(+92) 321 2533925
کیا زمین گول ہے ؟
قرآن کتاب ہدایت ہے ، اس میں ہر دور کے ذہن کو مطمئن کرنے کی صلاحیت موجود ہے ، یہی اس بات کی دلیل ہے یہ کوئی انسانی کلام نہیں ، بلکہ اس خدائے وحدہ لاشریک کا فرمان ہے ، جس نے تمام کائنات کو پیدا کیا اور ان میں اسباب وعلل کو جاری کیا ، ہمارا دور سائنس وٹیکنالوجی کا ہے، آج ضرورت ہے کہ قرآن کے سائنسی اعجاز کو اجاگر کیا جائے اور اس سے دعوت دین کا کام لیا جائے، یہ حقیقت ہے کہ قرآن کریم سائینس کی کوئی کتاب نہیں ، لیکن اس حقیقت سے بھی مجال انکار نہیں کہ قرآن کریم میں بہت سے سائنسی حقائق مذکور ہیں، انہی حقائق میں ایک اہم حقیقت " زمین کی گولائی اور اسکی حرکت " ہے ۔دور جدید میں جہاں علم عام ہوتا جارہا ہے اور اور ہر خاص و عام کی معلومات قابل فہم ہوگئی ہیں وہیں بہت سے شکوک وشبہات اور غلط فہمیاں بھی پھیلا دی جاتی ہیں۔انہیں میں سے چند سوالات یہ ہیں کہ کیا قرآن مجید زمین کے گول ہونے کے تصور سے متصادم ہے؟ یہ سوال اکثر ذہنوں میں آتا ہے کہ اگر زمین گول ہے تو قرآن نے اس کا ذکر کیوں نہیں کیا؟؟کیا واقعی قرآن میں زمین کو صرف پھیلا ہوا اور چپٹا کہا گیا ہے؟کیا یہ نظریہ سائنسی حقیقت سے ٹکراتا ہے؟ آئیے بات کرتے ہیں دلائل، آیات، احادیث اور عقل کی روشنی میں، مگر ادب، فہم اور انسانیت کے انداز سے کہ ادراک و ادب کا گہرا رشتہ ہے۔
زمین کی گولائی پر آیات قرآنی:
{ اللَّهُ يُكَوِّرُ اللَّيْلَ عَلَى النَّهَارِ وَيُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى اللَّيْلِ } (سورہ زمر آیت 5) ترجمہ: "اللہ رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر" یہاں لفظ "يُكَوِّرُ" کا مطلب ہے لپیٹنا، جیسے کپڑا گول چیز پر لپیٹا جاتا ہےیہی گھومنے والی زمین پر دن رات کے آنے جانے کی مکمل تصویر ہےاگر زمین چپٹی ہوتی تو رات دن کے آنے جانے کی یہ شکل ممکن نہ ہوتی۔اگرچہ جدید سائنس نے تحقیقی و سائنسی مشاہدات کے بعد یہ بات تسلیم کی ہے کہ آسمان اور زمین گول ہے جبکہ قرآنِ مجید نے 1400 سال پہلے ہی اس حقیقت کا انکشاف کردیا تھا. ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ {والأَرْضَ بَعْدَ ذَٰلِكَ دَحَاهَا} (سورہ نازعات آیت 30) ترجمہ: "اور زمین کو اُس کے بعد پھیلایا" "دَحَاهَا" عربی زبان میں صرف بچھانے کا مطلب نہیں رکھتابلکہ لغوی طور پر یہ بیضہ یعنی شتر مرغ کے انڈے کی شکل جیسی گولائی کو بھی ظاہر کرتا ہےیعنی زمین کی شکل بیضوی ہے نہ بالکل گول، نہ بالکل چپٹی، جو کہ سائنس بھی مانتی ہے زمین کی گولائی والی شکل او زمین کی محوری حرکت جسے قرآن نے متعدد آیات میں عیاں کیا ہے، ان لوگوں کے لئے ایک مکمل اور خوبصورت جواب ہے جو سائنس کی کچھ سطحی کتابیں رٹنے کے بعد معاذ اللہ اسلام کا مذاق اڑاتے ہیں۔ سورۃ النٰزعٰت تخلیق سے متعلق متعدد اسرار کو بیان کرتی ہے۔ جب زمین نے بیضوی شکل اختیار کرلی تو بالترتیب پہلے اس پر پانی کا انتظام کیا گیا۔ پھر اس پر ابتدائی نباتات کو چارے کی صورت میں پیدا کیا گیا۔ جدید دور کے ارضی طبیعات کے علم کے نظریات اس ترتیب سے پوری طرح متفق ہیں۔ جب زمین نے اپنی بیضوی شکل اختیار کرلی تو پھر اس پر کرہ آب (قشر ارض کا آبی حصہ بشمول سمندر اور سارے پانی کے) وجود میں آگیا اور سمندوں کی تشکیل ہوئی۔ نباتاتی حیات بعد میں ظہور پذیر ہوئے۔ اگر اس آیت پر تحقیق اس مکمل ہم آہنگی کی بنیاد پر کی جائے تو اس کے مکمل اور معجزاتی علم اور دانائی کو با آسانی سمجھا جاسکتا ہے۔ ایک مقام پر ارشاد فرمایا: {ربُّ الْمَشْرِقَيْنِ وَرَبُّ الْمَغْرِبَيْنِ} ( سورہ رحمٰن آیت 17) ترجمہ: "وہ دو مشرقوں اور دو مغربوں کا رب ہے" یہ اشارہ ہے کہ مشرق و مغرب صرف ایک سمت نہیں، بلکہ زمین کے گول ہونے کی وجہ سے مختلف مقامات پر سورج کا طلوع و غروب بدلتا رہتا ہےجو سائنس آج بتاتی ہے، قرآن نے صدیوں پہلے اس طرف اشارہ کر دیا تھا۔
زمین کی گولائی پر احادیث نبویﷺ:
احادیث میں زمین کی شکل کے بارے میں براہِ راست کوئی سائنسی وضاحت موجود نہیں، لیکن کچھ احادیث ایسی ہیں جن سے علماء نے استنباط کیا ہے کہ زمین گول ہو سکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے زمین کی شکل یا اس کے گھومنے کا سائنسی زبان میں تذکرہ نہیں فرمایا، کیونکہ دین کا مقصد ہدایت ہےنہ کہ سائنسی اختراعات، البتہ حدیث میں ایسی دعائیں ملتی ہیں جن میں زمین، آسمان، سورج اور چاند کی ترتیب اور اللہ کی عظمت کا ذکر موجود ہے جیسے کہ ارشاد فرمایا: "اللَّهُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعِ وَمَا أَظَلَّتْ، وَرَبَّ الْأَرَضِينَ السَّبْعِ وَمَا أَقَلَّتْ" ترجمہ: اے اللہ، سات آسمانوں اور جو کچھ اُن میں ہے، ان کا رباور سات زمینوں اور جو کچھ اُن میں ہے، اُن کا رب۔ یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ زمین کا بھی ایک نظام ہے، تہیں ہیں، جسے آج کی جیولوجی (زمین کی ساخت) بھی تسلیم کرتی ہےایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "جب سورج غروب ہوتا ہے تو وہ عرش کے نیچے سجدہ کرتا ہے" اس حدیث کی تفسیر میں علماء نے مختلف آراء دی ہیں، لیکن یہ حدیث زمین کی شکل پر کوئی حتمی دلیل فراہم نہیں کرتی، بلکہ بعض نے اسے مجازی معنی میں لیا ہے۔ اس کے علاوہ مسئلہ معراج بھی کبھی کبھار بحث میں آتا ہے کہ نبی ﷺ نے ایک ہی رات میں زمین کے مختلف حصوں کا سفر کیا، جو زمین کی کرویت (گولائی) سے ہم آہنگ ہو سکتا ہے، لیکن یہ استدلال قیاسی ہے۔
زمین کی گولائی باعتبار لغت:
جب آپ غور و فکر کریں گے تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام ہمارے حضورﷺ کے پاس اللہ کا الہام (وحی) لے کر آئے تو حضرت دحیہ کلبیؓ کی شکل میں آئے اور بتا گئے کہ زمینی کی بناوٹ بیضوی بھی ہے اور وہ جھومتی کودتی بھاگ بھی رہی ہے۔ ''الدحیہ‘‘ کے نام سے عرب تقریبات میں لوک رقص ( گول دائرے میں) آج بھی سعودی عرب کے شمالی علاقے، اردن، عراق، جزیرہ نما سینا، فلسطین، شام اور بعض خلیجی ریاستوں میں ہوتا ہے۔ لیبیا اور فلسطین میں آج بھی انڈوں کو ''الدُحیٰ‘‘ کہا جاتا ہے اور جس جگہ مرغی انڈے دیتی ہے اسے ''مدحیٰ‘‘ کہا جاتا ہے۔ یاد رہے! زمین کے بنیادی طور پر تین حصے ہیں، اس کا درمیانی حصہ یعنی خط استوا ایسے پیٹ کی طرح ہے جو آگے کو بڑھا ہوا اور پھولا ہوا ہے۔ شمالی سرا قطب شمالی کہلاتا ہے اور جنوبی سرا قطب جنوبی کہلاتا ہے۔ انڈے کے بھی یہی تین حصے ہیں۔ درمیان کا حصہ پھولا ہوا ہے۔ یہ ''خط استوا‘‘ ہے جبکہ اوپر نیچے کے دونوں سرے شمالی اور جنوبی ہیں۔ یہ محض حسنِ اتفاق نہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حضرت دحیہؓ کی صورت و شکل میں اللہ کی وحی لے کر آیا کرتے تھے بلکہ یہ تو ایک طے شدہ ربانی پروگرام تھا کہ اہلِ زمین کو آگاہ کیا جائے کہ یاد رکھو! زمین کی شکل اور رقص (گردش) حضرت دحیہؓ کے نام جیسی ہے۔ ''لسان العرب‘‘ میں ہے کہ ''دَحَا‘‘ مادے سے ''الدحداح‘‘ مرد ہے اور ''الدحداحۃ‘‘ عورت ہے اور عربی میں یہ نام اس کا رکھا جاتا ہے جس کا چہرہ ''مستدیر‘‘ ہو یعنی گولائی میں ہو مگر ایسی گولائی کہ جو قدرے بیضوی ہو اور اس پر خشکی نہ ہو بلکہ ملائمت اور تری ہو۔ یہی تو زمین ہے کہ جس کی ساخت اور بناوٹ بیضوی ہے۔ اس کا ستر فیصد حصہ پانی ہے اور پانی میں لزوجیت یعنی ملائمت ہے اور باقی 30 فیصد خشکی ہے۔
زمین کی گولائی اور علماء و مفکرین:
سلف صالحین میں سے حضرت ابن عباسؓ وغیرہ فرماتے ہیں کہ: ''فلک چرخ کے کتلہ کے محور کی طرح گول ہوتا ہے اور یہ (آسمان و زمین کے) گول ہونے کی صریح دلیل ہے اور ویسے بھی لغت میں ہر گول چیز کے لئے لفظ فلک استعمال کیا جاتاہے۔'' مسلم سائنسدانوں کا شروع سے یہ موقف رہا کہ زمین گول ہے۔ آٹھویں صدی ہجری کے عظیم مجتہد شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اس موضوع پر اپنے فتاویٰ میں جابجا بحث کی ہے۔شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ رقمطراز ہیں کہ اہل علم کے نزدیک زمین گول ہے، اور جو اسے سمجھتا ہے، وہ جانتا ہے کہ قرآن اس کی تردید نہیں کرتا۔ "امام ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ زمین کے گول ہونے پر دلائل قطعی ہیں اور یہ قرآن کے ظاہر سے بھی متصادم نہیں" امام رازی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ زمین گول ہے لیکن بڑی ہونے کی وجہ اس کا ہر ٹکڑا مسطح اور ہموار نظر آتا ہے۔ امام ابوالحسن منادی رقمطراز ہیں کہ سلف صالحین کا اس بات پر اجماع رہا ہے کہ تمام حرکات، زمین و سمندر سمیت، گیند کی مثل ہے اور اس پر دلیل ہے کہ سورج، چاند اور ستارے ایک ہی وقت پر طلوع و غروب نہیں کرتے زمین کے تمام علاقوں میں، بلکہ وہ مشرق میں پہلے کرتے ہیں مغرب سے۔
زمین کی گولائی پر عقلی و سائنسی دلائل:
اگر آپ کسی ساحلی علاقے پر کھڑے ہو کر سمندر کی طرف دیکھیں تو بحری جہاز آہستہ آہستہ نیچے کی طرف غائب ہوتا ہےیہ مشاہدہ اس بات کا ثبوت ہے کہ زمین چپٹی نہیں بلکہ گول ہے ، نیزخلا سے لی گئی ہزاروں تصاویر میں زمین ہمیشہ گول دکھائی دیتی ہےاگر زمین واقعی چپٹی ہوتی، تو خلا میں بھی ویسی ہی نظر آتی چاند گرہن کے وقت زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے اور وہ سایہ ہمیشہ گول ہوتا ہے، جو صاف بتاتا ہے کہ زمین بھی گول ہے۔ جب ہم چاند، سورج، مریخ، عطارد، مشتری وغیرہ کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ سب کے سب گول ہیں، بلکہ جتنے بھی سیارے ہمارے اس نظام شمسی میں ہیں سب ہی گول ہیں، تو ہم اس زمین کو کس بناء پر اس سے مستثنیٰ کریں جب کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے اس کے سیدھے ہونے کا، منطقی بات اس صورت میں یہی ہوگی کہ یہ زمین بھی گول ہے۔اسکے علاوہ، مختلف جگہوں پر مختلف ٹائم زونز اور افق ہونا، اور مختلف جگہوں پر مختلف ستاروں کے بروج کا نظر آنا بھی اس بات کی دلیل ہے۔ سب سے واضح دلیل تو از خود تصاویر ہیں اس زمین کی جو اب تک ہمیں مصدقہ ذرائع سے موصول ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں کشش ثقل (گریویٹی) اس مقناطیسی قوت کو کہتے ہیں جو زمین کے مرکز میں پائی جاتی ہے اور دنیا کی تمام چیزوں کو واپس زمین کی طرف کھینچتی ہے۔زمین کے گول ہونے کا مطلب ہے کہ گریویٹی تمام سمتوں سے ایک ساتھ اور ایک جیسا کام کرے گی لیکن اگر زمین گول کے بجائے چپٹی ہوگی تو گریویٹی اس کے بیچ کے حصے کی طرف تمام چیزوں کو کھینچے گی۔ خلا کی گہرائیوں سے جو تصاویر لی گئی ہیں، ان سے پتا چلتا ہے کہ خلا تو کپڑے کی بُنت کی طرح ہے۔ سمندر اور ریگستان کی لہروں اور سلوٹوں کی طرح ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں آسمان کی قسم کھا کر فرماتے ہیں کہ وہ ''ذات الحُبُک‘‘ یعنی جالی دار ہے۔ جی ہاں! چاند بھی جالی دار بُنت میں 29 اور 30 دن اپنی منزلوں میں چلتا ہے اور زمین، سورج اور باقی سیارے‘ ستارے بھی اسی طرح چل رہے ہیں۔ عرب لوگ پیٹ کے پھیلائو کو ''دحو‘‘ کہتے ہیں اور شتر مرغ کے انڈے کو بھی ''دحو‘‘ کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ زمین میں ''دحو‘‘ ہے۔ ساڑھے چودہ سو سال بعد آج کی زمینی پیمائش یوں سائنسی علم بن کر سامنے آیا کہ انڈے کی طرح لمبوتری زمین شمالاً اور جنوباً 12713 کلومیٹر ہے۔ شرقاً غرباً 12756 کلومیٹر ہے۔ یعنی اس کا پیٹ پر جانب ہر جانب سے بڑھا ہے۔ یہ اپنے محور پر 1670 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ اس گھمائو میں بھی یہ زاویے بدلتی چلی جاتی ہے اور ساتھ ساتھ سورج کے گرد بھی زاویے بدل کر چکر لگا رہی ہے۔ جیسے جیسے ہم زمین سے باہر کی طرف اوپر کو بلند ہوتے جائیں گے ویسے ویسے ہوا کا یہ کرہ بڑی تیزی کے ساتھ راقیق ہوتا جاتا ہے لیکن ایک مقام سے اوپر نہایت رقیق ہوکر غبار کے ساتھ سیکڑوں میل تک پھیل گئی ہے اور اس کا احتتام کسی خاص مقام پر نہیں ہوتا جیسے جیسے یہ خلائی کرہ رقیق ہوتا جاتا ہے ویسے ویسے اس کی بہت سی تہہوں کی خصوصیات میں بھی فرق آتا جاتا ہے اور اسی لحاظ سے ان کے نام بھی بدلتے رہتے ہیں
زمین کی گولائی پر لغو عتراضات:
کچھ لوگ غرب و شرق میں آج بھی موجود ہیں جو اس بات کی قائل ہیں کہ ہماری زمین گول نہیں ہے بلکہ مسطح ہے، اور کہ حکومتیں اکاذیب اور بچوں کو بچپن سے جھوٹ پڑھا کر قائل کر دیا جاتا ہے کہ دنیا گول ہے۔ جبکہ انکے مطابق عقل اور کامن سینس کہتی ہے کہ دنیا مسطح ہے۔اسی طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن کے مطابق زمین کو بچھایا گیا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: {وَاِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْ} (سورہ غاشیہ آیت:20) "اور زمین کو دیکھو کیسے بچھائی گئی ہے" معلوم ہوا کہ زمین مسطح و ہموار ہے ، گول چیز بچھائی نہیں جاتی جیسے فرش کو بچھایا جاتا ہے لہذا زمین ہر گز گول نہیں۔ اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ بچھانے کا مطلب رہنے کے قابل بنانا ہےفرش بھی کسی چھوٹے سے کمرے میں سیدھا لگتا ہے، مگر وہ پوری عمارت کے گولائی پر اثر نہیں ڈالتااسی طرح زمین گول ہے مگر ہمیں وہ ہموار دکھائی دیتی ہے۔ ایک اور اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اگر زمین گول ہے تو قرآن نے کھل اس کا اظہار کیوں کر نہ کیا؟ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ قرآن ہر دور کے انسان کے لیے ہے۔اگر آج کے سائنسی الفاظ اُس وقت استعمال ہوتے تو لوگ نہ سمجھ پاتےاسی لیے قرآن نے ایسے الفاظ چُنے جو ہر زمانے کے فہم کے مطابق ہوں، اور پھر بھی سچ سے متصادم نہ ہوں
خلاصہ کلام:
قرآن، عقل، اور سچ تینوں کا میل تب ہی ہوتا ہے جب دل صاف ہو اور نیت حق کی ہو قرآن ہدایت کی کتاب ہے، سائنسی نصاب نہیں مگر وہ کبھی سچائی سے ٹکراتا نہیں نہ ہی وہ عقل کے خلاف جاتا ہےزمین گول ہے، یہ سائنس کہتی ہےاور قرآن نے بہت پہلے ہی اُس کی طرف اشارے کر دیے ہیں۔بس آنکھ چاہیے دیکھنے والی، اور دل چاہیے سمجھنے والا، باقی اعتراض برائے تفریح کا نہ ہمارے پاس کوئی حل ہے اور نہ ہی ہم ایسی لچر و ہیچ باتوں کو قابل اعتنا سمجھتے ہیں۔اسلام نے تو اس مسئلہ کو واضح کیا ہی ہے البتہ اسلام سے بہت پہلے بھی قدیم یونان میں ارسطو جیسے لوگوں نے مشاھدات و تجربات سے معلوم کرلیا تھا کہ زمین گول ہے نہ کہ سطحی جیسا کہ ہماری “کامن سینس” ہمیں بتلاتی ہے لہذا یہ بات تو طے ہے کہ دنیا بیضوی (egg-shaped) ہی ہے، اور جو اس کی مخالفت کرتا ہے جیسا کہ امریکا اور دیگر ممالک میں تحریکات چلی ہیں تو یہ فقط جہل ہے، بعید نہیں کہ یہ لوگ ان نظریات کو اس لیئے تھامے رکھتے ہیں کیونکہ یہ انکو ایک احساس دیتا ہے کہ انکے پاس کوئی خاص معلومات ہے جس سے باقی دنیا غافل و ساہی ہے۔ ہمارے ہاں عرف عام میں اسے " جہل مرکب" سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اوپر کے دلائل و مسائل سے یہ بات عیاں ہوچکی ہے کہ زمین کی شکل بھی کسی حد تک ایک بڑی گیند یعنی کرہ سے ملتی جلتی ہے لیکن بالکل کرہ نہیں ہے کیونکہ یہ دونوں قطبوں پر سے تھوڑی سی پچکی ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ان قطبوں پر گولائی خط استوا پر گولائی سے کم ہے چنانچہ اس لحاظ سے زمین کو کرہ کے بجائے کرہ نما کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

کالم نگار : مولانا عبداللہ حارث
| | |
728