(+92) 321 2533925
نصاب تصوف
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ہر علم کا ایک نصاب ہوتا ہے،اس نصاب کے ذریعے سے اس علم میں مہارت پیدا ہوتی ہے اور بغیر نصاب کیے کوئی بھی شخص اس علم کی حقیقت کو نہیں جان سکتا لہٰذا تصوف کا بھی اپنا نصاب ہے جس کے ذریعے سالک کو روحانی ترقی نصیب ہوتی ہے اور وہ رفتہ رفتہ مدارج طے کرتا جاتا ہے، اس نصاب کی چیدہ چیدہ شرائط درج ذیل ہیں: ۱۔سالک اہل سنت والجماعت سے تعلق رکھتاہو۔ ۲۔پنج وقتہ نمازوں کی پابندی کرتا ہو۔ ۳۔ اشراق، چاشت، اوبین، تہجد، صلوٰۃ الحاجۃ، تحیۃ الوضو، تحیۃ المسجد، ایام بیض اور پیر و جمعرت کے روزے رکھتاہو۔ ۴۔حلال روزی کمائے،کھائے، ہر قسم کے حرام اور مشتبہ سے پرہیز کرے۔ ۵۔تمام اراکینِ اسلام کی حتیٰ الوسع پابند ی کرے۔ ۶۔ذکر جہری وخفی کااہتمام کرے۔جو شیخ کی طرف سے تلقین کیا گیا ہے۔ ۷۔ہر سلسلے کے اسباق کو شیخ کی رہنمائی سے اہتمام کے ساتھ پورا کرے۔ ۸۔ہر سلسلے کے تمام لطائف کو پہچانے، قلب، روح، سر، خفی، اخفیٰ، نفس اور سلطان الاذکار کی حقیقت پہچانے اور ان پر اذکار کرے۔ ۹۔عالم ناسوت،عالم جبروت،عالم ملکوت اور عالم لاہوت ان چاروں عالموں کو پہچانے۔ ۱۰۔دو سریریں ہیں ،دو مشرب ہیں،دو مقام ہیں فنا فی اللہ او ربقا باللہ ۔
سلاسل کی نسبت:
سلاسل میں سلسلہ نقشبند کی سند جو حضرت صدیق اکبر ؓ سے جاملتی ہے اور باقی اسناد حضرت علیؓ سے جاملتی ہیں،ان پر جب سالک محنت کرتا ہے اور لطائف پر محنت کرتا ہے تو اس کے لطائف کھلنا شروع ہوجاتے ہیں۔جب لطیفہ نفس کھلتاہے تو عالم ناسوت کے احوال اس پر کھلنا شروع ہو جاتے ہیں، اس ایک لطیفے پر جادوگروں نے بے انتہا محنت کی ہے، اس کی بدولت وہ اپنا عمل کرتے ہیں۔بعض لطائف کا تعلق خلق سے اور بعض کاعالم امر سے ہے۔عالم خلق سے دو لطیفوں کا تعلق ہے نفس اور سلطان الاذکاراور پانچ کاعالم امر سے تعلق ہے قلب،روح،خفی،اخفیٰ اور سر۔مقامات دو ہیں عالم خلق اور عالم امر۔نبی اکرمﷺ کے نام بھی دو ہیں محمد اور احمد۔آپ کا عدد بھی علم الاعداد میں دو آتا ہے۔ ہر علم کو حاصل کرنے کے طریقے بھی دو ہیں علم الیقین اور حق الیقین اور عین الیقین حق الیقین میں آجاتا ہے۔علم بھی دو ہیں علم ظاہر اور علم باطن اور راستے بھی دو ہیں ایک خیر کا راستہ اور دوسرا شر کا،اقوام بھی دو ہیں کافر اور مسلمان۔کفار صرف لطیفہ نفس پر محنت کرتے ہیں یہ لطیفہ عالم ناسوت سے تعلق رکھتا ہے،اس ایک لطیفے کی بدولت دنیاکا سارا نظم ان کے ہاتھوں میں ہے وہ پانی پر چل رہے ہیں،ہواؤں میں اڑ رہے ہیں، ترقیاں کررہے ہیں،ان کو جو کچھ حاصل ہے اس ایک لطیفے کی بدولت حاصل ہے،یہ کمال نہیں ہے۔کتنی بھی ترقی کرلیں ایمان سے محروم ہیں اس لیے خسارے میں ہیں،اہل ایمان پر اللہ نے زمین وآسمان کی ابتدا وانتہا کے دروازے بھی کھول رکھے ہیں ،جب کہ کفار کی پرواز ان دونوں کے درمیان تک ہی محدود ہوتی ہے۔ صحیح العقیدہ مسلمان دنیاکی تہہ تک بھی اور آسمان کی بلندیوں تک بھی سفر کر سکتا ہے،یہ تو ایک لطیفے کی بات ہے،اگر سب کی حقیقت بیان کی جائےتو ضخیم کتاب بن جائے۔اگر ہم ان کمالات کو پہچان لیں تو ساری دنیا ہمارے قدموں تلے آجائے۔آج بھی ایسے باکمال لوگ موجود ہیں جن کو ان لطائف پر مہارت حاصل ہے،انہی کی حقیقی بادشاہی ہے۔
مشائخ کی اجازت کیونکر ضروری ہے:
تجربہ شاہد ہے کہ جب مشائخ اجازت عطا فرماتے ہیں تو مرید کے قلب میں نور داخل ہوجاتا ہے اور یہ نور اس کے مرشد کو سابقہ مشائخ سے سلسلہ وار ہوتا ہوا حاصل ہوتا ہے۔ وہی نور شیخ کامل مرید صادق کے قلب میں انڈیل دیتا ہے، یوں اس مرید کی کڑی کو سابقہ مشائخ کی کڑی کے ساتھ جوڑ دیتا ہے اور یہ کڑی نبی اکرم ﷺ کے ساتھ جا ملتی ہے اور جب کبھی کوئی شخص اس کڑی سے جڑ جاتا ہے تو وہ نفس و شیطان شرور سے محفوظ ہو جاتا ہے اور جتنی کمزوری دکھاتا ہے اس کی کڑی اتنی ہی کمزور ہوتی چلی جاتی ہے یہ اللہ کی رسی ہے سالک کو چاہیے کہ اسے مضبوطی سے تھامے رکھے ورنہ نفس وشیطان کالقمہ بن جائے گا۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {لَاۤ اِكْرَاهَ فِی الدِّیْنِ ﳜ قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّۚ-فَمَنْ یَّكْفُرْ بِالطَّاغُوْتِ وَ یُؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقٰىۗ-لَا انْفِصَامَ لَهَاؕ-وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ} (سورہ بقرہ آیت:256) "دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت کی راہ گمراہی سے خوب جدا ہوگئی ہے تو جو شیطان کو نہ مانے اور اللہ پر ایمان لائے اس نے بڑا مضبوط سہارا تھام لیا جس سہارے کو کبھی ٹوٹنا نہیں اور اللہ سننے والا، جاننے والاہے" خوب واضح ہو کہ یہ رسی ٹوٹتی تو نہیں البتہ چھوٹتی ضرور ہے۔ جب سالک کی گرفت کمزور پڑی یہ رسی ہاتھ سے پھسل جائے گی۔ سلاسل اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں جو مشائخ کو حضرات صحابہ کرامؓ سے حاصل ہوئے ہیں۔سلسلہ نقشبند حضرت ابو بکر صدیقؓ سے اور باقی سلاسل حضرت علیؓ سے ہیں اسی طرح اویسی سلسلہ حضرت عمر فاروق ؓ سے حاصل ہوا ہے۔ان سلاسل کو نہ صرف نعمت عظمیٰ سمجھنا چاہیے بلکہ انکی قدر بھی کرنی چاہیے۔ جس کو باطن میں اویسی سلسلہ حاصل ہوا ہے ظاہر میں ان کا شیخ  موجود ہوتا ہے ، جب مجدد الف ثانیؒ  کو مجدیدیہ کی نسبت حاصل ہوئی تو ظاہر میں ان کے شیخ خواجہ باقی باللہ موجود تھے۔اسی طرح جب شیخ ابوالحسنؒ کو سلسلہ شاذلیہ کی نسبت حاصل ہوئی تو ظاہر میں ان کے شیخ عبدالسلام شیش ؒ موجود تھے۔
شیخ سید نور زمان نقشبندی شازلی کا مرتبہ:
مرشد و مربی، خادم الامت سید نور زمان کو جب نقشبندی شاذلی کی نسبت حاصل ہوئی تو ظاہر میں ان کے مشائخ سید احمد علی شاہؒ، مولانا محمد امین شاہؒ، مفتی رشیداحمد لدھیانویؒ اور قاری ضیاءاللہ شاہ ؒ موجود تھے۔ایک روز مرشد سے سید احمد علی شاہؒ نے کہاکہ نور زمان تمھاری نسبت کیا ہے؟ حضرت نے فرمایا کہ میری نسبت نقشبندی شاذلی ہے تو شیخ سید احمد علی شاہؒ مراقب ہوئے اور پھر گردن اٹھاکر فرمایا کہ ٹھیک ہے،اسی پر رہو اور اسی نسبت کو بڑھاؤ، آپ کی نسبت درست سمت پر گامزن ہے۔ بہرحال! یہ سلاسل ہمیں جوڑنے کا سبب ہیں اس میں بے شمار انوارات ہیں جو بآسانی حاصل نہیں ہوتے، مشائخ کی کڑی اور نسبت کے ساتھ جڑنا ہوگا۔جو جتنا مخلص ہوکر جڑے گا اتنے ہی انوارات اس کی طرف متوجہ ہوں گے،اگر دل میں فتور ہوگا تو قریب ہوتے ہوئے بھی انوارات اس کی طرف متوجہ نہیں ہوں گے اور وہ محروم ہی رہے گا۔منافقین کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ جو لوگ اس خیال میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ براہ راست نسبت اور سلسلہ حاصل کریں گے یہ ان کی خام خیالی ہے ،ایسا نہیں ہوتا،اللہ تعالیٰ صدیوں بعد کسی کو اس کے مشائخ کی موجودگی میں سلسلہ و نسبت عطا فرمادیتے ہیں۔ہمیں اپنے سلسلہ و نسبت کی قدر کرنی چاہیے،جتنی قدر کریں گے اللہ اتنے ہی فیوضات و انوارات سے مستفید فرمائیں گے۔براہ راست نسبت اللہ تعالیٰ نے صرف انبیائے کرام علیہم السلام کو عطا فرمائی ہے اور یہی انکی شان کو زیبا ہے، ان کے علاوہ کسی کو نہیں۔صحابہ کرام ؓ کو نسبت نبی اکرم ﷺ سے، تابعین کو صحابہؓ سے اور تبع تابعین کو تابعین سے نسبت عطا ہوئی۔ ہمیں چاہیے کہ کاملین کو تلاش کرکے ان کی صحبت اختیار کریں اللہ ضرور نوازے گا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: {یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ} (سورہ توبہ آیت:119) "اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ" جب مرید اپنے مشائخ کی صحبت میں آتا ہے تو اس کے باطن کا نور تازہ ہوجاتا ہے۔ یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ مرید کتنا ہی اعلیٰ و ارفع مقام پر کیوں نہ چلا جائے اگر مرشد حیات ہے تو اس کی صحبت اس پر لازم ہوگی۔ جب نور دل میں داخل ہوتا ہے تو سالک میں عاجزی وانکساری آجاتی ہے،اپنی انا کو وہ مٹا دیتا ہے،لوگوں کی نگاہوں میں تو وہ بڑا ہوتا ہے لیکن اپنے آپ کو اپنی نگاہ میں سب سے چھوٹا سمجھتا ہے۔جیساکہ حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے پاس جب کوئی بیعت کرنے آتا تو فرماتے کہ یہاں میرے پاس کیا لینے آئے ہو، جاؤ مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے پاس،ان کی صحبت اختیار کرو، وہ بڑے پائے کے بزرگ ہیں۔جب مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کے پاس کوئی بیعت کرنے آتا تو فرماتے کہ یہاں میرے پاس کیا لینے آئے ہو میاں، جاؤ مولانا محمد قاسم نانوتویؒ کے پاس،ان کی صحبت اختیار کرو وہ بڑے پائے کے بزرگ ہیں۔یوں ان کامل مشائخ نے اپنے آپ کو فنا کیا ہوا تھا۔اور سلوک درحقیقت یہی درس دیتا ہے کہ اپنے آپ کو مٹادو،جو جتنا اپنے آپ کو مٹائے گا اتنی ہی ترقیات سے نوازا جائے گا۔ بقول شاعر: مٹادے اپنی ہستی کو گر کچھ مرتبہ چاہے کہ دانا خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے

کالم نگار : مولانامفتی امان اللہ نقشبندی شاذلی
| | |
650     3