(+92) 321 2533925
سیکولرزم کے سر بستہ راز
دور جدید کے بہت سے تحفوں میں ایک فتنہ سیکولرزم کا بھی ہے ۔ ان سوال یہ ہے کہ سادہ الفاظ میں سیکولرزم ہے کیا؟؟ آئیے تحقیقی زاویے سے اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔
سیکولرزم کیا ہے؟
بہ نظر غائر جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ سیکولرزم دراصل ایمان کو نجی اور گناہ کو عوامی اور سرکاری بنانے کی ایک تحریک ہے جو بذاتِ خود ایک گناہ اور جرم ہے۔سیکولرزم ایک ایسا فلسفہ اور تحریک ہے جو جدید دور کی پیداوار ہے جس کا مقصد و مطمح نظر انسانی معاشرے کو مذہبی اقدار سے الگ کر کے ایک لادینی یعنی غیر مذہبی نظام قائم کرنے کی کوشش کرنا ہے۔ اس تحریک نے یورپ کی روشن خیالی (Enlightenment) کے نتیجے میں جنم لیا جو مذہب کو ریاست اور عوامی زندگی سے الگ کر کے اسے فرد کی نجی زندگی تک محدود کر دیتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایمان اور مذہبی عقائد کو ذاتی معاملہ بنا دیا جاتا ہے جبکہ گناہ اور اخلاقی انحراف کو عوامی اور سرکاری سطح پر نہ صرف قبول کیا جاتا ہے بلکہ بعض اوقات اسے قانونی تحفظ بھی دیا جاتا ہے۔ سیکولرزم کی بنیاد پر مذہب کو ریاست، تعلیم، معیشت اور سماجی زندگی سے الگ کر دیا جاتا ہے۔ یہ فلسفہ کہتا ہے کہ ریاست کا کام مذہبی احکامات کی پیروی نہیں بلکہ شہریوں کی آزادی اور برابری کی حفاظت ہے۔ مثال کے طور پر مغربی ممالک میں سیکولر قوانین کے تحت نماز روزہ یا دیگر مذہبی رسوم کو عوامی جگہوں پر محدود کر دیا جاتا ہے جیسے کہ فرانس میں حجاب پر پابندی یا اسکولوں میں مذہبی تعلیم کی ممانعت ہے۔ یہ تحریک ایمان کو ایک ذاتی احساس بنا دیتی ہے، جو فرد کی چار دیواری تک محدود ہو جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ معاشرہ رفتہ رفتہ مذہبی اقدار سے خالی ہو جاتا ہے اور ایمان کے عوامی اظہار کو پسماندگی یا فرقہ واریت کا لیبل دے دیا جاتا ہے۔ دوسری طرف سیکولرزم گناہ اور اخلاقی انحراف کو عوامی اور سرکاری سطح پر قانونی تحفظ دیتا ہے۔ مثال کے طور پر زنا، ہم جنس پرستی، شراب نوشی، جوا بازی اور دیگر اعمال قبیحہ کو سیکولر ممالک میں نہ صرف قانونی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے بلکہ انہیں انسانی حقوق کا حصہ بنا کر سرکاری طور پر فروغ بھی دیا جاتا ہے۔ امریکہ اور یورپ میں ہم جنس شادیوں کو قانونی حیثیت دی گئی ہے جو ایک واضح مثال ہے کہ گناہ کو عوامی سطح پر قبول کیا جا رہا ہے۔ یہ تحریک کہتی ہے کہ فرد کی آزادی سب سے اہم ہے لہٰذا کوئی بھی عمل جو دوسروں کو نقصان نہ پہنچائے قانونی ہے۔ لیکن یہاں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اخلاقی اقدار کا معیار کیا ہے؟ اگر مذہب کو نجی بنا دیا جائے تو گناہ کا معیار بھی ذاتی ہو جاتا جس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ اخلاقی انتشار کا شکار ہو جاتا ہے۔اب یہ دیکھنا ضروری ہے کہ سیکولرزم کی یہ تحریک کیوں خود ایک گناہ اور جرم ہے؟
تحریک سیکولرزم کی سنگینی:
مغربی دنیا نے سیکولرزم کا سہارا لے کر آزادی و برابری کے نام پر ایسے رویوں کو فروغ دیا ہے جو فطرت اور اخلاق دونوں کے منافی ہیں۔ ہم جنس پرستی اور زنا جیسے افعال نے وہاں کے معاشرتی ڈھانچے کو گہری ضرب لگائی ہے۔ خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، نکاح اور رشتۂ ازدواج کی اہمیت کم بلکہ ختم ہو گئی ہے، والدین اور اولاد کے تعلقات کمزور پڑ گئے ہیں، اور نتیجتاً تنہائی، ذہنی دباؤ اور خودکشی جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔اسلامی تعلیمات اس کے برعکس پاکیزگی، عفت اور نکاح کو معاشرتی سکون کا ذریعہ قرار دیتی ہیں۔ جب انسان اللہ کی مقرر کردہ حدود سے انحراف کرتا ہے تو نتیجہ ہمیشہ بگاڑ اور تباہی کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس لیے ایک پرامن اور مضبوط معاشرہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب وہ اخلاقی اقدار اور دینی اصولوں کو اپنی بنیاد بنائے۔ اسلامی تناظر میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر زمین پر بھیجا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی زندگی کا ہر پہلو، خواہ ذاتی ہو یا عوامی اللہ کے احکامات کے تابع ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (سورۃ الذاریات: آیت: 56) "جنات اور انسان کو صرف اللہ کی عبادت کے لیے پیدا کیا گیا ہے" اس کے برعکس سیکولرزم عبادت اور ایمان کو نجی بنا کر اس مقصد کو بہت حد تک محدود بلکہ مفقود کر دیتا ہے جو اللہ کی دی گئی خلافت کے منافی ہے۔ یہ ایک گناہ ہے کیونکہ یہ اللہ کی حاکمیت کو چیلنج کرنا کہلاتا ہے اور انسان کو اپنی خواہشات کا غلام بنا دیتا ہے۔
سیکولرزم کی تاریخ:
تاریخی طور پر سیکولرزم یورپی مسیحی چرچ کے مظالم کے زبردست خلاف بغاوت کا نتیجہ ہے جو 18ویں صدی کے فرانسیسی انقلاب سے شروع ہوا۔ یہ انقلاب چرچ کی بدعنوانیوں اور غلط کاریوں کے خلاف تھا لیکن اس نے آخری انتہا پر جاکر مذہب کو ہی یکسر مسترد کر دیا۔ نتیجہ میں یورپ میں اخلاقی اقدار کا زوال شروع ہوا جیسے کہ خاندانی نظام کی تباہی، زنا کی کثرت اور خودکشیوں کی شرح میں ہوشربا اضافہ۔ یعنی سادہ الفاظ میں کہا جائے تویورپ کی تاریخ میں مسیحی چرچ کا اثر و رسوخ صدیوں تک سیاست، معیشت اور سماج پر غالب رہا۔ چرچ اپنے ہر ناجائز اور غیر انسانی فیصلہ کو بھی مذہبی تعلیمات کی آڑ میں قانون بناکر ریاست پر مسلط کرتا تھا جس سے علمی آزادی اور انسانی سوچ محدود ہو گئی۔ لیکن جب نشاۃ ثانیہ اور سائنسی انقلاب کے بعد انسان نے عقل، تحقیق اور فردی آزادی پر زور دینا شروع کیا تو چرچ کی سخت گرفت کے خلاف بغاوت اٹھی۔ اصلاحِ مذہب (Reformation) اور بعد ازاں روشن خیالی (Enlightenment) کی تحریکوں نے کلیسائی اجارہ داری کو توڑ کر رکھ دیا۔ یوں ریاست اور مذہب کو الگ کرنے کا تصور پروان چڑھا اور سیکولر معاشرہ وجود میں آیا جہاں انسانی حقوق، جمہوریت اور سائنسی فکر کو تو بنیادی اہمیت دی گئی لیکن افراط و تفریط منتشر سماج نے مذھب کو ہی کھڈے لائن لگا دیا۔ معلوم ہوا کہ سیکولرزم کو جرم سے اس لیے تعبیر کیا جاتا ہے کہ یہ معاشرے کو اخلاقی بحران میں دھکیل دیتا ہے۔
ریاست و مذھب لازم و ملزوم ہیں:
خلفائے راشدین کے دور میں ریاست اور مذہب ایک ہی نظام کے تحت قائم تھے۔ اسلام ہی حکومت کی بنیاد تھا اور قرآن و سنت کی روشنی میں فیصلے کیے جاتے تھے۔ خلیفہ وقت صرف حکمران نہیں بلکہ امت کا خادم اور جواب دہ بھی تھا۔ یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں عدل و انصاف کا بول بالا تھا۔اس دور میں دولت، رنگ، نسل یا عہدے کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہ تھا۔ ہر شخص قانون کے سامنے برابر سمجھا جاتا تھا۔اس اتحادِ دین و سیاست نے ایک ایسا معاشرہ بنایا جس میں مساوات، بھائی چارہ اور امن قائم ہوا اور حق دار کو حق اسکی دہلیز پر دیا گیا۔معلوم ہوا کہ اسلامی تاریخ میں ریاست اور مذہب ایک تھے نتیجتاً عدل اور انصاف عام تھا۔ سیکولرزم اس توازن کو توڑتا ہے اور گناہ کو قانونی بنا کر معاشرے کو تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کرتا ہے۔ اسی نکتہ کو شاعر مشرق علامہ اقبال نے یوں بیان کیا ہے: جدا ہو دیں سے سیاست تو رہ جاتی ہے چنگیزی
سیکولرزم عقل و شعور کی روشنی میں:
عقلی طور پر سیکولرزم ایک تضاد کا مجموعہ ہے۔کونکہ اگر ایمان نجی ہے تو اخلاقی اقدار بھی نجی ہو جاتی ہیں اور ریاست کوئی معیار قائم نہیں کر سکتی۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص چوری کو اپنا نجی حق سمجھے تو ریاست کیسے اور کیوں کراسے روک سکتی ہے؟ اس کے علاؤہ تحریک انسانی فطرت کے بھی خلاف ہے کیونکہ انسان فطرتاً اللہ کی طرف راغب ہے جیسے کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے: فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا (سورۃ الروم، آیت 30) "اپنا چہرہ الله کی اطاعت کیلئے سیدھا رکھو۔ یہ الله کی پیدا کی ہوئی فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے" اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سیکولرزم فطرت کو دبانے کی کوشش کرتی ہے جو ایک سنگین جرم اور مذموم حرکت ہے۔ انسان کو اس کی فطری راہ سے ہٹانا حکمت و مصلحت کے خلاف ہے۔سیکولرزم کی یہ تحریک نہ صرف دینی بلکہ سماجی طور پر بھی نقصان دہ ہے بلکہ یہ گناہ کو عوامی بنا کر معاشرے میں انتشار بھی پھیلاتی ہے۔ مثال کے طور پر مغربی ممالک میں طلاق کی شرح 50% سے زیادہ ہے جو خاندانی نظام کی تباہی کا نتیجہ ہے۔ یہ جرم ہے کیونکہ یہ نسل انسانی کو اخلاقی طور پر کمزور کرتی ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے ریاست اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابند ہے اور سیکولرزم اسے مسترد کر کے اللہ تعالیٰ کی بغاوت کرتی ہے۔ حدیث میں ہے: نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "کلکم راع و کلکم مسئول عن رعیتہ" یعنی تم میں ہر ایک ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ اس حدیث کے تحت سب سے بڑی ذمہ داری حکمران طبقہ پر عائد ہوتی ہے، کیونکہ وہ پوری رعیت کا نگہبان ہے۔ اقتدار ذاتی آرام یا دولت جمع کرنے کے لیے نہیں بلکہ عوام کی فلاح و بہبود، عدل و انصاف اور امن قائم کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔اسلامی ریاست کا ستون مساوات، احساس ذمہ داری اور فلاحِ عامہ پر مبنی ہے۔ حکمران اگر اس اصول کو اپنائیں تو ریاست میں معاشی خوشحالی اور کمزور طبقات کی کفالت ممکن ہو جاتی ہے جبکہ سیکولرزم اس ذمہ داری کو ختم کر دیتی ہے۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ سیکولرزم دراصل سماج کی جڑوں کو کاٹنے والا نظریہ ہے۔ یہ مذہب کو زندگی سے الگ کر کے انسان کو محض خواہشات کا غلام بنا دیتا ہے۔ اس کے زیرِ اثر خاندان کی بنیادیں متزلزل ہو جاتی ہیں، اخلاقی اقدار دم توڑ دیتی ہیں اور فرد خودغرضی و تنہائی کا شکار ہو کر معاشرے میں ناانصافی کو جنم دیتا ہے۔ یوں یہ نظام بظاہر آزادی کا نعرہ لگاتا ہے مگر حقیقت میں سماجی تباہی کا سبب بنتا ہے

کالم نگار : مفتی سید فصیح اللہ شاہ
| | |
357