(+92) 319 4080233
خود پسندی یا نرگسیت
خود سے محبت کرنا ہر وقت اپنی ذات کے دائرہ کار میں مگن رہنا اور ہمیشہ اپنے آپ کو مقدم رکھنا نرگیست( نارسیسٹ) کہلاتا ہے اور ہمارے معاشرے میں یہ نفسیاتی عارضہ عام ہے۔ ذیل میں ہم نارسیسسٹ افراد کی پہچان اور ان سے پیش آنے کے طریقہ کار پر بحث کریں گے۔
خود پسند کی چند علامات:
عموماً یہ لوگ بڑے پائے کے جھوٹے ہوتے ہیں اور آپ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ کی طرح ہی جھوٹ کہنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر فریبی، مکاری، دھوکہ دہی ایسی شخصیات رکھنے والوں کا خاصہ ہوتی ہیں جن پر انہیں بڑا عبور بھی ہوتا ہے۔ زیادہ تر خود اعتماد اور پرکشش شخصیت کے مالک ہوتے ہیں جنھیں عوام کو متاثر کیے رکھنے کا گُر بخوبی آتا ہے۔ انا پرستی اور خود پسندی کی بدولت ان کی ہر ممکنہ کوشش ہوتی ہے ہر حال میں ان کا پلڑا بھاری رہے۔ ان سے کوئی بھی بحث کرے پر ان کے پاس ہمیشہ اپنی بات کو صحیح ثابت کرنے کے لیے منطقی اور عقلی دلائل کے انبار ہوتے ہیں جو عموماً انہوں نے خود ہی گڑھ رکھے ہوتے ہیں۔ کسی بھی عام انسان کی سوچ، خیالات اور نظریات کو ایک نشست میں بدل دینا انہیں بخوبی آتا ہے بعض اوقات تو ان کے شکار اور متاثرہ افراد اٹل حقیقتوں پر بھی شک کرنے لگ جاتے ہیں اور خود کو ناچیز، کم تر یا نفسیاتی مریض بھی سمجھنے لگتے ہیں۔ نرگیسیت کا شکار لوگ اپنی ذات اور خواہشات کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ خود پسندی کی چوٹی پر فائز ہوتے ہیں۔ مسلسل تعریف اور توجہ حاصل کرنے کے لیے طرح طرح کے جتن کرتے ہیں۔ ان میں بدتمیزی اور خود غرضی کی بھی کوئی کمی نہیں ہوتی، نیز دوسروں کے جذبات سمجھنے میں بھی دشواری محسوس کرتے ہیں۔ اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کا استحصال کرتے ہیں۔ دوسروں سے بہت حسد کرتے ہیں اور تکبر ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ مکاری اور چالاکی کی ان میں کوئی کمی نہیں ہوتی اور عموماً ان کا ہر قدم پری پلانڈ ہوتا ہے۔ لیکن سامنے والے کے لیے مکمل غیر متوقع ردعمل دینا ان کا خاصہ ہے یہ معاشرتی طور پر قابل قبول طریقے سے اور غیر محسوس انداز میں دوسروں کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کہ اپنا اور اپنے افکار کا دفاع تو ہر کوئی کرتا اور کرنا چاہتا ہے لیکن جس طرح کے لوگوں کی اقسام کی بات ہم کر رہے ہیں وہ اپنے معاملات میں محض وکیل ہی نہیں بلکہ ساتھ ساتھ اوروں کے لیے جج بھی بن جاتے ہیں۔ باآسانی کسی کو بھی نیچا دکھانے میں ذرا دیر نہیں لگتی۔ کسی کی رائے کا احترام کرنا نہیں جانتے اور اپنی انا کی تسکین کی خاطر کسی کا احساس نہیں کرتے۔ یہاں فرق جاننا ضروری ہے کہ جس سے معاملات چل رہے ہوں آیا وہ کبھی کبھار ہی اس دفاعی مورچے پر بیٹھتا ہے یا ہر وقت ہی کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے؟ اس بنیادی امتیاز کی پہچان آپ کی ایسے لوگوں سے ڈیل کرنے میں بہت مدد کرے گی۔ جب یہ آپ پر خود ساختہ دلائل لے کر چڑھ دوڑیں تب اپنی غلطی مان کر دیکھیں کہ کیا ان کے جارہانہ انداز میں کمی آتی ہے یا وہ مزید چوڑے ہوجاتے ہیں؟ اگر کمی آتی ہے تو غالب گمان ہے کہ ان کا شمار عام لوگوں میں ہوتا ہے جو محض غصے میں ہیں پر کوئی اسپیشل کیس نہیں۔ پر اس کے برعکس اگر آپ کی غلطی کے اعتراف پر وہ کہیں کہ ہاں! دیکھا! تم ہی غلط تھے! قبول کرنا پڑا آخر ! میں کبھی غلط ہوتا ہی نہیں! وغیرہ جیسے جملے ہی ہمیشہ سننے کو ملیں تو عین ممکن ہے کہ آپ کا پالا کسی خود پسند شخص سے پڑ چکا ہے۔ اگر آپ کی زندگی میں کوئی آپ کو مستقل غلط ثابت کرنے پر تلا ہو، اپنی برتری کے گن گانے والا ہو اور آپ پر حاوی رہنے کی کوشش کرے تو جان لیجیے آپ کو "گیس لائٹ" کیا جا رہا ہے۔ کیوں کہ وہ ہمیشہ خود کو ہی صحیح سمجھتے ہیں اور مکالمہ یا بحث کے دوران کبھی اپنی غلطی کا اعتراف نہیں کریں گے۔ ہر لمحہ بس آپ کو سدھارنے پر بضد رہیں گے۔ اگر غلطی سے آپ نے ان کی غلطی ثابت بھی کردی تو آگے سے ایسی ایسی باتیں بناکر اور ایسے ایسے گڑے مردے اکھاڑ آپ کو شرمندہ کریں گے کہ آپ اصل مدعا بھول کر سچ میں خود کو مجرم محسوس کرنے لگیں گے۔
خود پسند شخص سے احتیاط:
ایسے لوگوں سے بحث کے دوران موضوع بدلنے کی کوشش کریں یا پھر وہاں سے دور ہو جائیں۔ کیونکہ آپ کبھی انہیں اپنے خیالات، افکار یا نظریات پر رضامند نہیں کر سکتے۔ نہ ہی وہ کبھی آپ کی اختلاف رائے کا احترام کریں گے۔ بس یوں سمجھیں کہ انہوں نے قسم کھائی ہوئی ہے کہ سامنے والے کی بات کو صحیح ماننا ہی نہیں ہے خواہ کتنی ہی ٹھوس اور مدلل بات کیوں نہ ہو۔ اگر آپ ان کی صحبت میں گھٹ گھٹ کر جینے سے عاجز آ ہی چکے ہیں اور احساسِ کمتری کا شکار ہونے کا امکان ہے تو انہیں چیلنج کر دیجیے!!! براہِ راست پوچھیں کہ آپ کیوں ہمیشہ خود کو ڈیفینڈ کرنے پر تلے رہتے ہیں؟ ایسا پوچھنے پر سیدھا جواب دینے کے بجائے وہ مزید دفاعی تیر برسائیں گے جو آپ ہی کے اٹھائے گئے پہلے نکتے کو صحیح ثابت کرے گا۔ یہاں کسی ایک مخصوص بات پر اٹکنا سمجھداری نہیں ہے اس کی بہ نسبت اپنے سوال پر اٹک جائیں۔ کہ: "لو کر لو بات، پھر وہی دفاعی انداز اور الزامی جواب؟" یہ کام ان کی چالوں کو بار بار ناکام کرے گا۔ اب ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی غلطی مان لیں کیونکہ وہ تو آپ پر داروغہ بنے سوار رہیں گے۔ ۔ آپ کی انٹیلیجنس، سوچ، رائے اور آپ کا مستقل مذاق اڑائیں گے۔ آپ نے ان سے فضول بحث کے بجائے ان کے روئیے پر بات کرنی ہے۔ ان کا گیم ان کے ساتھ کھیلنا ہے جس کے لیے وہ تیار نہیں کیوں کہ انہیں اپنی زندگی میں اپنے جیسوں سے ڈیل کرنے کی عادت ہی نہیں۔ یہاں جب انہیں ڈگمگاتا دیکھیں تو یہ کہتے ہوئے کاری ضرب لگائیں کہ: " بھئی میں انسان ہوں، مجھ سے بھی غلطی ہو سکتی ہے اور مجھے اپنی غلطی قبول کرنے میں بالکل شرمندگی محسوس نہیں ہوتی لیکن تم پر ترس ضرور آتا ہے کہ تم اتنی استطاعت ہی نہیں رکھتے کہ اپنی غلطی سمجھ سکو یا اس کا اعتراف کر سکو۔ ۔ تم تو بہت ہی کمزور اور بے بس ہو! ہم سب ہی کبھی کبھار غصے میں آکر سخت باتیں کر جاتے ہیں، کسی کا دل دکھا دیتے ہیں اور غلط سوچ بھی رکھ سکتے ہیں۔ یہ سب ممکن ہے اور مجھے اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ میں کب کب اور کہاں کہاں غلط تھا اور یہ کہ آئیندہ اپنی غلطی کیسے سدھارنی ہے؟ لیکن تم ؟ تمہارا تو ضمیر ہی اس بلند ظرفی پر مائل نہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ احساس ہی مر چکا ہے۔ تم میں کیسے کوئی مثبت تبدیلی آ سکتی ہے تم اس قابل اور اتنے مضبوط ہی نہیں کہ اپنے آپ کو کبھی غلط سمجھ بھی سکو۔" یقین مانیں آپ کے الفاظ اور جملے چاہے جو بھی ہوں پر فارمولا یہ رکھیں گے تو عین ممکن ہے وہ آپ کو گھٹن زدہ ماحول کے برعکس تھوڑی تازی ہوا میں سانس لینے کا خلاء فراہم کریں۔ ان سے اختلاف رائے رکھتے ہوئے بحث ختم کردیں۔۔۔ انہیں موقع ہی نہ دیں کہ وہ آپ کی نفسیات کی دھجیاں اڑا سکیں۔یہاں آپ نے گرم نہیں کھانا، اپنا ہی منہ جلے گا۔ ۔ اس صورتحال کو آئسکریم کی طرح پگھلا پگھلا کر مزے لے کر اسمارٹلی کھائیں اور کھاتے جائیں۔ ٹھان لیجیے کہ آپ بہت مضبوط شخصیت کے/کی مالک ہیں اور مزید کسی مخلوق سے ڈر ڈر کر نہیں جینا۔ اب اگر خدا نخواستہ آپ کے لائف پارٹنر نارسیسسٹ ہیں تو یہ ایک بہت مشکل صورتحال ہے۔ ان کے ساتھ رہتے ہوئے انسان کو مستقل مینٹلی ٹارچر سے گزرنا پڑتا ہے اور یہ ذہنی اذیت ختم نہیں ہوتی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جاتی ہے مگر آپ کا لائف پارٹنر یہ سب بخوبی جانتا ہے اور اس سے محظوظ ہوتا ہے۔ وقتاً فوقتاً وہ آپ کو منا کر دوبارہ جھوٹے خواب بھی دکھائے گا۔ قسمیں وعدے کرے گا کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا لیکن ایسا ویسا تیسا سب ہی آئیندہ ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا۔
کچھ آزمودہ طریقے:
ایسے لائف پارٹنر سے ڈیل کرنے کے لیے آپ کچھ طریقے آزما سکتے ہیں۔ اپنے آپ کو پہچانیں اور اپنی سچویشن کی تشخیص کریں۔ سب سے پہلے یہ سمجھیں کہ آپ کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔؟کیا آپ کو اکثر تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے؟ کیا آپ کی بات کو سنا نہیں جاتا؟ کیا آپ کو ہمیشہ ڈی گریڈ کیا جاتا ہے؟ کیا آپ کو ہمیشہ دوسروں کی ضروریات پوری کرنی پڑتی ہیں مگر آپ کی اپنی ضروریات ادھوری رہ جاتی ہیں؟ اگر ہاں!! تو اپنے جذبات کو دبانے کی کوشش نہ کریں۔ غصہ، غم، اور رد عمل کا اظہار کرنا بالکل ٹھیک اور برمحل ہے۔ اپنے اندر یہ سب رکھنے اور جمع کرنے سے صرف آپ ہی کی نفسیاتی اور جسمانی صحت پر منفی اثر پڑے گا۔ اپنے دوستوں اور قریبی و مخلص عزیزوں سے بات کریں، ان سے اپنی صورتحال تفصیلاً شئیر کیجیے، ممکن ہے وہ آپ کو سمجھ کر آپ کی کوئی مدد کر سکیں۔ آپ کو یہ واضح کرنا ہوگا کہ آپ کیا برداشت کریں گے اور کیا نہیں؟ اگر آپ کا پارٹنر ان حدود سے تجاوز کرتا ہے تو آپ کو اب لازمی طور پر کوئی ٹھوس قدم اٹھا کر حتمی سدباب کا سوچنا ہوگا۔ اپنی خود اعتمادی کو بڑھائیں، اپنے بارے میں اچھا سوچیں اور اپنے آپ کو یاد دلائیں کہ آپ اہم اور سمجھدار ہیں اور کوئی آپ کو اتنی آسانی سے بے وقوف نہیں بنا سکتا۔
چند ضروری امور:
یہاں کچھ اور باتوں پر بھی غور کرنا ضروری ہے۔ کیا آپ اس رشتے کو بچانا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کا پارٹنر اپنے رویے میں تبدیلی کے لیے تیار ہے (ایسا بہت مشکل پر ناممکن نہیں) تو آپ دونوں باہمی رضامندی سے اس رشتے کو بچانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔ یا آپ اس رشتے سے باہر نکلنا چاہتے ہیں؟ اگر آپ کا پارٹنر اپنے رویے میں تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہے تو آپ کو اس رشتے سے باہر نکلنے کے بارے میں تدبیر کرنی چاہیے۔ یہاں کچھ سوالات ہیں جو آپ اپنے آپ سے پوچھ سکتے ہیں کیا میں اس رشتے میں خوش ہوں؟ کیا میں اس رشتے میں محفوظ محسوس کرتا ہوں؟ کیا میں اس رشتے میں اپنی پوری صلاحیت اور کوشش کا استعمال کر رہا ہوں؟ اس رشتے کو بہتر بنانے میں میرے پارٹنر کا کا کتنا ہاتھ ہے؟ شریعت مجھے اس صورتحال میں کیا کہتی ہے؟ اور میں کیا کچھ کرنا کا اہل ہوں؟ کیا کوئی ماہرِ نفسیات اس سلسلے میں ہماری مدد کر سکتا ہے؟ کیا بہتری کی کوئی رمق موجود اور برداشت کی کوئی گنجائیش باقی ہے؟ کیا اس رشتے میں مجھے کچھ ایسا تو نہیں کرنا پڑتا جس کی اجازت اللہ نہیں دیتا؟ کہیں میں اس رشتے کو بچانے کی کوشش میں اللہ کو تو ناراض نہیں کر رہا؟ اپنا دائمی نقصان تو نہیں ہو رہا؟ پھر جواب ملنے پر فیصلہ آپ ہی کو کرنا ہے اور چاہے جتنا ڈر لگے، مستقبل سے خوف آئے یا تنہائی کی ان سیکیورٹی محسوس ہو پر یاد رکھیں اللہ ہمیشہ آپ کے ساتھ ہے اور اگر آپ اپنے فیصلوں میں وحی کو مقدم رکھیں گے تو وہ بھی ہر حال میں آپ کا مددگار رہے گا۔ اہم بات یہ ہے کہ شریعت، ضروریاتِ دین، آخرت، ذہنی خوشی، قلبی سکون اور اپنے آپ کو پہلی ترجیح دیں۔ اور جو بھی قدم کل اٹھانا ہی ہے وہ آج ہی اٹھالیں اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔

کالم نگار : ندیم علی زمان
| | |
2793     1