(+92) 319 4080233
الجھاؤ کا سلجھاؤ
زندگی انسان کو خدا کی طرف سے ایک عظیم نعمت کے طور پر عطا کی گئی ہے۔ یہ وقت کا وہ سرمایہ ہے جسے ضائع کرنے کے بعد دوبارہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ عقل مند انسان اپنی زندگی کے ہر لمحے کو قیمتی جانتا ہے اور اسے فضول باتوں، بے مقصد تجربات اور لغویات میں ضائع نہیں کرتا۔انسانی زندگی کا اصل مقصد اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کرنا ہے۔ جو لوگ وقت اور زندگی کی قدر نہیں کرتے وہ پچھتاوے کے سوا کچھ حاصل نہیں کرتے۔ فضول مشاغل اور بے فائدہ تجربات انسان کو نہ صرف اپنے مقاصد سے دور کر دیتے ہیں بلکہ زندگی کے سنہرے مواقع بھی ہاتھ سے نکل جاتے ہیں۔کامیاب لوگ ہمیشہ زندگی کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ وہ اپنے وقت کی منصوبہ بندی کرتے ہیں، اپنی توانائی کو مثبت کاموں میں لگاتے ہیں اور دوسروں کے لیے نفع بخش ثابت ہوتے ہیں۔ قرآن کریم میں بھی وقت اور زندگی کی قدر پر زور دیا گیا ہے، اور فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن انسان سے اس کی عمر کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ اسے کہاں صرف کیا؟؟
ہمارا سنگین المیہ:
ہمارا المیہ یہ رہا ہے کہ آج تک صحیح مرض کا تشخص کرکے علاج کی طرف دھیان ہی نہیں گیا، تو بہتری کی امید کیونکر ہو؟؟ معاشرے کی سب سے بڑی بیماری ہماری مریضانہ سوچ ہے۔ہم اپنی لاعلمی، پاگل پن، شدت پسندی، دو نمبری وغیرہ کا دفاع بھوکی بھڑکوں اور ننگی گالیوں سے کر رہے ہیں۔ ہمیں ہر چیز کو اپنے چھوٹے دماغوں اور بہت ہی سطحی عقل سے دیکھنا سکھادیا گیا ہے تا کہ ہم اپنے آپ کو عقلِ کُل سمجھتے ہوئے دوسروں کو اپنے سے کمتر اور حقیر سمجھیں۔ اپنے ارد گرد شاید ہی کوئی انسان آپ کو ملے جو اپنی مریضانہ سوچ کا پرچار کرنے کے بعد آپ کی بات سننے، اسے برداشت کرنے یا اس کا جواب انسانیت کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے دینے کا حوصلہ اور علم رکھتا ہو۔اگر زندگی میں آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو زندگی کے حقائق کے قبول کرنا سیکھیں، اگر آپ غلط ہیں تو ہٹ دھرمی کی بجائے اپنی غلطی کو مانتے ہوئے اسے دوبارہ نہ دوہرائیں، مذہب و سیاست پر بحث کرنے ، دوسروں کی خوشامد کے پل باندھنے اور اپنی احساس کمتری کو جعلی برانڈ ز کی سجاوٹ دینے کی بجائے اس راستے پر چلیں جہاں آپ کو یہ سب دکھاوا کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑے ورنہ آپ کی پوری زندگی اپنی برہنگی کو خوشامد و چاپلوسی کی پوشاک سے ڈھانپتے ہوئے گزر جائے گی زندگی میں ہمیشہ مثبت رہیں، آسانیاں با نٹیں اور دوسروں کیلیے محض اللّٰہ پاک کی رضا کے لئے آسا نیاں پیدا کریں۔ اس عمل سے آپ کو صبر بھی آ جائے گا، شُکر گزار بھی ہوجائیں گے اور دُنیا اور آخرت میں سُرخرو بھی ہو جائیں گے۔
انسانی نفسیات کو سمجھیں:
غور کریں تو معلوم ہوگا کہ انسانی نفسیات بہت عجیب اور باریک بینی پر مبنی ہے۔بعض اوقات آپ کے الجھنے کی وجہ بہت معمولی سی ہوتی ہے۔ جیسے کبھی کبھار آپ کی آستین کا کونا کسی چائے یا پانی گر جانے سے گیلا ہو جاتا ہے اور آپ کو مسلسل تنگ کررہا ہوتا ہے، آپ کی رف چپل جو آپ کو گھر جیسا سکون دیتی ہے وہ کہیں کھو جاتی ہے اور آپ کسی دوسرے سلیپرز کی اجنبیت کا دکھ جھیل رہے ہوتے ہیں۔ آپ عجلت میں سر کے بال ڈرائے کیے بنا گھر سے نکلتے ہیں اور ان کی نمی آپ کو پریشان کررہی ہوتی ہے، آپ کے کپڑوں کی الماری بے دھیانی میں کھل جانے پر ابل پڑتی ہے اور آپ جھنجھلا جاتے ہیں۔ کیونکہ آپ کے پاس اسے سنوارنے کا وقت نہیں۔ یا ایسا بھی ہوتا ہے کوئی مسلسل بول کر آپ کے ذہنی ارتکاز میں خلل انداز ہورہا ہوتا ہے۔ اور آپ نتیجتاً کسی نہ کسی سے الجھنے لگتے ہیں۔ کیونکہ آپ آستین ، چپل یا الماری پر چلا نہیں سکتے۔ نہ ہی وہ سن سکتے ہیں۔ اس لیے آپ کسی ایسے پر چلاتے ہیں یا کسی ایسے پر برہم ہوتے ہیں جو سن سکتا ہو۔ یعنی وہ جو بول رہا ہے کیونکہ وہ خوش ہے یا وہ بولنا چاہتا ہے۔ یوں ہم بعض اوقات ایسے لوگوں کو بھی تکلیف دیتے ہیں جو ہماری الجھنوں کی وجہ نہیں ہوتے۔ آپ کہیں گے کہ درج بالا مثالوں میں ایسا کوئی مسئلہ نہیں جس کا حل موجود نہ ہو، آپ مجھے ان سب کے حل بھی تجویز کریں گے۔ لیکن یہی صورت حال جب آپ پر بیت رہی ہوگی تو آپ کو ان کے حل اتنے ہی مشکل لگیں گے جتنے بڑے مسائل کے حل ڈھونڈنا لگتے ہیں ۔ وجہ وقت یا وقت پر کچھ چیزوں کی کمی ہوسکتی ہے۔ یا شاید خود ہماری نفسیات کا الجھاؤ بھی۔ جو ایسے وقت میں ہمیں فائٹ اور فلائٹ کے سوا کچھ نہیں سجھاتی۔ بالکل ایسے ہی ہم میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی بڑی یا چھوٹی الجھن پریشان کررہی ہوتی ہے۔ ذیادہ تر لوگ ان سے متاثر ہوکر دوسرے انسانوں کو نشانہ بناتے ہیں ۔ بہت ہی کم لوگ ہیں جو کچھ وقت نکال کر اپنی چھوٹی بڑی الجھنوں کی فہرست بنا کر ان کے ممکنہ حل کے متعلق سوچ کر اپنے دماغ کو پرسکون کرنے کے متعلق سوچتے ہیں ۔جب آپ انسانی نفسیات کے متعلق جاننے کی کوشش کرتے ہیں یا جب آپ خود کو وقت دے کر اپنی الجھنوں پریشانیوں کے متعلق سوچنا شروع کرتے ہیں تو آپ جان پاتے ہیں کہ بہت بار قصوروار آپ خود نہیں ہوتے ہیں۔ بلکہ وہ تلخ عوامل ہوتے ہیں جو آپ پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔ اور ایک وقت آتا ہے کہ آپ لوگوں کو مارجن دینا سیکھ جاتے ہیں۔ آپ سمجھ لیتے ہیں کہ انسان خواہ کسی قبیل کسی حیثیت کے کیوں نہ ہوں، وہ ہرحال میں قابلِ رحم ہوتے ہیں۔ یہی چیز ایک مثبت اور متوازن رویے کی بنیاد بنتی ہے۔
اپنی زندگی خود جینا سیکھیں:
انگریزی کی ایک کہاوت کا مفہوم ہے کہ تم تک رسائی ایک اعزاز ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔مثال کے طور پر آ پ اپنی سب سے قیمتی چیزیں لاکر میں رکھتے ہیں اور اسکی چابی کسی کو نہیں دیتے۔ دیں بھی تو ایک آدھے بندے کو اس قابل سمجھا جاتا ہے۔آپ کبھی نہیں سوچتے کہ دنیا آپکے کسی اور کو اختیار دینے یا نہ دینے کے بارے میں کیا سوچے گی، کوئی برا تو نہیں منائے گا، آپ کو لالچی تو نہیں بولے گا؟؟وغیرہ وغیرہ۔آپ جب بھی کوئی قیمتی چیز لاکر سے نکالتے ہیں یا ڈالتے ہیں آپ لوگوں سے پوچھنے نہیں جاتے بلکہ بہت احتیاط سے یہ فیصلہ خود ہی کرتے ہیں اور چپکے سے اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔مان لیں کہ آپکی اپنی ذات بھی بالکل ایک لاکر کی طرح ہی ہے۔ جو پیسوں سے کئی زیادہ قیمتی ہے۔ ہاں البتہ آپ کو اس کی بالکل قدر نہیں ہے۔ آپ کو نہ صرف اسے چوک میں سب کے سامنے پیش کرنے کی عادت سی ہوگئی ہے بلکہ آپ سمجھتے ہیں اس سے متعلق ہر فیصلے کا اختیار کرنے کا حق بھی سب کو ہے۔یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ عام لوگوں پر اتنا اعتبار کیسے کرلیتے ہیں؟ جب بات آپکی ذات پر آتی ہے۔اگر کوئی آپ سے بینک کا کارڈ مانگے اور کہے کہ بھائی میرے پاس رکھوا دو میں پیسے کا پورا پورا دھیان رکھوں گا۔ آپ کبھی بھی اسے نہیں دیں گے۔ لیکن جب بات آپکی اپنی ذات پر آتی ہے تو آپ کسی کے بھی حوالے کر دیں گے اسے؟؟آپ کو جب بھی اپنے لئے کچھ کرنا ہے، آپ نے سب سے پہلے لوگوں کا سوچنا ہے۔ کہ فلانے کو یہ ہوگا وہ مسئلہ ہوگا۔ مطلب اپنی ذات کی آپکی نظر میں کوڑی کی اہمیت بھی نہیں ہے۔ حالانکہ یہ سب سے بڑی سچائی ہے کہ آپ ہیں تو سب ہیں آپ نہیں ہیں تو کچھ بھی نہیں ہے۔ اور آپ اسی سے ہی آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔اس سے بھی بڑھ کر ظلم یہ کہ آپ ہر ایرے غیرے کو اپنی زندگی میں داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔ کوئی جتنا مرضی آپکا دماغ خراب کرے، آپکی زندگی میں فساد کرے، بے جا تنقید کرے، آپکی عزت کا سگا نہ ہو، نہ آپکی خوشیاں اس سے دیکھی جا رہی ہوں۔ آپ ہیں کہ انکو ڈیرہ ڈال رکھنے کی مکمل اجازت دیتے ہیں یہ سوچتے ہوئے کہ جی لوگ کیا کہیں گے؟ اور پھر ان کے دئیے ہوئے اذیت بھرے لمحوں کو کبھی رواجوں کے نام پر اور کبھی مذہب کی اوڑھ میں پانی کی طرح پیتے رہتے ہیں جو زہر سا اثر رکھتا ہے اور اندر ہی اندر آپ کو کھوکھلا کردینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔نتیجے کے طور پر کئی بار تو وہ آپ پر اس قدر قابض ہو جاتے ہیں کہ آپ کو خود پر بھی ذاتی اختیار نہیں رہتا، یا پھر آپ وقت سے پہلے نہ صرف اپنی قوتِ فیصلہ کھو دیتے ہیں بلکہ آپکا صبر بھی جواب دے جاتا ہے۔ اور آپ سے اپنی بنیادی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی نہیں اٹھایا جاتا۔ یہی وجہ ہے ہم میں سے بہت سے لوگ کبھی نہیں چاہتے کہ ہمارے دکھوں کا ہمارے بوڑھے والدین کو پتہ نہ چلے۔کیونکہ انہوں نے زمانے کی اونچ نیچ کو ضرورت سے زیادہ برداشت کیا ہے، اپنی برداشت سے کہیں بڑھ کر لوگوں کو اپنی ذات کی کنجیاں تھما رکھی تھیں ۔ اور اب ہمارے چھوٹے موٹے مسئلوں سے نبٹنے کے لئے انکے پاس کوئی طاقت ہی نہیں بچی۔ انکی قوت برداشت وقت سے پہلے ہی ناکارہ ہو گئی۔ حاصل بحث یہ کہ کس مذہب میں لکھا ہے کہ جاہلوں کو یا ناقدروں کو برداشت کیا جائے؟ اپنے اختیارات انہیں سونپ دیے جائیں؟ اور پھر کب کسی کو زہنی آزمائش و اذیت برداشت کرنے پر ایوارڈ دیا گیا ہے؟ مذہب کی رو سے بات کریں تو اسلام میں جہاں رشتے جوڑنے اور صلح رحمی کی تلقین یے وہیں پر دل آزاری اور فساد پر فاضلہ رکھنے اور خاموش رہنے کی نصیحت کی گئی ہے۔ کہیں نہیں لکھا کہ جن سے نہیں ملنے کا دل نہیں ان سے ضرور ملو اور ملتے جاو۔لہذا خود پر رحم کریں اس سے پہلے کہ آپ کا صبر و حوصلہ آپ ہی کے غلط فیصلوں کی وجہ سے وقت سے پہلے ختم ہو جائے، اور آپ کا جو معمولی سا اختیار کسی سمجھ دار کو ہونا چاہئیے وہ بھی وقت سے پہلے بند ہو جائے۔ لوگوں کو اپنی زندگی میں دخل در معقولات سے گریز کی عادت ڈالیں۔ اپنی ذات کی کنجیاں کسی ایسے کو مت نہ دیں جو اسکی قدر نہ کر سکے ورنہ پھر آخری عمر میں یاد آئیگا کہ جن کے لیے جیتے ریے انہوں نے بھی قدر نہیں کی اور نہ ہی اپنے لئے جی پائے تو زندگی میں آخر کیا کیا؟کوئی تو ہوتا بتانے والا کہ اپنے آپ کو سنبھال کر بچا کر حفاظت سے رکھنا بھی ایک آرٹ ہے۔

کالم نگار : ثمر حفیظ
| | |
341