میرے والد جب کبھی میرے کمرے میں آتے اور دیکھتے کہ بتی جل رہی ہے اور میں کمرے میں نہیں ہوں، تو کہتے: "تم بتی کیوں نہیں بجھاتے؟ اتنی بجلی کیوں ضائع کرتے ہو؟ جب وہ واش روم میں جاتے اور نل سے پانی ٹپک رہا ہوتا، تو زور سے کہتے: "تم نل کو اچھی طرح بند کیوں نہیں کرتے؟ اتنی پانی کی بربادی کیوں ہو رہی ہے؟"ہمیشہ وہ میرے اوپر تنقید کرتے اور مجھ پر الزام لگاتے
کہ میں سُستی کا شکار ہوں! مجھے سمجھاتے.چھوٹی اور بڑی ہر بات پر ٹوکتے، یہاں تک کہ بیماری کی حالت میں بھی تنقید کرتے رہتے!
نئی منزل پرانے ہمسفر:
پھر ایک دن آیا جب مجھے نوکری ملی، وہ دن جس کا میں بے صبری سے انتظار کر رہا تھا.آج میں اپنی زندگی کی پہلی نوکری کے لیے انٹرویو دینے جا رہا تھا یہ ایک بڑی کمپنی میں ایک معزز ملازمت کے لیے تھا.میں سوچ رہا تھا کہ اگر میں منتخب ہو گیا تو اس گھر کو چھوڑ کر چلا جاؤں گا اور اپنے والد کی مسلسل نصیحتوں اور روز روز کی جھجھک سے چھٹکارا حاصل کر لوں گا.صبح سویرے اُٹھا،
بہترین کپڑے پہنے، خوشبو لگائی اور نکلنے لگا. دروازے کے پاس کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا.میں نے پلٹ کر دیکھا تو والد صاحب مسکراتے ہوئے کھڑے تھے، حالانکہ اُن کی آنکھوں میں کچھ شدید بیماری کے آثار نمایاں تھے.وہ زیر علاج بھی تھے۔انہوں نے مجھے کچھ پیسے دیے اور کہا: "میں چاہتا ہوں کہ تم مثبت رہو، پُر اعتماد رہو اور کسی سوال سے نہ ڈرو."میں یہ نصیحت سُن کر بیزاری سے مسکرایا، اندر سے سوچ رہا تھا کہ یہ بھی وقت ہے نصیحت کرنے کا، جیسے وہ نکما سمجھ کر میری خوشی کے لمحے کو بھی خراب کرنا چاہتے ہوں.میں گھر سے نکلا، ایک ٹیکسی کرائے پر لی اور کمپنی کی طرف روانہ ہو گیا.جب میں وہاں پہنچا تو حیران رہ گیا!نہ کوئی دربان تھا اور نہ کوئی استقبالیہ کا عملہ، بس کچھ ہدایتی بورڈز تھے جو انٹرویو کے کمرے کی طرف رہنمائی کر رہے تھے.
جیسے ہی میں دروازے میں داخل ہوا، دیکھا کہ دروازے کا ہینڈل اپنی جگہ سے نکلا ہوا ہے اور ٹوٹنے کے قریب ہے.مجھے فوراً اپنے والد کی نصیحت یاد آئی کہ مثبت رہو، تو میں نے فوراً ہینڈل کو درست کیا.آگے چلتے ہوئے دیکھا کہ باغ میں پانی بھر گیا ہے، ایک تالاب کا پانی بہہ رہا تھا، شاید مالی اسے بھول گیا تھا.مجھے والد کی پانی کے ضیاع پر ناراضگی یاد آئی، میں نے نل کی رفتار بہت ہی کم کر دی اور پانی کو دوسرے تالاب میں بہنے دیا.عمارت کے اندر پہنچا اور سیڑھیوں پر چڑھتے ہوئے دیکھا کہ روشنی کی بتیاں دن کے وقت جل رہی ہیں.مجھے والد کا چہرہ یاد آیا اور نصیحت بھی، تو فوراً بتی بُجھا دی.جب میں انٹرویو کے کمرے میں پہنچا، تو دیکھا کہ بہت سے لوگ نوکری کے لیے موجود ہیں.سب کی طرف دیکھتے ہوئے، میں نے سوچا کہ میں ان کے سامنے محض ایک معمولی فرد نظر آ رہا ہوں.
پھر دیکھا کہ جو بھی انٹرویو دینے جا رہا ہے، چند منٹوں میں واپس آ رہا ہے.میں نے سوچا کہ اگر یہ لوگ اپنی تمام تر قابلیت کے باوجود کامیاب نہیں ہو سکے، تو میں کیسے ہو سکتا ہوں؟ میں نے انٹرویو چھوڑنے کا فیصلہ ہی کیاتھا.لیکن جیسے ہی میں نکلنے لگا، میرا نام پکارا گیامیں اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر کے کمرے میں داخل ہو گیا.سامنے تین لوگ بیٹھے تھے، انہوں نے مسکرا کر پوچھا:
"آپ کب اس نوکری کو سنبھالنا چاہتے ہیں؟"
مجھے لگا جیسے وہ مذاق کر رہے ہوں.میں نے اپنے والد کی نصیحت یاد کی کہ پُر اعتماد رہو.میں نے کہا: "جب میں امتحان میں کامیاب ہو جاؤں گا، تب سنبھالوں گا."ایک آدمی نے کہا: "آپ کامیاب ہو چکے ہیں"میں حیران رہ گیا کہ کسی نے مجھ سے کوئی سوال نہیں پوچھا اور یہ کامیابی کی نوید سنا رہے ہیں، انہوں نے بتایا کہ میرا امتحان ہو چکا ہے.پھر ایک اور نے کہا:
"ہم نے کمپنی میں کچھ جگہوں پر خرابیاں جان بوجھ کر رکھی تھیں تاکہ کیمرے کی آنکھ سے یہ دیکھ سکیں کہ کون اُمیدوار انہیں ٹھیک کرتا ہے، اور آپ نے ہر غلطی کو درست کیا."اور ...تعلیم کی ڈگریاں تو پہلے ہی ہیں آپ کے پاس.."
اس لمحے، میرے سامنے سب کچھ مانند پڑ گیا. میں نے اپنے والد کی تصویر دیکھنا شروع کی.
وہ سخت مزاج جو ہمیشہ میری بھلائی چاہتا تھا. اور میں نادان اور نا سمجھ ناگواری محسوس کرتا رہا.مجھے گھر واپس جانے اور ان کے ہاتھ چومنے کی شدید خواہش ہوئی.جب میں گھر پہنچا تو وہاں لوگوں کا ہجوم دیکھا. سب کے چہروں پر دُکھ کے آثار تھے.میں بہت دیر سے پہنچا تھا..میرے والد صاحب اس دنیا سے چلے گئے تھے اور میں اُن کی محبت اور نصیحتوں کی قدر کرنے میں دیر کر گیا.
یہ تو خیر ایک تخیلاتی افسانہ ہے لیکن بغور دیکھا جائے تو ہمارے معاشرے میں اس طرح کی مثالیں عام ہیں۔
ہمارا دین اور والدین:
ہمارے دین میں ماں باپ کی عزت و توقیر کے حوالے سے بطور ِخاص تاکید ہے اور تاکید بھی ایسی کہ ان کی کسی بات پر انہیں ”اُف“تک نہ کہنے کا حکم ہے! اولادکی تعلیم وتربیت میں والد کا کردار ضروری ہوتا ہے، جبکہ اس کے برعکس ماں کی حد سے زیادہ نرمی اور لاڈ پیارسے اولاد نڈراور بے باک ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کی تعلیم ،تربیت اورکردار پر برا اثر پڑتا ہے،
جبکہ والد کی سختی، نگہداشت اورآنکھوں کی تیزی سے اولاد کو من مانیاں کرنے کا موقع نہیں ملتا۔شاید یہی وجہ ہے کہ اولاد باپ سے زیادہ ماں سے قریب ہوتی ہے، لیکن اولادیہ نہیں جانتی کہ اس کے والد کو گھر چلانے اور تعلیم وتربیت کا مناسب اہتمام کرنے کے لئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔باپ ہی ہوتا ہے جو اپنے اہل وعیال اور اولادکو پالنے کے لیے خود بھوکا رہ کر
یا روکھی سوکھی کھا کر گزارہ کرتا ہے، لیکن پوری کوشش کرتا ہے کہ اس کے بچوں کو اچھا کھانا، پینا،تعلیم اور تربیت میسرہو۔ اسلام میں والدین کابہت بڑا مقام اور مرتبہ ہے۔ چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:”اورجب ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہدلیاکہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔رشتہ داروں ، یتیموں، مسکینوں اور لوگوں سے (ہمیشہ)اچھی بات کہو ۔
اسی طرح سورہ بنی اسرائیل میں اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے.پروردگار کا فرمان ہے کہ اللہ کے سواکسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کیا کرو، اگر تمہارے سامنے اِن میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ”اف“ تک نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو، بلکہ ان سے نرمی کے ساتھ بات کرو اور اپنے بازو نہایت عاجزی اورنیازمندی سے ان کے سامنے جھکادو اور( ان کے لئے یوں دعائے رحمت کرو).... اے میرے پروردگار! تواِن پر(اس طرح) رحم فرما، جس طرح انہوں نے مجھے بچپن میں(رحمت وشفقت سے) پالا تھا“ اللہ تعالیٰ نے ان آیاتِ مبارکہ میں اپنی عبادت کے ساتھ ہی والدین کے ساتھ نیکی اور حسن ِسلوک کا حکم فرمایا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ والدین کی خدمت واطاعت انتہائی ضروری ہے،
حتیٰ کہ والدین اولاد پر ظلم وزیادتی بھی کریں تب بھی اولاد کو انہیں جواب دینے کی اجازت نہیں،جھڑکناتو درکنار ،ان کے سامنے اف تک کہنے کی بھی اجازت نہیں۔ اسی طرح سورة لقمان میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ” میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو، تم سب کو میری ہی طرف لوٹنا ہے اور اگر وہ تجھ پر دباﺅ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ اس کو شریک ٹھہرا جس کا تجھے کچھ علم نہیں تو (اس مطالبہ معصیت میں) ان کی اطاعت ہر گز نہ کرو، (لیکن اس کے باوجود ) دنیا میں ان سے حسنِ سلوک کرتے رہو “اولاد کے فرائض میں شامل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے پیارے رسول کی نافرمانی کے سوا والدین کے ہر حکم کی تعمیل کریں۔ ان کی رائے کو ترجیح دیں۔ خاص طور پر جب والدین بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو پھر ان کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے ان سے محبت و احترام سے پیش آئیں، اپنی مصروفیات میں سے مناسب و قت ان کے لیے خاص کردیں۔ان کی بھر پور خدمت کریں اور ان کی وفات کے بعدان کے لیے ایصالِ ثواب اور دعائے مغفرت ورحمت کرتے رہیں ، جیسا کہ قرآنِ پاک میں ارشادِباری تعالیٰ ہے:{ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا }
”اور(ان کے حق میں یوں دعائے رحمت کرو ) اے ہمارے رب!ان دونوں پر رحم فرما، جیسا کہ انہوں نے مجھے بچپن میں(رحمت وشفقت سے) پالا ہے“
جد امجد کا اسوہ حسنہ:
ہمارے جد امجد حضرت ابرہیم علیہ السلام دین حنیف پر کار بند تھے۔انہوں نے، باجود مشرک ہونے کے، اپنے والد کے احترام اور خیر خواہی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اسی بنا پر اللہ نے انہیں اولاد بھی ایسی عطا کی جو باپ کے ایک اشارے پر اپنی گردن کٹانے پر تیار ہو گئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے لیے، اپنے والدین اور تمام مسلمانوں کے لیے مغفرت وبخشش کی دعا مانگتے ہیں،
جس کا قرآنِ پاک نے اس طرح ذکر کیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ”اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو (بخش دے)اور سب مسلمانوں کو(بخش دے)، جس دن حساب قائم ہوگا“ماں باپ کے انتقال کے بعد بھی ان کے ساتھ حسن ِسلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیے۔ جس کی کئی صورتوں میں سے ایک دعائے مغفرت کرنا بھی شامل ہے۔
جس سے ان کے درجات بلند ہوتے ہیں۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کا درجہ جنت میں بلند فرما دیتا ہے تو وہ بندہ عرض کرتا ہے کہ” اے میرے رب! یہ درجہ مجھے کہاں سے ملا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہوتا ہے کہ ،”تیری اولاد کی دعائے مغفرت کی بدولت (تجھے یہ بلند درجہ دیا گیا ہے)۔
ایک اورحدیث شریف کا مفہوم ہے کہ ماں باپ کے لیے دعائے مغفرت کرنا ان کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں ”رسول اللہ نے ارشاد فرمایا کہ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے تمام اعمال کاسلسلہ ختم ہو جاتا ہے،لیکن تین چیزوں کا نفع اس کو(مرنے کے بعد بھی) پہنچتا رہتا ہے۔
1)۔۔۔۔۔ صدقہ جاریہ
2)۔۔۔۔۔ایسا علم جس سے لوگ نفع حاصل کرتے ہوں
3)۔۔۔۔۔نیک اولاد جو اس کے لیے دعائے مغفرت ورحمت کرتی ہو۔
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں جس کا مفہوم ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”جو نیک اولاد اپنے ماں باپ کے چہرے کی طرف رحمت (اورمحبت) سے ایک نظر دیکھ لے تو اللہ تعالیٰ (اس کے نامہ اعمال میں ) ایک حج مقبول کا ثواب لکھ دیتا ہے۔صحابہ کرام نے عرض کیا ،اگر وہ ہر روز سو بار دیکھے تو؟ آپ نے فرمایا ، اللہ سب سے بڑا ہے اور اس کی ذات بہت پاک ہے
(یعنی اس کے خزانوں میں کوئی کمی نہیں،وہ سو حج کاثواب بھی عطافرمائے گا۔حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی کریم کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ :” جس شخص کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دراز کرے اور اس کے رزق میں اضافہ فرمائے تو اسے چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن ِسلوک کرے اور (اپنے رشتہ داروں کے ساتھ) صلہ رحمی کرے“ ....
معاشرے کے اک اہم پہلو پر نظر:
ایک اور اہم بات یہ ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اپنے بیوی بچوں کی طرح اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت و کفالت اور ان کی ضروریاتِ زندگی (کھاناپینا،لباس، علاج )کو پورا کرنا بھی اولاد پر فرض ہے ،اس کے ساتھ ان کی ضروریات کے مطابق مخصوص رقم ہرمہینے ان کوپیش کی جائے تا کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق خرچ کر سکیں۔ حضور سید ِعالم ﷺ نے والدین کی خدمت و اطاعت کو جہاد ایسی عظیم عبادت وسعادت پر بھی ترجیح دی ہے۔ چنانچہ حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص رسولِ اکرم کے پاس جہاد میں شریک ہونے کی غرض سے حاضر ہوا تو نبی کریم نے اس سے پوچھا کہ” کیا تمہارے ماں با پ زندہ ہیں؟ “اس نے کہا ،” جی ہاں، زندہ ہیں۔ “آپ نے فرمایا: ”جاﺅ اور اپنے والدین کی خدمت کرو، یہی تمھارا جہاد ہے۔
اللہ تعالیٰ نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک ،اچھائی اور نیکی کرنے کا حکم دیا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ میرا اور اپنے والدین کا شکر ادا کرو۔ والدین کے حقوق ادا کرنا در حقیقت اللہ کی تابعداری ہے۔ پس اس لحاظ سے ان کی خدمت اللہ تعالیٰ کی خدمت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی خوش نودی باپ کی خوش نودی میں اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں مضمر ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ کے ایک فرمان کا مفہوم ہے کہ :”وہ شخص ذلیل ورسوا ہوا ،وہ شخص ذلیل ورسوا ہوا ،وہ شخص ذلیل و رسوا ہوا ،عرض کیا،کون یارسول اللہ ؟آپ نے فرمایا: ”جس نے اپنے ماں باپ میں دونوں یا کسی ایک کو بڑھاپے میں پایا اور پھر (ان کی خدمت نہ کر کے) دخولِ جنت کا حق دار نہ بن سکا “۔
ماں باپ کی خدمت کاثواب جہاد سے بھی بڑھ کر ہے اور اس کا اجروثواب حج اور عمرے کے برابر ہے۔ ماں باپ کے قدموں میں رہنا جنت کی طرف پہنچاتا ہے، اس سے عمر اور رزق میں اضافہ ہوتا ہے، عبادات اور دعائیں اللہ پاک کی بارگاہ میں ضرور قبول ہوتی ہیں۔ماں باپ کی نافرمانی کرنا یا انہیں اَذیت و تکلیف دینا گناہِ کبیرہ اور بہت بڑی محرومی ہے۔ ماں باپ کے نافرمان کا کوئی عمل مقبول نہیں ہوتا اور موت سے پہلے ہی اسے دنیا میں ذلت و رسوائی اور اپنے کئے کی سزا ملتی ہے۔والدین کے حقوق کی ادائیگی کواس طرح ممکن بنایا جاسکتاہے کہ والدین کے ہر نیک حکم کی تعمیل کی جائے، ان کے سامنے اونچی آواز میں بات نہ کی جائے، ان کے آرام و سکون اور خوشیوں کا خیال رکھا جائے، والدین کا تذکرہ ہمیشہ اچھے الفاظ میں کیاجائے، والدین کے رشتہ داروں اور دوستوں کااحترام کیا جائے، والدین کی وفات کے بعد ان کے لیے دعائے مغفرت ورحمت کرتا رہے اور ایصالِ ثواب کا تحفہ بھیجتا رہے تا کہ وصال کے بعد بھی ان کے اعمال میں نیکیوں کا اضافہ ہوتا رہے۔رسول اللہ کے فرمان کا مفہوم ہے کہ :” بہترین نیکی یہ (بھی ) ہے کہ ماں باپ کے تعلق داروں کے ساتھ اچھا اور نیک سلوک کیا جائے“۔ والدین کی دعائیں اولاد کے حق میں ضرور قبول ہوتی ہیں۔پس یہ ہمارا انسانی، اخلاقی اور دینی فریضہ ہے کہ ہم اپنے والدین کی دل وجان سے خدمت و اطاعت کریں کہ اسی میں ہمارے لیے دین ودنیا کی کامیابی،سعادت اور فلاح و نجات اور بہترین معاشرے کی عکاس ہیں۔
والد کی قدر کرنا سیکھیں:
خواہ کوئی معاشرہ ہو اور کیسی ہی تعلیم ہو باپ کا رتبہ اور مقام ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ مغرب میں رفتہ رفتہ شکست و ریخت سے دوچار سماج کی وجہ سے اس میں اگرچہ کمی واقع ہو رہی ہے؛ تاہم ایشیا میں باپ ابھی تک اسی مرتبے پر فائز ہے جس پر وہ صدیوں سے فائز چلا آ رہا ہے۔ مغرب و مشرق دونوں والد کی حیثیت و اہمیت سے آگاہ ہیں۔ اس حقیقت سے دونوں دُنیاﺅں میں بسنے والے باخبر ہیں کہ باپ نے بیٹے کو قربان ہونے کے لئے کہا اور بیٹے نے بنا کسی حیل و حجت کے اپنا سر باپ کے ہاتھ میں پکڑی چھری کے نیچے رکھ دیا۔باپ خاندان کا سربراہ ہوتا ہے۔ گھر کے چولہے کی حدت کو برقرار رکھنا اور بچوں کے سامنے، ان کے بچپن سے لے کر بلوغت تک قابلِ تقلید امثال قائم کرنا اس کا فریضہ ہے۔ وہ اپنے مشاہدات اور تجربات سے اپنے گھر اور اپنے اردگرد کے ماحول کو جس کا وہ خود بھی حصہ ہوتا ہے، بہتر سے بہتر بناتا ہے۔ وہ اس کڑی کو مضبوطی سے پورے سماج کی اس فولادی زنجیر سے پیوست رکھتا ہے جو اس کی ذات کی میں ڈھلتی ہے۔باپ کی شخصیت کی پہچان اور اس کا احترام صرف ایک دن کے لئے مخصوص نہیں ہے۔ جب تک وہ زندہ ہے، اس کی تعظیم و توقیر اس کے بچوں پر واجب ہے۔ باپ بوڑھا ہو جائے، سٹھیا جائے یا مفلوج ہوجائے تو وہ پھر بھی باپ ہے۔ وہ جب تک موجود رہتا ہے، اس کے وجود کی اہمیت کا مکمل ادراک نہیں ہوتا، لیکن اس کے جانے کے بعد جو خلاء پیدا ہوتا ہے وہ عمر بھر کی تڑپ کو جنم دیتا ہے اور کبھی پورا نہیں ہوتا.... بیٹے کو باپ کی قدرو منزلت کا تب اندازہ ہوتا ہے جب وہ خود باپ بنتا ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جو اپنے اہل خانہ کی کفالت کے لے دن رات جتا رہتا ہے۔
نہ اس کو اپنے آرام کی پرواہ ہوتی ہے اور نہ ہی اپنے صحت کی۔ وہ اپنے دن رات صرف اس جہد میں صرف کرتا ہے کہ کچھ اور محنت کرلوں تو اپنے بچوں کا مستقبل محفوظ کرلوں۔ اپنی اولاد کی ہر اس خواہش کو پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے جو وہ اپنے بچپن میں پوری نہیں کرپایا ہو۔
باپ کا نام آتے ہی اک ناتواں اورضعیف رو صورت آنکھ کے سامنے گھومنے لگتی ہے۔ باپ کیا ہوتا ہے کیسا ہوتا ہے اور کیوں ہوتا ہے شاید ایسے لوگوں سے زیادہ کوئی نہیں جان سکتا اور نہ سمجھ سکتا ہے جن کے والد محترم کا وصال ہوچلا ہے۔ میرا دعوی ہے کہ والد حضرات کو بھی اندازہ نہ ہوگا کہ ان کی سرپرستی اور سایہ ان کے بچوں پر کتنی بڑی رحمت اور شفقت ہے؟؟
فطرت کا عجیب دستور:
ایک الہڑ خوبرو جوان مرد شادی کے بعد جب باپ کا مرتبہ پاتا ہے تو جس طرح ایک شوخ و چنچل لڑکی ماں بننے کے بعد ذہنی و جذباتی رد و بدل کا سامنا کرتی ہے اسی طرح ایک لاپرواہ اور بے باک لڑکے کے اندر بھی رد و بدل رونما ہوتی ہیں۔ اگر ماں خوشی سے نہال ہوتی ہے اس سے کہیں زیادہ اک باپ بھی خوشی سے سرشار ہوتا ہے بس معاشرے کی بے وجہ پابندیوں نے مرد کو اظہار کی اجازت نہیں دے رکھی۔ وہ بھی اسی طرح مسرور ہوتا ہے جیسے کہ اک ماں اپنے آنے والے بچے کے لیے بے تاب ہوتی ہے۔ باپ وہ ہستی ہے جو دن کو دن نہیں سمجھتا۔ راتوں کو بھی فکر معاش میں بے چین رہتا ہے۔ باپ کبھی ہمیں اپنی پریشانی یا الجھن نہیں بتاتا بلکہ خود سیسہ پلائی دیوار کی مانند ہرمشکل اور دشواری کا سامنا کرتا ہے۔حالات جتنے بھی ناساز ہوں وہ خود سامنا کرتا ہے۔
دن بھر کی مشقت کے بعد پہلا خیال اپنے بچوں کا آتا ہے کہ بچے میرے منتظر ہوں گے کیوں نہ جاتے ہوئے اپنی جیب کے مطابق ٹافی سموسے جلیبی یا ان کا من پسند کوئی کھلونا لیتا جاوں یا اس کو اپنے بچے کی کوئی فرمائش یاد آجاتی ہے جو ننھے نے گھر سے نکلتے وقت کر ڈالی تھی۔باپ اک چھت کی مانند ہوتا ہے جس طرح اک چھت گھر کے مکین کو موسم کے سرد گرم ماحول سے محفوظ رکھتی ہے اسی طرح باپ موسم کے نارواں سلوک سے ہمیں تحفظ دیتا ہے۔ آندھی طوفان، گرج چمک اور گنگھور گھٹا سے بچا کے رکھتا ہے۔ باپ گھر کے مین دروازے کی مانند ہوتا ہے جو باہر کی بلاؤں اور مصیبتوں کو روک کر رکھتا ہے۔تیز دھوپ اور آنکھوں کو چندھیانے والی روشنی نے جسم اور آنکھوں کو ناکارہ کردیا ہوتا ہے۔ دنیا کیا ہوتی ہے اور دنیا کے کتنے رنگ و روپ ہوتے ہیں
وہ بابا کے جانے کے بعد بخوبی پتا لگ جاتا ہے۔ ایک سایہ فگن چھٹ گئی اور جہان فانی نے اپنا اصل ظاہر کرنا شروع کردیا ہو تب پتہ لگا کہ مسائل کیا ہوتے ہیں اور مشکلات کا اصل مفہوم کیا ہوتا یے؟؟ زندگی کے کتنے ایسے ناگزیر پہلو ایسے ہوتے ہیں جن سے بندہ نا آشنا ہوتا ہے ، ان کی بھنک بھی باپ اولاد کو کبھی بھی لگنے نہیں دیتا۔
خلاصہ کلام:
باپ شفقت محبت اور ایثار کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اس کا غصہ وقتی ہوتا ہے اگر وہ غصہ ہو بھی جائے تو اندر ہی اندر انتظار کرتا ہے کہ اسے منا لیا جائے۔ وہ اوپر سے تو سخت ہوتا ہے پر اندر سے بالکل سادہ اور نرم خو ہوتا ہے۔ صرف اور صرف اس کی اک جھوٹی انا اور بے تکا حجاب اپنے شفقت کا اظہار نہیں کرنے دیتی جو کہ ہمارے معاشرے کی عطا کردہ ہے۔گزرتے ہر لمحے، دن، مہینے، سال باپ کی اہمیت کا اندازہ بڑھتا چلا جاتا ہے۔باپ جیسا بھی ہو باپ ہوتا ہے۔ اک گھنا سایہ دار درخت جو خود تو دھوپ طوفان بارش میں کھڑا رہتا ہے پر اپنے سائے میں رہنے والوں کو تحفظ دیتا ہے۔ اس کی شاخوں پہ کتنے ہی پرندے پھلتے پھولتے ہیں۔ باپ کا وجود بے پناہ عزیز اور ضروری ہوتا ہے۔ باپ جیسا کوئی نہ ہوتا ہے اور نا ہو سکتا ہے۔ ہر چہرے اور ہر آنکھ میں
اپنے بابا کا روپ تلاش کرلیں پر نہ اس جیسی نظر ملے گی اور نہ ہی دست شفقت ملے گا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ جن کے باپ حیات ہیں ان کی قدر کیجئے۔ یقین جانئے یہ ہستی اک بار کھو گئی تو کبھی اور کسی قیمت واپس نہیں ملے گی۔
لہٰذااپنے باپ کی عزت کیجئے۔ احترام کو ملحوظ خاطر رکھئے۔ ان بوڑھی آنکھوں میں کبھی جھانک کے دیکھیں گے تو ان جھڑیوں میں ڈوبی آنکھوں میں جلتے انتظار کے دیپ نظر آئیں گے۔ کبھی ان روٹھے وجود کو گلے سے لگا کر اس میں اولاد کی محبت کو جذب کرکے دیکھئے ٹھیک اسی طرح جب آپ کمزور اور ناتواں تھے اور باہر کسی کتے کے بھونکنے سے ڈر جایا کرتے تھے
اور آپ کے والد محترم اپنے جوان بازووں میں بھر کے اپ کو کہتے تھے کہ میرا بیٹا/ بیٹی کیوں ڈرتا ہے اس کے بابا ہیں ناں۔۔۔۔۔۔۔!!اپ بھی اسی طرح جاکے کہا کریں کہ بابا آپ کا بیٹا/بیٹی ہے نا۔ جس طرح جب آپ کو چوٹ یا تکلیف کا احساس ہوتا تو وہ گھنٹوں آپ کا غم غلط کرنے کو کہانیاں سنایا کرتے تھے آج آپ بھی 24 گھنٹوں میں سے کچھ پل ان کو کہانیاں سنا آیا کریں۔
جس طرح آپ کی خواہش پر آپ کا باپ دن بھر کا تھکا ہارا فوراً گھوڑا بن جایا کرتا تھا آج آپ اس کا ہاتھ تھام کر اس کو اپنے ہونے کا لمس دے آیا کریں۔کبھی ان کی طرف سے دل رنجیدہ ہو جائے یا ان کے بار بار بھول جانے یا سوال کرنے کی عادت طبیعت کو گراں گزرے تو اس وقت کو یاد کرلیا کریں جب آپ اپنی توتلی زبان میں گھنٹوں اک ہی سوال دہرایا کرتے تھے
اور ہر بار یہی شخص جو اس وقت عمر کے اس حصے میں پہنچ چکا ہے۔ اپ کو پیار سے اک ہی جواب بتایا کرتا تھا۔ آپ بھی اسی پیار و محبت سے جواب دہرایا کریں۔یاد رکھئے ماں باپ کی رضا اللہ کی رضا ہے۔ہم جتنے بڑے عالم ہو جائیں م،عبادت گزار ہو جائیں لاکھوں روپے اللہ کی راہ پر لٹا دیں۔ چاہے جتنے اچھے اخلاق کا مظاہرہ کریں
لیکن اگر ہمارا حسن سلوک اپنے والدین سے اچھا نہیں ہوا تو ہم سے زیادہ اللہ کا قہر کا حقدار کوئی نا ہوگا۔اگر جنت کی طلب ہے تو ماں جس کے قدموں تلے جنت ہے اور باپ جو کہ جنت کا دروازہ ہے۔ ان دونوں کو راضی رکھنا ہوگا۔
جائیے کمائیے اپنی جنت۔ آپ کے والد اگر ناراض ہیں تو منا لیجیے۔ جن کے والد حیات ہیں ان کے پاس اب بھی موقع ہے کہ وہ دعاؤں کا خزانہ جمع کر پائیں۔ اللہ نہ کرے کہ دیر ہو جائے اور آپ اپنے والد کا کچھ حق ادا کرنے سے بھی محروم رہ جائیں اور ان بد نصیب کی طرح عید پر بھی دروازہ تکتے رہیں کہ کاش وہ آواز کہیں سے کانوں میں رس گھول دے۔
کاش مہندی لگی ہاتھوں میں انکے بابا عیدی دے جائیں۔ دروازے سے الجھی نگاہیں کہ کب بابا کی گھنٹی بجے اور دوڑ کے دروازہ کھول کے عید مبارک کہیں۔