(+92) 319 4080233
مولانا محمد اسلم شیخوپوری
علم کی وہ قندیل جس کی لو نے ایک زمانے کو روشنی بخشی، قرآن کا وہ نغمہ جس کی صدا آج بھی دلوں میں رس گھولتی ہے، میں بات کر رہا ہوں مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہید رحمہ اللہ کی۔ ان کی زندگی دینی مدارس کے تدریسی حلقوں اور عوامی درسِ قرآن کی محفلوں سے عبارت ایک ایسی تابندہ داستان ہے جس نے علم کے متلاشیوں کو سیراب کیا اور کلامِ الٰہی کی عظمت سے قلوب کو منور کیا۔ وہ ایک ایسے معلم تھے جن کے لفظوں میں حکمت رچی بسی تھی اور ایک ایسے داعی تھے جن کی آواز میں محبت اور اخلاص کی گونج تھی۔ ان کی شخصیت ایک ایسے سایہ دار درخت کی مانند تھی جس کے زیرِ سایہ تشنگانِ علم نے سکون پایا اور جس کے پھلوں سے عامۃ الناس نے ہدایت کی لذت محسوس کی۔ ان کی زندگی جہاں علم کی روشنی پھیلانے میں گزری، وہیں ان کا قلم بھی حکمت و عرفان کے موتی بکھیرتا رہا۔ آئیے، اس صاحبِ علم و فضل کے سفرِ زندگی کے چند اوراق الٹتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اس درخشاں ستارے نے کس طرح اپنی تابانی سے دلوں کو منور کیا۔
خاک کے پردے سے انسانی ظہور:
آپ رحمۃ اللہ علیہ 1959ء میں ضلع شیخوپوہ (موجودہ ضلع ننکانہ صاحب) کے گاؤں لدھڑ میں پیدا ہوئے جو سانگلہ ہل سے تقریباً 14 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ آپ کے والد کا نام محمد حسین تھا۔ آپ کل پانچ بہن بھائی ہیں: دو بہنیں اور تین بھائی۔ بڑے بھائی کا انتقال بچپن میں ہو گیا تھا، جبکہ آپ کے چھوٹے بھائی ارشد امین گاؤں میں کھیتی باڑی کرتے ہیں۔ تین برس کی عمر میں آپ فالج جیسے موذی مرض کا شکار ہو گئے جس سے آپ کی دونوں ٹانگیں زندگی بھر کے لیے مفلوج ہو گئیں گھر والے خاص کر والدہ بہت زیادہ پریشان ہوگئیں اور اپنے لخت جگر کو رب کے حوالے کردیا اور کہا کہ اے رزق کی تقسیم کرنے والے میں اپنے نور نظر کو تیرے تیرے آسرے چھوڑ رہی ہوں یقیناً تو اسے ضائع نہیں کرے گا۔
تربیت عام میں جوہر کامل:
گاؤں میں معیاری تعلیم اور اسکول نہ ہونے کی وجہ سے آپ چوتھی جماعت کی تعلیم سے آگے نہ بڑھ سکے۔ نو سال کی عمر میں آپ نے علاقے کی مسجد کے امام صاحب کے کہنے پر حفظ قرآن مجید کا آغاز کیا اور صرف گیارہ ماہ میں یہ عظیم نعمت حاصل کر لی۔ آپ کے صاحبزادے کی زبانی والد مرحوم کی حفظ کی کلاس میں بارہ طلبہ تھے، لیکن یہ سعادت صرف آپ کے حصے میں آئی۔ آپ کا حفظ اتنا پختہ تھا کہ منزل سنتے ہوئے اگر سو بھی جاتے تو گہری نیند میں بھی غلطی پکڑ لیتے۔مولانا زاہد الراشدی صاحب کے بقول، آپ نے صرف و نحو کی ابتدائی تعلیم باغبانپورہ لاہور میں مولانا محمد اسحاق قادری رحمہ اللہ سے حاصل کی، جو شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری رحمۃ اللہ علیہ کے ارشد تلامذہ میں سے تھے۔ درجہ اولیٰ سے درجہ سابعہ تک کی تعلیم آپ نے جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی میں حاصل کی۔ محدث العصر علامہ محمد یوسف بنوری رحمۃ اللہ علیہ کی اسی سال وفات ہو گئی جس کے بعد دورۂ حدیث شریف کی تکمیل کے لئے آپ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ حاضر ہوئے جہاں امام اہلسنت علامہ سرفراز خان صفدر رحمہ اللہ کے زیرِ سایہ رہ کر سند فراغ حاصل کی۔
اساتذہ کرام:
کورس تو فقط الفاظ سکھاتے ہیں آدمی ، آدمی کو بتاتے ہیں آپ کے مشہور اساتذہ میں امامِ اہلسنت کے علاوہ حضرت مولانا صوفی عبدالحمید خان سواتی، حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی، حضرت مفتی احمد الرحمٰن، حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہید اور حضرت مولانا حبیب اللہ مختار شہید رحمہم اللہ وغیرہ اساطینِ علم کے نام نمایاں ہیں۔
عملی زندگی کا آغاز:
1979ء میں درسِ نظامی سے فراغت کے بعد آپ اپنے آبائی گاؤں تشریف لے گئے۔ خود حضرت شیخوپوری علیہ الرحمہ اس دور کی کیفیت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:یہ اس وقت کی بات ہے جب ناچیز درس نظامی کی رسمی تعلیم سے فارغ ہوا تھا اور اسے اس سوال کے جواب کی تلاش تھی کہ اب کیا کیا جائے؟کافی سوچ و بچار کے بعد ذہن کی سوئی اپنے آبائی گاؤں پر آ کر ٹک گئی۔ چنانچہ فیصلہ کر لیا کہ اپنی کسبی اور وہبی صلاحیتوں کی تجربہ گاہ، گاؤں کو بنا لیا جائے۔ محلے کی مسجد ویران پڑی تھی، وہاں امام تھا نہ خطیب۔ سابق امام برادری کی باہم چپقلش کی وجہ سے رختِ سفر باندھ چکا تھا لہذا جب امام ہی نہ رہا تو لا محالہ مسجد خالی ہو گئی، اس لیے کہ دیہات میں خطیب اور مؤذن الگ الگ نہیں ہوتے۔ مسجد سے متعلق ساری ذمہ داریاں امام ہی کو نبھانا پڑتی ہیں۔ جوانی کی امنگ تھی اور کچھ کر کے دکھانے کی دُھن میں مسجد میں جا بیٹھا پھر میں نے نہ دن دیکھا نہ رات، نہ گرمی سردی، نہ خزاں اور برسات، مسجد ہی دفتر اور مسجد ہی درسگاہ، بڑے بھی آتے اور چھوٹے بھی، کسی کو کلمہ سکھایا جاتا، کسی کی نماز درست کی جاتی، کوئی نورانی قاعدہ پڑھتا اور کوئی ناظرہ خوانی کرتا۔ دو چار حفظ کے لیے بھی تیار ہو گئے، یہاں نہ کوئی تنخواہ تھی اور نہ ہی کسی بھی قسم کے وظیفہ کا مطالبہ۔ اس کے باوجود بعض احباب کو میرا وجود کھٹکنے لگا۔ نہ روایتی وعظ مجھے آتے تھے اور نہ ہی سُر اور ساز کا تجربہ تھا۔ بخشش اور شفاعت کے سہل ترین نسخوں سے بھی بےخبر تھا۔ تعویذ گنڈے اور عملیات کی دنیا بھی میرے لیے اجنبی تھی۔ نمازِ فجر کے بعد سیدھے سادے انداز میں لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے درسِ قرآن دیا کرتا جو فضا میں سناٹا ہونے کی وجہ سے قرب و جوار کے دیہاتوں میں بھی سنائی دیتا۔ سلیم الفطرت خوش ہوتے مگر انبیاء کرام علیہم السلام کی توحید کا مضمون اور منکرات پر نکیر سن کر پیج و تاب کھانے والے ہر دور میں کثیر ہوا کرتے ہیں۔ جب بعض چودھریوں نے محسوس کیا کہ خالص قرآن سنانے والے کے ہمنواؤں میں اضافہ ہونے لگا ہے تو انہوں نے اس سے نمٹنے کا ارادہ کر لیا پھر ایک روشن صبح گھمسان کا رن پڑا جس میں کالم نگار کے والدِ محترم زخمی ہو گئے۔ مخالفین میں سے بھی متعدد گھائل ہوئے مگر اپنے مربی اور محسن کے سر سے بہتے ہوئے خون نے راقم کو اپنے ارادوں کے بارے میں متزلزل کر دیا۔ اس نے بادلِ نخواستہ گاؤں چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ جب میں گاؤں سے رخصت ہو رہا تھا اس دن تیز بارش ہو رہی تھی آسمان سے بھی اور میری اور میرے والدین کی آنکھوں سے بھی۔ دکھ تھا تو بس یہ کہ کسی صلہ کی تمنا کیے بغیر کی جانے والی شبانہ روز محنت کو انہوں نے برداشت نہ کیا حالانکہ یہ محنت انہی کے بچوں کی اصلاح اور تعلیم و تربیت کے لیے کی جا رہی تھی۔
روشنیوں کے شہر آمد:
مشہور مقولہ ہے کہ سفر وسیلہ ظفر ہوتا ہے۔گاؤں کے ناخوشگوار حالات کے باعث آپ رحمۃ اللہ علیہ نے کراچی کا رخ کیا، جس کا تذکرہ آپ ان الفاظ میں کرتے ہیں: گاؤں سے رخصت ہونے کے بعد میں کراچی چلا آیا، میں نے یہاں پانچ سال تک تعلیم حاصل کی تھی، یہاں میرے اساتذہ اور ہم درس احباب تھے، ان میں سے ایک ساتھی (مفتی محمد نعیم ) نے سائٹ انڈسٹریل ایریا میں ایک مدرسہ کی داغ بیل ڈال رکھی تھی۔
جامعہ بنوریہ عالمیہ کی ابتدا:
آج کل جہاں جامعہ بنوریہ قائم ہے یہ درحقیقت نشاط ملز کی ایک اچھی بڑی لیبر کالونی تھی۔ یہاں کے رہائش پذیر مزدوروں نے نماز کے لیے ایک چھوٹی سے مسجد خود ہی بنا لی تھی۔نشاط مل تقریباً بند ہوچکی تھی۔ بہت سے کوارٹرز خالی تھے۔کچھ مزدوروں کا قبضہ تھا۔ قاری قاری عبد الحلیم اور ان کے رفقاء تبلیغی گشت کے لیے کبھی کبھی یہاں آیا کرتے تھے۔ مفتی نعیم نے جب اس مسجد کی خستہ حالی اور ویرانی دیکھی تو ان کے مالکان سے بات کرکے یہ جگہ حاصل کرلی۔ مسجد کی چار دیواری نہیں تھی۔ خستہ حال تھی۔ اس کی صفائی کروائی اسے نماز کے قابل بنایا۔ سامنے تھوڑی جگہ تھی جہاں آج کل دفاتر ہیں۔ وہاں دو کمروں کی بنیاد ڈالی اور اس طرح یہاں جامعہ بنوریہ کی بنیاد رکھی گئی ۔ یہ غالباً۱۹۸۰ء کا زمانہ تھا۔ اس مدرسہ کی بنیاد رکھنے، اس کو چلانے اور قائم کرنے اور قائم رکھنے میں مفتی صاحب کو اپنے اساتذہ خصوصاً حضرت مفتی ولی حسن ٹونکی، امام اہلسنت مفتی احمد الرحمن، حضرت مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار شہید کی مکمل سر پرستی اور تعاون حاصل رہا ہے۔انہی اساتذہ نے آکر اس مدرسہ کی بنیاد رکھی۔ ایک طویل عرصہ تک اساتذہ کا تقرر بھی مفتی احمد الرحمن کی تصدیق و توثیق سے ہوا کرتا تھا۔ ہر سال کے آغاز میں مفتی احمد الرحمن صاحب دیگر اساتذہ کے ساتھ آکر افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے اور اساتذہ و طلبہ کو نصیحت فرماتے تھے۔ پانی کی شدید قلت تھی۔ بجلی اکثر غائب رہتی اور اگر ہوتی تو وولٹیج بہت کم، فور سیٹر (کالے رکشے) کے علاوہ کوئی سواری نہیں چلتی تھی۔ نہ کوئی دکان، نہ مارکیٹ ، ضرورت کی معمولی سی چیز کے لیے یا ناظم آباد جانا پڑتا یا لیبر اسکوائر، صرف ایک حضرت ہوٹل تھا جس پر کچھ کھانے پینے کا سامان مل جایا کرتا تھا۔ ان سخت اور مشکل حالات میں مفتی صاحب نے اپنا سفر شروع کیا اور بڑی ہمت و استقامت کے ساتھ اپنا سفر جاری رکھا، کسی موقع پر مفتی صاحب کے قدم نہیں ڈگمگائے اور مفتی صاحب کا ہر دوسرا قدم کامیابی کی طرف اٹھتا رہا۔ رفتہ رفتہ بارہ ایکٹر زمین مفتی صاحب نے حاصل کی یہ ایک دن میں نہیں ہوا اس پر مسلسل محنت ہوئی ہے، انہوں نے ازراہِ محبت اپنے ہاں رکھ لیا۔ یہ اس مدرسہ کا دورِ طفولیت تھا، معیاری دارالاقامہ اور درسگاہیں تو دور کی بات ہے، ڈھنگ کی مسجد بھی نہ تھی۔ ایک چھپرا سا تھا جس میں پنج وقتہ نماز ادا کی جاتی تھی۔انڈسٹریل ایرا ہونے کی بناء پر قریب میں آبادی بہت محدود تھی جو چند گھرانے تھے وہ نماز کے ادائیگی کے لیے ”چھپرے“ میں آنے کے لیے تیار نہ تھے۔ اُدھر دل میں یہ خیال جما ہوا تھا کہ عوامی سطح پر درسِ قرآن کی کوئی صورت بن جائے۔ درسِ قرآن کے شوق کی آبیاری ان اساتذہ کرام نے کی تھی جو خود بھی اس کا اعلیٰ ذوق رکھتے تھے۔ ان میں شیخین کریمین یعنی حضرت مولانا سرفراز خان صفدر اور ان کے برادر خورد صوفی عبدالحمید سواتی کے اسماء گرامی نمایاں ہیں۔ خوب یاد ہے کہ جب ایک بار امام اہل سنت کی خدمت میں اہل قریہ کی درسِ قرآن سے بے اعتنائی کا ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: مولوی صاحب کوئی سنے یا نہ سنے یہ سلسلہ جاری رکھو۔ پھر اپنے بارے میں فرمایا کہ جب میں نے گکھڑ میں درسِ قرآن شروع کیا تو اس میں صرف ایک شخص بیٹھا کرتا تھا مگر میں خوب مطالعہ کرنے کے بعد پورا گھنٹہ درس دیا کرتا تھا اور اب جبکہ مجمع بہت بڑھ چکا ہے، صرف آدھا گھنٹہ درس دیتا ہوں۔ چنانچہ جب تک گاؤں میں رہا حضرت الاستاد کی نصیحت پر عمل کرتا رہا۔ کراچی منتقل ہونے کے بعد وہی سلسلہ یہاں بھی شروع کرنا چاہتا تھا۔ کچھ عرصہ تو انتظار کرنا پڑا لیکن بہرحال اس کا انتظام یہاں بھی ہو گیا اور میں نے مدرسہ کے قریب ہی واقع مزدوروں کی آبادی"لیبر اسکوائر" میں درس کے لیے جانا شروع کر دیا۔ ترتیب یہ بنائی گئی کہ ہفتے میں ایک دن درسِ حدیث، ایک دن درسِ فقہ اور چار دن درسِ قرآن ہوتا تھا۔ ساتویں دن چھٹی ہوتی تھی۔ عمومی درس کے بعد اسکول و کالج کے طلبہ کے لیے ترجمہ کی کلاس الگ سے ہوتی تھی۔ یہ دن زندگی کے یادگار دن تھے۔ غربت کا زمانہ تھا، میں روزانہ مدرسہ سے سائیکل پر مسجد آیا کرتا اور یہاں سے عشاء کے کافی دیر بعد واپسی ہوتی۔ سردیوں کی راتوں میں ٹھٹھرنا اور کتوں کا تعاقب کرنا خوب یاد ہے۔ وہ بھونک بھونک کر آسمان سر پر اٹھا لیتے، بھونکنے اور اچھلنے کا انداز اتنا خوفناک ہوتا کہ ہر لمحہ یوں محسوس ہوتا کہ وہ تکہ بوٹی کر دیں گے۔ جب ان کی یلغار خطرہ کی حد عبور کرنے لگتی تو ہم اس لشکرِ سگاں کی جانب ایک پتھر پھینک دیتے۔ وہ دوبارہ آنے کی دھمکی دے کر مخالف سمت دوڑ لگا دیتے۔
تدریس چھوڑنے کی وجہ:
کراچی میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے تقریباً 19 سال تک جامعہ بنوریہ سائٹ ایریا میں تدریسی خدمات سر انجام دیں اور ابتدا سے لیکر دورے تک کے اسباق پڑھائے، اس کے بعد کچھ عرصہ جامعۃ الرشید کراچی میں بھی اسی فریضے کو سرانجام دیتے رہے۔ تاہم، 2003ء میں آپ نے مدرسے کی زندگی سے مکمل کنارہ کشی اختیار کر لی تاکہ اپنی تمام تر توجہ تصنیف و تالیف اور عوامی درسِ قرآن و دیگر اصلاحی پروگراموں کے لیے وقف کر سکیں۔ تدریس چھوڑنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے مولانا محمد اسلم شیخوپوری ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں:جہاں تک تدریس چھوڑنے کا تعلق ہے تو سب سے پہلے تو میں یہ کہوں گا کہ بعض چیزیں بندے اور رب کے درمیان راز ہوتی ہیں۔ میں ان کو برسرِعام بیان نہیں کرنا چاہتا اور کرنا بھی نہیں چاہیے۔ بظاہر اسباب میں سے ایک سبب یہ تھا (جس کو بیان کرنے میں مجھے کوئی حجاب بھی محسوس نہیں ہوتا) مجھے اپنے حافظے پر اعتماد نہ رہا۔ میں نے محسوس کیا کہ بعض باتیں عین موقع پر میں بھول جاتا ہوں۔ تفہیم کی صلاحیت اللہ تعالیٰ نے اچھی عطا کی تھی طلبہ مجھ سے خوش اور مطمئن تھے یہ اطمینان اور خوشی کچھ تو طلبہ کے ساتھ میری بے تکلفی کی وجہ سے تھی اور کچھ میرے اندازِ تفہیم سے وہ مطمئن تھے۔ مدرسے والوں نے بھی مجھے کبھی جواب نہیں دیا۔ الحمدللہ! درسِ قرآن کا شروع ہی سے ذوق تھا.ایسا نہیں تھا کہ میں نے درس قرآن کے لیے تدریس چھوڑی ہو الحمدللہ! پہلے سے ہی ذوق و شوق سے کام کر رہا تھا۔ تدریس چھوڑنے کے بعد پہلا سال بظاہر بڑی ابتلا کا سال تھا کیونکہ ظاہری اسباب بالکل بند ہو گئے تھے۔ اللہ نے استقامت دی کوئی بڑی پریشانی نہ ہوئی۔
تدریس کے بعد کی مصروفیات:
مولانا محمد اسلم شیخوپوری رحمہ اللہ کی زندگی علم و عرفان کے انمول موتیوں کی ایک ایسی آبشار تھی جس کے ہر قطرے میں بصیرت کی چمک اور حکمت کی دور اندیشی بھری ہوئی تھی۔ تدریس کے مقدس منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد، آپ نے اپنے قلم کو علم کا ایسا روشن چراغ بنایا جس کی لو سے قلوب منور ہوئے اور اذہان نے نئی جلا پائی۔ آپ کی تصنیفات و تالیفات ایک ایسا سدا بہار گلستان ہیں کہ جس کے ہر پتے پر ایک تازہ نغمہ، ہر کلی میں ایک نیا تبسم اور ہر پھول میں ایک انوکھی خوشبو رچی بسی ہے۔جب آپ کی بیسیوں کتب کے اسمائے گرامی صفحۂ قرطاس پر رقم ہوتے ہیں تو نگاہِ شوق ایک لمحے کے لیے خیرہ ہو جاتی ہے۔ یہ صرف چند کتابوں کے نام نہیں، بلکہ علم کے وسیع سمندر کے مختلف ساحلوں کی نشاندہی کرتے ہیں، جن میں سے ہر ایک اپنی جگہ ایک علمی کہکشاں اور ایک فکری نخلستان ہے۔
تصنیفات و تالیفات:
ندائے منبر و محراب: سات ضخیم جلدوں پر محیط یہ تصنیف آپ کی خطابت کے اس دریا کی مانند ہے جس کی ہر لہر میں حکمت و موعظت کے آبشار رواں ہیں۔ یہ محض الفاظ کی ترتیب نہیں، بلکہ دلوں کو حرارت بخشنے اور روحوں کو پاکیزگی عطا کرنے کا ایک مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ منبر و محراب سے اٹھنے والی ہر صدا ایک ایسی پکار ہے جو غفلت کی نیند سوئے ہوؤں کو بیدار کرتی اور سچائی کے متلاشیوں کو منزل کا واضح راستہ دکھاتی ہے۔ تسہیل البیان: قرآنِ حکیم کی عام فہم انداز میں کی گئی یہ تفسیر ایک ایسا عظیم الشان علمی منصوبہ تھا جس کی تکمیل تقدیر الٰہی کو منظور نہ تھی۔ تاہم، اس کے ساڑھے سترہ پاروں پر مشتمل چار دلنشین جلدیں ہی علم کے پیاسوں کے لیے ایک سیراب کن چشمے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان صفحات میں قرآنِ مجید کے انوار اس انداز میں بکھرے ہوئے ہیں کہ ہر خاص و عام اس کلامِ ربانی کی گہرائی اور وسعت سے مستفید ہو سکتا ہے۔ یہ تفسیر ایک ایسی روشن قندیل ہے جو طالبانِ علم کی راہوں کو منور کرتی اور انہیں کلامِ الٰہی کے معانی تک رسائی بخشتی ہے۔ خزینہ: بلاشبہ یہ علم و حکمت کا ایک ایسا انمول خزانہ ہے جس میں بصیرت افروز نکات اور دانائی کے آبدار موتی سلیقے سے پروئے گئے ہیں۔ یہ ایک ایسا گنجینہ ہے جس کی قدر اہلِ علم ہی جان سکتے ہیں۔ عشاق قرآن کے ایمان افروز واقعات: یہ تصنیف ان پاکیزہ نفوس کے ایمان پرور قصص پر مشتمل ہے جنہوں نے قرآنِ پاک سے ایک لازوال عشق کیا اور اپنی زندگیوں کو اس مقدس کتاب کے نور سے منور رکھا۔ یہ واقعات قاری کے دل میں بھی عشقِ قرآن کی ایک چنگاری روشن کرتے اور انہیں ایمانی حرارت سے سرشار کر دیتے ہیں۔ خلاصۃ القرآن: قرآنِ مجید کے تیس پاروں کا یہ دلنشین خلاصہ قاری کو اس عظیم کتاب کے پیغام کو اختصار کے ساتھ سمجھنے میں ایک قیمتی مدد فراہم کرتا ہے۔ یہ ایک ایسا رہنما ہے جو قرآن کے وسیع وعریض مفاہیم کو ایک مختصر مگر جامع انداز میں پیش کرتا ہے بالخصوص رمضان المبارک میں تراویح کے بعد اسی رات پڑھے جانے والے کلام پاک کی تشریح کے لیے معاون و مددگار ثابت ہوتا ہے۔ غریب شہر کی التجا، فغانِ درویش، پکار: یہ تینوں کتب دراصل مستقل تصانیف نہیں ہیں، بلکہ "ضرب مومن" اخبار میں شائع ہونے والے ان مضامین کے دلنشین مجموعے ہیں جو ایک صاحبِ دل کی روحانی کیفیات، قلبی واردات اور معاشرتی مسائل پر مبنی گہرے افکار کا آئینہ ہیں۔ ان تحریروں میں ایک درویش کی بے نیازی اور ایک درد مند دل کی سوز ناک پکار سنائی دیتی ہے۔ بڑوں کا بچپن: یہ ایک دلچسپ اور منفرد موضوع پر مبنی تصنیف ہے، جو بزرگوں کی زندگی کے شیریں لمحات اور ان کے معصومانہ تجربات کو ایک دلنشین انداز میں بیان کرتی ہے۔ یہ کتاب ماضی کی ان گلیوں میں ایک خوشگوار سفر کی مانند ہے جہاں بزرگوں نے اپنے بچپن کے حسین دن گزارے۔ تکملہ فتح الملہم کی اردو تلخیص: یہ ایک گرانقدر علمی کاوش ہے جو شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی کی شہرہ آفاق تصنیف ”تکملہ فتح الملہم“ جیسے ایک عظیم علمی خزانے کو اردو زبان بولنے اور سمجھنے والے طبقے کے لیے قابلِ رسائی بناتی ہے۔ یہ تلخیص اصل کتاب کے دقیق اور پیچیدہ مباحث کو نہایت ہی سہل اور عام فہم انداز میں پیش کرتی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس علمی گنجینے سے مستفید ہو سکیں۔ مولانا محمد اسلم شیخوپوری رحمہ اللہ کی یہ تصنیفات و تالیفات محض چند کتابیں نہیں، بلکہ علم و حکمت کے وہ روشن چراغ ہیں جو رہتی دنیا تک طالبانِ حق کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ آپ کا قلم ایک ایسی بااثر قوت تھی جس نے بیسیوں علمی و ادبی شہ پارے تخلیق کیے اور ایک عالم کو اپنے فیض سے سیراب کیا۔ آپ کے افکار و آثار ہمیشہ زندہ رہیں گے اور آپ کی علمی میراث رہنمائی کا فریضہ بخوبی سرانجام دیتی رہے گی۔
درسِ قرآن و حدیث:
تصنیف و تالیف کے ساتھ ساتھ، آپ نے اپنے حلقۂ احباب اور معاشرے کے ان افراد کی اصلاح و تربیت کا سلسلہ بھی جاری رکھا جن کے عقائد و اعمال نے راہِ اعتدال سے دوری اختیار کر لی تھی۔ آپ نے اپنی مسجد (جامع مسجد توابین، گلشنِ معمار) میں جمعہ کے خطبات کے علاوہ درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا۔ اس کوشش نے بتدریج ترقی کی اور "درسِ قرآن ڈاٹ کام" ویب سائٹ کے ذریعے ایک وسیع طبقہ اس سے مستفید ہونے لگا۔ مختلف مقامات پر آپ کے دئیے گئے مجموعی دروسِ قرآن و حدیث کی تعداد بیس ہزار سے زائد ہے، جن میں سے بیشتر ریکارڈ اور تحریری صورت میں محفوظ ہیں۔زیادہ تفصیل میں نہ جاتے ہوئے، ہم یہاں صرف مولانا زاہد الراشدی کے ان پر خلوص کلمات کو نقل کرتے ہیں جو انہوں نے حضرت شیخوپوری رحمہ اللہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہے، "مولانا محمد اسلم شیخوپوری شہید آج کے دور میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی کی اس تعلیمی و فکری جہدوجہد کا اہم کردار تھے جو حضرت شیخ الہند نے مالٹا کی قید سے رہائی کے بعد ہندوستان واپس پہنچنے پر شروع کی تھی کہ مسلمانوں میں اجتماعیت کے فروغ کی محنت کی جائے اور قرآنی تعلیمات عام مسلمانوں تک پہنچانے کی جہدوجہد کی جائے۔ مولانا شیخوپوری نے قرآن کریم کے درس کے لیے جو اسلوب اختیار کیا، وہ آج کے نوجوان علما کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے"
اسفار:
مولانا شیخوپوری کی ہمہ جہت شخصیت نے انہیں محض اپنے وطن تک محدود نہیں رکھا، ان کی فکری رسائی نے انہیں بین الاقوامی سطح پر بھی متحرک کیا۔ خاص طور پر حرمین شریفین کی زیارت اور افریقی ممالک کے ان کے تبلیغی اسفار، ان کی زندگی کے اہم ابواب ہیں۔ یہ اسفار محض سیاحت یا روحانی تسکین کا ذریعہ نہ تھے، بلکہ ان میں دین کی دعوت اور لوگوں کو خیر کی جانب راغب کرنے کا ایک گہرا جذبہ کارفرما تھا۔اللہ تعالیٰ نے انہیں بارہا بحری اور فضائی راستوں سے حج اور عمرہ کی سعادت عطا فرمائی اور انہوں نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی پرسکون فضاؤں میں حاضری دی۔ یہ ان کے مضبوط ایمان اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا عملی اظہار تھا۔
تجارت:
مولانا محمد اسلم شیخوپوری رحمہ اللہ محض ایک کامیاب عالم دین ہی نہیں تھے، بلکہ ایک باکمال تاجر بھی تھے۔ ان کا پختہ یقین تھا کہ دین کی خدمت اس وقت زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب انسان اپنی کمائی سے مستغنی ہو۔ اسی لیے انہوں نے تجارت کا راستہ اختیار کیا، اگرچہ ان کے پاس ابتدائی سرمایہ بہت قلیل تھا۔ابتدا میں انہوں نے کتب فروخت کرنے کی سعی کی، لیکن جسمانی معذوری اس راہ میں حائل رہی۔ بعد ازاں انہوں نے ہوٹلوں کو مٹر چھیل کر اور پیک کر کے فراہم کرنے کا کام شروع کیا۔ اس کے بعد ان کی توجہ تسبیح اور مسواک جیسی اشیاء کی تجارت کی جانب مبذول ہوئی اور انہوں نے اپنی مصنوعات کو "حلیمی پروڈکٹس" کا نام دیا۔ ان کی دلی تمنا تھی کہ ان کی تیار کردہ مسواک حرم شریف میں بھی فروخت ہو، اور قدرت نے ان کی یہ خواہش پوری بھی کر دکھائی۔خدمتِ خلق کے جذبے سے سرشار مولانا نے دل کے عارضے میں مبتلا افراد کے لیے ایک شربت بھی تیار کیا، جو بے حد مفید ثابت ہوا۔ ان کا "حلیمی شہد" بھی غیر معمولی شہرت اختیار کر گیا، جس کا آغاز اگرچہ محدود پیمانے پر ہوا تھا، لیکن ان کی انتھک محنت سے یہ کاروبار وسیع تر ہوتا چلا گیا۔ قیمت مناسب رکھنے کے لیے وہ خود جا کر سستی بوتلیں خریدتے اور انہیں استعمال میں لاتے۔ انہوں نے اپنے کاروبار میں طلبہ کو بھی شریک کیا تاکہ وہ بھی مستفید ہو سکیں۔ "سنت گفٹ" کے نام سے انہوں نے ایک اور منفرد سلسلہ شروع کیا، جس میں سنت کے مطابق اشیاء شامل تھیں۔ یوں ان کا کاروبار روز بروز ترقی کرتا گیا۔مولانا اپنے ماتحت کام کرنے والوں کے ساتھ نہایت شفقت سے پیش آتے معیار اور کوالٹی پر کوئی سمجھوتہ نہ کرتے حکومتی دائرہ کار کا خاص خیال رکھتے اور ہمیشہ وقت پر ٹیکس ادا کرتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ مولانا اسلم شیخوپوری رحمہ اللہ نے علم دین کے ساتھ ساتھ اپنی محنت سے رزق کمایا اور مخلوق خدا کی خدمت کی۔ ان کی تجارت ایمانداری اور اعلیٰ معیار پر مبنی تھی، جس کے نتیجے میں انہیں بے پناہ برکت نصیب ہوئی۔ ان کی زندگی ہمیں یہ انمول سبق دیتی ہے کہ محنت اور سچائی سے ہر میدان میں کامیابی ممکن ہے۔
شادی و اولاد:
آپ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی زندگی کی پہلی شادی غالباً مئی 1985ء میں اپنے خاندان میں کی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس زوجہ سے پانچ بیٹے، محمد عثمان، محمد اسامہ، محمد حمزہ، محمد طلحہ، اور محمد معاذ اور ایک بیٹی عطا فرمائی۔ شہادت سے ایک سال پہلے آپ نے پٹھان برادری میں دوسری شادی کی، جس سے آپ کی وفات کے چھ ماہ بعد ایک بیٹی پیدا ہوئی۔ آپ کی اولاد میں سے تین بیٹے اور بڑی بیٹی عالمہ ہیں۔ مولانا محمد عثمان، مولانا محمد اسامہ اور بیٹی کی فراغت جامعہ بنوریہ سائٹ جبکہ مفتی محمد طلحہ دارالعلوم کراچی سے فارغ التحصیل ہیں۔
شہادت:
13 مئی 2012ء، اتوار کے دن، دوپہر سوا ایک بجے آپ البرہان سینٹر بہادر آباد میں درسِ قرآن دینے کے بعد اپنی رہائش گاہ گلشن معمار واپس جا رہے تھے۔ نیو ٹاؤن تھانے کی حدود میں، بہادر آباد دھورا جی کالونی کے قریب، رنگون والا ہال کے پاس، دو موٹر سائیکلوں پر سوار چار دہشتگردوں نے آپ کی گاڑی پر بے دریغ فائرنگ شروع کر دی۔ اس حملے میں آپ شدید زخمی ہو گئے اور آپ کو جناح ہسپتال لے جایا گیا۔ لیکن زخموں کی شدت کے باعث آپ شہید ہو گئے۔مولانا کی شہادت کا واقعہ بھی عجیب تھا۔ دہشتگردوں کی چھ گولیاں آپ کے دو محافظوں کو لگیں۔ ایک گولی محافظ کے جسم سے پار ہو کر مولانا کو لگی۔ مولانا اپنے ہاتھ سے محافظ کا خون روکتے رہے اور اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین بھی کرتے رہے۔ اسی دوران آپ کے اپنے جسم سے خون بہنا شروع ہو گیا۔ قدرت کا کرشمہ دیکھیں کہ چھ گولیاں لگنے کے باوجود دونوں محافظ زندہ رہے، جبکہ مولانا گارڈ کے جسم سے نکلی ہوئی ایک گولی سے شہادت پا گئے۔
جنازہ و تدفین:
بالآخر، 13 مئی 2012 کی وہ غمگین رات آئی جب کراچی کے گلشن معمار میں واقع توابین مسجد کا صحن ہزاروں سوگواروں سے بھر گیا۔ وہ ہستی جس نے اپنی زندگی قرآن کی خدمت اور علم کی اشاعت کے لیے وقف کر دی تھی، اب ابدی سفر پر روانہ ہو رہی تھی۔ رات 8 بجے شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب کی امامت میں ادا کی جانے والی اس نمازِ جنازہ میں ہر آنکھ اشکبار تھی اور ہر دل اس عالمِ دین کی جدائی کے غم سے نڈھال۔ پھر توابین مسجد کے احاطے میں اس پیکرِ علم کو سپردِ خاک کر دیا گیا، مگر ان کے چھوڑے ہوئے نقوش آج بھی ہمارے دلوں میں تازہ ہیں۔ یقیناً، ایسے علم کے منارے اور قرآن کے داعی صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ان کی رحلت ایک خلا ہے جسے پُر کرنا مشکل ہے۔ لیکن ان کی تعلیمات کی روشنی ہمیشہ ہمارے راستوں کو منور کرتی رہے گی اور ان کا ذکر خیر رہتی دنیا تک جاری رہے گا۔ اہل حق علماء، جو دین اسلام کی صحیح تعلیمات پر کاربند رہتے ہیں اور حق و صداقت کا پرچار کرتے ہیں، تاریخ اسلام میں ہمیشہ سے قربانیوں اور شہادتوں کی روشن مثالیں قائم کرتے رہے ہیں۔ ان کی شہادتیں نہ صرف ان کے ایمان کی پختگی کا ثبوت ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بھی ہیں۔ اسلام میں شہادت کا مفہوم صرف میدان جنگ میں جان قربان کرنا نہیں ہے، بلکہ حق بات کہنے، ظلم کے خلاف آواز اٹھانے، اور دین کی حفاظت کی خاطر ہر قسم کی صعوبتیں برداشت کرنا بھی شہادت کے زمرے میں آتا ہے۔ علماء کرام نے اپنے علم، تقویٰ اور غیرت ایمانی کی بدولت ہمیشہ امت کی رہنمائی کی اور جب بھی باطل نے سر اٹھایا، وہ اس کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے علماء موجود ہیں جو ظلم، جبر اور باطل کے خلاف آواز اٹھانے کی پاداش میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں یا جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ ان کی قربانیاں امت کے لیے مشعل راہ ہیں۔اہل حق علماء کی شہادتیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں۔ ان کی قربانیاں امت میں بیداری پیدا کرتی ہیں، حق پرستی کے جذبے کو پروان چڑھاتی ہیں اور آنے والی نسلوں کو دین کی خاطر ہر قسم کی قربانی دینے کا درس دیتی ہیں۔ یہ شہادتیں اس بات کا مظہر ہیں کہ حق کی خاطر قربان ہونا ایک سعادت عظمیٰ سے کم نہیں: جان دی کہ دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

کالم نگار : حافظ عزیز احمد میانوالی
| | |
380