انسان کی پہچان اسکی زبان سے ہوتی ہے ہمارے معاشرے میں اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ "گفتگو کے پھول بہت خوبصورت ہوتے ہیں مگر عمل کی زمین بنجر ہوتی ہے"۔ یہ جملہ محض ایک شاعرانہ خیال نہیں بلکہ ہمارے معاشرتی رویّوں کا عکس ہے۔ پاکستان جیسے اسلامی و نظریاتی ریاست میں، جہاں مذہب، اخلاقیات، اور تہذیب کی باتیں ہر روز کی گفتگو کا حصہ ہیں،
وہاں عمل کی دنیا میں اس کے برعکس ایک دردناک خلا دکھائی دیتا ہے۔ہر سطح پر، چاہے وہ فرد ہو یا قوم، ہمارے اقوال ہمارے افعال کا ساتھ نہیں دیتے۔ ہم انصاف، دیانت داری، خدمتِ خلق، اور حب الوطنی جیسے سنہری اصولوں کا پرچار کرتے ہیں، مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو سب کچھ پسِ پشت ڈال دیا جاتا ہے۔سیاستدانوں کی بات کریں تو وہ عوامی جلسوں میں
بلند و بانگ دعوے کرتے ہیں، قوم کو خوشحال مستقبل کے خواب دکھاتے ہیں، لیکن اقتدار میں آتے ہی وہی لوگ عوامی مسائل سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔ تعلیم، صحت، روزگار , الغرض ہر وعدہ صرف وعدہ ہی رہ جاتا ہے۔عام شہری کی سطح پر بھی ہم خود کو سچائی، امانت و دیانت کے علمبردار ظاہر کرتے ہیں، مگر سڑک پر اشارہ توڑنا، قطار میں دھوکہ دینا، امتحان میں نقل کرنا،
یا جھوٹ بول کر فائدہ اٹھانا عام سی بات سمجھی جاتی ہے۔ ہم اخلاقیات کی تعلیم دیتے ضرور ہیں، لیکن جب عمل کا وقت آتا ہے تو ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔میڈیا اور سوشل نیٹ ورکس پر ہم روزانہ ہزاروں اقوالِ زریں، احادیث، اور دینی نصیحتیں شیئر کرتے ہیں، لیکن وہ صرف "شیئر" تک محدود رہتی ہیں۔ وہ ہماری شخصیت یا رویے میں کوئی تبدیلی نہیں لا پاتیں
دینی طبقہ بھی اکثر صرف زبانی دین کی تبلیغ کرتا ہے، مگر جب بات کردار اور معاملات کی آتی ہے تو وہاں بھی دوہرا معیار نظر آتا ہے۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ دینِ اسلام جس عدل، انکساری اور عمل پر زور دیتا ہے، وہ کہیں کھو سا گیا ہے۔یہ تضاد ہمارے معاشرے کو نہ صرف اخلاقی بلکہ معاشی، سیاسی اور سماجی طور پر بھی تباہی کی طرف لے جا رہا ہے۔ قومیں گفتار سے نہیں، کردار سے بنتی ہیں۔ جب تک ہم اپنے قول کو فعل کا لباس نہیں پہنائیں گے، ترقی اور خوشحالی ایک خواب ہی رہے گی۔اقبال کا یہ شعر ہمارے معاشرتی رویہ کا عکاس ہے:
اقبال بڑا اُپدیشک ہے، من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتارکا یہ غازی تو بنا،کردار کا غازی بن نہ سکا
قول و فعل کا یہ تضاد ہمیں خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے۔ اگر ہم واقعی ایک مہذب، اسلامی، اور ترقی یافتہ قوم بننا چاہتے ہیں تو ہمیں صرف باتوں کے نہیں بلکہ عمل کے لوگ بننا ہو گا۔ معاشرے کی اصلاح کا آغاز فرد کی ذات سے ہوتا ہے۔ جب ہر فرد اپنی گفتار کے مطابق کردار اپنائے گا، تبھی پاکستان واقعی اقوالِ زریں کا عملی نمونہ بنے گا۔
قول و فعل میں تضاد کی وجہ:
غور کرنے پر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ جو شخص نفس پرستی، دنیا پرستی اور مادہ پرستی کا شکار ہوتا ہے، اس کے قول و فعل میں تضاد لازمی طور پر ہوتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ صدقِ دل اور حسنِ نیت کے ساتھ خدا اور اس کے رسول ﷺ کی بندگی اور اطاعت کو قبول کر لیتے ہیں قول و فعل میں ہم آہنگی ان کی زندگی کا جزو لاینفک ہوتا ہے۔ صاحب ایمان اچھی طرح جانتا ہے کہ
قول و فعل کا تضاد ایک قسم کا جھوٹ ہے۔ جس سے بچنے کی تلقین دین اسلام نے کی ہے۔ ایسے ایمان والے جن کے گفتار و کردار میں ہم آہنگی نہیں ہوتی ان کی سرزنش و ملامت کرتے ہوئے رب کائنات ارشاد فرماتا ہے { یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ۔ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ} (سورہ صف آیت: 3)
’’ اے ایمان والو! تم کیوں ایسی بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو، بڑی ناراضگی کا باعث ہے، اللہ کے نزدیک بڑی نا پسند بات ہے جو کہو اس کو کرو نہیں‘‘
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جو لوگوں کو نیکی کا حکم دیتا ہے اور خود عمل نہیں کرتا اس عالم کی مثال اس چراغ کی مانند ہے جو لوگوں کو تو روشنی دیتا ہے جبکہ اپنے نفس کو جلا دیتا ہے۔
ایک اور مقام پر ارشاد نبوی ہے:
کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کا دل اس کی زبان کے مطابق نہ ہو جائے اور اس کا قول اس کے عمل کی مخالفت نہ کرے۔
صاحب ایمان اچھی طرح جانتا ہے کہ قول و فعل کا تضاد ایک قسم کا جھوٹ ہے۔ جس سے بچنے کی تلقین دین اسلام نے کی ہے۔ ایسے ایمان والے جن کے گفتار و کردار میں ہم آہنگی نہیں ہوتی ان کی سرزنش و ملامت ہر سو و ہر گام ہوتی رہتی ہے۔ ایسے لوگ کبھی معاشرے میں بہتر مقام حاصل نہیں کر پاتے ،
کیونکہ یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ قول و فعل کا تضاد معاشرے کے لیے تباہ کن خصلت ہے۔ یہ تضاد سماج کو برباد کر کے رکھ دیتا اور برائی کو فروغ دیتا ہے۔قابلِ قدر بندے کی پہچان یہ ہے کہ اس کے قول و فعل میں مطابقت ہونی چاہیے ، وہ جو کہے، وہی کرے۔ دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں، جو صرف باتیں نہیں، بلکہ عمل کرتی ہیں اور ان کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔
جن افراد اور اقوام کے ارادے صرف با توں تک محدود ہوں، ان میں عمل نہ پایا جاتا ہو، انھیں کبھی کامیابی نہیں ملتی بلکہ رسوائی ملتی ہے۔ان کا اعتبار ختم ہوجاتا ہے اور دنیا میں ان کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ قول و فعل میں تضاد کو اگر منافقت کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ منافقت یہی تو ہے کہ دِل ودماغ میں جو سوچ ہو، زبان سے اْس سوچ کا برعکس اظہار کیا جائے۔
قول و فعل کا تضاد ہمیں بحیثیت قوم پستی کے اس مقام تک لے آیا ہے ، جس سے نکلنا بہت ہی مشکل نظر آتا ہے۔اس کے لیے من حیث القوم ہمیں جد وجہد کرنا ہوگی، اپنے عمومی روئیے کو بدلنا ہوگا۔
اس بیماری سے چھٹکاراپائیں:
جب یہ بات واضح ہوگئی کہ قول و فعل کا تضاد منافقت کی سیڑھی ہے تو پھر یہ کام بہت قابل توجہ ہے کہ نفاق اور منافقت کو کیسے پہچانا جائے؟ کیونکہ جب مرض کی نشاندھی ہوگی تو علاج کی طرف متوجہ ہوا جائے گا۔جیسے کسی بیماری کی کچھ علامات، نشانیاں ہوتی ہیں ان نشانیوں کو دیکھ کر معالج بیماری تشخیص کرتا ہے اور پھر اس کا علاج شروع کر دیتا ہے۔اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی چار نشانیاں بتلائی ہیں اور فرمایا کہ اگر کسی شخص کے اندر ان میں سے کوئی ایک نشانی بھی پائی جائے تو اس کے اندر نفاق کی ایک علامت پائی گئی۔
پہلی علامت یہ بیان فرمائی کہ جب بات کرے تو جھوٹ بولے۔
دوسری نشانی یہ بتائی وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ جب معاہدہ کرے تو غداری کرے۔
تیسری نشانی یہ بتائی جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے
اور چوتھی نشانی یہ بتائی جب جھگڑے تو بدزبانی کرے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ارشاد فرمائی گئی ان نشانیوں میں غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان سب کی بنیاد قول وفعل میں تضاد ہے۔دیکھئے ایک شخص ایک بات کرتا ہے خبر کے طور پر، حالانکہ ایسا نہیں ہوا تو اس شخص کا قول جھوٹ ہو گا اور یہ نفاق کی نشانی ہے۔ پھر کوئی شخص وعدہ کرے یا باہمی معاہد کرے اور کہے میں یہ کروں گا یا میں اس بات کی پابندی کروں گا پھر وہ بات پورا نہ کرے
یا معاہدہ سے پھر جائے، یہ بھی قول و فعل کا تضا ہوا۔ یا کسی شخص کے پاس امانت رکھی جائے گویا کہ وہ یہ کہتا ہے کہ میں اس کی حفاظت کروں گا پھر وہ امانت میں خیانت کرنے لگے تو اب اس کی بات اور اس کے عمل میں تضاد آگیا لہذا یہ بھی نفاق کی نشانی ہو گئی۔اوپر جو آیت بیان کی گئی ہے اس میں انسان کو یہ تعلیم دی گئی کہ جو کام تم نے کرنا نہیں اس کا دعویٰ کیوں کرتے ہو؟؟
لہٰذا ایسے کام کا دعویٰ کرنے کی ممانعت معلوم ہوئی، جس کو کرنے کا عزم اور ارادہ ہی انسان کے دِل کے اندر نہ ہو، کیونکہ یہ دعویٰ جھوٹا ہو گا۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے انسان کسی کام کرنے کا دعویٰ کرتا ہے دِل میں کام کرنے کا عزم بھی ہوتا ہے، لیکن وہ کام کسی وجہ سے نہیں ہوتا تو پھر بھی انسان پر قول و فعل میں تضاد کا الزام آ جاتا ہے۔
اس لئے اللہ رب العزت نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ اگر دِل میں کسی کام کرنے کا ارادہ اور پختہ عزم ہو پھر بھی اپنے نفس اور اپنی ذات اور اپنی قوت پر اعتماد کرتے ہوئے انسان براہِ راست یہ نہ کہے کہ میں یہ کام کروں گا، بلکہ یوں کہے ان شاء اللہ میں یہ کام کروں گا، یعنی اگر اللہ نے چاہا تو یہ کام ممکن ہو جائے گا۔
یہود بے بہبود کی بری خصلت:
قول و عمل میں تضاد یعنی جو بات کہنی یا نصیحت کرنی ہے اس پر خود عمل نہ کرنا یہ بہت ہی بری خصلت و عادت ہے اور قرآن کی روشنی میں یہ یہودیوں کی ایک بری عادت کے طور پر بتلائی گئی ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
{ اَتَاْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ اَنفُسَكُمْ وَاَنتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ اَفَلاَ تَعْقِلُونَ} ( سورہ بقرہ آیت: 44)
’’ کیا تم لوگ دوسروں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہواور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ؟جبکہ تم لوگ کتاب بھی پڑھتے ہو کیا تم لوگوں کو عقل نہیں‘‘؟
اس لیے ہماری کوشش ہونی چاہیے کہ ہم اپنے اندر قول و فعل کا تضاد پیدا نہ کریں ، جس بات کی تبلیغ و نصیحت کریں پہلے اس پر خود عمل کریں، تاکہ ہم یہودیوں ،منافقوں اور بھٹکے ہوئے شعراء کی بری خصلت و عادت سے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ کی ناراضگی اور اس کے خطرناک عذاب سے بچا سکیں ۔نیز ہمارا دینی اور شرعی تقاضا ہے کہ ہم خاص کر
علماء جو انبیاء کے وارث ہیں جس بات کی دینی و شرعی تعلیم لوگوں کو دیں اُسے خود عملی جامہ بھی پہنائیں تاکہ کوئی ہماری طرف یہ کہہ کر انگلی نہ اٹھا سکے کہ یہ دیکھو خود تو عمل کرتے نہیں اور چلے ہیں نصیحت کرنے۔ اسلام اپنے ماننے والوں میں جن اخلاق و اوصاف، صفات و کمالات، عادات و اطوار اور خوبیوں کو دیکھنا چاہتا ہے ان میں سے ایک نمایاں وصف، خوبی اور عادت یہ ہے کہ
ایک مومن کے قول و فعل میں ہمیشہ اور ہر حال میں ہم آہنگی پائی جائے۔ قول و فعل کا تضاد؛ دوسرے لفظوں میں کہنا کچھ اور کرنا کچھ، ایک بزدل اور منافق کا کام تو ہوسکتا ہے مگر ایک مومن کی شان نہیں۔ مومن کا کام یہ ہے کہ وہ جو بات کہے سوچ سمجھ کر اور تول کر کہے اورجب ایک مرتبہ کہہ دے تو اپنے کہے کا ہمیشہ پاس رکھے۔ جس آدمی کے قول و فعل میں ہم آہنگی نہ ہو،
قدرتی اور نفسیاتی طور پر اس کی بات میں کوئی اثر نہیں ہوتا بظاہر تو حکمت و معارفت کے موتی بکھیرے گا لیکن ہونگے کھوکھے اور پھیکے بمثل کاغذ کے پھول،۔ اس کے برعکس جس آدمی کے قول کے پیچھے عمل اور اخلاص کی طاقت بھی ہو، اس کی بات میں لازمی طور پر ایک تاثیر ہوتی ہے۔ اسی لیے شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے کہا تھا:
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
پَر نہیں طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
قول و فعل میں تضاد کے نقصانات:
حضور والا شان ﷺ کی ساری زندگی قول و فعل میں ہم آہنگی کا ایک کامل اور بے مثال نمونہ ہے اور یہی سیرت و کردار آپ ﷺ اپنی امت کے ہر فرد خصوصاً حکام وامراء اور دینی و معاشرتی اعتبار سے متعدد لوگو ں میں دیکھنا چاہتے تھے۔وجہ صاف ظاہر ہے کہ قول و فعل کے تضاد کے دینی اور دنیوی اعتبار سے بہت شدید نقصانات ہیں۔
پہلا نقصان تو یہ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ منافقین جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن سب سے بری حالت دو چہرے والوں،یعنی منافقین کی ہوگی۔ دوسرا نقصان یہ ہے کہ یہ شخص لوگوں کی نظروں میں گر جاتا ہے، اس کی وقعت ختم ہو جاتی ہے اور اسے ذلت و رسوائی اس کا مقدر بنتی ہے۔
اس لئے زندگی میں انسان کو ہر حوالے سے اپنے قول و فعل میں مطابقت کی فکر کرنی چاہئے تاکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بارگاہ میں سرخرو ہو سکے اور معاشرے کے افراد کا اعتماد بھی حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے۔
مُنافقت دراصل ایک ایسی بشری خامی ہے جو اپنے اندر الفاظ و معنی کا ایک وسیع کینوس رکھتی ہے ۔ اِس کینوس پر الفاظ کے آپ کتنے ہی رنگ بھرتے چلے جائیں، آپ کو محسوس ہوگا کہ تشنگی اب بھی باقی ہے۔ مُنافقت کا مطلب ہے دِل ودماغ میں آپ کی جو بھی سوچ ہے،اپنی زبان سے آپ اُس سوچ کے بالکل برعکس اظہار کر رہے ہیں ۔ایک فقرے میں اگر مُنافقت کی تعریف
بیان کی جائے تو مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم پستی کے اِس مقام تک لے کر آگیا ہے، جہاں ہم اِس وقت موجود ہیں اور ڈھلان پر پھسلنے کا یہ عمل بڑی تیز رفتاری کے ساتھ اِس وقت بھی جاری ہے ۔ یہ سفر کہاں جا کے رُکے گا؟ اِس بارے میں ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ لیکن یہ یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ تنزّلی کے اِس سفر کی شروعات اُسی وقت ہوئی تھی جب ہماری قیادت میں قول و فعل کا یہی تضاد ، کالے جادو کی طرح سر چڑھ کر بولنے لگا تھا ۔ ماضی کو چھوڑیں۔ لمحہ موجود کی قیادتوں پر ایک نظر ڈالیں تو آپکو یہ تضاد قدم قدم پر نظر آئے گا ۔ ہمارے ہر حکمران ، ہر وزیر ، ہر مُشیر اور ہر سیاسی و مذہبی قائد کی زبان سے آپ کو پھول جھڑتے نظر آئیں گے ، لیکن اِن کا عمل کچھ اور ہی داستان بیان کر رہا ہوگا ۔