(+92) 321 2533925
ترقی یا تنزلی؟
انسان "انس" سے ماخوذ ہے، یعنی وہ مخلوق جو انسیت، محبت اور تعلق کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ یہ وہ وجود ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تنہائی کے لیے نہیں بلکہ اجتماعیت کے ساتھ جینے کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ قرآنِ حکیم میں اللہ تعالیٰ کےارشاد کا مفہوم ہے: "ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے بنایا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو" (الحجرات: 13)۔ یہ آیت دراصل انسانی فطرت کی آئینہ دار ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر انسان کو ایک دوسرے کے لیے بنایا گیا ہے تو پھر یہ جدید دنیا کیوں رشتوں اور تعلقات کو توڑنے پر تلی ہوئی ہے؟ کیوں ایسا ہے کہ جتنی زیادہ ترقی ہو رہی ہے، اتنی ہی زیادہ تنہائی بڑھتی جا رہی ہے؟ جاپان، جو دنیا کی سب سے ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہوتا ہے، آج ایک بھیانک المیے "کودوکوشی" یعنی اکیلے پن میں موت کا شکار ہے۔ یہ کیسا منظر ہے کہ ہزاروں افراد موت کے دہانے پر پڑے ہوتے ہیں مگر کوئی دروازہ کھٹکھٹانے والا نہیں، کوئی تیماردار نہیں، کوئی آنکھ اشکبار نہیں۔ ان کی لاشیں ہفتوں بلکہ مہینوں بعد ملتی ہیں، جب تعفن محلے والوں کو متوجہ کرتا ہے۔ یہ اس ترقی کی معراج ہے جس پر بزعم خود ہمیں بڑا ناز ہے۔ بقول شاعر: کیا اس لیے تقدیر نے چنوائے تھے تنکے، بن جائے نشیمن تو کوئی آگ لگادے۔
سنسی خیز انکشافات:
جاپان کی پولیس ایجنسی کی رپورٹ چیخ چیخ کر بتاتی ہے کہ صرف گزشتہ سال چھ ماہ کے دوران 37 ہزار افراد گھروں میں مردہ، بے گور و کفن پائے گئے۔ سوچنے کی بات ہے کہ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے پوری زندگی جاپانی معیشت اور ٹیکنالوجی کے لیے وقف کر دی تھی۔ دن رات محنت کی، دنیا کو حیران کیا لیکن آخری وقت میں کوئی ان کے سرہانے پانی دینے والا نہ تھا۔ یہ کامیابی نہیں بلکہ انسانیت کاالمیہ ہے۔ان میں سے چار ہزار افراد کی لاشیں ایک ماہ بعد برآمد ہوئیں اور کچھ تو پورے سال بعد ملیں۔ ذرا لمحہ بھر کو سوچئے!! کہ ایک انسان کا وقت آخر قریب ہے۔ وہ آخری ہچکی لینے سے قبل پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اپنے اردگرد نظر دوڑاتا ہے کہ شاید کوئی شناسا چہرہ مل جائے تو اسکی آغوش میں اپنوں کا لمس محسوس کرتے ہو جان، جان آفریں کے سپرد کردوں لیکن اسے محض اپنے سائے کے، سب کچھ دھندلایا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ اسے کوئی آہٹ سنائی نہیں دیتی سوائے اپنی اکھڑتی بے ربط سانوں کی آواز کے۔کیا انسانیت پر اس سے برا وقت بھی کوئی آئے گا؟؟۔ یہ کیسا دردناک انجام ہے! کیا دنیا کی تیسری بڑی معیشت یہ سوال برداشت کر سکتی ہے کہ "تم نے انسان کو روبوٹ بنا دیا مگر دل کا سکون چھین لیا"؟ اگر یہ رجحان جاری رہا تو ماہرین کے مطابق 2050 تک ایک کروڑ افراد تنہا بڑھاپے کا سامنا کریں گے۔احساس کمتری کے شکار مشرقی معاشرے سے سوال ہے کہ جب خدائے بزرگ و برتر نے تمہیں خاندنی نظام کی نعمت سے بہرہ ور فرما کر رشتوں کی ریشمی ڈور سے جوڑا ہوا ہے اس پر شکر گزار ہونے کے بجائے مغرب کی ظاہری چکا چوند سے متاثر ہو کر شکوہ کناں کیوں ہوئے جارہے ہو ؟؟
رشتوں سے کٹا ہوا انسان:
اگر بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس سانحے کی جڑ رشتوں سے کٹ جانا ہے۔ شادی کا رجحان کم ہو رہا ہے، طلاق کا ریشو بڑھ رہا ہے، اولاد والدین کو بوجھ سمجھ رہی ہے جس کے نتیجے میں والدین بڑھاپے میں بے یار و مددگار رہ جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب خاندان بکھر جائیں تو پھر انسان کو سہارا کون دے گا؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جو شخص رشتہ داری توڑے گا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا"۔ یعنی یہ معاملہ صرف دنیاوی نقصان کا نہیں بلکہ اخروی محرومی کاسبب بھی ہے۔صد افسوس، ہم مشرقی معاشروں کے لوگ بھی احساس کمتری کا شکار ہو کر بڑی تیزی سے اسی راستے پر بڑھ رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں شوبز اور فیمنزم کی شکار دو خواتین کی تکلیف دہ موت ہر خاص و عام کا موضوع بحث بنی ہوئی تھی۔کیا یہ درست نہیں کہ اب ہمارے شہروں میں بھی محلے دار ایک دوسرے کو نہیں جانتے؟ کیا یہ حقیقت نہیں کہ بہن بھائیوں میں محبت کے بجائے مفاد پرستی آ گئی ہے؟ کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں کہ ہمارے اکثر پڑھے لکھے نوجوان والدین کو بوجھ سمجھنے لگے ہیں؟ اگر یہی روش برقرار رہی تو کل ہمارا انجام بھی جاپان سے مختلف نہ ہوگا۔وہ تو پھر ترقی یافتہ ہیں کسی نہ کسی درجہ میں سہہ رہے ہیں البتہ ہماری تو داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں۔
دولت و ثروت کا فریب:
سب سے پہلے تو ہمیں دنیا کی کی حقیقی تصویر کا مشاہدہ کرنا ضروری ہے۔اس نفسا نفسی کے دور میں دولت کے پیچھے ایک دوڑ سی لگی ہوئی ہے جسکی وجہ سےلوگ اب اچھے برے کی تمیز سے بھی عاری ہوچکے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دولت و ثروت حقیقی سکون دے سکتی ہے؟ کیا طاقت و حشمت بے لوث محبت خرید سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔دنیا کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ دولت محض ایک فریبِ نظر ہے۔ یہ بظاہر خوشیاں، آسائشیں اور سہولتیں تو فراہم کر دیتی ہے مگر دل کا سکون اور روح کی بالیدگی نہیں دے پاتی۔ انسان سمجھتا ہے کہ زر و مال سے اس کی زندگی مکمل ہو جائے گی، لیکن وقت بار بار یہ ثابت کرتا ہے کہ حقیقی اطمینان نہ سونے کے ڈھیر میں ہے اور نہ ہی اونچی عمارتوں میں، بلکہ خدا کی یاد اور رشتوں کی محبت میں پوشیدہ ہے۔قارون خزانے لے ڈوبا، فرعون سلطنت کے باوجود بے بس ہوا، اور آج کا انسان بھی دولت کے انبار کے باوجود اضطراب و افتراق کا شکار ہے۔اصل کامیابی یہ نہیں کہ انسان کے پاس کتنا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ کتنا مطمئن ہے۔ دولت کی چمک وقتی ہے، مگر ایمان، محبت اور تعلقِ الٰہی وہ دولت ہے جو کبھی فنا نہیں ہوتی۔ یہی سکونِ قلب کا راز ہے، اور یہی زندگی کا اصل سرمایہ جو آہستہ آہستہ ہم سے دور ہوتا جارہا ہے۔جاپان دنیا کی تیسری بڑی معیشت ہے جن کے پاس مذکورہ دونوں اشیاء وافر مقدار میں موجود ہیں لیکن وہاں کے شہری سب سے زیادہ افسردہ اور تنہا ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پیسہ ہی سب کچھ نہیں قرآن کریم میں رب رحیم کا برملا اعلان ہے کہ: "آگاہ رہو! اللہ کے ذکر ہی میں دلوں کو اطمینان ملتا ہے" (الرعد: 28)۔ سوچئے!! اگر دل میں خدا کی یاد نہ ہو، اگر رشتے کا پاس نہ ہو تو کیا عالی شان گھر اور قیمتی گاڑیاں تنہائی کو مٹا سکتی ہیں؟ بالکل نہیں۔المیہ یہ ہے کہ جدید دنیا نے مادیت سے جنم لیا اور دولت کو ہی سب کچھ سمجھ لیا، مگر نتیجہ یہ نکلا کہ انسان اندر سے ٹوٹ گیا۔ اسلام دین فطرت ہے وہ ہمیں بتلاتا ہے کہ زندگی کو صحیح ڈگر پر لانے کے لیے کماؤ ضرور مگر اسے اصل نہ سمجھو۔ اصل سرمایہ باہمی محبت، آپسی تعلق اور اپنے پالنہار کی طرف رجوع ہے۔مصنوعی خوشی سے فطری زندگی کی طرف لوٹنے میں ہی حیات جاویدانی کا پیغام پوشیدہ ہے۔
انسانیت پر رحم کھاؤ:
کودوکوشی کے مناظر دل دہلا دینے والے ہوتے ہیں۔ بستر پر پڑی سڑی ہوئی لاش، قریب ہی کھانے کے برتنوں میں بوسیدہ کھانا، کمروں میں پھیلی گندگی اور تعفن اور اردگرد کیڑوں کی یلغار۔ یہ سب چیخ چیخ کر کہتے ہیں کہ یہ انسان محبت اور رشتوں کو ترستے ہوئے بغیرکسی سہارے کے مر گیا ہے۔ لہذٰا دل بے اختیار سوال پر مجبور ہو جاتا ہے کہ کیا یہ وہی دنیا ہے جس نے ساری کائنات کو تسخیر کیا، چاند پر کبند ڈالی اور روبوٹ ایجاد کر کے زندگی آسان بنائی؟ کیا یہ وہی انسان ہے جس نے نت نئی ایجادات سے زمین و آسمان بدل ڈالے مگر ایک دوسرے کے دل میں جگہ نہ بنا سکا؟ اگر ہم نے رشتوں کو چھوڑ دیا تو خاکم بدہن یہی عبرت ناک مناظر کل ہمارے شہروں میں بھی دیکھنے کو ملیں گے۔ مہلت بہت کم ہے تباہی دروازے پر دستک دے چکی ہے جس کے ایک دو نمونوں کا ہم سب کھلی آنکھوں سے مشاہدہ بھی کرچکے ہیں۔اگر اب بھی بیدار نہ ہوئے تو پیچھے صرف پچھتاوا رہ جائے گا کوئی اتفاق کرے یا اختلاف، لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو ببانگ دہل اس بات کا پرچار لازمی ہوگیا ہے کہ آج کا انسان دولت، طاقت اور شہرت کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اپنی اصل کھو بیٹھا ہے۔ مادیت نے دل کو سخت کر دیا، رشتوں کو توڑ دیا اور انسانیت کو تھکا ماندا مسافر بنا ڈالا ہے۔ کیا یہی ترقی ہے کہ انسان انسان کا سہارا بننے کے بجائے اسے تنہا چھوڑ دے؟ کوئی سمجھ دار شخص اسکی تائید نہیں کرسکتا۔ ہمیں پیاسی دنیا کو آگاہی دینا ہوگی کہ روحانیت کا دروازہ ہی وہ چراغ ہے جو دل کو روشنی دہے کر بے موت مرنے والے کو جینے کی امنگ دے سکتا ہے۔
حکومت کی ناکام کوششیں:
جاپانی حکومت نے اس المیے کے علاج کے لیے مراکز کھولے، ہاٹ لائن سینٹر قائم کیے، کمیونٹی پروگرام شروع کیے لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ بر آمد نہ ہو سکا۔بھلا انسان کو محبت و انسیت مصنوعی ادارے دے سکتے ہیں؟متاعِ کارواں آنکھوں کے سامنے لٹ رہا ہو اور چارہ ساز علاج سے عاری ہو تو سادہ الفاظ میں اسے بھولپن کے علاؤہ اور کیا نام دیا جاسکتا ہے ؟؟! دل کی تنہائی کا علاج صرف تعلق، رشتہ اور اپنے پیدا کرنے والے کی یاد ہے۔ حکومت لاکھ پالیسی بنالے، لیکن اگر خاندان بکھر جائے تو انسان کو سہارا دینا ناممکن ہے۔ یہ تنبیہ ہے ہم سب کے لیے ہے کہ اصل بقا نظامِ خانہ داری اور ایمان میں ہے۔ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ معاشرتی اصول و ضوابط سرکار نہیں عوام طے کرتی ہے۔ ایک انسان دوسرے انسان کے لیے اور سب سے بڑھ کر خود اپنے لیے وقت نکالے، جذبہ خیر سگالی و خیر خواہی اور ایثار و ہمدردی کے فروغ کے بغیر مقصد حیات فوت ہو جاتا ہے پھر ایک وقت آتا ہے کہ حکومتیں کثیر سرمایہ اور توانائی خرچ کر کے بھی بگاڑ کو سدھار سے بدلنے میں ناکام رہتی ہیں۔ایسے میں ہر نیا طلوع ہوتا سورج انسان کی درماندگی و پریشانی میں اضافے کی نوید لیکر آتا ہے۔
معاشرت مشرق بسوئے مغرب:
ہمارے ہاں خاندانی نظام کسی نا کسی شکل میں آج بھی موجود ہے جسے مغرب کے دلدادہ پارہ پارہ کرنے کے لیے بے ہمہ تن بے قرار و بر سرِ پیکار رہتے ہیں۔ ہم خود کو محفوظ تو سمجھ رہے ہیں مگر ہمیں خود سے سوال کرنا چاہیئے کہ کیا واقعی ہمارا مستقبل محفوظ ہے؟ کڑوا سچ تو یہ ہے کہ ہمارے شہروں میں بھی اولڈ ہومز کی تعداد میں روز بروز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اور اس پر مستزاد سوشل میڈیا نے ہر انسان کو اپنی دنیا میں قید کر کے رکھ دیا ہے۔ ہم ساتھ رہ کر بھی ایک دوسرے سے دور ہیں۔ کیا یہ لمحۂ فکریہ نہیں کہ ہمیں چھ سو کروڑ سال پہلے کی معلومات بھی ہیں اور آئیندہ دو بزار سال بعد کی خبر بھی رکھتے ہیں البتہ اپنے ساتھ بیٹھے کسی اپنے کے حال سے بے خبر ہیں۔ نا جانے تو گل ہی نہ جانے، باغ تو سارا جانے ہے ۔ ہمیں تسلیم کرنا پڑے گا کہ دور حاضر نے انسان کو مشینوں کا اسیر اور مصنوعی طرزِ زندگی کا غلام بنا ڈالا ہے۔ سہولتوں کی دوڑ نے اسے فطرت سے دور کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سکون مٹ گیا، بیماریاں بڑھ گئیں اور رشتے کمزور ہو گئے۔ دل کا قرار مصنوعی روشنیوں اور مشینی عیاشیوں میں نہیں، بلکہ فطرت کے قریب رہنے میں ہے۔ صاف ہوا، سادہ خوراک، رشتوں کی محبت اور خدا کی یاد ہی اصل زندگی ہیں۔اگر ہم فطری و قدرتی طرزِ حیات نہ اپنایا تو مصنوعی دنیا ہمیں سکون نہیں صرف تنہائی اور بیماری دے گی۔نیز اگر ہم نے اب بھی اپنی روش نہ بدلی تو معاشرتی شیرازہ بکھرنے میں دیر نہیں لگے گی۔اور جب ایک بار چیزیں ریت کی مانند ہاتھ سے پھسل گئیں تو ہم لاکھ کوششوں اور کاوشوں سے حالات کا دھارا بدل نہیں پائیں گے۔بستیاں بستے صدیاں بیت جاتی ہیں اور اک ذرا سی غفلت سب کچھ اکارت کردیتی ہے۔سوشل میڈیا کی آرٹیفشل زندگی سے باہر آکر رشتوں ناتوں کو نبھانے اور ہر ایک کی دستگیری میں ہی ہم سب کی بھلائی ہے۔
اسلام کا خانگی نظام:
اسلام دین فطرت ہے اور فطرت کے اصول کھرے، سچے اور منشائے ایزدی کے عین مطابق ہوتے ہیں۔ قدرت نے انسان کو تنہائی سے بچانے کے لیے مکمل ضابطہ حیات دیا ہے۔ اسلام نے خاندان کو معاشرے کی بنیاد قرار دیا ہے۔ گھر ہی وہ پہلا ادارہ ہے جہاں انسان کی شخصیت کی تعمیر ہوتی ہے۔ اسلامی تعلیمات میں نکاح کو ایک مقدس معاہدہ اور سکون و محبت کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔ میاں بیوی کے باہمی حقوق و فرائض واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں تاکہ کسی پر زیادتی نہ ہو اور گھر کا ماحول عدل و محبت سے قائم رہے۔اسلام والدین کو ذمہ داری دیتا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی اچھی تربیت کریں، ان کے اخلاق سنواریں اور دین سے جوڑیں۔ اسی طرح اولاد کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ والدین کی اطاعت کریں اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک روا رکھیں۔ خاندان کے دیگر افراد مثلاً بہن بھائی، رشتہ دار اور پڑوسی بھی اسلامی خانگی نظام کا اہم حصہ ہیں جن کے ساتھ صلہ رحمی اور تعاون کی تاکید کی گئی ہے۔اگر اس نظام کو اپنایا جائے تو نہ صرف خاندان مضبوط ہوتا ہے بلکہ پورا معاشرہ امن و سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ قرآن کہتا ہے: "والدین، رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور قریبی ہمسایوں کے ساتھ بھلائی کرو" (النساء: 36)۔ یہ اس لیے ہے کہ کوئی فرد معاشرے میں اکیلا نہ رہے۔ کیا ہم نے ان تعلیمات کو بھلا دیا ہے؟ کیا وقت نہیں آیا کہ ہم قرآن کے اس پیغام کو زندگی میں اتاریں اور دنیا کو بھی اس آفاقی پیغام کی ابدی سچائی سے روشناس کرائیں؟
ایمان، ذکر الٰہی اور باہمی محبت:
آج دنیا کے لاکھوں لوگ تنہائی کے مریض ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ سب سے بڑی دوا محبت ہے۔ لیکن اسلام اس سے بڑھ کر کہتا ہے: خدا کی یاد دل کے روگ دھو دیتی ہے۔جب انسان خدا سے جڑ جائے تو کبھی اکیلا نہیں رہتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مومن مومن کے لیے دیوار کی مانند ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو سہارا دیتا ہے"۔ یعنی ایمان والا اپنے دوسرے بھائی کو تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔ اگر ہم نے اس تعلیم کو اپنا لیا تو تنہائی کی وبا کبھی ہمارے معاشرے میں نہیں پھیلے گی اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ دنیا محبت و امن کا گہوارہ بن جائے گی۔اگر معاشرے میں محبت، بھائی چارگی اور خیر خواہی کا جذبہ عام ہو تو اجنبیت کی حائل خلیج مٹ جائے گی۔ دل جڑیں گے تو رشتے مضبوط ہوں گے اور معاشرہ سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے۔ اصل ترقی یہی ہے کہ ہم ایک دوسرے کا خیال رکھنا سیکھیں اور آسانیاں پیدا کریں۔
خلاصہ کلام:
دنیا نے ترقی کی دوڑ میں سب کچھ حاصل کیا لیکن انسان کو انسان سے چھین لیا۔ جاپان میں "کودوکوشی" اس حقیقت کی علامت ہے کہ جب خاندان ٹوٹتے ہیں، محبت مر جاتی ہے اور خدا کو بھلا دیا جاتا ہے تو پھر انسان قیدِ تنہائی میں مرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔سمجھ دار وہ ہے جو دوسرے کے حال سے سبق حاصل کرکے اپنے سدھار پر توجہ مرکوز کرے۔ ہمیں اپنے رشتوں کو مضبوط کرنا ہوگا کمزور و ناتواں کا ہاتھ تھامنا ہوگا اور بیکسوں کی دستگیری کرنا ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ مخلوق خدا کو خالق حقیقی سے جوڑنا ہوگا۔ درحقیقت یہی ترقی کا اصل راستہ ہے، یہی وہ چراغ ہے جو جلے گا تو ہمیں تنہائی کے اندھیروں سے باہر نکالے گا۔

کالم نگار : دانش صغیر
| | |
244