(+92) 319 4080233
اولاد کی پرورش اور ہم
ایک اہم مسئلہ جس پر کافی سوچ بچار کے لکھا ہے،لیکن ٹھہریے!! اگر آپ کو اپنی اولاد کی فکر نہیں تو یہ باتیں آپ کے لیے نہیں ہیں۔۔۔ بہت سے مشاہدات، کئی والدین اور اساتذہ سے معلومات اکٹھی کرنے کے بعد یہ مسئلہ عرض کر رہی ہوں۔
آج کے والدین کا اہم مسئلہ:
جیسا کہ آپ جانتے ہی ہیں۔ والدین کے لیے اس وقت بہتر سے بہتر اسکول کی تلاش ایک اہم مسئلہ ہے۔ اس تلاش میں بہت خوار ہونے کے بعد وہ کسی نا کسی اسکول کو اپنا پسندیدہ مان لیتے ہیں۔ جہاں ان کا بچہ بہترین عصری تعلیم حاصل کر سکے۔ اکثریت اپنے بچوں کو مہنگے اسکولز میں بھیجتے ہیں۔ مہنگے اسکولز میں ایسے گھرانوں سے بھی بچے آتے ہیں جو اپر ہائی کلاس سے تعلق رکھتے ہیں یا جن کے مالی حالات ایک عام مڈل کلاس سے قدرے بہتر ہوتے ہیں۔اب کلاس میں بچوں کی آپس میں دوستی ہوجاتی ہے مگر یہ دوستی پکڑم پکڑائی، چھپن چھپائی والی معصوم دوستی نہیں ہوتی بلکہ ہوتا یہ ہے کہ بچوں کے دو دو یا تین تین دوستوں پر مشتمل گروپ بن جاتے ہیں۔ اب اس گروپ میں وہ بچہ یا بچی (راجہ صاحب) بن جاتے ہیں جن کا معاشی اسٹیٹس سب سے ہائی ہو، یہ بچہ یا بچی اپنے دوستوں کو بتاتا ہے کہ جی میرے ابو فلانے ملک سے میرے لیے کھلونا لائے، ہم چھٹیوں میں فلاں ملک گھومنے گئے، ہمارے گھر تین لاکھ کا بچھڑا آیا، میرے پاس یہ والا گیمنگ سسٹم ہے یا فلاں موبائل ہے، مجھے گفٹ میں ایپل کی واچ ملی۔۔۔۔ یہ بچہ لنچ میں مہنگی یا روز نئی نئی چیزیں لاتا یے، اچھا ان کی عمر کیا یے؟ بمشکل دس سال۔۔۔۔۔ اب ان بچوں میں واٹس ایپ پر رابطہ بھی ہوگیا، سب سے زیادہ امیر بچے نے اپنے ذاتی موبائل اور باقیوں نے اپنی امی یا بڑی بہن یا بھائی کے موبائل سے رابطہ کر لیا اپنے دوست سے۔اور یوں وہ امیر بچہ اپنی امیری کا دکھاوا کرنا شروع کر دیتا یے، مہنگی گاڑیاں، کھلونے گھر یا لان کی تصاویر، ٹریولنگ کی تصاویر وغیرہ اپنے دوستوں کو دکھا رہا ہے اور اس کا دوست غیر محسوس طریقہ سے یہ سب دیکھ دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے۔بالآخر وہ اپنے باپ یا ماں سے شکوہ یا ضد لگاتا ہے۔ اگر باپ بےشعور ہے تو وہ بھی اس احساس کمتری کا شکار ہوجاتا یے اور بچے کی ہر اچھی بری خواہش پوری کر دیتا یے تاکہ بچہ اداس نہ ہو۔ اگر ماں بےشعور یے تو پھر یہ زہر ذرہ اندرونی طریقے سے کام کرتا ہے۔ جب بچہ ماں کو دکھاتا یا بتاتا ہے کہ فلاں دوست نے یہ کہا وہ اس جگہ کھانا کھانے گیا یا فلاں جگہ گھومنے گیا تو ماں اپنی جہالت کے باعث بچے کے سامنے کچھ اس طرح کہتی ہے کہ بیٹا ہمارے نصیب میں یہ سب نہیں ہے، تمھارے ابا کنجوس ہیں، تمھارے ابو کے پاس پیسے نہیں ہیں، تمہارے ابو یہ کبھی خرید کر نہیں دیں گے۔ کچھ احساس کمتری کی ذہنی مریض خواتین بچوں کو مالز میں لے کر ونڈو شاپنگ کرنے پہنچ جاتی ہیں کہ چلو خرید نہیں سیکتے تو کیا ہوا آؤ قیمت ہی پوچھ کر آتے ہیں۔آہستہ آہستہ بچہ تقابل، حسد، احساس کمتری، برینڈز کا دیوانہ اور سب سے بڑھ کر پکا نفس کا عاشق اور پیسے کا رسیہ بن جاتا یے۔ وہ اپنے باپ کی محنت کو کسی کھاتے میں نہیں لاتا کیوں کہ باپ باوجود کوشش کے اسے وہ سب نہیں دے سکا جو اس کے دوست کے پاس ہے۔ اس بچے کے دل میں آہستہ آہستہ باپ کے لیے لگاؤ کم ہونے لگتا ہے۔ وہ باپ کی لائی ہوئی ہر چیز کو اپنے دوست کی چیزوں سے تولتا ہے اور اس پر مستزاد ماں کا اکسانا جلتی پر تیل کا کام کرتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے کیا کیا جائے؟؟
تربیت کا بہترین لائحہ عمل:
سب سے پہلے تو ایسے اسکولز کا رخ کرتے ہوئے دس بار سوچیں جہاں ہائی کلاس کے بچے آرہے ہیں۔ یہ سوچ لیں کہ کیا آپ کی تربیت ایسی ہے جو آپ کے بچے کو بگڑنے سے روک سکتی ہے؟ اور اگر اسی اسکول میں بھیجنا یے تو سب سے پہلے اپنے اندر کے احساس کمتری پر قابو حاصل کریں۔خاص طور پر مائیں اپنی خواہشات اور جذبات کو قابو کریں۔ جب آپ کا بچہ آکر بتائے کہ فلاں یہ کھاتا ہے، یہاں جاتا یے تو سب سے پہلے سکون سے سنیں، بچے کے دوست کے حق میں نعمت کی حفاظت کی دعا کریں اور پھر بچے کو اپنے ارد گرد نعمتوں کا شکر ادا کرنا سیکھائیں، اس کے سامنے والد کی محنت کو خوب سراہیں اور بچے کے تزکیے کی خاطر ان کا شکریہ بھی ادا کریں۔ بچوں کے ساتھ بیٹھ کر باقاعدہ اپنے پاس موجود نعمتوں کا تذکرہ بار بار شکرانے کے طور پر کریں۔ اس سے ان میں شکر کا جزبہ پروان چڑھے گا اور شکر کا جزبہ اتنا بھاری اور کافی ہے کہ حسد، تقابل اور احساس کمتری اپنے آپ ختم ہو جائے گا۔
دنیا کی انمول دوستی:
اس کے ساتھ بچوں کی تربیت کے لیے دنیا کی سب سے انمول اور بہترین دوستی یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے چار دوستوں کی دوستی اپنے بچوں کو بتائیں کہ اصل دوست وہ یے جسے ہمارے ایمان کی فکر ہوتی یے نہ کہ پیسے اور دکھاوے کی۔اپنے بچوں کو بٹھا کر سمجھائیں کہ رسول اکرم ﷺ کی زندگی انسانیت کے لیے کامل نمونہ ہے۔ آپ ﷺ نے نہ صرف ایک نبی کی حیثیت سے رہنمائی فرمائی بلکہ اپنے صحابہ کرام کے ساتھ محبت و اخوت، خلوص اور دوستی کی اعلیٰ مثالیں قائم کیں۔ آپ ﷺ کے چار قریبی ساتھی حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضرت عمر فاروقؓ، حضرت عثمان غنیؓ اور حضرت علیؓ تھے، جنہیں خلفائے راشدین بھی کہا جاتا ہے۔حضرت ابوبکر صدیقؓ نے ہر مشکل وقت میں نبی ﷺ کا ساتھ دیا اور سب سے پہلے ایمان لانے والوں میں شامل ہوئے۔ حضرت عمر فاروقؓ پر نبی کو بہت ناز تھا انکی بہادری اور عدل نے اسلام کو مضبوط کیا۔ حضرت عثمان غنیؓ کی سخاوت اور نرم دلی نبی ﷺ کے ساتھ ان کی قربت کی دلیل تھی۔ حضرت علیؓ کم عمری سے ہی نبی ﷺ کے ساتھ رہے اور آغوش شفقت میں پرورش پائی آپ علم و شجاعت میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ یہ چاروں اصحاب نہ صرف نبی ﷺ کے ساتھی تھے بلکہ آپ کے دوست بھی تھے۔ ان کی آپس کی محبت و عقیدت اور ایثار وقربانی آج بھی امت مسلمہ کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی دوستی خلوص، قربانی اور ایمان پر مبنی تھی، جو دنیا کے لیے ایک مثالی نمونہ ہے۔
اچھے دوست کا چناؤ:
اپنے بچوں کو اس بات کی آگاہی دیں کہ انسان کی زندگی میں دوستوں کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔ اچھا دوست وہی ہے جو مشکل وقت میں ساتھ دے اور برائی سے بچائے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے سوچ سمجھ کر دوست بنانا چاہیے۔ اچھے دوست کی صحبت انسان کو نیکی، اخلاق اور کامیابی کی طرف لے جاتی ہے، جبکہ برے دوست برائی اور نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ اس لیے ہمیشہ ایسے دوست کا انتخاب کریں جو سچا، نیک اور ایماندار ہو۔نیز اپنے بچوں کو بہتر دوستوں کے چناؤ میں مدد دیں اور ان کا ذہن مادہ پرستی پر مبنی دوستی سے ہٹائیں۔ بچوں کو اچھا کھلائیں، پلائیں، پہنائیں مگر ان کو برینڈز کا دیوانہ نہ بنائیں، انسان کی قدر، رشتوں سے محبت اور چیزوں کی اہمیت اس طور پر سیکھائیں کہ یہ چیز آپ کے والد یا ماموں، چاچو اتنی محبت سے لائے ہیں اس بہت سنبھال کر رکھیں بیٹا، ان کو شکریہ کہیں یا ان کے حق میں دعا کریں بیٹا۔ رشتوں کی اہمیت کو اجاگر کریں نہ کے چیز کی کمتری یا بیش قیمتی کو۔بچوں کی تربیت چھوٹی عمر سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ہم انہیں شروع سے ماں باپ، بہن بھائی اور دیگر رشتوں کی اہمیت اور وقعت بتائیں گے تو وہ بڑے ہو کر وفادار، ذمہ دار اور محبت کرنے والے انسان بنیں گے۔ رشتوں کی قدر سکھانے سے ان کے دل میں خلوص اور احترام پیدا ہوتا ہے، اور خاندان مضبوط رہتا ہے۔ یاد رکھیں! بچے وہی سیکھتے ہیں جو ہم عمل میں دکھاتے ہیں، اس لیے ہمیں خود بھی رشتوں کی اہمیت کو اپنانا چاہیے۔
زرق حلال پرورش آسان:
یاد رکھیے!! اولاد اللہ کی بڑی نعمت ہے اور ان کی صحیح پرورش والدین کی اہم ذمہ داری بھی ہے اور روز محشر کی جواب دہی بھی۔ بچوں کی تربیت میں سب سے بنیادی چیز رزقِ حلال ہے۔ جب والدین حلال روزی کماتے ہیں تو اس سے بچوں کی صحت، سوچ اور کردار پر اچھا اثر پڑتا ہے۔ رزقِ حرام سے دل سخت اور اخلاق خراب ہو جاتے ہیں، جبکہ رزقِ حلال سے دل منور اور عادتیں پاکیزہ بنتی ہیں۔ اسی لیے والدین کو چاہیے کہ ہمیشہ محنت اور ایمان داری سے کمائیں، تاکہ ان کی اولاد نیک اور صالح بنے۔ بچوں کی بےجا خواہشات کو یکسر نظر انداز نہ کریں مگر ان کے ساتھ بیٹھ کر نرمی سے اس موضوع پر گفتگو کریں تاکہ آپ بچوں کے جذبات سمجھ کر ان کی راہنمائی کر سکیں۔ ان کے سامنے ہر وقت کاروبار یا جاب کی مجبوریوں اور مسائل کا تذکرہ نہ کریں کہ ابھی یہ سب جھیلنے کی انکی عمر نہیں، یہ وقت ان کو اخلاق سیکھانے کا ہے ان سے موقع محل کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے اخلاقی گفتگو کریں۔ ان کو بنیا مائنڈ سیٹ نہیں دیں اس وقت ان کی کردار سازی بہت اہم ہے۔
مائیں نسل نو کی امین:
ماں بچے کی پہلی استاد ہوتی ہے۔ اگر مائیں بچپن ہی سے بچوں کو والد کی محنت اور قربانی کی قدر سکھائیں گی تو ان کے دل میں احترام اور محبت پیدا ہوگی۔ اسی طرح انہیں ہر حال میں صبر و شکر کا عادی بنائیں۔ صبر سکھانے سے بچے مشکلات میں مضبوط رہیں گے اور شکر سکھانے سے ان کے دل مطمئن اور خوش رہیں گے۔ یہ بات خوب واضح رہے کہ بھلے دنیا کے بہترین اسکول کا انتخاب کریں لیکن ماں کی تربیت ہی سے بچہ ایک اچھا، شکر گزار اور بااخلاق انسان بنتا ہے۔یہاں ماں کے کرنے کا کام اس لیے زیادہ بڑھ جاتا یے کہ آپ کا شکوہ کرتے رہنا یا نا شکرا پن آپ کی اولاد کو نہ صرف پیسے کا عاشق بناتا ہے بلکہ باپ سے متنفر بھی کر دیتا یے۔ اس لیے بچوں کے سامنے موبائل پر شاپنگ ویب سائٹز کی تحقیقات کرتے رہنا یا بچوں سے مادیت پسندانہ گفتگو کرتے رہنے سے آپ انہیں دنیا کا بندہ بنانے میں تو کامیاب ہوسکتی ہیں اللہ کا بندہ بنانے میں نہیں۔ اور اس طرح اسکی دنیا اور آپ کی آخرت ضائع جانے کا اندیشہ ہے۔ مجھے انتہائی افسوس ہوتا ہے یہ دیکھ کر کہ بہت سے کھاتے پیتے گھرانوں کی خواتین جنہوں نے کبھی رکشے تک میں سفر نہیں کیا وہ بچوں کو بٹھا کر ایسے لوگوں کا ذکر کرتی رہتی ہیں جو معاشی حالت میں ان سے بہتر ہیں اور یہ ذکر حسرتوں پر مبنی ہوتا ہے کہ ہم تو کسی باہر ملک گھومنے نہیں گئے دو سال ہوگئے، دیکھو یہ ایپل کی واچ تمہارے دوست کی کتنی پیاری ہے کاش!! میں تمہیں بھی دلا سکتی۔چالیس پچاس لاکھ کی گاڑی میں گھومنے والا بچہ اس لیے رو رہا ہے کہ اس کے والد نے وہ نہیں دلایا جو اس کے دوست کے والد نے اس کے دوست کو لے کر دیا اور والدہ محترمہ تصویر حسرت بنی چپ سادھے بیٹھی ہیں۔یہ کوئی ایک کیس ہوتا تو نظر انداز کیا جاسکتا تھا مگر یہاں تو یوں لگتا یے کہ آوے کا آوا ہی اس مصیبت کا شکار ہے۔
بچوں کو ذہنی مفلوج نہ بنائیں:
بچے معصوم پھولوں کی طرح ہوتے ہیں، وہ جیسا ماحول دیکھتے ہیں ویسے ہی بنتے ہیں۔ اگر والدین ہر وقت ان کی دوسروں سے برابری کریں یا انکے متمول گھرانے سے تعلق رکھنے والے دوستوں اور انکی مہنگی چیزوں کا تذکرہ کرتے رہیں تو ان کے دل میں احساسِ کمتری پیدا ہو جاتا ہے۔ ایسے بچے آگے چل کر خود پر بھروسہ نہیں کرتے۔ ایک انجانے سی جھنجھلاہٹ اور بیزاری کا شکار ہو جاتے ہیں۔والدین کو چاہیے کہ جس حال میں بھی ہوں اپنے بچوں کی خوبیوں کو سراہیں، ان کی حوصلہ افزائی کریں اور کمزوریوں کو پیار سے دور کریں۔ یاد رکھیں! اعتماد اور محبت سے پرورش پانے والے بچے ہی مستقبل میں کامیاب اور خوشحال زندگی گزارتے ہیں۔ کبھی آپ نے سوچا ہے کہ آپ کی یہ حسرت انگیز باتیں آپ کے بچے کے لیے بلکل ایسی ہی ہیں جیسے آپ اپنے ہاتھ سے اسے کھانے میں زہر ملا کر دے رہی ہوں۔ آپ کی ان باتوں کا اثر، اس کی بلوغت کے سالوں میں اس انداز میں دیکھیں گی کہ پھر آپ بچے کو لے کر کسی سائیکالوجسٹ یا بابا جی کے پاس بھاگتی پھریں گی کہ کوئی دوا یا تعویذ دے دیں بچہ بات نہیں مانتا۔ اپنے بچوں کو اگر لے کر جانا ہی ہے تو انہیں سبزی خریدنے ساتھ لے جائیں، ان کے سامنے کچھ بھاؤ تاؤ کریں اور شکریہ کے ساتھ سبزی والے کو عزت سے پیسے دینا سیکھائیں، سبزی کا بھرا ہوا تھیلا ان سے اٹھوائیں بےشک آپ ان کی مدد کر سکتی ہیں مگر ان کو مہنگے ترین مالز میں لے جا کر حسرتوں کا غلام نہ بنائیں۔ ان کے ساتھ بیٹھ کر ان کے امیر دوست کی دولت کو حسرت سے ڈسکس نہ کریں بلکہ ان کی توجہ کا مرکز مادہ پرستی سے پاک دوستی بنانے پر منتقل کریں۔اس بات کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ آپ کا بچہ دہرے فتنے میں مبتلا ہے ایک تو اسکول میں ایسے دوستوں کا بن جانا جو اسے گیجٹس یا مہنگی چیزوں کی حسرت میں مبتلا کر رہے ہیں اور پھر دوسرا یہ کہ گھر میں وہ آپ کی زبان سے بھی مادہ پرستی پر مبنی گفتگو سنتا رہتا ہے۔ اس کا ایمان دنیاوی و دینی زندگی سب خطرے میں ہے۔ کیا ایک باشعور ماں اپنے بچے کو ایسے سنگین انجام پر پہچانے کا ذریعہ بن سکتی یے؟ کہ جہاں نہ ہی ایمان سلامت رہے اور نہ ہی دنیاوی و قلبی سکون میسر ہو۔ میری والدین اور بالخصوص ماؤں سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں کو دوستی کرنے کا وہ معیار سیکھائیں جو دین نے دیا ہے یعنی دوست تو وہ ہوتا ہے جسے دیکھ کر اللہ یاد آجائے نہ کہ محض دنیاوی عیش و آرام۔ سترہ سے بیس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ان لڑکے لڑکیوں میں ذہنی حالت اتنی پست ہوجاتی ہے کہ وہ اپنی زندگی سے ہر وقت شکوہ کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔ خیر کو دیکھنے،سمجھنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے انہیں ہر وہ چیز چاہیے ہوتی ہے جو مہنگی ہے اور کسی دوسرے کے پاس ہے۔اور پھر ایسے ہی بچے اکثر کہتے ہیں کہ پاپا آپ نے ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے؟اور اس وقت ہم بجائے اپنا قصور تلاش کرنے کے میڈیا اور معاشرے پر الزام عائد کر کے بڑی صفائی سے بری الزمہ ہو جاتے ہیں۔ خلاصہ کلام یہ کہ اولاد کو پالنے اور تربیت کرنے میں بہت فرق ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ انسان کا وجود محض گوشت اور خون کا پیکر نہیں بلکہ شعور کا آئینہ ہے۔ جب نسل در نسل بچے پیدا کر کے انہیں صرف حیاتیاتی بقا کے تسلسل میں دھکیل دیا جاتا ہے، مگر شعور اور آگہی نہیں دی جاتی، تو وہ محض زندہ جسم تو ہوتے ہیں لیکن آزاد انسان نہیں بنتے۔ سرمایہ دار کے لئے یہ صورتِ حال سب سے زیادہ موزوں ہے، کیونکہ اس کے نزدیک ہر نوزائیدہ ایک "مستقبل کا مزدور" ہے؛ ایک ایسا پرزہ جو اس کی مشینری کو چلائے گا مگر کبھی یہ سوال نہیں اٹھائے گا کہ مشین کس کے لئے اور کیوں چل رہی ہے۔یہی المیہ ہے کہ جس شعور سے انسان کو اپنی حقیقت اور اپنی آزادی کا ادراک ہونا چاہیے، اگر وہ نہ دیا جائے تو نسلیں محض حیوانی چکر میں پھنسی رہتی ہیں۔ پیدائش، محنت، کھپت، اور فنا۔فلسفے کی زبان میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ "شعور کے بغیر نسل در نسل پیدا ہونا، وجود کو اپنے ہی معنی سے خالی کرنا ہے۔" انسان اگر اپنے آپ کو صرف ایک مزدور کے طور پر جیتا ہے تو وہ اپنی اصل انسانیت سے محروم رہتا ہے۔

کالم نگار : محترمہ فائزہ ہاشمی
| | |
271