وہ روشنیوں کا دیوانہ تھا، ان روشنیوں کا جو اسٹیج پر جگمگاتی ہیں، جو کیمروں کی آنکھ میں چمکتی ہیں، جو شہرت کے آسمان پر ستاروں کی طرح دمکتی ہیں۔ وہ نوجوان، خوش شکل، کامیاب، ہر دل عزیز تھا۔ جہاں جاتا، ہجوم اس کے گرد امڈ آتا۔ جہاں گاتا، وہاں تالیاں بجتی رہتیں۔ اس کی آواز میں جادو تھا، اس کی موجودگی میں ایک کشش تھی، مگر اس کی آنکھوں میں ایک خالی پن تھا۔
وہ پاکستان کے ایک خوشحال گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ دولت، عزت، شہرت۔۔۔۔۔۔۔!! یہ سب اس کے قدموں میں تھا۔ زندگی کا کوئی ایسا گوشہ نہ تھا جسے وہ چھو نہ چکا ہو، کوئی ایسی خواہش نہ تھی جو پوری نہ ہو چکی ہو، مگر پھر بھی کچھ کمی تھی، کچھ ایسا تھا جو اندر سے اسے کھائے جارہا تھا۔
یہ وہ راتیں تھیں جب محفلیں ختم ہو جاتیں، جب مداح گھر لوٹ جاتے، جب میوزک کے سر تھم جاتے، جب مصنوعی روشنیوں کی جگمگاہٹ ختم ہو جاتی، تب وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر خود سے سوال کرتا:
"میں کون ہوں؟ یہ سب کیوں کر رہا ہوں؟ کیا یہی زندگی ہے؟"
دنیا والے کہتے تھے، "تم خوش نصیب ہو، سب کچھ ہے تمہارے پاس!"
مگر وہ جانتا تھا کہ سب کچھ ہونے کے باوجود کچھ بھی نہیں ہے۔
وہ دن بدن زیادہ مضطرب ہوتا جا رہا تھا۔ موسیقی کی محفلیں بے کیف لگنے لگیں، مداحوں کی چیخ و پکار شور بن گئی، شہرت کی چکاچوند میں اندھیرا نظر آنے لگا۔آخر کار زندگی کی دوڑ میں ایسا وقت آیا کہ وہ دو راہوں کے بیچ کھڑا ہو گیا۔ ایک راستہ وہی تھا جس پر وہ برسوں سے چل رہا تھا۔۔۔۔۔۔!! شہرت، موسیقی، گانے، محفلیں اور ستائش۔ جبکہ دوسرا راستہ وہ تھا جسے وہ کبھی مکمل طور پر سمجھ نہ سکا تھا، مگر وہ دل کے کسی گوشے میں ہمیشہ موجود تھا۔ وہ تھا روح کی تلاش کا راستہ۔ ۔۔۔۔!
تحریکِ تغیر—وہ ملاقات
یہ انہی دنوں کی بات ہے جب وہ ایک پرانے دوست سے ملا۔ یہ وہ دوست تھا جو کبھی اس کے ساتھ کالج میں پڑھتا تھا، جو کبھی اس کے ساتھ گلیوں میں گھوما کرتا تھا، جو کبھی اس کے ساتھ گانے گاتا تھا، مگر اب… اب وہ ایک بدلا ہوا شخص تھا۔ وہ پرسکون لگ رہا تھا، مطمئن، مسکراتا ہوا، ایک ایسا انسان جسے گویا منزل مل گئی ہو۔
"جنید، تم خوش ہو؟" اس نے پوچھا۔
"ہاں، کیوں نہیں!" جنید نے ہنسی میں ٹالنا چاہا، مگر دوست کی آنکھوں میں ایک سوال تھا۔
"اگر واقعی خوش ہو تو پھر اتنے بے سکون کیوں ہو؟"
یہ جملہ سیدھا اسکے دل میں جا لگا۔ اور وہ خاموش ہو گیا۔ کوئی جواب ہوتا تو دیتا ناں!!!
پھر دوست نے اسے ایک دعوت دی۔ایسی دعوت جو صرف ایک رات کے لیے تھی، ایک تجربہ، ایک مختلف ماحول بلکہ ایک الگ ہی دنیا اور وہ کسی مزاحمت کے بغیر ساتھ چلا گیا۔
یہ تبلیغی جماعت کا ایک اجتماع تھا۔ ایک سادہ سا ماحول، جہاں نہ کیمرے تھے، نہ شہرت کے دیوانے، نہ موسیقی، نہ شور۔ بس ایک خاموشی تھی، ایک سکون تھا۔ اور پھر وہ شخصیت سامنے آئی جس نے اس کے دل پر پہلی دستک دی یعنی مولانا طارق جمیل۔
ان کی گفتگو میں کوئی سختی نہ تھی، کوئی جبر نہ تھا، کوئی الزام نہ تھا۔ بس الفاظ تھے، نرم مگر اثر انگیز، سادہ مگر گہرے۔
"ہم دنیا کے پیچھے بھاگ رہے ہیں، مگر دنیا دوڑتی جا رہی ہے۔ سکون کہاں ہے؟ وہ ان راستوں میں نہیں، وہ اس مالک کی طرف پلٹنے میں ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔"
جنید جمشید کا دل جیسے رک سا گیا۔ اس نے خود سے کہا، "یہی تو میں عرصہ دراز سے محسوس کر رہا ہوں!! سکون نہیں مل رہا، جو کچھ بھی ہے، وہ بس وقتی اور نمائشی ہے!"
فن اور دین کی کشمکش:
لیکن ٹھہریے!! یہ فیصلہ کوئی اتنا آسان نہ تھا۔ وہ اسٹیج، وہ مداح، وہ زندگی جسے بنانے میں برسوں لگے تھے، کیا وہ سب کچھ بہ یک جنبشِ قلم چھوڑ سکتا تھا؟ کیا واقعی موسیقی روح کی غذا نہیں ؟؟
وہ بڑی گہری کشمکش میں تھا۔ ایک طرف وہ دنیا تھی جسے وہ جانتا تھا، جو اس کا سب کچھ تھی، اور دوسری طرف وہ دنیا تھی جس سے اس کی کوئی آشنائی نہ تھی ہاں البتہ اس کی طرف دل کھنچ رہا تھا۔
اس دوران، اس کے استاد، اس کے محسن، شعیب منصور نے اسے روکنے کی کوشش کی۔
"یہ کیا کر رہے ہو جنید؟ تمہیں پتہ ہے تمہاری آواز کتنی خوبصورت ہے؟ یہ خدا کی دی ہوئی نعمت ہے، اسے بھلا کسی کی باتوں میں آکر کیسے چھوڑ سکتے ہو؟"
جنید نے خاموشی سے سنا، مگر اب فیصلہ ہو چکا تھا۔ وہ جان چکا تھا کہ اصل مسئلہ میوزک چھوڑنا نہیں تھا، اصل مسئلہ خود کو پانا تھا۔
وہ ہر چیز کو چھوڑنے پر تیار تھا، کیونکہ اب اسے ایک نئی دنیا مل چکی تھی، ایک نیا راستہ، ایک نئی روشنی۔
جنید جمشید کی نئی زندگی:
اب وہ منبروں پر تھا، اب وہ دین کی تبلیغ کر رہا تھا۔
وہی لب جو کبھی نغمے گاتے تھے، اب اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مدح سرائی کر رہے تھے۔ وہی زبان جو کبھی دنیاوی محبت کے گیت گاتی تھی، اب قرآن کی آیات دہرا رہی تھی۔ وہی وجود جو کبھی اسٹیج کی رونق ہوا کرتا تھا،تھرکتا تھا، اب مساجد کی صفوں میں سجدے میں جھکا ہوا تھا۔
دنیا حیران و سرگردان تھی۔ لوگ تقسیم ہو گئے تھے۔ کچھ نے اسے "شدت پسند" کہا، کچھ نے "نئی راہ کا مسافر"۔
مگر ایک بات طے تھی—جنید جمشید اب پُرسکون تھا۔
یہ کہانی صرف جنید جمشید کی نہیں، یہ ہر اس شخص کی کہانی ہے جو روشنی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے اندھیروں میں جا گرتا ہے، جو شہرت کے سفر میں اپنی روح کھو دیتا ہے، مگر پھر ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب اسے روشنی کی اصل حقیقت معلوم ہوتی ہے۔
روشنی باہر نہیں ہوتی، روشنی اندر ہوتی ہے۔ اور جو اسے پا لیتا ہے، وہی اصل میں کامیاب ہوتا ہے۔