(+92) 321 2533925
سماجی بگاڑ کا سدھار
ہمارے معاشرے میں کم و بیش ہر شخص تبدیلی اور نظام کی اصلاح کا خواہش مند ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ نظام کیسے بدلتا ہے اور اس کی تشکیل کے بنیادی عناصر کیا ہوتے ہیں؟ ہم اس سے نابلد و بے خبر ہیں۔ یوں عمومی سطح پر ہمیں آسان راستہ یہی نظر آتا ہے کہ سیاستدانوں، سرکاری افسروں، جاگیرداروں، سرمایہ داروں کو کوسا جائے اور اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کر کے یہ سمجھ لیا جائے کہ ہم نے تبدیلی کے عمل میں اپنا کردار ادا کر دیا ہے۔ حالانکہ یہ حقیقت فراموش کر دی جاتی ہے کہ ایک "اسٹیٹس کو" کی جگہ آخرکار دوسرا "اسٹیٹس کو" ہی لے لیتا ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اشرافیہ کا ایک طبقہ ختم ہوتا ہے تو اس کی جگہ دوسرا طبقہ ابھر آتا ہے۔ انسان فطری طور پر دولت اور اختیار چاہتا ہے، مگر دولت اور اختیا ر ملنے کے بعد وہ دوسروں کے ساتھ کیسا برتاؤ کرتا ہے؟ یہ اس کی اخلاقیات کا معاملہ ہے۔ اسی کی ایک نمایاں مثال پاکستان ہے، جہاں انگریزی اشرافیہ کے جانے کے بعد دیسی اشرافیہ نے اقتدار سنبھال لیا اور لوگ آج تقابل میں یہ جملہ بھی کہتے ہیں کہ شاید انگریز اشرافیہ بہتر تھی۔ میری نظر میں اصل تبدیلی کا آغاز اجتماعی سطح سے پہلے انفرادی سطح پر ہونا چاہیے۔ جو لوگ ہمارے براہِ راست اثر میں ہیں، جیسے بہن بھائی، عزیز و اقارب، دوست اور بچے اگر ہم ان کی تعلیم، کردار سازی اور ذہنی نشوونما پر توجہ دے دیں تو یہ واقعی معاشرے کی بہترین خدمت ہے۔ یہی تبدیلی کی وہ بنیاد ہے جو بعد میں کسی سماجی ارتقا کی شکل اختیار کرتی ہے۔
بنی نوع انسان اور مثبت تبدیلی:
انسانی تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ انسان ہمیشہ اپنے حال سے غیر مطمئن رہا ہے اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی تلاش اس کی فطرت میں شامل رہی ہے۔ انسان نے غاروں، جنگلوں اور ابتدائی وحشیانہ زندگی کو ترک کیا تو اس کا مقصد یہی تھا کہ اس کی آنے والی زندگی آج سے بہتر ہو سکے اور نئی نسل کھلی اور متوازن فضا میں سانس لے سکے۔ اسی اجتماعی جدوجہد کے نتیجے میں انسان نے گروہوں کی شکل میں رہنا شروع کیا اور معاشرت کی بنیاد پڑی، جس کے ساتھ آہستہ آہستہ قوانین، روایات، اقدار اور سزا و جزا کے اصول بھی وجود میں آئے۔وہی معاشرے ترقی یافتہ ہوئے جنہوں نے خود احتسابی، عدل و انصاف، تعلیم و تربیت، احترامِ قانون، معاشی توازن، مذہبی برداشت، لسانی وسعت اور سیاسی بلوغت کو اپنی اجتماعی زندگی کا حصہ بنایا۔ مسائل سے پاک معاشرہ کبھی نہیں رہا بلکہ اصل فرق مسائل کی کمی اور شدت کا ہے جو کسی معاشرے کو ترقی یافتہ یا زوال پذیر بناتی ہے۔
مثالی معاشرے کا تصور:
ایک مثالی معاشرہ نہ لمحوں میں بنتا ہے اور نہ ہی جذباتی نعروں سے بلکہ اس کے پیچھے انبیائے کرام کی جدوجہد، آسمانی تعلیمات کی حکمت، فلاسفہ کی فکر، اہلِ علم و ادب کی عملی کاوشیں اور سائنسی ترقی کا طویل سلسلہ کارفرما ہے۔ ان سب کوششوں کا مقصد انسان کو ایسی زندگی دینا ہے جو امن، اخلاق اور باہمی عزت پر قائم ہو۔اگر منزل واضح نہ ہو تو راستے بگڑ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی قدیم اقوام اصولی غلطیوں اور اخلاقی زوال کے باعث دنیا کے نقشے سے مٹ گئیں اور آج ان کا نام لینے والا بھی کوئی نہیں۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے:
معاشرہ فرد ہی سے بنتا ہے یعنی یہ سب سے چھوٹی اکائی تصور کی جاتی ہے۔ فرد کا مثبت کردار معاشرے کی مضبوطی کا سبب اور اس کا منفی کردار معاشرتی زوال کا باعث بنتا ہے۔مغلوب قوم پر ہمیشہ غلبہ پانے والوں کی جھلک طاری ہو جاتی ہے۔ وہ فاتح کے لباس کی وضع قطع، اس کے تمغوں کی جھلمل، سنہری بٹّنوں کی آب و تاب اور ان پر کندہ اقتدار کے رموز و اشارات تک کو اپنے لیے اعزاز سمجھتی ہے۔ حتیٰ کہ وہ اس کی نشست و برخاست، طرزِ تکلم، اندازِ نظر اور چال کی لَے تک اختیار کرنے لگتی ہے۔ کیونکہ جس قوت کے ہاتھوں شکست مقدر بن جائے، اس کی ہیبت اور مہارت پر نگاہیں جھک چکی ہوتی ہیں، دل اس کے کمال کے قائل ہو چکے ہوتے ہیں۔محکومی کا دور جتنا طویل ہو، انسان کی روح اتنی ہی پژمردہ، ضمیر اتنا ہی بے نور اور کردار اتنا ہی پست ہوتا چلا جاتا ہے۔ ایک مقام ایسا بھی آتا ہے کہ محکوم انسان کے وجود سے انسانیت کے اعلیٰ مقاصد رخصت ہو جاتے ہیں، اور وہ صرف پیٹ کی آگ اور جنس کی بھڑکتی بھٹی کی تسکین کے لیے زندہ رہنے لگتا ہے۔جب ریاستیں درہم برہم ہوں اور قومیں زوال کی راہ پر گامزن، تو ان کے اجتماعی وجود میں مداریوں، نجومیوں، فریب کار صوفیوں، مسلکی ٹھیکیداروں، چغل خور درباریوں، زر کے بدلے فتویٰ بیچنے والے فقیہہ نما سفّاکوں، بے سُری بانسری بجانے والے مداحوں، مخبوط الحواس شاعروں، مفادات پر پلنے والے سیاست دانوں اور افواہوں کے دوش پرسفر کرنے والے نام نہاد معرفت فروشوں کی کثرت ہو جاتی ہے۔سچائی کا نور ماند پڑ جاتا ہے، جھوٹ ہر روز نئے لباس میں جلوہ گر ہوتا ہے، مگر پھر بھی کوئی دیدہ بینا نصیب نہیں ہوتا۔ اہلیت گالی بن جاتی ہے اور نااہلی فن کا کمال ٹھہرایا جاتا ہے۔ اہلِ ہنر اپنی ہی سرزمین میں اجنبی ہو جاتے ہیں، نظم ٹوٹ جاتا ہے، تدبیر بے جان ہو جاتی ہے، گفتار سے معنی رُوٹھ جاتے ہیں اور حق کے روشن مفاہیم کو دہشت اور بغاوت کے پردوں میں چھپا دیا جاتا ہے۔جب سلطنتیں بربادی کے دہانے پر ہوں، تو خوف دلوں کے دریچوں میں گھس جاتا ہے۔ لوگ گروہوں، قبیلوں اور جتھوں میں پناہ تلاش کرتے پھرتے ہیں۔ سچ گم ہو جاتا ہے، افواہیں سچ کا لبادہ اوڑھ لیتی ہیں، بے معنی مباحث حکمت کے نام پر مسلط ہو جاتے ہیں۔ دوست دشمن ٹھہرتا ہے اور دشمن محرمِ راز۔ باطل کی صدا آسمان چیرنے لگتی ہے، جبکہ حق کی صدا سینوں میں گھٹ جاتی ہے۔ چہرے بدل جاتے ہیں، خلوص اوجھل ہو جاتا ہے، امید ناپید اور خواب ویران ہو جاتے ہیں۔ فہم و فراست رکھنے والا انسان تنہا رہ جاتا ہے اور اس کی تنہائی اس کے لیے نعمت بھی ہوتی ہے اور دُکھ بھی۔لوگ اپنی ذاتی شناخت گنوا بیٹھتے ہیں۔ ایک فرد نہیں رہتا، ایک جھنڈا ہو جاتا ہے؛ ایک ضمیر نہیں، ایک گروہ کی پرچھائیں بن جاتا ہے۔ایسے میں خطیبوں کی بلند بانگ صدائیں بازاروں میں گونجتی ہیں، مگر اہلِ فکر کی آواز ریگزار میں گم ہو جاتی ہے۔بازار ہنگاموں سے لبریز ہو جاتے ہیں، نسبتیں نیلام ہونے لگتی ہیں، اور قوم پرستی، حبِ وطن اور دین کی بنیادیں شور و غوغا کے نیچے دب جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ ایک ہی گھر کی چھت تلے خون کا رشتہ رکھنے والے ایک دوسرے پر غداری اور بے وفائی کے فتوے جڑنے لگتے ہیں۔الغرض سماج بکھر کر رہ جاتا ہے۔ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
اسلامی معاشرے میں فرد کی ذمہ داری:
اسلامی معاشرہ وہ ہے جو اسلام کے اخلاقی و فکری اصولوں پر چلتا ہو۔ اگر معاشرے کے افراد یہ کہہ کر اپنی ذمہ داری چھوڑ دیں کہ ’’معاشرہ خراب ہے، ہم کیا کریں؟‘‘ تو دراصل نہ چاہتے ہوئے بھی وہ خود اس خرابی کا حصہ بن جاتے ہیں۔اصلاح کی بنیاد یہ ہے کہ ہر فرد یہ سوچے میں اپنا فرض ادا کروں گا، چاہے دوسرے کریں یا نہ کریں۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:"مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرے نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑے اور نہ اسے حقیر جانے۔" اسلام میں عزت کا معیار تقویٰ اور اخلاق ہے نہ کہ خاندان اور قبیلہ۔
عدل اجتماعیت اور ذمہ داریاں:
اسلام نے زندگی کے ہر شعبے گھر، تجارت، عدالت، حکومت میں عدل پر زور دیا ہے۔انسان فطری طور پر اجتماعی زندگی کا خواہاں ہوتا ہے لہٰذا باہمی تعاون، نظم و ضبط اور ذمہ داری معاشرتی استحکام کا حصہ ہیں۔انسان اپنی مختلف ذمہ داریوں میں کبھی بیٹا ہوتا ہے، کبھی باپ، کبھی شہری اور کبھی لیڈر۔ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی ہی انسانی شخصیت کا حقیقی امتحان ہے۔ایک منظم اور پرامن معاشرہ اسی وقت وجود میں آتا ہے جب ہر فرد اپنے دائرہ کار اور ذمہ داری کو پوری سنجیدگی، دیانت اور اخلاص کے ساتھ نبھائے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں، اساتذہ کا فرض ہے کہ وہ علم کو امانت سمجھ کر سکھائیں، طلبہ کا کام ہے کہ وہ محنت اور توجہ سے علم حاصل کریں، جبکہ حکومتی اور انتظامی اداروں پر لازم ہے کہ وہ امانت و انصاف کے تقاضے پورے کریں۔ جس معاشرے میں ہر شخص اپنی جگہ پر سچائی، محنت، رواداری اور فرض شناسی کا مظاہرہ کرتا ہے، وہاں ترقی، خوشحالی اور امن خود بخود جنم لیتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم دوسروں سے توقعات بڑھانے کے بجائے اپنے حصے کی ذمہ داری بہترین انداز میں ادا کریں، کیونکہ حقیقی تبدیلی کی شروعات فرد کی ذات سے ہوتی ہے۔
میڈیا اور معاشرتی خرابی:
میڈیا رائے عامہ کی تشکیل میں بنیادی کردار رکھتا ہے۔ مگر افسوس کہ آج یہ کردار اصلاح کے بجائے انتشار، اخلاق کے بجائے بے حیائی، اور شعور کے بجائے سنسنی کو فروغ دے رہا ہے۔بغیر تحقیق کے خبریں چلائی جاتی ہیں جس سے معاشرتی بے چینی اور فکری انتشار بڑھ جاتا ہے۔اگر میڈیا ذاتی مفاد کے بجائے قومی، اجتماعی اور انسانی مفاد کو ترجیح دے تو معاشرہ ایک بڑی تباہی سے بچ سکتا ہے۔جب یہ بات واضح ہو گئی کہ میڈیا معاشرے کی سوچ اور رویوں پر گہرا اثر رکھتا ہےتو ہم یہ کہنے میں بھی حق بجانب ہیں کہ اگر یہی میڈیا اپنے مواد میں اخلاقیات، ایمانداری، عدل، احترام اور خیر خواہی جیسے مثبت پیغامات کو فروغ دے اور بری باتوں کو یکسر نظر انداز کردے تو یہ لوگوں کے کردار اور فکر میں نمایاں تبدیلی کا باعث بن سکتا ہے۔ مثبت ڈرامے، تعلیمی پروگرام، سچ پر مبنی خبریں اور فلاحی مہمات نہ صرف ذہنوں کو صاف کرتی ہیں بلکہ بگڑے ہوئے معاشرتی رویوں کو بھی سنوار دیتی ہیں۔ اس طرح میڈیا انتشار اور بے راہ روی کی بجائے اتحاد، انسانی اقدار اور ذمہ داری کا شعور پیدا کر کے معاشرے کو بگاڑ سے سنوار کی طرف لے جا سکتا ہے۔
خلاصہ کلام:
اگر ہم معاشرے سے برائیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں تو تعلیمی اداروں،مذہبی، مراکز، میڈیا اور سماج سب کو انسانیت، اخلاق اور ذمہ داری کے ایک مشترکہ اصول پر آنا ہوگا۔کیونکہ ہر مذہب انسانیت اور خیر کو پسند کرتا ہے فساد کو نہیں۔سماج صرف قوانین یا حکومتی اداروں سے نہیں بدلتا بلکہ اس کی اصل بنیاد افراد کے کردار پر ہوتی ہے۔ جب ہر شخص اپنی ذمہ داری کو سمجھ کر ایمان داری، دیانت، عدل، اخلاق اور خیر خواہی کو اپناتا ہے تو معاشرہ خود بخود سنورتا جاتا ہے۔ اگر ہم صرف دوسروں سے توقع رکھتے رہیں اور اپنی اصلاح نہ کریں تو تبدیلی کبھی نہیں آتی۔ لہٰذا سماج کی بہتری کے لیے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنی زبان، اپنے رویّوں اور اپنے عمل میں خیر کو عام کرے، برائی سے بچے اور دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ یہی چھوٹے چھوٹے اقدامات مل کر بڑے سماجی انقلاب کی بنیاد بنتے ہیں۔

کالم نگار : چوہدری محمد زبیر،لاہور
| | |
160