(+92) 321 2533925
لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں
مجھے بچپن ہی سے پتہ چل گیا تھا کہ لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں۔جب میں نے اپنی ماں کو گاڑی میں بیٹھے بیٹھے فاتحہ پڑھتے دیکھا۔ ہم بچے تھے والدین کے ساتھ ددھیالی شہر قصور جاتے۔ ددھیالی گھر آنے سے پہلے رستے میں قبرستان آتا تھا جہاں دادی اماں اور دیگر عزیزوں کی قبریں تھیں وقت کے ساتھ ساتھ دادا تایا چچا اور چچی کی قبروں کا اضافہ ہوا ۔ قبرستان کے درمیان سے سڑک گزرتی تھی بالکل لاہور کے میانی صاحب کی طرح درمیان میں سڑک چل رہی ہے اور دائیں بائیں شہر خموشاں کی حدود ہیں۔ امی باآواز بلند "السلام علیکم یااہل القبور " پڑھتیں اور ہم سب دہرایا کرتے ۔ ابو راستے میں سائیڈ پر کار پارک کر دیتے ۔دونوں بھائی ابو کے ساتھ کار سے اترتے اور سب سے پہلے جنت آشیانی دادی اماں کی قبر پر حاضری دیتے، فاتحہ درود و سلام کے بعد باری باری تمام قبور پر حاضری ہوتی ۔امی ڈھکے سر کے ساتھ کار میں ہی دعا و فاتحہ پڑھتیں۔ ہم چھوٹی چھوٹی بچیاں ڈوپٹہ نہیں لیتی تھیں لیکن قبرستان سے گزرتے ہوئے سر ڈھانپنا اور باادب خاموشی ہمیں سکھائی گئی تھی ۔ سو امی دعا کرتیں ہم ابو اور بھائیوں کو دیکھتے رہتے ۔ کیونکہ قبور بلندی پر ہیں اور سڑک گہرائی میں تو قبرستان باونڈری وال سے اونچا ہونے کی وجہ سے تمام نقل و حرکت واضح نظر آتی ۔ ایک دفعہ میں نے ابو سے پوچھا کہ آپ پہلے یہاں کیوں رکتے ہیں گھر کیوں نہیں جاتے؟ بعد میں چچا کے ساتھ آ جایا کریں تو ابو نے کہا پہلے میں اپنی والدہ سے ملتا ہوں دعا لیتا ہوں پھر گھر جاتا ہوں۔
میت کے ساتھ چالیس قدم چلنا:
دوران سفر جتنی بھی طویل مسافت کیوں نہ ہو، اگر راستے میں جنازہ نظر آ جاتا تو ابو کار روک دیتے ۔دونوں بھائیوں کو ساتھ لیتے،سر پر رومال باندھتے اور چالیس قدم تک جنازے کو کاندھا دیتے۔اب یاد کر رہی ہوں تو کسی بالکل اجنبی مسلم کے جنازے کے سر والی بائیں سائیڈ کا بانس ابو کے بائیں کندھے پر نظر آ رہا ہے۔بھائی ابھی چھوٹے تھے بعض اوقات جزبز ہوتے گرمی، دھوپ یا تھکن سے تو امی پیار سے سمجھاتیں بیٹا یہ ایک مسلمان بھائی کا دوسرے مسلمان بھائی پر حق ہے ۔جائیں بھائی کا حق انہیں دے کے آئیں۔پھر وہ ناں نہیں کرتے، والدہ نے پیار سے سمجھایا کہ میت کے ساتھ چلنا صرف رسم نہیں بلکہ ایمان کا تقاضا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ “میت کے ساتھ چلنا مومن کا حق ہے” اور چالیس قدم تک جنازے کے ساتھ رہنے والے کے لیے عظیم اجر و ثواب ہے۔ یہ وہ لمحات ہیں جب ایک مومن دوسرے مومن کے ساتھ اپنی آخری رفاقت نبھاتا ہے۔ دنیا کی تمام محفلیں، ملاقاتیں اور دوستیوں کا انجام اسی کاندھے اور انہی قدموں کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔چالیس قدم کا یہ سفر دراصل آخرت کی طرف جانے والے بھائی کو تنہا نہ چھوڑنے کا اعلان ہے۔ یہ پیغام ہے کہ مومن مومن کا سہارا ہے، خواہ زندگی میں ہو یا موت کے بعد۔ جو قدم میت کے ساتھ اٹھتے ہیں، وہ اللہ کی بارگاہ میں شہادت دیتے ہیں کہ اس کا جنازہ حق پر ہے اور اس کی رفاقت کو بھلایا نہیں گیا۔یقیناً یہ مختصر سا سفر میت کے لیے دعا، اور زندہ دلوں کے لیے نصیحت ہے کہ ایک دن سب کو یہی راستہ اختیار کرنا ہے۔چالیس قدم کے بعد ابو اور بھائی واپس آتے امی تینوں کو باری باری واٹر کولر سے پانی پلاتیں اور دیر تک بھید بھری چپ کے ساتھ سفر طے کیا جاتا۔
میڈیکل اور میت کی حرمت:
زندگی یونہی چلتی رہی قبرستان جانا میرے لیے ایک مکمل طور پر منع شدہ امر تھا جب تک میڈیکل کالج میں داخل نہ ہوئی۔ میڈیکل کالج کے پہلے ہی دن ہماری تعلیم کی ابتدا ایک ایسے قبرستان میں ہوئی جہاں نعشیں قبور کے اندر نہیں بلکہ ٹیبلز کے اوپر موجود تھیں۔ لیکن مجھے وہاں یہ بات کبھی یاد نہیں آئی کہ لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں اور مغرب کے بعد قبرستان جانا مکمل منع ہے۔ وہ کالج تھا اور نعشیں"باڈیز یا کےڈےورز " کہلاتی تھیں ایناٹومی ہال جیتے جاگتے سفید اوور آل پہنے نوجوان، پر امید میڈیکل اسٹوڈنٹس سے بھرا ہوتا ہاں چند بےسانس نفوس بھی وہیں سفید چادروں میں لپٹے، لیٹے ہوتے یا شیشے کے مرتبانوں میں پائے جاتے۔ کسی کا بازو کسی کے ہاتھ میں ہوتا تو کسی کی کھوپڑی کوئی لے کے بیٹھا ہوتا کہیں دماغ کا معائنہ چل رہا ہوتا تو کہیں کسی اور عضو کا، طب کی دنیا میں انسانیت کی خدمت سب سے بڑی نیکی ہے، مگر افسوس کہ اسی علم کے حصول میں بعض اوقات میت کی بے حرمتی کر دی جاتی ہے۔ وہ بدن جو کبھی ایک ماں کی گود کا چراغ رہا، ایک باپ کے خوابوں کا مرکز رہا، وہ جسم جو کبھی زندگی کی حرارت سے سانس لیتا تھا، آج محض ایک تجربہ گاہ کا سامان بنا دیا جاتا ہے۔میت بھی حرمت رکھتی ہے، کیونکہ مرنے کے بعد بھی انسان کا جسم اس کی عزت و توقیر کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “میت کی ہڈی توڑنا ایسے ہے جیسے زندہ کی ہڈی توڑنا۔” یہ فرمان اس بات کا اعلان ہے کہ مرنے کے بعد بھی انسان کے احترام میں کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے ہاں البتہ ناگزیر وجوہات ہوں تو الگ بات ہے۔سائنس اور طب کی ضرورت اپنی جگہ، مگر اگر اس ضرورت کے پردے میں میت کی حرمت پامال ہو تو اس پر سوچ و بچار کیا جا سکتا ہے۔بات دراصل یہ ہے کہ حقیقی خدمت وہ ہے جو انسان کو عزت دے، چاہے وہ سانس لیتا ہو یا مٹی تلے سو چکا ہو۔ تھرڈ ائیر میں فارینزک میڈیسن میں موت کے طریقے اور چہرے دیکھے۔ زہر، نشہ، تیزاب، گیس،ڈوبنا،جلنا، دم گھٹنا ،غرض ہر قسم کی طبعی اور غیر طبعی موت دیکھی، سیکھی اور سمجھی۔ موت کے بعد جسم میں در آنے والی تبدیلیاں جانیں۔پوسٹ مارٹم دیکھے بھی اور کیے بھی۔ پہلا پوسٹ مارٹم اپنی ہم نام بچی کا دیکھا جو بسنت پرہوائی فائرنگ کا نشانہ بنی تھی اس موت نے ذہن کے حساس گوشوں کو شدید متاثر کیا اور پہلا شعر سرزد ہوا: اک ضرب خونچکاں سر پر جاں لے گئی اک فرشتے کی امیر نے منا لی اپنی بسنت صف بچھ گئی فرشتے کی زندگی موت کی امانت ہے: وہاں موت تھی اور موت کی ارزانی تھی جسم تھے اور جسم کی بےبسی و بےوقعتی تھی بڑے بڑے سردمہر ڈیپ فریزرز اور اسٹیل ٹیبلز تھے لیکن قبرستان وہاں بھی نہیں تھا کہ زندگی موت کے پہلو میں مسکراتی تھی۔ پھر ہم وہاں سے نکل آئے ۔ میو اسپتال اور لیڈی ولنگڈن اسپتال میں جیتے جاگتے انسانوں کو پلک جھپکتے میں نعشوں میں تبدیل ہوتے دیکھتے یا پریشان حال وارث زندگی کی امید میں ڈیڈ باڈیز لیے آتے اور ریسیوڈ ڈیڈ کاسرٹیفیکیٹ لے کے روتے بلکتے لوٹ جاتے۔ زندگی کی بھیک مانگتی چھ جوان بیٹیوں کی ماں کو سیپسس سے مرتے دیکھنا زندگی کو موت کی گود میں چھپتے دیکھنے کا میرا پہلا تجربہ تھا۔حساس دل ہاوس سرجن تمام رات اس اجنبی عورت کی موت کا ماتم کرتی رہی۔ وہاں بھی زندگی اور موت شانہ بشانہ چل رہی تھیں۔ لیکن زندگی کی طاقت زیادہ تھی۔ لمحہ پہلے جو بیڈ، ڈیڈ باڈی کے وجود سے بھرا ہوتا ،خالی ہوتے ہی کسی زندہ نفس کے زیر استعمال آ جاتا۔ رش اور افراتفری میں تو کئی بار بیڈ شیٹ بھی تبدیل نہ کی جا سکتی۔ لیکن قبرستان وہاں بھی نہیں تھا۔ زندگی کچھ اور آگے بڑھی۔میں پرائیویٹ پریکٹس میں آ گئی۔ والدین پیچھے رہ گئے گھر بار،شہر،رشتے تبدیل ہو گئے۔ والدین پکارتے اور میں پکار پر کھنچی چلی جاتی۔
وقت کی سبک رفتاری:
وقت کا کام چلنا ہے،رکنا اس کی سرشت میں نہیں۔سو نہ یہ تھمتا ہے نہ سانس لیتے وجود کو آخری سانس لینے تک تھمنے دیتا ہے، یہ دریا کی روانی کی طرح بہتا چلا جاتا ہے۔ خوشی ہو یا غم، بچپن ہو یا جوانی سب لمحے اس کے دھارے میں بہہ کر پیچھے رہ جاتے ہیں۔ انسان چاہے روکے، تھامے یا التجا کرے، وقت کی گھڑی ایک پل کو بھی نہیں ٹھہرتی۔جو لمحہ گزر گیا وہ خواب بن گیا، اور جو آنے والا ہے وہ پردۂ غیب میں چھپا ہوا ہے۔ حقیقت صرف یہی لمحہ ہے جو ہاتھ میں ہے، مگر یہ بھی ریت کی مانند انگلیوں سے پھسلتا چلا جارہا ہے۔وقت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی عارضی ہے۔ نہ خوشی ہمیشہ رہتی ہے نہ غم، بس یہی بہتا وقت انسان کو صبر اور شکر کا سبق دیتا ہے۔ جو اسے سنبھال لے وہ کامیاب، اور جو کھو دے وہ ہمیشہ پچھتاتا رہتا ہے۔ کبھی رات دو بجے اطلاع ملتی ڈاکٹر صاحب ایمرجنسی آئی ہے۔ بھاگم بھاگ معمر مریضہ تک پہنچتے ابھی یہ جملہ میرے منہ میں ہے "جی ماں جی آج اس وقت کیسے آنا ہوا ؟" ماں جی مجھے دیکھتی ہیں مسکراتی ہیں اور جوان بیٹے کے ہاتھوں میں بیٹھے بیٹھے ڈھلک جاتی ہیں۔ بہو کے چیک اپ کے لیے ساتھ آئی ساس اٹینڈنٹ چیئر پر بیٹھی ہیں۔ بات کرتے کرتے ہچکی لے کر خاموش ہو جاتی ہیں۔ بہو ڈرتی ہے ڈاکٹر ساس کو دیکھتی ہے تو بی پی لیس۔ پلس لیس ۔ سی پی آر ہوتا ہے دل کو جھٹکا لگایا جاتا ہے اور ساس واپس آ جاتی ہیں ٹوٹا سلسلۂ کلام جوڑتی ہیں" جی تو میں یہ کہہ رہی تھی کہ میری بہو کچھ کھاتی پیتی نہیں "۔ انہیں کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کس آسمان تک پرواز کر کے واپس آئی ہیں؟؟
عزرائیل کی آمد و رفت:
ایک روز جب میں اپنے کولیگ اور اسسٹنٹ کے ساتھ ایمرجنسی سی پی آر کر رہی تھی۔ مریض جانبر نہ ہو پایا تو کولیگ روم سے باہر اٹینڈنٹس کو صورتحال بتانے کے لیے گئے۔ تب میں نے اسسٹنٹ سے بس اتنا کہا!! ابھی ابھی اس کمرے میں عزرائیل علیہ السلام تشریف لائے تھے بس ان کے پاس پروانہ ہمارے نام کا نہیں تھا۔ اس جملے پر ہم دونوں کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ لیکن قبرستان کی فیلنگ یہاں بھی نہیں تھی کہ زندگی موت سے زیادہ دلچسپ اور مضبوط جذبہ ہے۔سچ تو یہ ہے کہ عزرائیلؑ کی آمد و رفت زندگی کے سب سے بڑے راز کو آشکار کرتی ہے۔ وہ لمحہ جب موت کا فرشتہ در پر آتا ہے تو دنیا کی چمک دمک، مال و دولت اور رشتوں کی رونق سب پیچھے رہ جاتی ہے۔ عزرائیلؑ کی آمد انسان کو اس سفر پر لے جاتی ہے جس سے کبھی واپسی نہیں، جہاں صرف اعمال کی روشنی یا اندھیرا ساتھ ہوتا ہے۔کوئی محل میں ہو یا جھونپڑی میں، کوئی صحت مند ہو یا بیمار، عزرائیلؑ کے قدم برابر بڑھتے ہیں۔ وہ نہ دیر کرتے ہیں نہ جلدی، بس اللہ کے حکم سے وقت پر آتے ہیں اور انسان کو خاک سے اٹھا کر خاک کی طرف لے جاتے ہیں۔یہ آمد و رفت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی عارضی ہے، موت یقینی ہے، اور اصل ٹھکانہ آخرت ہے۔ خوش نصیب وہ ہے جو عزرائیلؑ کے آنے کو رحمت کا دروازہ پائے، نہ کہ عذاب کا آغازہوجائے۔
والد صاحب کی وفات حسرت آیات:
پھر14 ستمبر 2009 کا چاند نکلا۔ ابو کافی روز سے طبیعت کی گرانی اور وزن میں کمی کی شکایت کر رہے تھے۔ انہیں الٹرا ساونڈ کروانے کا کہا تھا اس روز رات گئے ان کا فون آیا۔ میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ راونڈ پر تھی۔ ابو فون پر رپورٹ سنا رہے تھے اور میری جان نکل رہی تھی، میں نے فون ڈاکٹر صاحب کو دے دیا۔ رپورٹ سن کر ڈاکٹر صاحب نے مجھے بس اتنا کہا رابعہ!! تم صبح لاہور چلی جاو۔ میں نے اثبات میں سر ہلایا اور آنسو ضبط کرنے لگی۔ انسٹھ دنوں کی ایک تیز ترین رولرکوسٹر رائڈ شروع ہوئی جس میں امید و بیم، بےبسی ،رنج، دکھ، غم، دھوکا اور خودغرض فطرت انسانی کے انگنت رخ وا ہوئے۔ یہ زندگی تھی یہی زندگی ہے جو ہمہ دم موت کے مدمقابل رہتی ہے۔ پھر ابو چلے گئے اور ان کی شہزادی بیٹی تنہا رہ گئی بھرے میلے میں تنہا اور سہمی ہوئی جسے صبر نہیں آتا تھا۔ لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں سو میں کبھی قبرستان نہیں گئی تھی لیکن جب مجھے صبر آتا نظر نہ آیا تب بالآخر مجھے میرے پیارے ابو سے ملانے کے لیے قبرستان لے جایا گیا۔ قبرستان میں سفیدے کے اونچے درخت لہرا رہے تھے سنہری دھوپ تھی دسمبر یا شاید جنوری کا موسم تھا یں ابو کی قبر پر گئی۔ جی چاہتا تھا کہ ابو کے پہلو میں لیٹ کر ان سے لپٹ کر سو جاوں۔ لیکن میں بس جھک کر ان کی قبر کو چھو سکی اور بلک کر رو دی ۔ وہ میرے دل میں پہلی قبر تھی۔ آج تک وہ پہلی قبر میرے دل موجود ہے ۔ اس کے ساتھ اب امی کی قبر بھی ہے مام (ساس) کی قبر بھی۔ چند اور پیارے بھی یہیں مدفون ہیں۔ لڑکیاں قبرستان نہیں جاتیں لیکن اپنے بچھڑنے والے پیاروں کا قبرستان اپنے دل میں بسا لیتی ہیں۔ جہاں وہ اپنے پیاروں کی یادیں دفن کرتی ہیں، ان کی خوشبو سمیٹتی ہیں اور آنکھوں کے راستے ان کے لیے آنسو بہاتی ہیں۔ وہ مٹی پر جا کر ہاتھ نہیں رکھ سکتیں مگر دل کی زمین پر ایک ایسی قبر بنالیتی ہیں جس پر ہمیشہ اشکوں کے پھول کھلتے رہتے ہیں۔ جب دل میں بچھڑنے والے کا غم جاگزیں ہو جائے تو قبر کی مٹی اور فاصلے کی دیواریں معنی نہیں رکھتیں۔ لڑکیاں دن رات ان یادوں سے باتیں کرتی ہیں، کبھی مسکرا لیتی ہیں، کبھی ٹوٹ کر رو پڑتی ہیں۔ ان کے اندر ایک خاموش مزار آباد ہو جاتا ہے، جہاں کوئی اور نہیں جا سکتا، سوائے ان کے اپنے درد کے۔یہی وجہ ہے کہ عورت کا دل دنیا کی سب سے نرم اور سب سے بوجھل زمین ہے، جو بچھڑنے والوں کو اپنے اندر سمیٹے رکھتی ہے۔ قبرستان کی خاموشی باہر ہے، لیکن اندر کا قبرستان آنکھوں کے سیلاب اور دل کی تڑپ سے ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔

کالم نگار : ڈاکٹر رابعہ خرم درانی
| | |
226