(+92) 319 4080233
شخصیت سازی میں بنیادی کردار
ہم سب تعریف چاہتے ہیں۔ یہ فطری امر ہے۔انسان کو تعریف کی ضرورت ایک فطری انسانی جذبہ ہے۔ جب کسی کی محنت، خوبی یا نیکی کو سراہا جاتا ہے تو اس سے نہ صرف خوشی ملتی ہے بلکہ اعتماد، حوصلہ اور جذبۂ عمل بھی بڑھتا ہے۔ تعریف ایک ایسی مثبت توانائی ہے جو انسان کو آگے بڑھنے، بہتر کرنے اور دوسروں کے لیے کچھ اچھا کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ تعریف کی وجہ سے انسان کو جذباتی سکون ملتا ہے، اس کے اندر خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے، انسان کے باہمی رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور انسان کی ترقی کا جذبہ بڑھتا ہے۔ البتہ تعریف میں اخلاص ضروری ہے جھوٹی یا مبالغہ آمیز تعریف نقصان دہ بھی ہو سکتی ہے۔ ماں کی ایک مسکراہٹ، باپ کی نظروں میں فخر، استاد کی شاباش، دوستوں کی تائید، یہ سب ہمیں زندہ محسوس کرواتے ہیں۔کیونکہ ہم صرف گوشت پوست کے جسم نہیں، ہم جذبات، احساسات اور پہچان کی بھوک رکھنے والے انسان ہیں۔اور انسان کا سب سے بڑا اندیشہ یہی ہے کہ کہیں میں غیر اہم، غیر نظر، اور غیر ضروری تو نہیں؟ لیکن یہ سب احساسات کس چیز سے جُڑے ہوتے ہیں؟یہ سب ایک گہری اور پوشیدہ نفسیاتی ضرورت سے جُڑے ہوتے ہیں جسے ہم External Validation کہتے ہیں۔اب ہم اس کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں۔یہ محض تعریف یا واہ واہ نہیں. یہ وہ باطنی پیاس ہے جو انسان کو بار بار یہ یقین دلانے کے لیے مجبور کرتی ہے کہ
اپنی اہمیت کا احساس:
"میں ٹھیک ہوں، میں کچھ ہوں، میری اہمیت ہے۔"جب کوئی ہماری بات سنے، ہمارے عمل کو سراہے یا ہمیں سادہ لفظوں میں "شاباش" دے تو یہ ہماری اندرونی شناخت کو ایک سند ملتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے ہمارے ہونے پر مہر لگا دی ہو۔یہ External Validation دراصل انسان کے اندر کے Self-Doubt کو خاموش کرنے کی ایک کوشش ہے. ہم دوسروں کی زبان سے سن کر ہی خود پر یقین لاتے ہیں، کیونکہ ہمیں بچپن میں یہ یقین اندر سے دیا ہی نہیں گیا۔چھوٹی عمر سے ہی ہم میں شامل کچھ اسباق کو سیکھنے سے شروع ہوتا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر لوگوں کی نیک نیتی کے باوجود، ہماری پرورش ناگزیر طور پر ہمارے نوجوان اور متاثر کن ذہنوں میں ایسے خیالات کو جنم دیتی ہے جو ہمیں با اختیار بنانے کے بجائے رکاوٹ بنتے ہیں۔ اور جیسے ہی ہم اپنی کنڈیشنگ کے لیے بیدار ہوتے ہیں، ہم خود کو اپنی حدود سے آزاد کرنے کے طریقے تلاش کرتے لگتے ہیں۔اپنے آپ کو اہمیت دینے سے مراد یہ ہے کہ آپ خود کو ایک قابل قدر اور اہم شخص سمجھیں کیونکہ آپ نے ایسا رویہ اورطرزعمل اپنانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اپنے وجود کو قابل اہمیت اور قابل قدر سمجھنے سے مراد یہ ہے کہ آپ کو اپنے وجود سے کسی بھی قسم کی کوئی شکایت نہیں جو لوگ بھرپور اور کامیاب زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، وہ یہ شکایت کبھی نہیں کرتے کہ راستوں میں کانٹے بچھے ہیں یا آسمان ابرآلود ہے یا برف بہت ہی زیادہ ٹھنڈی ہے۔ اپنے بدن اورذات کو عین من قبول اور تسلیم کرنے سے مراد یہ ہے کہ آپ کو اپنے وجود سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے اور خوشی سے مراد یہ ہے کہ جن چیزوں پر آپ کا بس نہیں، انہیں نہ حاصل ہونے پر آپ کو غم نہیں۔
بچپن جہاں شخصیت کا بیج لگایا جاتا ہے:
بچپن وہ آئینہ ہوتا ہے جس میں بچہ خود کو پہچانتا ہے لیکن اس آئینے میں عکس کون دکھاتا ہے؟ماں، باپ، استاد اور گھر کے بڑے۔اگر یہی لوگ مسلسل یہ کہیں: "کچھ نہیں آتا تجھے" "دیکھو فلاں کتنا اچھا ہے" "تو ہمیشہ غلط کرتا ہے" " تجھ سے نہ ہو پائے گا " تو یہ جملے بچے کے دل پر نہیں، اس کی شناخت پر حملہ کرتے ہیں۔پھر وہ بچہ بڑا ہو کر باہر کی دنیا سے مانگتا ہے: "مجھے بتاؤ کہ میں اچھا ہوں، مجھے ثابت کرنے دو کہ میں بھی کچھ ہوں!"جب بچپن میں "شاباش" نہ ملے تو انسان کے اندر ایک خالی پن جنم لیتا ہے. ایک ایسی گونج جو ہمیشہ کسی کے "Well Done" کہنے کی منتظر رہتی ہے۔ایسا بچہ بڑا ہو کر ہر رشتے میں خود کو ثابت کرنے کی دوڑ میں رہتا ہےہر کامیابی کے بعد بھی خود کو ادھورا محسوس کرتا ہےسوشل میڈیا پر پوسٹ کرکے لائکس گنتا ہے، کیونکہ ہر لائک اندر کے زخم پر ایک وقتی مرہم رکھتا ہےلیکن جو خالی پن اندر ہو، وہ باہر کی واہ واہ سے کب بھرا ہے؟"کاش امی ابو نے ایک بار کہا ہوتا کہ تم بہت اچھے ہو یہی وہ پیاس ہے جو انسان کو تمام عمر بے چین رکھتی ہے۔والدین کی خاموشی، بچے کی چیخ بن جاتی ہے بچہ نہ چاہتے ہوئے بھی بے اعتمادی کا شکار ہو جاتا ہے۔خوداعتمادی یہ ہے کہ ہم اپنی ذات اور صلاحیتوں کے بارے میں اچھا اور مثبت گمان کرنے لگیں۔ اپنے بارے میں ہم یہ محسوس کرنے لگیں ۔کہ اللہ نے ہمیں بہترین صلاحیتوں کے امکانات سے نوازا ہے۔ چنانچہ ہم کسی دوسرے انسان سے کمتر نہیں ۔بلکہ دوسروں کی طرح بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرسکتے ہیں۔بچوں کو سکھلائیں کہ وہ اپنے بارے میں یہ مثبت گمان رکھیں کہ خدا نے ان کے اندر صلاحتیوں اور امکانات کے جو بیج رکھے ہیں ۔ ان کوپروان چڑھا کر وہ ہرمیدان میں بہترین کارکردگی دکھانے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
بچے کا ادھورا پن:
جس بچے کی نظر والدین کی آنکھوں میں عزت نہ پائے، وہ دنیا کی ہر آنکھ میں اپنی پہچان تلاش کرتا ہے اور اکثر خود کو کھو دیتا ہے۔ اگر بچہ یہ نہ سن سکے کہ وہ کافی ہے، تو وہ ساری زندگی ہر "شاباش" پر جیتا ہے۔اور ہر تنقید پر ٹوٹ جاتا ہے۔اپنے بچوں کی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو سراہیں، انہیں حوصلہ دیں اور ہمت بندھائیں ۔ انہیں باور کرائیں کہ زندگی کا اصل مزہ حقیقی اور بے لوث تعلقات بنانے میں ہے کیونکہ یہ آپ کی زندگی کے طوفانوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کا کردار بھی یہی ادا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں بتلائیں کہ آپ ایک نیک مقصد کے لئے خود کو وقف کر سکتے ہیں جس کا پھل آپ کو نہ صرف دنیا میں ملتا ہے بلکہ قیامت والے دن آپ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سامنے بھی سرخرو ہوتے ہیں۔ سب سے زیادہ ضروری چیز زندگی کی چھوٹی چھوٹی اور اچھی چیزوں کو سراہنا اور ان پر صبر شکر کرنا ہے۔بچپن ہی سے انکی گھٹی میں یہ بات ڈال دیں کہ زندگی میں اونچ نیچ آتی رہتی ہے لوگ آپ سے مایوس ہوسکتے ہیں لیکن آپ کا خود پر پختہ اعتماد، محنت اور موجودہ لمحے کو بھرپور طریقے سے جینا بہت ضروری ہے۔ خود کی خوبیوں اور خامیوں کے سامنے سر خم تسلیم کرنے سے بھی بہت سی مشکلات آسان ہوتی ہیں۔ لوگ کیا کہتے کیا سوچتے ہیں آپ کو اس کی پرواہ نہیں ہوتی۔انہی حکمت عملیوں سے آپ اپنی زندگی کو بہترین بنا سکتے ہیں اور ایک ایسی داستان تخلیق کر سکتے جس کے مصنف صرف اور صرف آپ ہوں گے اور بہت سوں کو ان کی اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے، اپنانے اور فخر محسوس کرنے کے لئے متاثر بھی کر سکتے ہیں۔
لوگ کیا کہیں گے:
یہ ایسی برائی ہے جو انسان کی اصل "میں" کو دھندلا کر دیتی ہے۔ایسا شخص ہر فیصلہ صرف اس لیے کرتا ہے کہ "لوگ کیا کہیں گے؟"اپنی خوشی قربان کرتا ہے تاکہ دوسروں کی امیدوں پر پورا اترے. اندر سے خالی ہوتا ہے، مگر باہر سے کامیاب دکھنے کی کوشش میں گھلتا رہتا ہے. تنقید اسے گرا دیتی ہے، کیونکہ وہ اپنی قدر دوسروں کے لفظوں پر رکھتا ہے بچوں میں یہ اعتماد پیدا کریں جو لوگ کسی کی پرواہ کیے بغیر اپنا کام کرتے ہیں، وہ کامیاب ہوتے چلے جاتے ہیں اور جو لوگ معاشرے کی باتوں اور لوگ کیا کہیں گے؟ کے خوف کی وجہ سے کوئی کام نہیں کرتے، وہ کبھی ترقی نہیں کرپاتے۔ اگر کوئی شخص یہ سوچنے لگے کہ گھوڑے پر سوار ہوکر کیسا دکھائی دے گا تو وہ کبھی گھڑ سوار دستے کا سربراہ نہیں بن سکتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تعریف مانگنا غلط ہے؟ تو اس کا جواب ہے نہیں!! بالکل نہیں تعریف، سراہنا اور واہ واہ سننا یہ سب جذباتی خوراک کا حصہ ہیں۔لیکن اگر آپ کی پوری شناخت دوسروں کی آنکھوں سے طے ہو رہی ہے، تو یہ آپ کا جینا نہیں، بس نظر آنے کی ایک دوڑ ہے۔اصل طاقت تب آتی ہے جب انسان یہ جان لے کہ میں واقعتاً قیمتی ہوں۔ چاہے کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے۔یہ جملہ انسان کو ہر رشتے، ہر ناکامی اور ہر تنقید میں بھی زندہ اور مستحکم رکھتا ہے۔ بچوں کو صرف سراہیں نہیں بلکہ ان کے اندر بھی روشنی جلائیںانہیں سکھائیں کہ ان کی نیت ان کی سب سے بڑی طاقت ہے، غلطی سیکھنے کی پہلی سیڑھی ہے، ان کی قدر واہ واہ سے نہیں، ان کے عمل سے ہے. کہ اگر دنیا خاموش ہو جائے تب بھی ان کی ذات بلند ہے.یہ سبق اگر بچپن میں مل جائے تو بچہ بڑا ہو کر سوشل میڈیا کا غلام نہیں، اپنی سوچ کا بادشاہ بنتا ہے۔اگر کوئی شخص آج اس لیے لکھنا شروع نہیں کرتا کہ اس کی بے ربط تحریر کو دیکھ کر لوگ کیا کہیں گے؟ تو کل یہ شخص بڑا مصنف بھی نہیں بن سکتا۔ اگر ہم لوگوں کی رائے کا اثر لینا چھوڑ دیں اور اپنے فائدے اور نقصان کو سامنے رکھ کر کوئی بھی کام کریں تو زندگی کامیاب، بے حد سادہ اور آسا ن ہو سکتی ہے۔ بچپن ہی سے اس بات کی تربیت دیں کہ دنیا میں ایسے لوگوں کی فہرست بہت طویل ہے، جنھوں نے لوگوں کی باتوں کی پرواہ کیے بغیر کوئی معمولی سا کام شروع کیا، مسلسل محنت اور جدوجہد کی اور زندگی میں بہت بلند مقام حاصل کیا۔ دنیا میں ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جنھوں نے صرف لوگ کیا کہیں گے؟ کے خوف کی وجہ سے محنت چھوڑدی اور حاصل ہوتی ہوئی کامیابی کو ناکامی میں بدل لیا۔معمولی سی بات سے لے کر زندگی کے اہم امور طے کرتے وقت ہماری زندگی اس ایک جملے کے گرد گھومتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے؟ کوئی کام کرنے سے پہلے اس کا انجام سوچنے کے بجائے ہم یہ سوچتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے؟ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ہماری بھلائی کس کام میں ہے؟ محض اس خوف سے کہ لوگ کیا کہیں گے، ہم اپنی زندگی سے متعلق کئی فیصلے غلط کرلیتے ہیں۔ زندگی میں وہ کام کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں، جو ہم نہیں کرنا چاہتے۔ '' لوگ کیا کہیں گے؟'' کا تصور ایک آزاد سوچ کو دبانے کی کوشش کا نام ہے۔
آخری بات:
ایک سوال اور ایک کام آپ کے اندر آج بھی وہ بچہ زندہ ہے جو صرف ایک شاباش کا انتظار کرتا ہے۔ کیا آپ نے کبھی اسے گلے لگایا؟آج خود سے کہیے: "میں کافی ہوں، میں مکمل ہوں، میں اہم ہوں چاہے دنیا کچھ بھی کہے!" اور اگر آپ کسی کے ماں باپ ہیں، استاد ہیں، مینٹورہیں تو آج کسی بچے سے بس اتنا کہیے: "مجھے تم پر فخر ہے!" کیا پتہ آپ کے یہ پانچ الفاظ کسی کی پوری زندگی بدل ڈالیں۔بچوں کا یہ جاننا ضروری ہوتا ہے کہ والدین ان سے پیار کرتے ہیں۔ جو کہ والدین بچے کو توجہ، تعریف اور حوصلہ افزائی کے ذریعے دکھلا سکتے ہیں۔ حوصلہ افزائی ملنے سے بچے کو سہارا محسوس ہوتا ہے اور یقین ملتا ہے کہ وہ نئے چیلنجز کا سامنا کر پائے گا۔ نئی صلاحیتوں کو تعریف اور حوصلہ افزائی کے ذریعے سکھانا ایک اچھا طریقہ ہے۔ اکثر و بیشتر بچے وہ کام زیادہ کرتے ہیں جس سے ان کو بڑوں کی طرف سے توجہ ملے ۔ والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی توجہ بچے کی مثبت رویہ کی طرف متوجہ کریں ۔ تعریف اور حوصلہ افزائی سے بچہ زیادہ اچھا رویہ اختیار کرے گا۔ خود اعتمادی پختہ ہوتی ہے ، والدین اور بچوں کے درمیان رابطہ بہتر ہوتا ہے ، گھر کا ماحول اچھا ہوتا ہے، اور بچہ سیکھنے اور اچھے تعلق کےلئے آسانی سے آمادہ ہو جاتا ہے ۔

کالم نگار : توصیف الرحمن
| | |
445