(+92) 321 2533925
اسلامی تعلیمات اور موجودہ معاشرتی رویوں کا تقابلی جائزہ
انسان جب حدِ بلوغت کو پہنچتا ہے تو اس کی شخصیت ایک نئے دور میں داخل ہوتی ہے۔ یہ دور اُس کے شعور و کردار اور فکر و عمل کے نئے زاویے متعین کرتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب انسان محض ایک جسم نہیں رہتا بلکہ ایک نظریہ، ایک خواب اور ایک سمت بن جاتا ہے۔ اس مقام پر اس کی زندگی کی تین بنیادی ضرورتیں ایسی ہیں جن کے بغیر اس کی جوانی ادھوری، بے سمت اور غیر مؤثر رہتی ہے: 1. صحیح عقیدہ 2. صالح زوجہ 3. حلال ذریعہ معاش یہ تین ستون دراصل انسانی شخصیت کی تعمیر کے وہ مضبوط اساسات ہیں جن پر ایمان، عفت اور عمل کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ آج کا نوجوان انہی تین نعمتوں سے سب سے زیادہ محروم دکھائی دیتا ہے۔ جہاں تک رہی عقیدہ کی بات تو نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ آج کا نوجوان اللہ رب العزت سے بھی شاکی بلکہ باغی ہے۔ دل ایسا غیر سے لگا کہ اس میں شرک و الحاد نے گھر کر لیا ہے۔ دوسری بات نکاح میں تاخیر ہے۔ بلند معیار زندگی، خاندانی چپقلشوں اور مذھب سے دوری نے بے راہ روی و آوارگی کو فروغ دیکر عفت و پاکیزگی کا دامن ہم سے چھین لیا ہے۔ تیسرے یہ کہ پیسے کی دوڑ اور منہ زور خواہشات نے حصول رزق میں حرام و حلال کی تمیز مٹا کر رکھ دی ہے۔ ان تین بنیادی وجوہات نے ایسا خلا پیدا کیا ہے جس نے نسل نو کو اضطراب، بے چینی اور گم گشتہ شناخت کا شکار کر دیا ہے۔آج کا نوجوان علم تو رکھتا ہے مگر یقین سے محروم ہے،اُسے آزادی تو ملی ہے مگر سمت نہیں،اُس کے پاس ذرائع تو ہیں مگر مقاصد نہیں،حتی کہ اُس کے پاس آواز ہے مگر پیغام نہیں۔دنیا کی چکاچوند نے اُس کی آنکھوں سے حقیقت کی روشنی چھین لی ہےاور اس کی نگاہیں اب افقِ آخرت کے بجائے اسفلِ دنیا کی طرف جھک گئی ہیں۔اسے جس عمر میں قوموں کی قیادت، فکروں کی تطہیر اور تہذیبوں کی تجدید کا مرکز ہونا چاہیے تھا اس عمر میں وہ تفریح طبع، بیجا خواہش اور وقتی لذتوں کے طوق میں جکڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔اگر معاشرتی شیرازہ بکھرنے سے بچانے کی فکر دامن گیر ہے اور سدھار کی تمنا بھی دل میں جاگزیں ہے تو دور حاضر کے نوجوان کو بہر صورت اس کی اصل ضروریات بہم پہنچانی ہوں گی۔اگر اس کے ابتدائی شباب ہی میں اُسے درست عقیدہ و مناسب تعلیم، صالح و محبوب رفیقِ حیات اور محنت و دیانت پر مبنی ذریعہ معاش فراہم کر دیا جائے تو یہی نوجوان علم و عمل کا مینار، ایمان و اخلاص کا علمبردار اور قوم و ملت کا حقیقی معمار بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اُمتِ مسلمہ کا مستقبل اسی وقت روشن ہوسکتا ہے جب اس کے نوجوانوں کے دل عقیدۂ توحید سے منور ہوں، ان کے گھروں میں طہارتِ کردار کی خوشبو آئے اور ان کے ہاتھوں میں رزقِ حلال کی حرارت ہو۔آج کا نوجوان اگر چاہے تو وقت کا دھارا موڑ سکتا ہے، اپنی ذات سے ایک انقلاب جنم دے سکتا ہے۔بس شرط صرف یہ ہے کہ اس کی بنیادوں کو مضبوط کیا جائے۔عقیدہ کی درستگی، عمل کی پاکیزگی اور رزق کی حلت یہی نوجوانوں کے ایمان کا سرمایہ اور انکے بہتر انجامِ کار کی ضمانت ہیں۔
شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں میری بات:
اے قوم کے معمارو! پنے اندر کی راکھ میں دبی ہوئی چنگاری کو پہچانو، اسے یقین، عبادت، علم، کردار اور خدمت کے تیل سے بھڑکاؤ تاکہ تمہاری جوانی محض عمر کا مرحلہ نہیں بلکہ امت کی بیداری کا عنوان بن جائے۔ اگر نظام کائنات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت منکشف ہوگی کہ اسلام نے انسانی فطرت اور سماجی نظام دونوں کی تعمیر و ترقی کے لیے ایسا جامع و مانع دستور عطا کیا ہے جو نہ صرف روحانیت کی بلندی کا ضامن ہے بلکہ معاشرتی استحکام اور اخلاقی پاکیزگی کی بھی بنیاد رکھتا ہے۔اس نظام میں نکاح کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ نکاح محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ ایک مقدس عبادت، اخلاقی ذمے داری اور روحانی وابستگی کا نام ہے۔قرآنِ کریم نے اسے "میثاقاً غلیظاً" قرار دیا ہے یعنی ایک گہرا اور سنجیدہ عہد، جو دو افراد کو محض جسمانی یا جذباتی تعلق سے ہی نہیں بلکہ روحانی و اخلاقی بندھن میں بھی باندھتا ہے۔اسلام نے دستور نکاح کو محبت و مودّت، عفت و پاکدامنی اور باہمی احترام پر قائم کیا ہے، مگر ساتھ ہی انسانی نفسیات کے پیشِ نظر ایسی حدود و ضوابط بھی مقرر فرما دیئے جو خواہشات کو نظم میں رکھ کر معاشرتی فساد سے محفوظ بناتے ہیں مگر وائے ناکامی کہ آج کا انسان اپنی خواہشات کو مرکزِ کائنات سمجھ بیٹھا ہے۔اس نے شریعت کے مقرر کردہ توازن کو ذاتی آزادی کے نام پر پائمال کر دیا ہے۔ رہی سہی کسر میڈیا، مغربی نظریات اور مادّی تہذیب نے محبت کے مفہوم کو رومانوی بے راہ روی سے تعبیر کر کے پوری کردی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ نکاح کی پاکیزگی مجروح ہو کر رہ گئی۔
اسلام کا تصورِ نکاح اور اس کی حکمتیں:
اسلامی نقطۂ نظر سے نکاح محض دو دلوں کا ملاپ نہیں بلکہ سماج کی تطہیر اور نسلِ انسانی کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔یہ ایک ایسا ایفائے عہد ہے ہے جو محبت کو عفت میں اور خواہش کو ذمہ داری میں بدل دیتا ہے۔ اسلام نے مرد و عورت دونوں کو انتخاب کا حق دیا ہے لیکن ساتھ ہی عفت و حیا، باہمی رضا اور عدل و دیانت کو لازم قرار دیا ہے۔ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:"جب تم میں سے کوئی نکاح کرے تو دیندار عورت سے کرے، اسی میں برکت ہے۔" گویا نکاح کا معیار محض ظاہری حسن یا دنیاوی مفاد نہیں بلکہ دینی ہم آہنگی اور اخلاقی پاکیزگی کو قرار دیا ہے۔اسلام کا مطمع نظر یہ ہے کہ خواہشات کو دبانا خلاف فطرت ہے لہٰذا انہیں راہِ شریعت میں ڈھال کر تقدس بخشا جائے۔ یہی وہ میزان عدل ہے جو انسانی معاشرے کو انتشار سے محفوظ رکھنے میں معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے۔
فرد قائم ربط ملت سے ہے:
اسلام نے فرد کی آزادی کو فراخ دلی سے تسلیم کیا ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی واضح کردیا کہ یہ آزادی ذمہ داری سے مشروط ہے۔یہ کہنا درست نہیں کہ انسان اپنی خواہش کے مطابق ہر فیصلہ کرے، خواہ وہ شریعت یا معاشرتی اخلاقیات کے خلاف کیوں نہ ہو۔ چنانچہ قرآن میں ارشاد ربانی ہے:"اور اپنے آپ کو ان چیزوں سے بچاؤ جو تمہارے لیے فتنہ بن جائیں۔” اسلام میں محبت اور اختیار دونوں کو حدود کے دائرے میں رکھا گیا ہے تاکہ نہ جبر کی صورت ہو اور نہ ہی بے لگامی کا تاثر پیدا ہو۔مثال کے طور پر والدین کو حکم ہے کہ اولاد کے فیصلے میں رہنمائی کریں مگر ان کی رضا کے بغیر جبر نہ کریں۔ اسی طرح اولاد کو بھی یہ تعلیم دی گئی کہ وہ محبت کے نام پر اخلاقی حدیں نہ توڑیں مان مریادہ کا پاس رکھیں۔
مغربی اثرات اور ثقافتی انحرافات:
اگر ہم اسلامی نظام حیات اور مغربی معاشرے کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں تو یہ خوف ناک صورت حال سامنے آتی ہے کہ جدید معاشرہ ان دونوں اصولوں کے درمیان توازن رفتہ رفتہ کھوتا جا رہا ہے۔ایک طرف مغرب زدہ فکر نے نکاح کو رومانوی تجربہ گاہ بنا دیا ہے، جہاں محبت کی بنیاد خواہش، دل لگی اور کچھ حد تک ہوس ہے نہ کہ عہد و وفا اور دکھ سکھ میں ہمیشگی کا ساتھ۔دوسری طرف مشرقی انتہا پسندی نے نکاح کو خاندانی وقار کا مسئلہ بنا دیا ہے جہاں اولاد کی مرضی کو ناقابل معافی جرم تصور کیا جاتا ہے۔ زمینوں پر مضبوط گرفت قائم رکھنے اور اپنی پگ اونچی رکھنے کے لیے برادری ازم، وٹہ سٹہ، کاروکاری، قرآن سے شادی اور خدا جانے کتنی غیر انسانی و غیر اخلاقی اور بے معنی رسم و رواج میں جکڑ رکھا ہے۔ یوں معاشرہ نہ چاہتے ہوئے بھی دو انتہاؤں میں بٹ کر رہ گیا ہے۔ایک جانب دعوت گناہ ہے تو دوسری جانب بڑوں کی ضد بیجا۔یہی تضاد خفیہ نکاح، بھاگ کر شادی اور ناجائز تعلقات جیسے ازدواجی انحرافات کو جنم دے رہا ہے حالانکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلام کا تصور نہ جبر پر قائم ہے اور نہ ہی بلا قید ہے۔اسلام نے راہ اعتدال اختیار کرتے ہوئے محبت کو پاکیزگی اور اطاعت کو رحمت بنایا ہے۔ شریعت فرد کی خواہش کو تسلیم کرتی ہے مگر اسے حدود الٰہی میں باندھ کر عزت عطا کرتی ہے۔قرآنِی پیغام سے یہی اصول عیاں ہے کہ اللہ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے سختی نہیں۔
فطری ضرورت یا ممنوع حقیقت؟
اب وقت آگیا ہے کہ دور حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق اسلامی زاویۂ نظر سے جنسی جبلّت کا اخلاقی و سماجی تجزیہ کیا ہے تاکہ نسل نو کے اذھان مطمئن ہوسکیں۔انسانی فطرت کی تشکیل میں اللہ تعالیٰ نے جو قوتیں ودیعت کی ہیں، ان میں جنسی خواہش ایک بنیادی اور طاقتور جذبہ ہے۔ یہ وہ قوتِ محرکہ ہے جو نسلِ انسانی کی بقا، محبت کے اظہار اور رشتوں کی حرارت کا ذریعہ بنتی ہے۔ مگر جب یہی فطری جذبہ حدود سے نکل کر منہ زور ہو جائے یا سماج و مذہب کے طے کردہ دائرے سے ہٹ کر تسکین چاہے تو یہی قوت بگاڑ، بے راہ روی اور روحانی زوال میں بدل جاتی ہے۔اسلام نے اس جذبے کو گناہ یا شرم کا موضوع نہیں بنایا بلکہ اعتدال اور طہارت سے جوڑ کر اسے عبادت کا درجہ دے دیا ہے۔ نکاح اسی اعتدال کا مظہر ہے جو فطرت کی تسکین اور روح کی حفاظت دونوں کا جامع بندوبست ہے۔معلوم ہوا کہ سیکس یا جنسی میلان کوئی ناپاک تصور نہیں بلکہ یہ خالق کی طرف سے عطا کردہ ایک فطری تقاضا ہے۔ جیسے نیند اور خوراک کی ضرورت کو نظم و ضبط میں رکھا گیا ہے، ویسے ہی اس جذبے کو بھی اخلاقی و شرعی اصولوں کے تحت مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے انسان کو جانوروں کی طرح آزاد نہیں چھوڑا کہ اپنی خواہش کی تسکین جہاں اور جیسے ممکن ہو، کر لی جائے۔ انسان کو عقل و شعور دیا گیا ہے تاکہ وہ اپنی خواہش کو عفت اور ذمہ داری کے سانچے میں ڈھالے۔ یہی فرق حیوانی جبلّت کو انسانی شرافت سے ممتاز کرتا ہے۔
معاشرتی منافقت:
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جب کوئی معاشرہ جنسی مسئلے کو دبانے، چھپانے یا شرمندگی سے تعبیر کرنے لگتا ہے تو یہی دباؤ نفسیاتی بیماریوں اور اخلاقی زوال کا باعث بنتا ہے۔یہ سچ ہے کہ جب فطرت کو دبایا جاتا ہے تو وہ بگاڑ کی صورت میں لوٹتی ہے۔ ایسے معاشروں میں جہاں جنس پر گفتگو ممنوع ہو، وہاں اس کا اظہار خفیہ، غیر متوازن اور مجرمانہ شکلوں میں ظاہر ہوتا ہے۔جنسی جرائم، خفیہ تعلقات یا ازدواجی بے چینی سب اسی اجتماعی نفاق کے مظاہر ہیں۔اسلام نے نہ اس جذبے کو دبانے کا حکم دیا ہے اور نہ ہی اسے بے شطر مہار چھوڑنے کا بلکہ اس کے لیے نکاح کو پاکیزہ راستہ قرار دیا تاکہ جسم، روح اور سماج تینوں متوازن رہیں اور معاشرہ پر امن بقائے باہمی کے اصول پر قائم ہو جائے۔
فطرت اور شریعت کا حسین امتزاج:
قرآن مجید کی واضح تعلیمات اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہیں کہ جنسی تعلق کا مقصد صرف خواہش کی تسکین نہیں بلکہ سکون، محبت اور رحمت کا قیام ہے۔باشعور و متوازن معاشروں میں بلوغت کے بعد انسان کو اس کی فطری خواہشات کے جائز اظہار کی اجازت ہے، مگر شرط یہ ہے کہ وہ نکاح کے ارادے کے اندر ہو۔یوں بڑے اہتمام سے شریعت نے انسانی خواہش کو تسلیم بھی کیا ہے اور اسے مہذب بھی بنادیا ہے۔لیکن صد افسوس کہ آج کا معاشرہ دو انتہاؤں کا شکار ہے۔ایک طرف بے لگام آزادی ہے، جہاں خواہش کو قانون اور اخلاق سے بالاتر سمجھا جاتا ہے جبکہ دوسری طرف منافقانہ جبر ہے، جہاں اس فطری مسئلے پر بات کرنا بھی گناہ سمجھا جاتا ہے اور قرائن کہتے ہیں کہ معاشرتی نمو اور بڑھوتری کے لیے یہ دونوں رویے ہی خطرناک ہیں۔ پہلا حیوانیت کی طرف لے جاتا ہے، تو دوسرا نفسیاتی انحراف کی طرف گامزن ہے۔اسلام ان دونوں کے درمیان حکمت، عزت اور محبت کا توازن قائم کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ بلوغت کو پہنچنے والے نوجوانوں کی تربیت صرف جسمانی ہی نہ ہو بلکہ اخلاقی و روحانی شعور کو بھی اجاگر جائے۔ہمارا معاشرہ اس وقت تک امن کا گہوارہ نہیں بن سکتا جب تک والدین، اساتذہ اور مذہبی ادارے یہ سمجھیں کہ جنسی شعور کی آگاہی دین سے متصادم نہیں بلکہ دین کا حصہ ہے۔ اپنے بچوں، بھانجوں اور بھتیجوں کو شرم و حیا کے دائرے میں رہتے ہوئے یہ سمجھانا کہ خواہش کی تکمیل نکاح کے ذریعے ہو، گناہ کے راستے سے نہیں، یہی اصل تربیت ہے۔نوجوانوں کو انہی کی زبان میں سمجھایا جائے کہ انسان کی اصل عظمت یہ نہیں کہ وہ خواہش سے خالی ہو جائے، پھر فرشتے اور انسان میں کیا فرق رہ جائے گا؟ بلکہ کمال یہ ہے کہ وہ خواہش پر قابو پا کر اسے عبادت کا ذریعہ بنائے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام رہبانیت کا سختی سے انکاری ہے وہ انسان کو ضبطِ نفس، حیا اور تقویٰ سکھاتا ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ جب انسان اپنی خواہش کا غلام بن جاتا ہے تو وہ اپنی روحانی قوت اور تخلیقی شعور سے محروم ہو جاتا ہے پھر یہی حرماں نصیبی اس کے مقدر کی سیاہی بن کر بہت دور تک اس کا پیچھا کرتی ہے۔ اسلامی شریعت کی حکمت انسان کو ضائع ہونے سے بچانے پر مصر ہے چنانچہ وہ انسان کے جذبات کو نظم و ضبط کے سانچے میں ڈھال کر انہیں فلاح و سکون میں بدل دیتی ہے۔جبکہ مغربی نظام آزادی کے نام پر ان جذبات کو ہر قسم کی حدود و قیود سے آزاد کر کے معاشرتی فساد میں تبدیل کر دیتا ہے اور یوں ایک ہنستا بستا خاندان اجاڑ کی دیوار پر آن گرتا ہے۔
ازدواجی انحرافات کے اسباب و اثرات:
جب ہم اسکے اسباب و وجوہات پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتاہے کہ سب سے پہلے تو دینی تربیت کا فقدان ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے جب گھروں میں دین محض رسم رہ جائے اور تعلیمِ شریعت عملاً ناپید ہوجائے تو محبت خواہش میں اور نکاح کھیل میں بدل جاتا ہے۔دوسرے نمبر پر آتا ہے میڈیا کا فکری زہر جو ڈراموں، فلموں اور سوشل میڈیا نے کچے ذہنوں میں گھولا ہے۔ نئی نسل عشق کو مقصدِ حیات بنا کر نکاح کو ثانوی حیثیت دے بیٹھی ہے۔ اسکے بعد ہے خاندانی جبر اور جھوٹی انا کی تسکین کے لیے ہر حد پار کر جانا۔جب والدین محبت کے نام پر نہیں بلکہ وقار کے خوف پر فیصلے کرتے ہیں تو نسلیں باغی ہو جاتی ہیں۔اس کے علاؤہ اس حقیقت سے بھی سر مو انحراف ممکن نہیں کہ معاشی دباؤ تاخیرِ نکاح کا سبب بن رہا ہے۔ دور حاضر کے نوجوانوں کی معاشی مشکلات بھی بے راہ روی کا بڑا سبب ہیں۔اور آخر میں نمبر آتا ہے مغربی نظریات کی اندھی تقلید کا، بات کہنے کی نہیں پر بات ہے رسوائی کی کہ آج خود اختیاری کے نام پر شرعی اقدار کا استہزاء معمول بنتا جا رہا ہے۔یہ سب عوامل مل کر معاشرتی توازن کو توڑتے ہیں اور خاندانی نظام کو عدمِ استحکام کی طرف دھکیل دیتے ہیں۔
اصلاحِ معاشرہ کے لیے اسلامی لائحہ عمل:
اسلامی نقطۂ نظر میں اصلاح کا آغاز نیت اور نیت سازی سے ہوتا ہے۔جب والدین اور اولاد دونوں اللہ کی رضا کو مرکز نگاہ بنا لیں تو جبر بھی محبت میں بدل جاتا ہے اور خواہش بھی عبادت میں۔دینی تعلیم کی از سرِ نو ترویج: ضرورت اس امر کی ہے کہ نوجوان نسل کو نکاح کی شرعی، اخلاقی اور سماجی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔انہیں حکمت و بصیرت کے ساتھ آگاہی دی جائے کہ اسلام نے نکاح کو عبادت کا درجہ کیوں دیا ہے؟کیونکہ یہ محبت، ذمہ داری، تعاون اور عدل پر مبنی ایک نظامِ حیات کو جنم دیتا ہے۔ نکاح سے ایک نیا خاندان وجود میں آتا ہے، خاندان سے معاشرہ بنتا ہے اور عمرانیات کی زبان میں معاشرہ ہی تہذیب و تمدن کی بنیاد ہوا کرتا ہے۔ اس طرح نکاح فرد کی اصلاح اور معاشرتی استحکام دونوں کا ضامن ہے لہٰذا نکاح انسانی سماج کی بنیاد، اخلاقی اقدار کا محافظ اور پاکیزہ معاشرت کا ستون ہے۔ اسی طرح رہنمائی کے مراکز یعنی مساجد، مدارس اور عصری تعلیمی اداروں میں نکاح و خاندان کے موضوعات پر علمی گفتگو کو فروغ دیا جائے۔
میڈیا کا اصلاحی کردار:
محبت کو فحاشی وعریانی سے الگ کر کے حیا و وفا کے زاویے سے پیش کرنے میں میڈیا بنیادی کردار ادا کر سکتا ہے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ میڈیا آج کے دور میں رائے عامہ کی تشکیل اور معاشرتی اقدار کے تعین کا سب سے طاقتور ذریعہ ہے۔ اگر اسے مثبت سمت میں استعمال کیا جائے تو یہ بے حیائی، فحاشی اور اخلاقی زوال کے سدباب میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ میڈیا کے ذریعے اچھے اخلاق، شرم و حیا، عفت و پاکدامنی اور خاندانی اقدار کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔اسلامی تعلیمات، سیرتِ نبویؐ، معاشرتی آداب اور اصلاحی پیغامات پر مبنی پروگرامز نوجوان نسل میں شعور بیدار کر سکتے ہیں۔ ڈراموں، فلموں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اگر حیا، وفا، دیانت اور احترامِ انسانیت جیسے موضوعات کو اجاگر کیا جائے تو معاشرہ اخلاقی بلندی اور مضبوط خاندانی نظام کی طرف رواں دواں ہو سکتا ہے۔اس کے لیے از حد ضروری ہے کہ میڈیا اپنی ذمہ داری کو احساسِ جواب دہی کے ساتھ نبھائے اور بے حیائی کے طوفان کو روکنے اور پاکیزہ و بااخلاق معاشرہ کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرے۔
خاندانی مکالمہ:
والدین اور اولاد کے درمیان دوری اور غیر مبہم خلا کسی طور مناسب نہیں۔ جانبین میں اعتماد اور کھلی بات چیت کی فضا قائم کی جائے۔ماں یا باپ جس سے بھی بچا یا بچی زیادہ قریب ہوں وہ انہیں بتلائیں کہ اسلام تمہاری خواہش کے ہرگز خلاف نہیں بلکہ یہ چاہتا ہے کہ نکاح محبت سے ہو، مگر محبت شریعت کے دائرے میں۔یوں فرد کی خواہش اور شریعت کی حدود ایک دوسرے کی تکمیل کا ذریعہ بن جائیں گی۔
خلاصہ کلام:
اسلام کا تصورِ ازدواج توازن، احترام اور پاکیزگی پر قائم ہے۔یہ نہ عشق کی اندھی دوڑ ہے نہ جبر کی زنجیر بلکہ ایک ایسا نظامِ محبت ہے جو حدودِ الٰہی میں سکون پاتا ہے۔ آج کا مسلمان اگر دوبارہ اس توازن کو پالے یعنی شریعت کے تابع محبت اور محبت سے معمور اطاعت تو ازدواجی انحرافات خود بخود ختم ہو جائیں گے۔خاندان پھر سے عزت، رضا اور مودّت کے قلعے بن جائیں گے،اور معاشرہ اخلاقی استحکام و روحانی سکون کی راہ پالےگا۔ یہی وہ راہ ہے جو فرد کی خواہش کو عبادت اور حدودِ شریعت کو رحمت بنا دیتی ہے اور یہی پیغام اسلام کے نظامِ نکاح کا ابدی جوہر ہے۔

کالم نگار : مرزا ثوبان بیگ
| | |
379