انسان اس کائنات ارضی کا دلہا ہے۔ اسے بہترین سانچے میں ڈھال کر بنایا اور تمام مخلوقات میں فوقیت دی گئی۔ اگر بہ نظر غائر دیکھا جائے تو اللہ پاک کے ہم مسلمانوں پر بہت زیادہ احسانات ہیں اگر سوچا جائے تو یہی احسان کتنا بڑا ہے کہ اس نے ھمیں انسان پیدا فرما دیا اگر اللہ تعالی چاھتےتو کوئی جانور بنا دیتے پھر اس سے بھی بڑا احسان کہ مسلمان بنا دیا
ورنہ دنیا میں کثیر تعداد میں میں کافر موجود ھیں اور پھر ایک بڑا احسان یہ فرما دیا کہ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کی امت میں پیدا فرما دیا جس کے لئے آنبیاء کرام بھی دعائیں کرتے رہے کہ یا اللہ! ھمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں پیدا فرما دے سو اللہ تعالیٰ شانہ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، ان احسانات کا فطری تقاضا تو یہ ہے کہ انسان ہر وقت
اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود رہے، لیکن بعض مرتبہ یہ ہوتا ہے کہ ہم بجائے اللہ تعالی کی شکر آوری کے ناشکری پر اتر آتے ہیں، کبھی ظاہری اعضا سے تو کبھی باطنی اعضا سے، اللہ تعالی کے حکموں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہیں ، یہ اعضا جو کہ ہمارے پاس اللہ تعالی کی امانت ہیں، اللہ تعالی کی نافرمانی کرکے اس میں خیانت کرنے لگتے ہیں ، انہیں اعضا میں سے ایک عضو آنکھ بھی ہے
اللہ تعالی نے ھمیں یہ عظیم نعمت عنایت فرمائی ھے اور ساتھ ہی ہمیں یہ بھی بتا دیا ھے کہ اس سے کیا دیکھنا ھے اور کیا نہیں دیکھنا یعنی کیا دیکھنے کی اللہ رب العزت کی طرف سے آجازت ھے اور کیا دیکھنے سے اس ذات نے منع فرمایا ھے تو یہ ھمارا فرض بنتا ھے کہ ھمیں جن چیزوں کو دیکھنے سے منع فرمایا گیا ھے ان سے منع ہوجائیں لیکن ہم اکثر وبیشتر ان آنکھوں سے اُن چیزوں کو دیکھتے ہیں جن کو ہمارے خالق و مالک نے دیکھنے سے منع فرمایا ہے، جیسے غیر محرم عورتوں کواور دیگر محرمات کو دیکھنا خواہ وہ موبائل یا ٹی وی کی سکرین پر ھو یا اور کسی بھی اور طریقہ سے ھو ۔ آج نیٹ کی وجہ سے یہ مرض زیادہ عام ہو گیا ہے ، جوان تو جوان بوڑھے لوگ بھی اس میں مبتلا ہیں ۔ آج ہماری عورتوں کا کیا حال ہے؟ وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں
اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے:
{ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا}
" بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا"
(سورہ اسراء آیت 36)
اللہ پاک کے غضب کو دعوت دینے اور نیک اعمال کو حبط کرنے والے گناہوں میں سے ایک بڑا گناہ بد نگاہی / بد نظری ہے۔ غیر محرم عورت / مرد کو شہوت کی نگاہ سے دیکھنا اور دل کو برے خیالات سے آلودہ کرنا بد نگاہی کہلاتا ہے، چاہے وہ غیر محرم حقیقی طور پر زندہ ہو، چاہے کسی غیر محرم )زندہ یا مردہ( کی تصویر، ویڈیو یا فلم وغیرہ ہو، ان سب کا دیکھنا حرام ہے
اور بد نگاہی کے اندر داخل ہے۔ پہلے یہ گناہ کرنے کے مواقع صرف آف لائن دستیاب تھے لیکن اب آن لائن بھی دستیاب ہیں۔اللہ پاک کے غضب کو دعوت دینے والا یہ گناہ آج سوشل میڈیا کے ذریعے ہماری جیبوں، ہاتھوں اور آنکھوں سے ہوتا ہوا دلوں تک پہنچ چکا ہے۔ ایک کلک پر لاکھوں حرام تصاویر , ایک سکرول پر بے حیائی کا سیلاب ,
جنہیں لوگ اپنے موبائل میں ہر زاویے سے باربار دیکھتے ہیں، آنکھوں سے اپنے دلوں میں اتارتے ہیں اور اپنی جنسی خواہشات کو بھڑکاتے ہیں۔ پھر جب گلی محلے میں کسی کی بیوی، بیٹی یا بہو نظر آتی ہے تو ایسے لوگ ان پر بری نگاہ ڈالتے ہیں اور اپنے دلوں میں برے خیالات پالتے ہیں۔
آج کا المیہ:
آج جبکہ بے پردگی عام ہے آنکھوں کی حفاظت کرنا بہت ضروری ہے۔ آج بازار، شاپنگ سینٹر، ریلوے اسٹیشن، ایئر پورٹ اور ہرعوامی جگہ پر ہم میں سے ہر کسی کا سامنا غیر محرم جنسِ مخالف سے ہوتا ہے تو اِس موقع پر ہماری سب سے اہم ذمہ داری بد نگاہی سے بچنا ہے۔ لیکن اکثریت اس کی پرواہ نہیں کرتی بلکہ بعض لوگ عمرہ اور حج جیسے مقدس سفر کے دوران بھی
بد نگاہی کی وجہ سے ہوائی جہاز میں کسی ایئرہوسٹس کو دل میں بسا لیتے ہیں اور اللہ کے گھر میں خلوصِ دل کے بغیر پہنچتے ہیں۔ بعض بزرگ حضرات شدید بیماری کی حالت میں ہسپتال میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں موجود لیڈی ڈاکٹروں اور نرسوں کو ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہتے ہیں، دل میں کچھ ہلچل تو ہوتی ہوگی۔ اگر اسی دل کے ساتھ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے تو سوچیے کہ اللہ کو کیا منہ دکھائیں گے؟
اصل المیہ یہ ہے کہ آج کل مسلمانوں کی اکثریت بد نگاہی جیسے سنگین گناہ کو گناہ سمجھتی ہی نہیں، اسی لیے جوان تو جوان، قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے بعض بوڑھے بھی اس مہلک گناہ میں ملوث ہیں۔وہ بوڑھے ہاتھ جو تسبیح پکڑتے تھے، آج موبائل اسکرینز پر گناہ کے تصاویر دیکھتے رہتے ہیں۔ کمر جھک گئی مگر نگاہیں نہیں جھکیں۔اِس بات سے کوئی مسلمان اِنکار نہیں کرسکتا کہ شرم وحیا اِسلامی معاشرے کی بنیادی اَقدار اور قرآن و سُنّت کے حکیمانہ اَحکام میں سے ہیں، اور اِس امر کو بھی کوئی نہیں جھٹلا سکتا کہ بدکاری اپنی تمام تر صورتوں کے ساتھ حرام ہے خواہ رضامندی سے ہو یا جبری، پیسے کے بدلے میں ہو یا مفت۔ بے حیائی اور بدکاری انسان کے اخلاقی وجود کو تباہی کے دہانے پر لا چھوڑتی ہے
قرآنی انتباہ:
غور کیجئے کہ اللہ تعالیٰ نے آداب معاشرت کے طور طریقوں میں پہلے مردوں کو مخاطب کیا ہے پھر عورتوں سے خطاب ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
{ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْؕ-ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ}
( سورہ نور آیت 30)
"اے نبی ﷺ! مسلمان مردوں کو حکم دو اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لئے بڑی پاکیزگی کی بات ہے ، بے شک الله جانتا ہے جو وہ کرتے ہیں"
آج عورتیں بھی اس معاملے میں پیچھے نہیں ہیں، فحش تصاویر اور ویڈیوز دیکھنا، غیر محرم مردوں کو تاڑنا اور اپنے دل کی پیاس ناجائز طریقے سے بجھانا بعض عورتوں کا مشغلہ بن گیا ہے۔ العلیم و البصیر رب عظیم نے اس لیے مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کو بھی حکم دیا:
"اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش (یعنی زیور کے مقامات) کو ظاہر نہ ہونے دیا کریں مگر جو ان میں سے کھلا رہتا ہو"
یہ حکم صرف جوانوں کے لیے نہیں، بڑھاپے میں تو اس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے، اس وقت انسان کو بہت احتیاط کرنی چاہیے کیونکہ ایک چھوٹی سی لغزش بھی ساری زندگی کے نیک اعمال کو برباد کر سکتی ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
{حَتّٰٓی اِذَا مَا جَآءُوْہَا شَہِدَ عَلَیْہِمْ سَمْعُہُمْ وَاَبْصَارُہُمْ وَجُلُوْدُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ}
(سورہ حٰم السجدہ 26)
’’یہاں تک کہ جب بالکل جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور آنکھیں اور ان کی کھالیں(یعنی دوسرے اعضا) ان کے خلاف ان کے اعمال کی شہادت دیں گی۔‘‘
نیز یہ بھی ارشاد ہے:
{یَعْلَمُ خَآئِنَۃَ الْاَعْیُنِ وَمَا تُخْفِی الصُّدُوْرُ } (سورہ مؤمن آیت 20)
’’وہ آنکھوں کی خیانت کو جانتا ہے اور جو (باتیں ) سینوں میں پوشیدہ ہیں ان سے بھی واقف ہے)۔‘‘
آیت بالا کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں : ’’یہ وہ آدمی ہے جو لوگوں کے درمیان میں ہو، اس کے پاس سے عورت گزرے، تو وہ لوگوں کو یہ دکھاتا ہے کہ اس کی نگاہیں نیچی ہیں اور وہ عورت کو دیکھ نہیں رہا ہے۔جب وہ دیکھتا ہے کہ لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہیں تو پھر عورت پر نظریں ڈالنے لگتا ہے۔ اگر اسے خدشہ ہوتا ہے کہ
لوگ اس کی حرکت بھانپ جائیں گے تو اپنی نظروں کو جھکا دیتا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ اس کے دل کے بھید سے بخوبی واقف ہے کہ وہ آدمی نہ صرف عورت کو دیکھنا چاہتا ہے بلکہ اس کی خواہش تو اس کے مستور اعضاء بھی دیکھنے کی ہے۔
بد نگاہی کا وبال:
بد نگاہی انسان کی عبادت کی حلاوت کوختم کردیتی ہے اور اس کا ذہن مختلف گندے خیالات کی آماج گاہ بن جاتاہے، جس سے اس کی خانگی زندگی شدید متاثر ہوتی ہے اور خیر وبرکت سے محرومی بھی ہوجاتی ہے۔ اور جو شخص اللہ کے خوف کے پیشِ نظر بد نگاہی سے بچتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے حلاوتِ ایمانی نصیب ہونے کا مژدہ سنایا گیا ہے۔
بد نگاہی انسان کی عبادت کی حلاوت کوختم کردیتی ہے اور اس کا ذہن مختلف گندے خیالات کی آماج گاہ بن جاتاہے، جس سے اس کی خانگی زندگی شدید متاثر ہوتی ہے اور خیر وبرکت سے محرومی بھی ہوجاتی ہے۔ اور جو شخص اللہ کے خوف کے پیشِ نظر بد نگاہی سے بچتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے حلاوتِ ایمانی نصیب ہونے کا مژدہ سنایا گیا ہے۔
بد نگاہی کا وبال اتنا زیادہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بدنگاہی کو زنا کے ابتدائی مراحل میں شمار کیا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے زنا کا کوئی نہ کوئی حصہ لکھ دیا ہے جس سے اسے لامحالہ گزرنا ہے، پس آنکھ کا زنا (غیرمحرم کو) دیکھنا ہے، زبان کا زنا غیرمحرم سے گفتگو کرنا ہے، دل کا زنا خواہش اور شہوت ہے
اور شرمگاہ اس کی تصدیق کر دیتی ہے یا اسے جھٹلا دیتی ہے۔ (صحیح بخاری: 6612)
اس حدیث میں واضح ہے کہ نگاہوں کو کنٹرول نہ کرنا کتنا خطرناک ہے؟اور یہ خطرہ عمر کے ہر مرحلے میں موجود رہتا ہے جو انسان کو زنا اور لواطت جیسے کبیرہ گناہوں میں ملوث کر سکتا ہے اور اسے کافر و مشرک بھی بنا سکتا ہے۔ بڑھاپے میں بدنگاہی کا گناہ اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ یہ انسان کے ساری زندگی کے نیک اعمال برباد کرنے کا سبب بن سکتا ہے
اور اس کی آخرت کو تباہ کر سکتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ”تین (قسم کے لوگ) ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کو پاک فرمائے گا (نہ ان کی طرف رحمت سے دیکھے گا) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ بوڑھا زانی، جھوٹا حکمران اور تکبر کرنے والا عیال دار محتاج“۔ (صحیح مسلم: 107)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ بڑھاپے میں گناہ کی شدت بڑھ جاتی ہے، اسی لیے بدنگاہی اور بعض گناہیں اللہ کے ہاں ناقابل معافی ہو سکتی ہے۔بد نگاہی کا گناہ دل کو خالق کی بجائے مخلوق کی طرف مائل کرتا ہے، دل میں خالق کی بجائے مخلوق کی محبت کو پروان چڑھاتا ہے، نتیجتاً دل کو اللہ کی یاد سے غافل کر دیتا ہے۔ اللہ کی یاد سے غافل دل شیطان کا مسکن ہوتا ہے، جسا کہ فرمانِ الٰہی ہے:
{ وَ مَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَهٗ شَیْطٰنًا فَهُوَ لَهٗ قَرِیْن}
(سورہ زخرف آیت 36)
"اور جو شخص رحمٰن کی یاد سے غفلت برتتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مقرر کردیتے ہیں وہی اس کا ساتھی رہتا ہے"
لہذا جو دل میں رحمٰن کے بجائے شیطان کا مسکن ہو تو شیطان اسے اپنے ساتھ جہنم میں لے ہی جائے گا، ( إِلَّا مَن رَّحِمَ اللَّهُ )۔ اسی لیے بعض اہل علم نے کہا ہے کہ بد نگاہی کا عادی شخص کو موت کے وقت کلمہ نصیب نہیں ہوتا اور وہ اپنے دل میں کسی فانی مخلوق کی محبت بسائے سوء خاتمہ سے دوچار ہوتا ہے۔معلوم ہوا کہ:
کمر جھکنا کافی نہیں،
نظر بھی جھکانی ہوگی۔
تسبیح کے دانے گننا کافی نہیں،
دل کے خیالات بھی گننے ہوں گے۔
بد نگاہی سے بچاؤ کی تدابیر:
سورة النور کی آیات 30 اور 31 کو یاد رکھنا اور انہیں باربار ترجمہ کے ساتھ پڑھنا۔
نبیﷺ کا بتلایا ہوا سنہری اصول مستحضر رہے کہ "پہلی نظر معاف، دوسری نظر گناہ"۔ (سنن ابی داؤد:2149
واضح رہے کہ کسی غیر محرم کو باربار دیکھنے سے تسنگی بڑھتی ہے اور دل میں اس کے لیے جگہ پیدا ہوجانا لازمی ہے، اس لیے پیارے نبی ﷺ نے صرف پہلی نظر کو جائز قرار دیا اور اتفاقاً پہلی نظر پڑنے پر نگاہیں جھکا لینے کا فائدہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: "جس مسلمان کی پہلی نظر کسی عورت کے محاسن پر پڑے اور وہ اپنی نگاہیں جھکا لے
تو اللہ تعالیٰ اس کی عبادت میں وہ لذت پیدا کردیں گے جس کی حلاوت وہ خود محسوس کرے گا"۔ (مسند احمد 22278)دوسری حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے علی! پہلی نظر جو دفعةً کسی عورت پر پڑجائے وہ تو معاف ہے اور اگر تم نے نظر کو جمائے رکھا یا دوبارہ نظر ڈالی تو اس کا وبال قیامت میں تم پر ہوگا۔
اس کے علاوہ نیک ماحول اور صحبت اختیار کریں اور یہ ذہن میں رکھیں کہ جس طرح آپ اس بات کو ناپسند کریں گے کہ کوئی آپ کی بہن ،بیٹی کو بری نظر سے دیکھے اسی طرح ہر لڑکی کسی کی بہن اور کسی کی بیٹی ہے، اس کی عزت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے ۔
اسی طرح راستے میں چلتے ہوئے نگاہیں جھکا کر چلنے کی عادت بنائیں یہ اللہ تعالی کا حکم بھی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی سنت بھی، اور ایک مسلمان کے لیے دنیا میں عافیت اور آخرت میں نجات اللہ تعالی کے اوامر پر سنت کے مطابق عمل کرنے ہی میں ہے۔
خلاصہ کلام:
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آج بے حیائی کا دور دورہ ہے، دنیا کے لوگوں کی اکثریت گناہوں کے سمندر میں غرق ہے، چاروں طرف فحاشی پھیلی ہوئی ہے، یقینا اس کے بہت سے اسباب ہیں، مگراس کا ایک بہت بڑا سبب بدنظری اور نظر کی بے احتیاطی بھی ہے ، یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس کو شیطان انسان کے ہاتھ میں دے کر پوری طرح مطمئن ہوچکا ہے،
اب اسے کبھی کسی طاغوتی منصوبے کو بروئے کار لانے میں زیادہ جدوجہد نہیں کرنی پڑتی، یہ بدنظری خود بخود اس کی آرزوؤں کی خاطر خواہ تکمیل کردیتی ہے۔ نظر کی حفاظت میں کوتاہی بے شرمی کی بنیاد، فتنہ و فساد کا موٴثر ذریعہ اور منکرات و معاصی کا سب سے بڑا محرک ہے، تجربہ اور تحقیق سے یہ بآسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آج کم سے کم ستر فیصد جرائم اور فحاشیاں محض اس بنیاد پر
دنیا میں وقوع پذیر ہوتی ہیں کہ ان کی باقاعدہ تربیت سنیما ہالوں، ٹی وی پروگراموں، ویڈیو کیسٹوں اور ایسی پارٹیوں کے ذریعے کی جاتی ہے، جس میں اچھی طرح غیر محرم عورتوں کو دیکھنے اور اختلاط کا موقع فراہم ہوتا ہے، اسی بدنظری کی پاداش میں بلند و بالا ورع و تقویٰ کے میناروں میں دراڑیں پڑگئیں اور ذراسی بداحتیاطی نے زندگی بھر کے نیک کاموں پر بدنما داغ لگادئیے۔
اسلام برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا عزم رکھتا ہے۔ دنیا میں اسلام سے بڑھ کر کوئی مذہب بے حیائیوں پر روک لگانے والا نہیں ہے۔ قرآن و حدیث میں فحاشی کی بنیاد یعنی آنکھ کی بے احتیاطی کو سختی سے قابو میں کرنے کی تلقین کی گئی ہے یہ ایسی بنیاد ہے اگر صرف اس پر ہی قابو پالیا جائے تو ساری بے حیائیاں دنیا سے رخصت ہوسکتی ہیں۔
بس غیور مرد مومن کا عزم و استقلال مطلوب ہے۔