یہ بدیہی حقیقت تو ہم سب جانتے ہیں کہ یہ دنیا عارضی قیام گاہ اور دھوکہ کا گھر ہے۔دنیا میں دوستی ، محبت ، انس ، چاہ سب رشتے مطلب پر قائم ہیں۔ محبت آمیز باتوں ، مسکراہٹوں ، مہربانیوں ، شفقتوں لجاجتوں ان سب کی تہہ میں کوئی نہ کوئی غرض پوشیدہ ہے۔ یہاں تک کہ خدا کو بھی لوگ ضرورت پڑنے پر یاد کرتے ہیں۔ صد حیرت کہ اس کے آگے بھی کسی اور کے لیے روتے نظر آتے ہیں۔
بعض اوقات جب خدا کسی مصلحت کے تحت دعا قبول نہیں کرتا تو لوگ دہریے بن جاتے ہیں ، اس کے وجود سے ہی منکر ہو جاتے ہیں۔
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ اُدھر کے رہے
یہ مشاہدہ بھی ہے کہ خواہ کچھ ہی کرلو دنیا کو تم کبھی خوش نہیں رکھ سکتے۔ اگر تم سادہ لوح ہوئے تو دنیا تم پر ہنسے گی ، تمہارا مذاق اڑائے گی۔ اگر عقل مند ہوئے تو حسد کرے گی۔ اگر الگ تھلگ رہے تو تمہیں چِڑچڑا اور مکار گردانا جائے گا۔ اگر ہر ایک سے گھل مل کر رہے تو تمہیں خوشامدی سمجھا جائے گا۔
اگر سوچ سمجھ کر دولت خرچ کی تو تمہیں پست خیال اور کنجوس کہیں گے اور اگر فراخ دل ہوئے تو بیوقوف اور فضول خرچ کہلاؤ گے۔
عمر بھر تمہیں کوئی نہیں سمجھے گا، نہ سمجھنے کی کوشش کرے گا۔ تم ہمیشہ تنہا رہو گے حتّیٰ کہ ایک دن آئے گا اور چپکے سے اس دنیا سے رخصت بھی ہو جاؤ گے اور پھر رفتہ رفتہ تمہارا نام و نشان تک مٹ جائے گا کہ کبھی کوئی یہاں رہتا بھی تھا۔ یہاں سے جاتے وقت تم حیران و سرگردان ہو گے کہ یہ تماشا کیا تھا؟
کیوں پرچھائیوں کے پیچھے بھاگتے زندگی گنوا دی ؟
اس تماشے کی کیا ضرورت
تھی۔ یہ سب کچھ کس قدر بے معنی اور بے سود تھا۔
جو اصل مقصد حیات تھا وہ کیونکر فراموش ہوگیا ؟؟
لیکن اس وقت کی ہوشیاری و بیداری کس کام کی ؟؟
اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔