(+92) 319 4080233
کتاب اور انسان
علامہ اقبال علم کے طالب سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں: تجھے کتاب سے فرصت نہیں ممکن کہ تو کتاب خواں ہے صاحب کتاب نہیں گزشتہ 23 اپریل کتابوں کا عالمی دن تھا، جب دنیا کہہ رہی تھی کہ یہ کتابوں کی آخری صدی ہے اس کے بعد مشینیں غالب آجائیں گی۔ میں یہ کہتا ہوں کہ اے صاحب فہم و ذکاء یہ مشینیں بھی تو جو کچھ مواد مہیا کرتی ہیں وہ ہوتا تو کتاب سے ماخوذ ہی ہے، وہ کونسا خود سے بتلا رہی ہیں ؟؟
مطالعہ کتب سے ملتا کیا ہے ؟
مجھ سے اکثر لوگ پوچھتے ہیں، کتابیں کیوں پڑھتے ہو؟کتابیں پڑھنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ تو سنیں ...۔۔۔!! کتابیں انسان کے اندر کا دروازہ کھولتی ہیں وہ دروازہ جو عام طور پر بند رہتا ہے۔ وہ ہمیں اپنے آپ سے ملاتی ہیں، دوسروں کو سمجھنے کا ہنر دیتی ہیں اور دنیا کو دیکھنے کا ایک نیا زاویہ عطا کرتی ہیں۔ مختلف موضوعات پر کتابیں مختلف چیزیں سکھاتی ہیں. فلسفہ سکھاتا ہے کہ ہر سوال کا ایک گہرا مطلب ہوتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آج جو کچھ ہے، وہ کل کا نتیجہ ہے۔ نفسیات دکھاتی ہے کہ انسان کا سب سے بڑا میدان اس کا اپنا دماغ ہے۔ سائنس ہمیں حقیقتوں کی بنیاد سمجھاتی ہے۔ سیلف ہیلپ ہمیں وہ ورژن بناتی ہے جو ہم بننا چاہتے ہیں۔ فکشن، خاص طور پر کلاسک فکشن دل کی وہ زبان ہے جو ہم بول نہیں سکتے، لیکن محسوس ضرور کرتے ہیں۔ اور جب انگریزی ادب کی عظیم کتابیں اردو میں ترجمہ ہو کر ملیں، تو جیسے علم کا پانی پیاسے دل تک آسانی سے پہنچ جائے۔کتابیں صرف معلومات ہی نہیں دیتیں بلکہ ہمیں صحیح معنوں میں انسان بناتی ہیں۔ بقول شاعر: آدمیت کچھ اور چیز ہے انسانیت کچھ اور لاکھ طوطے کو پڑھایا مگر حیوان ہی رہا جب آپ پڑھتے ہیں، آپ کا شعور بڑھتا ہے، آپ کی سوچ گہری ہوتی ہے، آپ کے سوال سنجیدہ ہوتے ہیں، اور آپ کا اندازِ گفتگو، فیصلے، تعلقات، دور اندیشی و مستقبل بینی سب نکھرنے لگتے ہیں۔کتابیں ہمیں اندر سے بہتر کرتی ہیں تاکہ ہم باہر کی دنیا میں کچھ بہتر کر سکیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ: آپ کی گفتگو باوقار ہو، آپ کی سوچ میں گہرائی ہو، آپ کی شخصیت میں کشش ہو، اور آپ کی زندگی میں سمت ہو تو کتابوں کے ساتھ دوستی کرلیں۔ اگر میرا آج کل سے کچھ بہتر ہے تو یقیناً اُس کی ایک بہت بڑی وجہ یہ کتابیں ہی ہیں.یہ کتابیں میری کلاس روم تھیں، میرے استاد، میرے کوچ، میرے ساتھی حتیٰ کہ میرے سبھی کچھ۔اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ یہی کتابیں آپ کی بھی دنیا بدل سکتی ہیں۔میں بار بار آپ کو کتابیں پڑھنے کا مشورہ اس لیے نہیں دیتا کہ مجھے لکھنے یا پڑھنے کا شوق ہےبلکہ اس لیے دیتا ہوں کیونکہ یہی وہ واحد ذریعہ ہے جو آپ کی زندگی بدل سکتا ہے، چاہے آپ کے پاس وسائل کم ہوں، حالات مشکل ہوں یا موقع نہ مل رہا ہو۔اگر میں کتابوں سے اپنی دنیا بہتر بنا سکتا ہوں، تو آپ بھی بنا سکتے ہیں۔یہ کتابیں آپ کو بتاتی ہیں کہ آپ اصل میں کون ہیں؟؟اور یہ بھی دکھاتی ہیں کہ آپ کیا بن سکتے ہیں؟؟یہ آپ کو آپ کی بہتر شکل دکھاتی ہیں ایک ایسا ورژن دکھلاتی ہیں جو شاید آپ نے خود بھی کبھی نہ دیکھا ہو۔کیونکہ کتابیں ہمیں صرف نیا علم نہیں دیتیں،وہ ہمیں وہ بنا دیتی ہیں جو ہم بننا چاہتے ہیں لیکن خود کو سمجھ نہیں پاتے۔دنیا کے شکوے شکایتیں تو رکھیں ایک طرف، کوں کس کا حق نہیں دے رہا، کس کو اسکا حق نہیں ملا یہ مسئلے ازل سے ابد تک چلتے رہیں گے البتہ آپ کبھی خود سے یہ سوال کریں: میں کب سے سیکھنا بند کر چکا ہوں؟ میری آخری پڑھی گئی کتاب کون سی تھی؟ میں اپنے ذہن کو کیا غذا دے رہا ہوں؟ یاد رکھیں، جسم کی بھوک روٹی سے ختم ہوتی ہے، لیکن روح کی بھوک صرف کتاب سے۔ کتابیں پڑھیں، ہر موضوع پر پڑھیں، کھل کر پڑھیں تاکہ آپ کی سوچ، آپ کی زندگی سے بھی بڑی ہو جائے۔ علم حاصل کریں، کیونکہ علم سے روشنی آتی ہے اور جس دل میں روشنی ہو، وہ اندھیروں میں بھی راستہ دیکھ لیتا ہے۔نئی راہیں کھول دیتا ہے بند دروازوں پر دستک دیتا ہے۔
کچھ دانشوروں کے اقوال:
ایک چینی کہاوت ہے کہ "جب آدمی 10 کتابیں پڑھتا ہے تو وہ 10 ہزار میل کا سفر کرلیتا ہے۔ " گورچ فوک کہتے ہیں: " اچھی کتابیں وہ نہیں جو ہماری بھوک کو ختم کردیں بلکہ اچھی کتابیں وہ ہیں جو ہماری بھوک بڑھائیں۔۔۔۔۔۔۔ زندگی کو جاننے کی بھوک ۔۔'' ائولس گیلیوس کہتے ہیں:" کتابیں خاموش استاد ہیں ۔۔" فرانس کافکا کا خیال ہے: "ایک کمرہ بغیر کتاب کے ایسا ہی ہے جیسے ایک جسم بغیر روح کے ۔۔" گوئٹے نے کہا : "بہت سے لوگوں کو یہ بات نہیں معلوم ہے کہ مطالعہ سیکھنا کتنا مشکل اور وقت طلب کام ہے، میں نے اپنے 80 سال لگا دیے لیکن پھر بھی یہ نہیں کہہ سکتا ہوں کہ میں صحیح سمت کی جانب ہوں۔۔۔۔۔” تھومس فون کیمپن کہتے ہیں: "جب میں عبادت کرتا ہوں تو میں خدا سے باتیں کرتا ہوں، لیکن جب میں کوئی کتاب پڑھتا ہوں تو خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے۔۔۔۔۔" جین پاؤل کا نظریہ ہے: "کتابیں ایک طویل ترین خط ہے جو ایک دوست کے نام لکھا گیا ہو۔۔" گٹھولڈ لیسنگ: "دنیا اکیلے کسی کو مکمل انسان نہیں بنا سکتی، اگر مکمل انسان بننا ہے تو پھر اچھے مصنفین کی تصانیف پڑھنا ہونگی ۔۔۔" نووالیس : " کتابوں سے بھری ہوئی لائبریری ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہم ماضی اور حال کے دیوتاؤں سے آزادی کے ساتھ گفتگو کرسکتے ہیں۔۔۔۔۔" جرمن قول : " کتابیں پیالے کی مانند ہیں جن سے پانی پینا تمہیں خود سیکھنا ہوگا"
معاشرتی المیہ:
ایک سروے کے مطابق پاکستان میں فی کس اوسطاً صرف 6 پیسے سالانہ کتاب کے لئے خرچ کیے جاتے ہیں...افسوس کا مقام ہے کہ جوتے شوکیس میں دیکھے جاتے ہیں۔کتابیں زمین پر پڑی نظر آتی ہیں جس معاشرے میں کتابیں پڑھنے کا شوق نہ ہو وہ کبھی شعور حاصل نہیں کر سکتا۔ کتابوں کا ایک دن۔۔۔۔۔!! یہ تو بہت کم ہے بھئی، بھلا ایک کتاب بھی کسی دن میں مقید ہو سکتی ہے ؟؟ ہر دن کتاب ہی کا ہے اور کتاب سب دنوں پر محیط ہے۔ جس دن تم نے کوئی کتاب کھول کر استفادہ نہیں کیا گویا وہ دن تمہاری زندگی میں شمار ہی نہیں۔یہ صرف کتابوں کا نہیں، بلکہ زندگی بدلنے کا دن کہلائے تو زیادہ مناسب ہوگا۔ انسانی تہذیب و تمدن کی ترقی میں اگر کسی ایک شے نے سب سے زیادہ اہم کردار ادا کیا ہے تو وہ کتاب ہے۔ علم، حکمت، تاریخ، فلسفہ، ادب، سائنس اور مذہب یہ سب کتاب کے صفحات میں محفوظ ہیں۔ انسان نے وقت، حالات اور حادثات سے سیکھا، اسے قلمبند کیا اور یوں آنے والی نسلوں کو وہ علم منتقل ہوا جس نے دنیا کو بہتر بنانے میں مدد دی۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی یومِ کتاب صرف ایک دن منانے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک پیغام ہے، علم کی روشنی کو عام کرنے کا، مطالعے کی عادت کو فروغ دینے کا، اور قلم و قرطاس کی حرمت کو تسلیم کرنے کا۔کتاب، ایک خاموش معلم ہے جو اندھیرے میں بھی راستے سجھا دیتا ہے۔کتاب ایک ایسا استاد ہے جو بغیر کسی شرط کے ہمیں علم دیتا ہے۔ نہ وہ ہماری زبان کا محتاج ہے، نہ مذہب، رنگ یا نسل کا۔ ہر قاری اپنی سطح اور ذوق کے مطابق اس سے استفادہ کرتا ہے۔ جب کوئی بچہ پہلی بار کتاب کھولتا ہے تو وہ دراصل ایک نئی دنیا کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ یہی عادت اگر مسلسل قائم رہے تو وہی بچہ کل کا موجد، مصنف یا مفکر بن سکتا ہے۔
خرابی بسیار:
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں کتب بینی کی روایت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ جدید ٹیکنالوجی، سوشل میڈیا، اور تفریح کے بے شمار ذرائع نے کتاب سے ہمارا رشتہ دھندلا کر دیا ہے۔ نوجوان نسل کتاب کے لمس سے ناواقف ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں عالمی یومِ کتاب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اس گراں قدر ورثے کو فراموش نہ کریں جو صدیوں کی محنت اور علم کا نچوڑ ہے۔ ہمیں ہنگامی بنیادوں پر نہ صرف کتب بینی کو فروغ دینا ہے بلکہ مصنفین، مترجمین اور ناشرین کے حقوق کی حفاظت کی جانب بھی ایک توجہ دلانا ہے۔ کتاب صرف قاری کا نہیں، لکھنے والے کا بھی حق ہے۔ اسی لیے کاپی رائٹس کے قوانین کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے گھروں میں بچوں کو کہانیوں کی کتابیں دیں۔اسکولوں میں لائبریری کلچر کو فروغ دیں۔ سوشل میڈیا پر معلوماتی کتب کے اقتباسات اور تبصرے شیئر کیے جائیں تاکہ دیگر لوگوں کو بھی مطالعے کی ترغیب و مہمیز ہو۔ادبی میلوں، کتاب نمائشوں اور مصنفین سے ملاقات کے مواقع پیدا کیے جائیں تاکہ کتابوں سے محبت ایک اجتماعی کلچر بن جائے۔ نیز اس طرف اشارہ نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی کہ کتاب محض لفظوں کا مجموعہ نہیں، یہ تہذیبوں کا امین اور مستقبل کی راہیں متعین کرنے والا چراغ ہے۔ آئیے اس عالمی یومِ کتاب پر عہد کریں کہ ہم نہ صرف خود کتابیں پڑھیں گے بلکہ دوسروں کو بھی اس خزانے سے روشناس کروائیں گے۔
قدیم رشتہ جدید راہی:
کتاب، مکتب اور مکتبہ یہ تینوں چیزیں قوموں کی زندگی میں بڑی اہمیت کی حامل ہیں۔ ہر قسم کی ترقی کے دروازے انہیں کنجیوں سے کھُلا کرتے ہیں۔ یہ تینوں حصولِ علم و تعلیم کے بنیادی ذرائع ہیں۔ کتابوں کے بغیر تاریخ گونگی، ادب بے بہرہ، سائنس لنگڑی اور خیالات اور سوچیں ساکت ہیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ کتابوں کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ کتاب ہی کی بدولت ہمیں ان بزرگوں کے حالات کا علم ہوتا ہے جنہوں نے اپنی زندگی میں کتابوں کو ہی اوڑھنا بچھونا بنایا تھا اور ہمارے لیے علم کی لازوال دولت محفوظ کر گئے جس سے آج بھی زمانہ مستفید ہو رہا ہے۔اچھی کتابیں زندگی پر بہت اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ادب انسانی مزاج میں نرمی پیدا کرتا ہے جس سے ذہن پر خوشگوار اور صحت مند اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مطالعے سے انسان کے اندر مثبت اور مضبوط سوچ پیدا ہوتی ہے۔ اسی لیے آج کے دور میں ماہرین نفسیات بڑھتے ہوئے نفسیاتی مسائل کے تناظر میں بچوں کے لیے کتابوں کا مطالعہ لازمی قرار دے رہے ہیں تاکہ بچے فضول قسم کے مشاغل سے محفوظ رہ سکیں۔ ایک اچھی کتاب ہماری تنہائی کی بہترین ساتھی ہے جب رنج و الم کے گہرے بادل ہماری زندگی کو تاریک کر دیتے ہیں تو یہ روشنی کی کرن بن کر ہماری ڈھارس بندھاتی ہے۔مطالعہ کے لیے کتب کا انتخاب ایک اہم مسئلہ ہے اس کے لیے بہت احتیاط اور غور وفکر کی ضرورت ہوتی ہے جس طرح ایک نیک، باکردار اور اچھے چال چلن کا انسان اپنے دوست کو برائی سے بچا لیتا ہے بالکل اسی طرح اچھی کتابیں دل و دماغ اور عادات و اطوار پر اچھا اثر ڈالتی ہیں جبکہ مخربِ اخلاق اور بیہودہ کتابیں برے دوستوں کی طرح برائی کی طرف مائل کرتی ہیں اور اس طرح قاری کی اخلاقی موت کا باعث بنتی ہیں۔ یعنی جس طرح اچھی صحبت کا اثر ہے اسی طرح اچھی کتاب بھی ضروری ہے۔ موجودہ دور کی روز افزوں ترقی نے انسان کو بہت بلندیوں پر پہنچادیا ہے، لیکن جس کتاب کی بدولت یہ سب کامیابیاں حاصل ہوئیں، اسی کتاب سے ہمارا رشتہ کمزور ہوتا جارہا ہے اور آج کے نوجوان کمپیوٹر اور موبائل کے سحر میں اس بری طرح سے جکڑے کہ جو وقت کتاب کا حق تھا، وہ بھی کمپیوٹر و موبائل کی نذر کردیا اور اب فیس بک، واٹس اپ، ٹوئیٹر اور موبائل فونز اور جدید ٹیکنالوجی کے باعث کتب بینی کے رجحان میں بہت کمی آگئی ہے۔ انسان اور کتاب کا پرانا تعلق ماند پڑتا جارہا ہے اور دونوں کے درمیان دوری جنم لے رہی ہے۔ نئی نسل میں کتابیں پڑھنے کا رجحان وہ نہیں ہے، جو کسی زمانے میں تھا۔ اب تو تعلیمی اداروں میں بھی کتاب اور طالب علم کا تعلق صرف نصابی کتب تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کے جادو کے زیر اثر طلبہ کی ایک بڑی تعداد غیرنصابی کتب کو ہاتھ بھی لگانا گوارا ہی نہیں کرتی ہوں نتیجتاً لائبریری کلچر آخری سانسیں لے رہا ہے۔
کامیابی کی کنجی تھامنا ہوگی:
کتاب اور انسان کا رشتہ اتناہی قدیم ہے جتنا خود انسانی تہذیب و تمدن کا سفر اور علم و آگہی کی تاریخ قدیم ہے۔ تہذیب کی روشنی اور تمدن کے اجالے سے جب انسانی ذہن کے دریچے بتدریج کھلے تو انسان کتاب کے وسیلے سے خودبخود ترقی کی شاہراہ پر قدم رنجہ ہوا۔ کتاب کی شکل میں اس کے ہاتھ وہ شاہی کلید آ گئی، جس نے اس کے سامنے علم و ہنر کے دروازے کھول دیے۔ انسان کے لیے مطالعے اور مشاہدے کے بل پر نئی منزلیں طے کرنا آسان ہوتا چلا گیا۔ کتاب شخصیت سازی کا ایک کارگر ذریعہ ہی نہیں، بلکہ زندہ قوموں کے عروج و کمال میں اس کی ہم سفر ہے۔ زندہ قومیں ہمیشہ کتابوں کو بڑی قدرومنزلت دیتی ہیں، جو قومیں کتاب سے رشتہ توڑ لیں تو پھر وہ دنیا میں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔ بلاشبہ صرف وہی اقوام زندگی کی معراج تک پہنچتی ہیں، جن کا تعلق کتاب اور علم سے مضبوط رہا ہو۔ قوموں کی زندگی کا عمل کتاب سے جڑا ہوا ہے۔ جن اقوام میں کتاب کی تخلیق، اشاعت اور مطالعے کا عمل رک جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں درحقیقت وہاں زندگی کا عمل ہی رک جاتا ہے۔ کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا، جب تک وہ تعلیم یافتہ نہ بن جائے اور تعلیم یافتہ بننے کے لیے معاشرے کا مجموعی مزاج کتاب دوست ہونا ضروری ہے۔ اسلامی تاریخ میں ایک دور وہ بھی گزرا ہے جب کتابیں خریدنا، انہیں جمع کرنا اور پڑھنا ہر فرد کا ذوق ہوا کرتا تھا۔ لوگوں کے گھروں میں لاکھوں کتب پر مشتمل ذاتی لائبریریاں تھیں۔ بغداد کی صرف ایک ایک شاہراہ پر کتابوں کی سیکڑوں دکانیں تھیں، جہاں قرآن مجید سے لے کر فلکیات، طبیعات، ریاضی، کیمیا، طب وغیرہ کی کتابیں فروخت ہوتی تھیں۔ یہ دور مسلمانوں کے عروج اور حکمرانی کا دور تھا، یہ حقیقت ہے کہ جس قوم پر کتابوں کی حکمرانی ہو تو پھر وہ قوم بھی دنیا پر حکمرانی کرتی ہے۔ فرانس کے انقلابی دانشور والٹیر نے کہا تھا :’’تاریخ انسانی میں چند غیر مہذب وحشی قوموں کو چھوڑ کرکتابوں ہی نے لوگوں پر حکومت کی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ جس قوم کی قیادت اپنے عوام کو کتابیں پڑھنا اور ان سے محبت کرنا سکھا دیتی ہے، وہ دوسروں سے آگے نکل جاتی ہے۔‘‘ جو اقوام علم و کتب کے اعتراف عظمت میں بخیل نہیں ہوتیں اور مطالعہ کتب کی عادت اپنا لیتی ہیں، وہ زندگی میں فتح و ظفر کی حقدار ہوتی ہیں۔ یورپ کے بعض ملکوں میں صرف کتابوں کو پروموٹ کرنے کے لیے تحریکیں چلائی گئی ہیں اور آج نتیجہ سب کے سامنے اس طرح عیاں ہے کہ محتاج بیاں نہیں۔
کتاب اک روحانی معلم ہے:
کسی مفکر کا قول ہے کہ اگر دو دن تک کسی کتاب کا مطالعہ نہ کیا جائے تو تیسرے دن گفتگو میں وہ شیرینی باقی نہیں رہتی یعنی انداز تکلم تبدیل ہوجاتا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ کتابوں کے مطالعے سے ہمیں ٹھوس دلائل دینے اور بات کرنے کا سلیقہ آتا ہے۔ آج کے دور میں جو بھی ترقی ہورہی ہے وہ مرقوم علم اور کتابوں کی بنیاد پر کی جارہی ہے ۔ کتب بینی نے انسان کی معلومات میں رفتہ رفتہ اس قدر اضافہ کردیا ہے کہ آج کے انسان کے لئے کوئی کام ناممکن نہیں رہا۔غرض کتب بینی سے حیات و موت اور دنیا و آخرت ساری چیزوں کا پتہ چلتا ہے اور یہی ہماری کامیابی کا ذریعہ ہے۔جدید دور میں اگرچہ مطالعے کے لئے نئے نئے ذرائع متعارف کروائے گئے ہیں اور پھر ٹیکنالوجی کے باعث علم کے حصول میں انقلاب برپا ہوچکا ہے مگر یہ کہنا غلط نہیں کہ کتابوں کی دائمی اہمیت و افادیت اپنی جگہ قائم و دائم ہے اور اس میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔کتب بینی کا فائدہ تو اپنی جگہ مسلم ہے۔ یہ جذبۂ عمل کو ترغیب دیتا ہے۔کتاب انسان کو عملی میدان میں گامزن ہونے کی ترغیب دیتی ہے اور اسی اعتبار سے کتاب ہماری صرف رفیق تنہائی ہی نہیں بلکہ ہمارے حال اور مستقبل کی بھی محسن ہے۔ اچھی کتابوں کا مطالعہ انسان کو مہذب بناتا ہے ، شخصیت میں نکھار اور وقار عطا کرتا ہے۔ کتاب سے دوستی انسان کو شعور کی نئی منزلوں سے روشناس کرواتی ہے ۔ کتب بینی کے شائقین تسکین قلب کے لئے کتب خانوں کارخ کرتے ہیں ۔ اس لئے ضروری ہے کہ ہر محلے میں عوامی کتب خانے قائم کئے جائیں جہاں تمام موضوعات پر کتب موجود ہوں۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو اس نام نہاد جدید دور میں ہماری آنے والی نسلوں پرعلم کے دریچے ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں گے اور جس معاشرے میں علم کے دریچے بند ہوجائیں وہاں صرف جہالت ، اندھیرا اور پسماندگی چھا جاتی ہے۔ پھر خاکم بدہن: تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں

کالم نگار : مولانا عمران مینگل
| | |
433