(+92) 319 4080233
جہدِ مسلسل شرط زندگی ہے
علم مومن کی گمشدہ میراث کہلاتا ہے لیکن آفسوس کہ اس وقت مسلمان تعلیم کے میدان میں بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔علم یقیناً انسان کو بلند کرتا ہے۔ یہ صرف معلومات کا ذخیرہ ہی نہیں بلکہ یہ انسان کے سوچنے، سمجھنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت کو بھی نکھارتا ہے۔ علم کی بدولت انسان دنیا کو ایک نئے زاویے سے دیکھتا ہے، اس کے امکانات وسیع ہوتے ہیں اور وہ زندگی میں بہتر فیصلے کرنے کے قابل ہوتا ہے۔علم انسان کو اخلاقی طور پر بھی مضبوط کرتا ہے، اسے اچھے برے کی تمیز سکھاتا ہے اور ایک باشعور شہری بناتا ہے۔ علم کی روشنی سے جہالت کا اندھیرا دور ہوتا ہے اور معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوتا ہے۔ اگر بلا امتیاز تحقیق کریں تو دنیا کے تعلیمی نظاموں میں پہلے نمبر پر فن لینڈ، دوسرے نمبر پر جاپان اور تیسرے نمبر پر جنوبی کوریا ہے ۔ انھوں نے اپنی نئی نسل کو "ڈگریوں " کے پیچھے بھگانے کے بجائے انھیں " ٹیکنیکل " کرنا شروع کردیا ہے۔ آپ کو سب سے زیادہ ایلیمنٹری اسکولز ان ہی ممالک میں نظر آئیں گے۔وہ اپنے بچوں کا وقت کلاس رومز میں بورڈز کے سامنے ضائع کرنے کے بجائے حقائق کی دنیا میں لے جاتے ہیں ۔ ایک بہت بڑا ووکیشنل انسٹیٹیوٹ اس وقت سنگاپور میں ہے اور وہاں بچوں کا صرف بیس فیصد وقت کلاس میں گزارتا ہے باقی اسی فیصد وقت بچے اپنے اپنے شعبوں میں آٹو موبائلز اور آئی – ٹی کی چیزوں سے کھیلتے گزارتے ہیں ۔دوسری طرف آپ ہمارے تعلیمی نظام اور ہمارے بچوں کا حال ملاحظہ کریں۔ آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا ہم دنیا میں بچوں کو دی جانے والی تربیت کو فالو کر رہے ہیں ؟
دنیا میں بدلتا ہوا تعلیمی رجحان:
اب آتے ہیں کہ دنیا کن شعبوں میں اپنے نوجوانوں کو کھپا رہی ہے؟؟ سب سے پہلے فلپائن کی مثال لیتے ہیں فلپائن نے پورے ملک میں " ہوٹل مینجمنٹ اینڈ ہاسپٹلٹی " کے شعبے کو ترقی دی ہے ۔اپنے نوجوانوں کو ڈپلومہ کورسسز کروائے ہیں اور دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ ڈیمانڈ فلپائن کے سیلز مینز / گرلز ، ویٹرز اور ویٹرسسز کی ہے ۔ حتی کے ہمارا روایتی حریف بھارت تک ان تمام شعبوں میں بہت آگے نکل چکا ہے ۔آئی – ٹی انڈسٹری میں سب سے زیادہ نوجوان ساری دنیا میں بھارت سے جاتے ہیں جب کہ آپ کو دنیا کے تقریبا ہر ملک میں بڑی تعداد میں بھارتی لڑکے لڑکیاں سیلز مینز ، گرلز ، ویٹرز اور ویٹریسسز نظر آتے ہیں ۔ پروفیشنل ہونے کی وجہ سے ان کی تنخواہیں بھی پاکستانیوں کے مقابلے میں دس دس گنا زیادہ ہوتی ہیں اور دوسری طرفدیکھیں تو نہایت شرم آتی ہے کہ ہم بیرون ممالک سے بھکاریوں کو بھیج رہے ہیں اور دنیا ہماری حرکتوں کی وجہ سے آئے روز ہم پر مختلف قسم کی پابندیاں لگاتی جارہی ہے۔چینی کہاوت ہے کہ " اگر تم کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو اس کو مچھلی دینے کے بجائے مچھلی پکڑنا سکھا دو "۔
نظام تعلیم میں مثبت تبدیلیاں:
میٹرک تک سلیبس اس طرح ہونا چاہیے کہ بچے کے پاس کوئی نہ کوئی ہنر آجائے اور بچے کو پتہ چل جائے کہ اس نے میٹرک کے بعد کون سے فیلڈ اختیار کرنی ہے؟ یعنی اس کی کس فیلڈ میں دلچسپی ہے ۔میرا خیال ہے اب رٹا سسٹم ختم ہونا چاہیے بچوں کو دسویں تک زیادہ سے زیادہ ٹیکنیکل تعلیم دینی چاہیے۔ جمعہ اور ہفتہ دو دن ایسے ہوں جس میں نصابی کتابیں بالکل بند کر دی جائیں اور بچوں کو ہنر سکھائے جائیں۔ غور طلب امر یہ ہے کہ ایسے کون سے ہنر ہیں جو بچے دسویں کلاس تک سیکھ سکتے ہیں ؟؟
آٹو مکینک:
خصوصی طور پر موٹر سائیکل کے بارے میں بچوں کو تربیت دی جائے اس کے انجن کے بارے میں پرزے تبدیل کرنے کے بارے میں انہیں چھٹی کلاس سے لے کر دسویں کلاس تک مرحلہ وائز موٹر سائیکل کا کام سکھایا جائے وہ اس قدر ماہر بن جائیں کہ دسویں کلاس کے بعد پرزے خرید کر پورا موٹر سائیکل اسمبل کر سکیں۔ نیز بائیک کے کسی معمولی کام کے لیے بھی مکینک کے محتاج نہ ہوں۔
بجلی کا کام الیکٹریشن:
بچوں کو عملی طور پر بجلی کا کام سکھایا جائے انڈر گراؤنڈ وائرنگ کیسے کی جاتی ہے اور اوپن گراؤنڈ وائرنگ کیسے کی جاتی ہے موٹر وائنڈ کیسے کی جاتی ہے؟ مکمل طور پر بچوں کو کام سکھایا جائے اور یہ شعبہ اور یہ ہنر خود میں پوری ایک سائنس ہے فزکس میں اس کے چیپٹر تو ہیں پر صرف تھیوری کے طور پر ہیں اصل یہ ہے کہ بچوں کو صحیح معنوں میں پریکٹیکلی کام سکھایا جائے تاکہ وہ چھوٹے موٹے کام خود ہی سر انجام دے سکیں۔
گھر کا ڈاکٹر :
چھٹی کلاس سے لے کے دسویں کلاس تک کے تمام بچوں کو گھر ڈاکٹر بنا دیا جائے جو کہ وقت کی اشد ضرورت ہے بچے کو بلڈ پریشر مانیٹر کرنا آنا چاہیے ۔وین میں انجیکشن لگانا سکھائیں گوشت میں انجیکشن لگانا سکھائیں یہ بھی باور کرائیں کہ بوقت ضرورت ڈرپ کیسے لگائی جاتی ہے؟؟ایمرجنسی کی صورت میں بینڈج کرنا سکھائیں ۔ ضروری نہیں یہ کام اس نے لوگوں کے لیے کرنے ہیں یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہیں جو بچے کی ساری زندگی اس کے کام آنے والی ہیں اسے عام زبان میں ابتدائی طبی امداد کے نام سے جانا جاتا ہے۔
موبائل ریپیئرنگ اور سافٹ ویئر:
بچوں کو موبائل ریپیئرنگ کے بارے میں تربیت دی جائے ان کو موبائل ریپیئر کرنا سکھایا جائے موبائل میں سوفٹ ویئر کیسے اپڈیٹ کیا جاتا ہے سافٹ ویئر انسٹال کیسے کیا جاتا ہے؟ یہ سب معلومات بہم پہنچائی جائیں۔تاکہ بچے گھر بیٹھے کمائیں اور سفری کلفتوں سے نجات پائیں۔
خود سے پیسے کمانا:
گرمی کی چھٹیوں میں بچوں کو ٹاسک دیا جائے کہ پانچ پانچ بچے مل کر تھوڑے تھوڑے پیسے ڈال کر کوئی کاروبار کریں کوئی چیز لے کر فروخت کریں تاکہ وہ عملی زندگی میں اس طرح کی صورتحال سے پریشان نہ ہو مطلب ان کو کمانا سکھائیں تاکہ وہ ہمیشہ والدین پر بوجھ نہ بنیں بلکہ اپنے پیروں پر کھڑا ہونے کا جذبہ رکھتے ہوں۔ واضح رہے کہ ہمارے پڑوسی ملک انڈیا میں یہ پریکٹیکل کئی سالوں سے ہو رہا ہے جس کے بچوں پر مثبت نتائج موصول ہوئے ہیں ۔
فری لانسنگ:
ویڈیو گیم کھیلنے کے علاوہ کمپیوٹر اور بھی بہت سے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے یہ بچوں کو عملی طور پر باور کروایا جا سکتا ہے انہیں بتائیں کہ انٹرنیٹ کا دور ہے اپ اپنی چیزیں انٹرنیٹ پر کس قدر آسانی کے ساتھ فروخت کر سکتے ہیں؟انہیں اپنی خدمات کو انٹرنیٹ پر فروخت کرنا سکھائیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ دیہاتی ہے اور اس کے گھر میں دیسی گھی ہے تو اس کا استاد بتائے کہ وہ دیسی گھی کا پیج بنا کر انٹرنیٹ پر ایمانداری کے ساتھ کس قدر کامیاب کاروبار کر سکتا ہے ایلسی کی پنیا فروخت کر سکتا ہے مکئی کا آٹا فروخت کر سکتا ہے سردیوں میں ساگ بنا کر فروخت کر سکتا ہے مکھن فروخت کر سکتا ہے اور بھی بہت کچھ یہ اسے سکھایا جائے۔
نرسری اگانا:
بچوں کو بیج لگانے کی تربیت دی جائے پھولوں کے بیج سبزیوں کے بیج درختوں کے بیج اور یہ کام سکول میں بہت آسانی کے ساتھ ہو سکتے ہیں۔ اس وقت موسمیاتی تبدیلیوں سے پوری دنیا متاثر ہو رہی ہے بچوں میں یہ شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ کس طرح ہم اس دھرتی کو تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں ؟؟ اگر مستقبل میں اس کا رجحان نیچر کی طرف بڑھ جائے تو وہ نرسری کا اپنا کاروبار کر سکتا ہے ثواب کا ثواب اور اپنا کاروبار بھی لہذٰا اسے یہ ہنر ضرور سکھانے چاہیے.
مارکیٹنگ کے اسکلز:
بچوں کے اندر اس قدر اعتماد پیدا کیا جائے کہ وہ بہترین مارکیٹر بن سکیں۔ان کو اپنی چیزیں بیچنا آنا چاہیے اور اساتذہ سے بڑھ کر کوئی ایسی ہستی نہیں جو بچوں میں اس قدر اعتماد پیدا کر سکے والدین سے بھی زیادہ اعتماد بچوں کو سکول میں ماحول سے ملتا ہے مخلص اساتذہ سے ملتا ہے۔ اب وقت ہے کہ سلیبس میں موجود فضول کہانیوں کو یکثر مسترد کر کے ہمارے آنے والے بچوں کو دسویں تک مکمل پریکٹیکل تعلیم دی جائے تاکہ وہ اپنا باعزت روزگار کما کر نہ صرف وطن عزیز کے باعزت شہری بن سکیں بلکہ مملکت خداداد کو بھی مضبوط سے مضبوط تر بنانے میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ ورنہ خاکم بدہن، ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں اب ذرا ایک اور ترقی یافتہ ملک فن لینڈ کے اسکول میں جماعت ششم کے ایک خوبصورت عملی تربیت کا سفر ملاحظہ کرتے ہیں۔
فن لینڈ کا بہترین نظام تعلیم:
بین الاقوامی سروے کے مطابق فن لینڈ دنیا کا وہ ملک ہے جہاں کا تعلیمی نظام بہترین مانا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ نظام قدرتی ماحول سے قریب تر ہے۔ طلبہ کو فطرت کے قریب رہنا، فطرت میں جینا، فطرت سے سیکھنا اور اس کے مطابق خود کو ڈھالنا سکھایا جاتا ہے۔ یہ نظام تعلیم اس قدر قدرتی اور متوازن ہے کہ طالبعلم کھیل ہی کھیل میں سیکھتے ہوئے علم اور عمل دونوں کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے۔ ان کا ذہن کسی حد میں مقید نہیں ہوتا بلکہ آزاد فضا میں علم کا بحر بیکراں ان کے لیے کھلتا چلا جاتا ہے۔فن لینڈ میں جب ایک بچہ نرسری میں داخل ہوتا ہے، تو اسی وقت اس کی کلاس کا ایک اجتماعی اکاؤنٹ بنا دیا جاتا ہے۔ مثلاً اگر کلاس میں 30 طالبعلم ہیں، تو ان سب کو ابتدا سے یہ بتایا جاتا ہے کہ پانچویں جماعت مکمل کرنے کے بعد چھٹی جماعت میں داخلے کے ساتھ انہیں ایک سمندری تربیتی سفر پر لے جایا جائے گا، جو چند دنوں پر مشتمل ہوگا اور اس کی مجموعی لاگت تقریباً 12000 یورو ہوگی۔
بچپن میں کاروباری شعور:
اس سفر کے لیے رقم جمع کرنے( فنڈ ریزنگ) کا طریقہ بھی نہایت شاندار اور تربیت یافتہ ہوتا ہے۔ ہر روز ایک طالبعلم اپنے گھر سے کوئی چیز بنوا کر لاتا، جو اکثر اس کی والدہ تیار کرتی ہیں۔ یہ چیز وہ اپنے ہم جماعتوں کو (اساتذہ کی نگرانی میں) فروخت کرتا ہے اور منافع کلاس کے اکاؤنٹ میں جمع کر دیا جاتا۔ اس طرح پانچ سال میں مناسب رقم جمع ہو جاتی ہے۔ اس عمل سے بچوں کے اندر نہ صرف خود اعتمادی آتی ہے بلکہ ابتدائی سطح پر کاروباری صلاحیتیں بھی اجاگر ہوتی ہیں۔
خوراک میں مساوات:
سفر سے قبل بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ سمندری ماحول میں کون سی خوراک استعمال کی جائے؟ ہر بچے کے لیے یکساں، سادہ اور معیاری خوراک مختص کی جاتی ہے تاکہ کسی بھی بچے کو احساسِ کم تری یا برتری نہ ہو۔ اس سے مساوات، ضبط اور احساسِ برابری پیدا ہوتا ہے۔
حفاظتی تربیت:
سفر سے ایک دن قبل مکمل تربیت دی جاتی ہے کہ کشتی کیسے چلانی ہے، حفاظتی تدابیر کیا ہوں گی اور سمندری زندگی کا سامنا کیسے کرنا ہے؟ ہر طالبعلم کو ذمہ داریوں کے ساتھ عملیت کی تربیت دی جاتی ہے۔تمام طلبہ اور اساتذہ ایک مخصوص مقام پر جمع ہوتے ہیں، جہاں فائنل بریفنگ دی جاتی ہے۔ اس کے بعد تمام بچے کشتی میں سوار ہو جاتے ہیں۔ مکمل حفاظتی عملہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔ بچوں کے پاس موبائل فون نہیں ہوتے، البتہ اساتذہ کے پاس رابطہ کے لیے تمام سہولیات موجود ہوتی ہیں۔یہ پانچ روزہ سمندری سفر بچوں کے لیے ایک مکمل تربیتی تجربہ ہوتا ہے۔ اس دوران وہ خود کھانا پکاتے ہیں، کشتی چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں، اور ضرورت کے تمام کام خود انجام ہی سر انجام دیتے ہیں۔
سمندر میں عملی زندگی کی جھلک:
جیسے ہی کشتی روانہ ہوتی ہے، بچوں کو مسلسل گائیڈ کیا جاتا ہے کہ مختلف امور کیسے سرانجام دینے ہیں۔ تمام ذمہ داریاں روزانہ تبدیل ہوتی رہتی ہیں تاکہ ہر بچہ ہر فن میں مہارت حاصل کرے۔ اس سفر میں انہیں تیرنا، ہواؤں سے لڑنا اور کشتی کو قابو میں رکھنا سکھایا جاتا ہے۔ والدین اس سفر میں شریک نہیں ہوتے تاکہ بچے خود اعتمادی اور خود انحصاری کا سبق بہتر طور پر سیکھ سکیں۔کشتی کی صفائی، بارش میں کام کرنا، دن رات کی ذمہ داریاں، سب اس تربیت کا حصہ ہوتی ہیں۔
تعلیم سے زندگی کی طرف:
یہ سرگرمی بچوں کو "آؤٹ آف باکس" سوچنے، زندگی کو عملی انداز میں سمجھنے اور خود سے کام لینا سکھاتی ہے۔اس کا سب سے حسین پہلو یہ ہے کہ امیر و غریب بچے ایک ہی صف میں، ایک ہی کشتی میں، ایک ہی ماحول میں ہوتے ہیں، جہاں کسی کو دوسروں سے ممتاز نہیں سمجھا جاتا۔ یہی اصل تعلیم ہےکہ قدرت سے قریب رہ کر، قدرت سے سیکھا جائے اور پر امن بقائے باہمی کے اصول کو اجاگر کر کے جیو اور جینے دو کی پالیسی وضع کی جائے۔
خواب کبھی نہیں مرتے:
کبھی نوٹ کیا ہے کہ وہی تخلیقی لڑکا جو ڈرائنگ کے ہر ٹیسٹ میں پورے سکول کو مات دیتا تھا، ایک دن اچانک اکاؤنٹس کی کتابیں گود میں لیے بیٹھا ملتا ہے......صرف اس لیے کہ گھر والوں نے کہہ دیا "بیٹا، مصوری میں پیسہ نہیں، فنانس میں روٹی ہے" یا وہ لڑکی جو سائنس میلے میں پہلے نمبر پر آئی تھی، چند مہینے بعد سلائی مشین پر بیٹھ کر جوڑے سینے لگتی ہے کیونکہ خاندان نے طے کر دیا "ڈاکٹری میں وقت لگے گا، گھر کی ضرورت ابھی ہے۔" یہ صرف دو کہانیاں نہیں بلکہ ہمارے گرد ہر گلی، ہر گھر میں پھیلی حقیقت ہے۔ڈرائینگ بُک الماری میں دب جاتی ہے، اسکالرشپ کی ای‑میل اسپیم میں رہ جاتی ہے، اور ہم "پریکٹیکل" بننے کے نام پر اپنا خواب دفن کر دیتے ہیں۔ اعداد و شمار بھی یہی روگ دکھاتے ہیں مثلاً: ایشیا پیسیفک یوتھ سروے کہتا ہے پاکستان کے 70 فی صد نوجوان اپنا کیریئر خود نہیں چنتے، خاندان کی پسند پر چلتے ہیں۔ گیلپ پاکستان کے 2024 پول میں 55 فی صد پروفیشنلز نے مانا کہ وہ اپنے پیشے سے مطمئن نہیں، انکی اصل وجہ خاندانی یا سماجی دباؤ نکلی۔ ایچ ای سی کے مطابق بیرونِ ملک اسکالرشپ جیتنے والے ہر چار میں سے ایک طالب علم گھر کی ذمہ داریوں کے سبب روانہ ہی نہیں ہو پاتا۔ اُمید پھر بھی باقی رہتی ہے۔ یاد کیجیے عاطف اسلم کو.....انجینئرنگ کی کلاسیں چھوڑ کر اُس نے مائیک پکڑا، شروع میں گھر والوں نے ڈگری کی ضد کی مگر آج اس کی آواز دنیا کے اسٹیڈیم بھر دیتی ہے۔ اور شاہد آفریدی، جس نے اسکول ختم ہونے سے پہلے ہی کرکٹ کو روزگار بنایا، سب نے کہا پڑھائی چھوڑنا رسک ہے، اُس نے 37 گیندوں پر سنچری جڑ کر عالمی ریکارڈ بنا ڈالا۔ ایسی مثالیں بتاتی ہیں کہ خواب مر نہیں جاتے، صرف اس لمحے جاگ اُٹھتے ہیں جب ہم خود اُن کے حق میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔
علم اور حکمت کا باہمی ربط و ضبط:
ایک غریب ملاح کی کشتی میں دو انتہائی تعلیم یافتہ مگر خود پسند اور مغرور انسان سوار ہوئے۔ ان میں سے ایک اپنے وقت کا معروف فلسفی تھا اور دوسرا مشہور ریاضی دان۔ سمندر میں دوران سفر فلسفی نے ریاضی دان پر دھاک بٹھانے کیلئے ملاح کو مخاطب کرکے پوچھا "کیا تمہیں فلسفہ آتا ہے؟" ۔۔ ملاح نے متانت سے جواب دیا "نہیں محترم" ۔۔ فلسفی نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ "پھر سمجھو تم نے فلسفہ نہ سیکھ کر اپنی پچیس فیصد زندگی ضائع کردی"کچھ دیر کشتی میں خاموشی رہی۔ اب ریاضی دان نے فسلفی کو نیچا دکھانےکی ٹھانی اور ملاح کو بالواسطہ مخاطب کیا "کیا تمھیں ریاضی آتی ہے؟" ملاح نے بے بسی سے نفی میں گردن ہلائی اور کہا "نہیں صاحب" ۔۔ اب کے قہقہہ ریاضی دان نے لگایا اور رعونت سے بولا "پھر سمجھو تم نے ریاضی نہ سیکھ کر اپنی آدھی زندگی ضائع کردی"۔ کشتی میں ایک بار پھر خاموشی چھاگئی۔ اچانک ملاح نے فلسفی اور ریاضی دان کو مخاطب کیا اور پوچھا "کیا آپ دونوں دانشوروں کو تیراکی آتی ہے؟" ۔۔ دونوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور گردن نفی میں ہلاتے ہوئے بولے "نہیں مگر کیوں؟" ملاح نے قہقہہ لگایا اور کہا کہ "پھر سمجھو آپ نے تیراکی نہ سیکھ کر اپنی پوری زندگی ضائع کردی ۔۔۔ کشتی میں سوراخ ہوگیا ہے اور بچنے کی واحد صورت اس وقت تیراکی ہی ہے"۔ یہ ایک فرضی داستان ہے مگر سمجھنے کی بات یہ ہے کہ علم و ہنر کے کسی شعبے میں مہارت رکھنے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ انسان متکبر ہوجائے یا یہ غلط فہمی پال لے کہ علم و ہنر کے دوسرے شعبے کمتر ہیں۔ ایک کمہار بھی اپنے فن میں اتنا ہی مشاق ہے جتنا کوئی آئی ٹی پروفیشنل۔ ایک مدرسے کا عالم دین بھی ایسے ہی قابل عزت ہے جیسے ایک کالج کا پروفیسر۔ ہم انسان مختلف علوم میں مہارت رکھتے ہیں اور ہمیں انکسار و باہمی ادب کے ساتھ ایک دوسرے سے مستفید ہونا چاہیئے۔سائنس کے شعبے انسانیت کیلئے فی الواقع تکریم کے حامل ہیں مگر اس سے ہرگز یہ مراد نہیں لینی چاہیئے کہ سائنسدان کسی فلسفی، شاعر یا مصور سے زیادہ ذہین ہوتے ہے۔ حقیقت فقط اتنی ہے کہ ان سب کی ذہانت جدا جدا ہے اور مختلف شعبوں سے وابستہ ہے۔
بھیڑ چال اور اندھی تقلید:
کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ پاکستانی معاشرے میں اختلافِ رائے کو زیادہ پسند نہیں کیا جاتا؟ زیادہ تر لوگ اپنے گروپ، خاندان، یا دوستوں کے خیالات سے متفق رہنے کی کوشش کرتے ہیں، چاہے وہ اندرونی طور پر ان سے اختلاف رکھتے ہوں۔ اس رویے کو نفسیات میں "گروپ تھنک" (Groupthink) کہا جاتا ہے، جو ہماری زندگی کے بڑے فیصلوں پر گہرا اثر ڈال سکتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی نوجوان خاندان کی مرضی کے خلاف کوئی غیر روایتی کیریئر چنتا ہے، تو اسے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یا اگر کوئی سیاست، مذہب، یا سماجی معاملات پر "اکثریتی" رائے سے ہٹ کر کچھ کہتا ہے، تو لوگ اسے ناپسند کرنے لگتے ہیں، چاہے اس کی بات حقیقت پر مبنی ہو۔
گروپ تھنک کیا ہے؟
"گروپ تھنک" سائیکالوجی کی ایک اصطلاح ہے، جس کے مطابق لوگ کسی گروہ کے ساتھ چلنے کے لیے اپنی انفرادی سوچ اور عقل کو پسِ پشت ڈال دیتے ہیں۔ اس اصطلاح کو 1972 میں ماہرِ نفسیات اِروِنگ جینس نے متعارف کروایا، جنہوں نے تحقیق کی کہ گروہ کے اندر دباؤ کیسے لوگوں کو عقل مندانہ فیصلے کرنے سے روکتا ہے۔یہ اثر صرف عام افراد پر نہیں، بلکہ حکومتی پالیسی سازوں، کمپنیوں کے ایگزیکٹوز، اور اداروں کے رہنماؤں پر بھی ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے غلط فیصلے کیے جاتے ہیں۔اب ہم اسکی چند مثالیں اور انکے دور رس نتائج پر روشنی ڈالیں گے۔
کیریئر کا انتخاب:
انجینئرنگ، میڈیکل، اور سرکاری نوکریوں کو کامیابی کا واحد معیار سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی نوجوان آرٹ، فری لانسنگ، یا کوئی غیر روایتی کیریئر چننا چاہے تو اکثر اسے سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اس خوف سے کہ "اگر میں ناکام ہو گیا تو خاندان اور دوست کیا کہیں گے؟"، لوگ اپنے خوابوں کو ترک کر دیتے ہیں۔ اسی طرح ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستانی معاشرے میں سیاست اور مذہب پر اختلافی گفتگو کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی پارٹی یا فرقے کے عمومی بیانیے سے ہٹ کر بات کرے، تو اسے فوراً غدار، بے دین، یا جاہل قرار دے دیا جاتا ہے، چاہے اس کے دلائل کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں۔ اب سوال یہ ہے کہ لوگ کیوں بھیڑ چال کا شکار ہوتے ہیں؟1951 میں ایک مشہور ماہرِ نفسیات سولومن ایش نے ایک تجربہ کیا، جس میں لوگوں کو ایک گروپ میں شامل کیا گیا اور ان کے سامنے چند سادہ سوالات رکھے گئے۔یہ سوالات اتنے آسان تھے کہ ہر کوئی ان کا صحیح جواب دے سکتا تھا۔ لیکن گروپ میں شامل کچھ لوگ، جو اصل میں تجربے کے ساتھی تھے، جان بوجھ کر غلط جواب دیتے۔ حیران کن طور پر، جب عام افراد نے دیکھا کہ زیادہ تر لوگ ایک غلط جواب دے رہے ہیں، تو وہ بھی اپنا درست جواب چھوڑ کر اکثریت کے ساتھ چلنے لگے۔یہ تجربہ ثابت کرتا ہے کہ لوگ اکثر سچ جاننے کے باوجود، صرف گروپ سے باہر ہونے کے خوف سے، اپنے اصل خیالات کو دبا دیتے ہیں۔
گروپ تھنک کے نقصانات:
اس کا سب سے پہلا معاشرتی نقصان تو یہ ہے کہ اختلافِ رائے دب جاتا ہے، جس کی وجہ سے معاشرے میں ترقی رک جاتی ہے۔غلط فیصلے لیے جاتے ہیں، کیونکہ لوگ اکثریت کے دباؤ میں آ کر جذباتی فیصلے کر لیتے ہیں۔نئی سوچ اور خیالات پنپ نہیں پاتے، اور سب ایک جیسے خیالات کو دہرانے لگتے ہیں۔انسانی حقوق اور انصاف متاثر ہوتا ہے، کیونکہ کوئی بھی غیر مقبول رائے کا دفاع کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔اس نقصان دہ نظریے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنی رائے کی اہمیت کو پہچانیں، اپنی سوچ کو دوسروں کے اثر سے آزاد کرنے کی کوشش کریں اور اپنے اندرونی خیالات کا تجزیہ کریں۔ دوسرے یہ کہ جو بھی معلومات آپ تک پہنچیں، ان پر غور وفکر کریں اور تحقیق کر کریں کہ آیا یہ حقیقت پر مبنی ہے یا محض اکثریتی رائے کا نتیجہ ہے؟؟ تیسرے یہ کہ ہمیں یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرنا چاہیے کہ وہ خیالات اور رجحانات جو عام نہیں ہیں، وہ بھی سننے اور سمجھنے کے قابل ہوتے ہیں۔چوتھے یہ کہ تنقید سے نہ گھبرائیں بلکہ بلا خوف او ببانگِ دہل اپنا نظریہ بیان کریں گر آپ کی رائے حقیقت پر مبنی ہے، تو محض لوگوں کے ناراض ہونے کے خوف سے اسے تبدیل نہ کریں۔پانچویں یہ کہ صحیح فیصلے کے لیے مختلف آراء سنیں، اس عمل کو عام اصطلاح میں مشورے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔کسی بھی بڑے فیصلے سے پہلے مختلف نظریات اور خیالات کو سنیں، سمجھیں اور کسوٹی کے معیار پر پرکھیں۔ بجائے اس کے کہ صرف اکثریت کے دباؤ میں آئیں۔

کالم نگار : ثوبیہ خانم، کراچی یونیورسٹی
| | |
339