حالانکہ یہ ان کے اندر کا حیاتیاتی خلا (Biological Void) اور روحانی بے چینی ہے جو انہیں جینے نہیں دیتی۔
خلاصہ کلام :
یہ ہے کہ یہ تمام تحریکیں چاہے وہ فیمنزم ہو، لبرل ازم ہو یا پرائڈ موومنٹ یہ سب انفرادیت (Individualism) کے زہر میں ڈوبی ہوئی ہیں۔ یہ "میں" (Self) کو "ہم" (Family/Community) پر ترجیح دیتی ہیں۔ یہ انسان کو اس کے خالق اور اس کی فطرت سے کاٹ کر اسے "تنہا" کر دیتی ہیں۔اسلام کا نظام فطرت ہے کہ وہ مرد کو مرد اور عورت کو عورت رہنے دیتا ہے۔ یہ خاندان کو اکائی مانتا ہے، فرد کو نہیں۔ قومِ لوط کا انجام ہمیں بتاتا ہے کہ جب انسان اپنی حیاتیاتی حدود (Biological Boundaries) توڑتا ہے تو پھر پتھر صرف آسمان سے نہیں آتے بلکہ انسان کے اپنے جینز، اپنے ہارمونز اور اپنے خلیات اس کے خلاف بغاوت کر دیتے ہیں۔ آج کا یہ "جینیاتی اور معاشرتی کینسر" اسی قدیم گناہ کا نیا روپ ہے اور اس کا انجام بھی وہی ہے جو ان کے پیشِ رو کا ہوا تھا یعنی تباہی، معدومیت اور عبرت۔بقول شاعر: انقلابات جہاں واعظ رب ہیں دیکھو ہر تغیر سے صدا آتی ہے فافہم فافہم

کالم نگار : بلال شوکت آزاد
| | |
78