انسان جب سے دنیا میں آیا ہے اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جد وجہد میں مصروف عمل ہے۔ خدا کے زمین پر پھیلائے ہوئے خزانوں سے مستفید ہونے کے لیے تگ و دو کررہا ہے۔ با ہمت اور حوصلے کے مالک افراد تجارت کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ پست ہمت اور لگی بندھی زندگی گزارنے والے نوکری پیشہ بن جاتے ہیں۔تمام ذرائع آمدن میں سے سب سے افضل تجارت ( یعنی اپنا کاروبار) ہے۔اس لیے کہ تاجر اپنے اپنے فیصلوں میں آزاد اور اوقات کا حاکم خود ہوتا ہے، وہ تجارت کے ساتھ دوسرے دینی کام تعلیم، تدریس، تبلیغ وغیرہ بھی کر سکتا ہے، اس کے علاوہ تجارت کی فضیلت میں مختلف آیات واحادیث بھی وارد ہوئی ہیں۔ملازمت یا کاروبار کا انتخاب آپ کی ذاتی ترجیحات، صلاحیتوں، اور حالات پر منحصر ہے۔ اگر آپ کو ایک مستحکم آمدنی اور کم خطرہ چاہیے تو ملازمت ایک اچھا انتخاب ہے۔ لیکن اگر آپ زیادہ پیسہ کمانا چاہتے ہیں، آزاد رہنا چاہتے ہیں، اور چیلنجوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو کاروبار ایک بہتر انتخاب ہو سکتا ہے۔نوکری کو ٹھکرا کر یا نوکری کو چھوڑ کر اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ شاید ماضی میں کبھی اتنا عام نہیں تھا جتنا اب ہے۔
دنیا تیزی سے تغیر پذیر ہے:
جنریشن زی یعنی وہ لوگ جن کی پیدائش 1996 کے بعد ہوئی ہے وہ تبدیلی کے اس رجحان کو لیڈ کر رہے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ دُنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی یہ رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے؟خاص طور پر اکثر نوجوان ان دنوں بس یہ چاہتے ہیں کہ کوئی انھیں یہ نہ کہے کہ میاں آفس آنے میں اتنی دیر کیوں کی یا جو کام آپ کے ذمے لگایا تھا وہ کیوں نہیں ہوا؟؟ اب تو نوجوان ملازمت سے دور بھاگنے کی کوشش میں ہیں اور بس ایک لیپ ٹاپ اور اچھے انٹرنیٹ کی مدد سے دُنیا کو ایکسپلور کرنا چاہتے ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ کام ہو تو بس اپنا یعنی اپنی کمپنی ہو جس کے وہ باس ہوں اور جب چاہیں کام کریں اور جب چاہیں بریک لیں، انھیں یہ چیلنجنگ دُنیا پسند ہے۔
اکثر لوگ یہ سنتے ہیں کہ نوکری کے بجائے کاروبار کرنا زیادہ فائدہ مند ہے۔ بلاشبہ، کاروبار میں ترقی اور مالی خودمختاری کے بے شمار مواقع ہوتے ہیں، لیکن کیا ہر کسی کے لیے یہ راستہ مناسب ہے؟ بہت سے افراد اچھی نوکریاں چھوڑ کر کاروبار میں آئے، مگر انہیں نقصان کے سوا کچھ نہ ملا۔
اس تحریر میں ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ صرف موٹیویشن کی بنیاد پر نوکری چھوڑ کر کاروبار کرنا کیوں ایک بڑی غلطی ہو سکتی ہے؟؟
اپنی پوزیشن کا تجزیہ کریں:
کاروبار شروع کرنے سے پہلے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ آپ اپنی مالی اور پیشہ ورانہ پوزیشن کا گہرائی سے جائزہ لیں۔ کیا آپ کے پاس کوئی ایسا متبادل ذریعہ آمدن (Passive Income) ہے جو آپ کے ذاتی اور گھریلو اخراجات کو پورا کر سکے؟ اگر نہیں، تو نوکری چھوڑنا اور کاروبار میں آنا آپ کے لیے ایک خطرناک فیصلہ ہو سکتا ہے۔پہلا قدم پیسو انکم جنریٹ کریں
اگر آپ کاروبار کی دنیا میں قدم رکھنا چاہتے ہیں، تو سب سے پہلے آپ کو ایسا طریقہ اختیار کرنا چاہیے جس سے آپ کی ایک مستقل آمدن کا ذریعہ قائم ہو۔ اس کی چند ممکنہ شکلیں درج ذیل ہیں:
ای کامرس انویسٹمنٹ: آن لائن اسٹورز، ڈراپ شیپنگ، یا ایمیزون ایف بی اے جیسے ماڈلز کے ذریعے آمدنی حاصل کرنا۔
ڈیجیٹل پروڈکٹس: کورسز، ای بکس، یا دیگر ڈیجیٹل مصنوعات بیچ کر آمدنی پیدا کرنا۔
انویسٹمنٹ: شیئرز، سرمایہ کاری کے مواقع۔
کاروبار کی ابتدا ہمیشہ مشکل ہوتی ہے:
یہ ایک حقیقت ہے کہ کاروبار کی ابتدا میں فوری منافع نہیں ہوتا، بلکہ زیادہ تر معاملات میں نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔ اگر آپ کے پاس پہلے سے ایک مستحکم ذریعہ آمدن نہیں ہوگا، تو کاروبار کے ابتدائی مراحل میں آپ کی مالی مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔اگر آپ کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو پہلے خود کو معاشی طور پر محفوظ کریں۔
ایک ایسا پیسو انکم چینل جنریٹ کریں جو آپ کے بنیادی اخراجات پورے کر سکے تاکہ آپ اپنی پوری توجہ کاروبار پر مرکوز کر سکیں۔ نوکری چھوڑنے سے پہلے اچھی طرح سوچیں، منصوبہ بندی کریں اور اپنی پوزیشن کا صحیح تجزیہ کریں تاکہ کامیابی کی راہ پر گامزن ہو سکیں ورنہ عین ممکن ہے کہ کوئی جذباتی فیصلہ آپ کو نقصان سے دوچار کردے۔
دنیا میں ہر 10 میں سے 8 بزنس اپنی شروعات کے پہلے 18 مہینوں کے اندر ہی فلاپ ہو جاتے ہیں۔ اسمال بزنس کی ناکامی کی یہ شرح براہِ راست ملکی معشت پر اثرانداز ہوتی ہے۔پاکستان میں Start-ups کی ناکامی کی شرح 90% ہے۔یعنی 10 میں سے 9 بزنس ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں۔
اسمال بزنس ایڈمنسٹریشن (SBA) کی رپورٹ کیمطابق 66% بزنس محض دو سال تک ہی سروائیو کر پاتے ہیں۔ باقی 24% اگلے پانچ سال کے اندر ناکام ہو جاتے ہیں۔اگر آپ ایک ناکام بزنس مین ہیں تو کیا آپ نے کبھی ناکامی کی وجوہات کا تجزیہ کیا ہے؟کیا ان وجوہات کو دور کر کے آپ ایک کامیاب بزنس مین بن سکتے ہیں؟
اسمال بزنس میں ناکامی کی صورت میں ہماری معیشت ہر سال اربوں روپے کے خسارے کا بوجھ اٹھاتی ہے اور عام عوام بھی قرضوں کے بوجھ تلے مختلف امراض کا شکار ہوجاتی ہے۔پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی معیشت جہاں اکثریت خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرتی ہے اس بار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔
میں نے بزنس میں ناکامی کی وجوہات ایک چیک لسٹ کی صورت میں مرتب کرنے کی کوشش کی ہے جسے پڑھ کر آپ بھی اس بات کے قائل ہو جائیں گے کہ ان 50 خامیوں کو دور کیے بنا آپ کبھی ایک کامیاب بزنس مین نہیں بن سکتے۔ سب سے پہلے تو ہم یہ دیکھیں گے کہ آیا کاروبار ہے کیا!!
بزنس کیا ہے؟
آکسفورڈ ڈکشنری کیمطابق“A person146s regular occupation, profession, or trade” افراد کے بکھرے ہوئے ہجوم اور کوششوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے ان کوششوں کو ایک مثبت ،کارآمد اور منافع بخش ڈائریکشن فراہم کرنا اصل میں بزنس کہلاتا ہے۔ بزنس ایک شخص کو کئی پہلوؤں سے معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بناتا ہے۔
زیرِ نظر آرٹیکل میں ہم نے ان چند پہلوؤ ں کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی ہے جو ایک بزنس مین کی ناکامی کا سبب بنتی ہیں۔امید ہے ہماری یہ کوشش معاشرے کے ایک اہم طبقے کے لئے مفید ثابت ہوگی۔
مقاصد کا تعین از حد ضروری ہے:
واضح مقاصد کا تعین نہ کرنا ایک ناکام بزنس مین کی سب سے پہلی کوتاہی ہے۔اگر آپ کی منزل ہی طے نہیں تو محض چلتے رہنا کوئی اہمیت نہیں رکھتا۔ایک کامیاب بزنس مین کا ذہن واضح مقاصد کا تعین کرنا جانتا ہے۔آپ کو کیا کرنا ہے؟ اور کیوں کرنا ہے؟صرف پیسہ کمانے کے علاوہ آپ کے بزنس کے اور کیا مقاصد ہو سکتے ہیں؟
یہ وہ چند سوال ہیں جن کا مثبت اور واضح جواب نہ صرف مقاصد کے تعین کے لئے اہم ہے بلکہ ان کے حصول کے لئے ایک بہتر لائحہ عمل ترتیب دینے میں بھی نہایت سود مند ہے۔
وسیع سوچ کا فقدان:
ایک ناکام بزنس مین محدود سوچ کا حامل ایسا فرد ہوتا ہے جس کی سوچ ایک مخصوص دائرہ کار میں ہی گردش کرتی ہے۔وہ اپنے بزنس کو وسعت دینے کے لئے نئے ذرائع کی کھوج اور ان کے حصول میں ناکام رہتا ہے۔جبکہ ایک وسیع سوچ نئے سے نئے مواقع تلاش کرتی ہے۔ایک کامیاب بزنس مین کی یہی وسیع سوچ کاروباری وسعت کو جنم دیتی ہے
جس کا لازمہ خوشحالی و فروانی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔
خود انحصاری:
خود انحصاری Independent Natureیعنی خود اپنی ذات پر انحصار کرنا ایک کامیاب بزنس کی طرف اہم قدم ہے۔ایک ناکام بزنس مین میں خود اپنی کوششوں اور اپنے وسائل پر انحصار کرنے کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔یہ کمی اسے بے اطمینانی کا شکار بنائے رکھتی ہے اور وہ تمام اہم مسائل کے حل کے لئے دوسروں سے رجوع کرتا رہتا ہے۔
یہ خامی بہت جلد ناکامی سے دوچار کر دیتی ہے۔
پرکھنے کی صلاحیت:
ایک ناکام بزنس مین کی حالات و معاملات کو پرکھنے اور وقت کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کرنے کی صلاحیت مفقود ہوتی ہے۔Judgement کی یہ صلاحیت عقل و شعور پر منحصر ہوتی ہے جسمیں کمی کی بنا پر وہ بار بار نقصان سے دوچار ہوتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ پرامیدی:
حالات و واقعات سے ہمیشہ بہتری کی امید رکھناایک عام آدمی کے لئے تو فائدہ مند ہو سکتا ہے مگر ایک بزنس مین کے لئے نہیں۔یاد رکھیں سب کچھ ویسا نہیں ہوتا جیسا آپ چاہتے ہیں۔خاص طور پر بزنس میں جہاں ہر قدم پر بدلتے حالات ایک بزنس مین کی پالیسیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ایک کامیاب بزنس مین اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہوتا ہے۔
جبکہ ایک ناکام بزنس مین کی پالیسیوں کی بنیاد حقائق کے ادراک کی بجائے پرامیدی و خوش فہمی پر رکھی ہوتی ہے۔یہی ضرورت سے زیادہ خوداعتمادی اور خوش امیدی خسارے کا سبب بنتی ہے۔
پروفیشنل ازم کی کمی:
ایک بیوقوف اور بے ہنر بزنس مین کے اندر پروفیشنل ازم کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔یہ پروفیشنل ازم مہارت اور تجربے سے پیدا ہوتی ہے۔چونکہ ایک ناکام بزنس مین میں ان دونوں چیزوں کی کمی ہوتی ہے اور اسی کمی کا اظہار وہ بزنس لائف میں کئی اہم موقع پر کر کے کامیابی کے اکثرمواقع ضائع کردیتا ہے۔
لیڈ ٹائم مینجمنٹ:
وہ Gap جوکنزیومر کے آرڈر سے لیکر مطلوبہ پروڈکٹ یا سروس کی ڈلیوری پر محیط ہوتا ہے کسی بزنس یا کمپنی کا لیڈ ٹائم کہلاتا ہے۔Lead Time Reduction کسی بزنس یا کمپنی کی کامیابی کا نہایت اہم نقطہ ہے۔ایک ناکام بزنس مین اس نقطہ پر کبھی فوکس نہیں کرتا۔جو ایک بزنس مین کی غیرذمہ داری کی علامت ہے۔
عوامی رجحان سے ناواقفیت:
ایک کامیاب بزنس مین ہمیشہ جدید اور بدلتے ہوئے عوامی رجحانات سے باخبر رہتا ہے اور ان کو مدِنظر رکھ کر اقدامات کرتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین بدلتے ماحول اور جدید رجحانات سے ناواقفیت کی بنا پر محض اپنی سوچ کے مطابق فیصلے کرتا ہے اس طرح وہ زمانے کے احساسات و رجحانات کو پس پشت ڈال کر ناکامی سے دوچار ہو جاتا ہے۔
مستقل مزاجی کا فقدان:
مستقل مزاجی کسی بھی معاملے میں کامیابی کی اہم سیڑھی ہے ۔ ایک ناکام بزنس مین کے اندر مستقل مزاجی کا سخت فقدان پایا جاتا ہے۔ محض وقتی اور چھوٹی چھوٹی ناکامیوں سے مایوس ہو کر وہ اپنی حکمتِ عملی اور فیصلے بدلتا رہتا ہے اور کبھی ایک مستقل سوچ پر قائم نہیں رہتا۔
اجنبیوں کو خوش آمدید کہنا:
کاروبار چمکانے کے لیے اجنبیوں کو خوش آمدید کہنا اور ان سے اچھے تعلقات قائم کرنا ایک بزنس مین کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔اس سے بزنس کے نئے زاویوں اور رجحانات کا پتہ چلتا ہے۔مگر ایک ناکام بزنس مین اس کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔بلکہ وہ ایک قسم کے Fear of unknownمیں مبتلا ہوتا ہے۔
مارکیٹ سے ناواقفیت:
پروڈکٹ ایویلیوایشن،کسٹمر وائس،ریسورسز اینڈ فائینینسنگ وغیرہ مارکیٹ کے اہم پہلو ہیں۔ایک ناکام بزنس مین کبھی مارکیٹ سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتا۔یہ ادھوری واقفیت اس کی ناکامی کا بڑا سبب ہوتی ہے۔
غیر منصفانہ لین دین:
غیر منصفانہ لین دینUnfair Dealing دیانتداری کی عدم موجودگی بزنس مین کی ناکامی کا نہایت افسوسناک پہلو ہے۔بزنس کی یہ تیکنیک وقتی طور پر تو فائدہ مند ہو سکتی ہے مگر ایک دیرپا کامیابی کی بنیاد نہیں بن سکتی۔ایک ناکام بزنس مین اپنی بددیانتی کی بدولت مارکیٹ میں ایک معیاری ساکھ نہیں بنا پاتا اور با لآخر ناکامی سے دو چار ہو جاتا ہے۔
کاروبار کا محل وقوع:
کسی بزنس کی کامیابی بہت حد تک ایک اچھی لوکیشن کے انتخاب پر بھی انحصار کرتی ہے۔ ایک کامیاب بزنس مین ایک بہترین محل وقوع Location کا انتخاب کرنا اور اس کے مطابق ایک بہتر فریم ورک تشکیل دینا جانتا ہے۔ جبکہ ایک مناسب لوکیشن کا اندازہ نہ کر پانا ایک ناکام بزنس مین کی اہم خاصیت ہوتی ہے۔اسی خاصیت کی بنا پر وہ بعض اوقات ترقی کے اہم مواقع گنوا بیٹھتا ہے۔
نا ا ہل انتظامیہ:
انتظامی معاملات میں نااہلی Lack of Management کا بھی کاروبار کی ناکامی میں بڑا دخل ہے۔ایک ناکام بزنس مین کے اندر مینجمینٹ کی صلاحیت ناپید ہوتی ہے۔وہ ایک مناسب بزنس سٹریٹیجی مرتب کرنے اور اس پر عمل درآمد میں ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے۔اپنے ماتحت لوگوں کی کارکردگی کے حوالے سے وہ ایک پروپر شیڈول وضع کرنے میں ناکام رہتا ہے۔
یہ Mismanagement بزنس مین کی نااہلی کا ثبوت اور اس کی ناکامی کی بنیادی وجہ ہوتی ہے۔
کسٹمر کا اطمینان:
گاہک کو مطمئن کرنا Customer Satisfaction بھی ازحد ضروری ہے کیونکہ ایک بہتر کسٹمر سروس کی فراہمی ایک بہتر کیش فلو کا سبب بنتی ہے اور ایک اچھا کیش فلو ہی ایک کامیاب بزنس کی بنیاد بنتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین کی محدود سوچ صرف ارننگ تک ہی محدود ہوتی ہے جبکہ پروڈکٹس یا سروسز کا بہتر معیار جو ایک اچھی ارننگ کی ضمانت ہے
اس کے لئے قابلِ ترجیح نہیں ہوتا۔
ادھوری منصوبہ بندی:
کسی بزنس میں کامیابی ایک معقول اور Long-term planning کا تقا ضا کرتی ہے۔ ایک بیوقوف بزنس مین چونکہ دور اندیشی کی صلاحیت سے عاری ہوتا ہے اس لئے وہ ایک دیر پا اور جامع حکمتِ عملی تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے۔یہی ناقص پلاننگ کسی نا کسی مرحلے پر ناکامی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔
ترقی پسند سوچ کا فقدان:
ترقی پسند سوچ کا فقدان ایک ناکام بزنس مین کی اہم نشانی ہے۔اپنی محدود سوچ یا ناکامی کے خوف کی بنا پر وہ کبھی اپنے بزنس کے ایک مخصوص حدود اربع کو کراس کرنے کی کوشش نہیں کرتا جبکہ اکیس ویں صدی کے تیزی سے بدلتے ہوئے رجحانات ایک جدید اور ترقی پسند سوچ کا تقاضا کرتے ہیں۔
مالی ریسورسز کی کمی:
ایکStart-upکے لئے مالی سپورٹ جسم میں روح کی حثییت رکھتی ہے۔بزنس کی شروعات اس لحاظ سے نہایت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔تاہم ایسے ہر مرحلے میں کچھ ریسورسز ایسے ضرور موجود رہتے ہیں جو fundingکے حوالے سے بہترین وسیلہ بن سکتے ہیں۔ایک کامیاب بزنس مین نشیب و فراز کے ان مراحل میں با آسانی ایسے ذرئع کھوجنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جبکہ ایک ناکام بزنس مین میں یہ صلاحیت مفقود ہوتی ہے۔
محنت و لگن کا فقدان:
محنت ولگن کی کمی ایک ناکام بزنس مین کی وہ خاصیت ہے جو اسے کبھی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہونے دیتی۔بزنس ایک ذمہ داری کا نام ہے جس کو احسن طریقے سے نبھانا ایک کامیاب بزنس مین کی پہچان ہے۔مگر ایک ناکام بزنس مین اپنے ان فرائض سے غفلت کا مرتکب ہوتا ہے۔
موقع شناسی و مردم شناسی:
Management
اوقات کار کی ناقص تقسیم کے سبب ایک ناکام بزنس مین ہمیشہ وقت کی قلت Time Managementکا شکار رہتا ہے۔حالات و معاملات کو ڈیل کرتے وقت وہ اس بات کا تعین نہیں کر پاتا کہ کون سی چیز زیادہ وقت اور توجہ کی متقاضی ہے؟ اس کا بہت سا وقت جو نہایت اہم اور ضروری معاملات پر خرچ ہونا چاہیے تھا غیر اہم معاملات کی نظر ہو جاتا ہے۔
غیر سنجیدہ رویہ:
عقل و شعور کی کمی غیر سنجیدہ رویے کو جنم دیتی ہے۔بعض اوقات حد سے زیادہ خود اعتمادی بھی اس رویے کا سبب بنتی ہے۔بزنس جیسے اہم معاملے میں غیر سنجیدہ رویہ کامیابی کا سب سے بڑا دشمن ہے۔ایک ناکام بزنس مین تمام معاملات میں ایسے ہی غیر سنجیدہ رویے کا مظاہرہ کرتا ہے۔
نئے مواقع کی تلاش:
نئے مواقع کی تلاش کسی بزنس کی کامیابی کے لئے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ایک ناکام بزنس مین نئے مواقع کی تلاش اور ان کی پہچان کی صلاحیت نہیں رکھتا۔بزنس مین کا یہ رویہ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی بزنس ایکٹیویٹی کا دائرہ کارتنگ کرتا چلا جاتا ہے۔
تخلیقی سوچ کی کمی:
ایک تخلیقی سوچ بزنس کی روایتی حد بندیوں سے نکل کر نئی تیکنیکس وضع کر سکتی ہے۔سٹیو جوبز نے کہا تھا’جدت ہی وہ خوبی ہے جو ایکLeader اور ایک Followerمیں فرق واضح کرتی ہے۔یاد رکھیے بزنس کی کامیابی آپ کی ڈگریوں یا تعلیم پر نہیں بلکہ آپ کی ذہانت و مہارت پر انحصار کرتی ہے۔
بِل گیٹس کہتا ہے’میں کسی یونیورسٹی کا پوزیشن ہولڈر نہیں ہوں لیکن یونیورسٹیوں کے کئی پوزیشن ہولڈرز میرے ملازمین میں شامل ہیں‘۔
ریسرچ اور نالج کا فقدان :
ایک ناکام بزنس میں مارکیٹ ریسرچ اور نالج Lack of Research and knowledgeکو کبھی اہمیت نہیں دیتا۔وہ نئے رجحانات سے بے خبر رہتا ہے۔مارکیٹ میں متعارف کرائے جانیوالی جدید پروڈکٹس اور سروسز ایک بزنس مین کے لئے نئی راہیں کھولتی ہیں۔مگر ایک ناکام بزنس مین اپنی غیر تحقیقی سوچ کی بنا پر ان امکانات سے بے خبر رہتا ہے۔
سماجی تعلقات :
معاشرتی و سماجی تعلقات Social Contactsکسی بزنس کی کامیابی کے لئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ایک ناکام بزنس مین Social Contactsکی اہمیت سے ناواقف ہوتا ہے۔اس کے معاشرتی و سماجی روابط محدود ہوتے ہیں۔اپنی اسی کمی کی وجہ سے وہ اپنے بزنس کو ایک وسیع پلیٹ فارم مہیا نہیں کر پاتا۔
انا پرستی آپ کی کامیابی کی دشمن:
انا پرستی ایک ناکام بزنس مین کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔یہ اس کے پبلک ریلشنز کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ اور اس کے تعلقات کو محدود کر دیتی ہے جبکہ ایک کامیاب بزنس مین نہایت ملنسار اور سوشل ہوتا ہے۔لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ اس کے اچھے مراسم قائم ہوتے ہیں جوبزنس کے ایک وسیع نیٹ ورک کے قیام میں مددگار ہو سکتے ہیں۔
سٹینڈرڈائزیشن :
پروڈکٹس یا سروسز کی تیاری و فراہمی میں جدید اور سٹینڈرڈ تیکنیکس کا استعمال Standardization کہلاتا ہے۔ پروڈکٹس کی یہ سٹینڈرڈائزیشن ہی کسی بزنس یا کمپنی کو مقابلے کی دوڑ میں شامل کرتی ہے۔ ایک ناکام بزنس مین ایسی کسی تیکنیک کے استعمال اورایپلیکیشن کی ضرورت محسوس نہیں کرتاجس کے نتیجے میں اس کے بزنس یا کمپنی کا معیار گرتا چلا جاتا ہے۔
ادھوری سیل پالیسی :
سیل سٹریٹیجی : Imperfect Sales Strategyکسی کمپنی کی ترقی میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے اور تمام تر پروفٹ کا دار و مدار اسی پالیسی ہر ہوتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین مارکیٹ،کسٹمرز اور لوکیشن کی مناسبت سے ایک بہتر سیلز پالیسی تشکیل دینے میں بیوقوفی اور نا تجربہ کاری کا مظاہرہ کرتا ہے۔
متعلقہ گاہک تک رسائی:
پوٹینشل کسٹمرز تک رسائی Untareted Approach to Customers بزنس مین کی کامیابی ہوتی ہے۔ایک ناکام بزنس مین اپنی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے سیلز اور پروموشن کے اہم مواقع ضائع کر بیٹھتا ہے
کوالٹی آف سروس:
معیاری خدمت Quality of Serviceپروڈکٹس اور سروسز کی بہتر کوالٹی بزنس میں کامیابی کی ضمانت ہے۔ناکام بزنس مین معیاری کوالٹی جیسے اہم معاملے کو نظر انداز کیے رکھتا ہے۔اور یہ غفلت بالآخر اس کی ناکامی پر منتج ہوتی ہے۔
لیڈرشپ کا فقدان:
کامیاب بزنس مین اصل میں ایک اچھا لیڈر ہوتا ہے جو اپنے بزنس اور اپنے ماتحت کام کرنے والے افراد کی درست رہنمائی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ حالات و معاملات کی درست سمت کا تعین کر سکتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین کے اندر لیڈرشپ کی یہ صلاحیت سرے سے موجود ہی نہیں ہوتی۔
سپلائی چین:
سپلائی چین Supply Chainسپلائر سے کسٹمر تک کسی پروڈکٹ یا سروس کی منتقلی ایک آرگنائزڈ سسٹم کا تقاضا کرتی ہے جسکی عدم موجودگی سے تجارتی نظام بدنظمی کا شکار ہو جاتا ہے اور یہی بدنظمی با لآخر خسارے کا سبب بنتی ہے۔ایک ناکام بزنس مین اس پہلو کی طرف سے بھی لاپروائی کا مظاہرہ کرتا ہے۔یا پھر اس میں اس کی صلاحیت یہ موجود نہیں ہوتی۔
سورس آف انفارمیشن کی عدم موجودگی:
مارکیٹ کے مسائل،کسٹمر ٹرینڈز اور دوسری کمپنیوں کے رجحانات اور طریقہ کار کے بارے میں معلومات ایک بزنس مین کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں۔یہ معلومات کئی طرح کے مسائل کی شناخت اور نئے مواقع کی تلاش میں مددگار ہوتی ہیں۔ایک ناکام بزنس مین کو معلومات کے ذرائع کی اہمیت کا اندازاہ نہیں ہوتا اور نہ وہ اس کے مناسب انتظام کی کوشش کرتا ہے۔
لائسنسز :
پروڈکٹ،سروس یا اپنے بزنس آئیڈیاز کی Licensing ایک انتہائی اہم امر ہے جو کئی طرح کے مسائل سے بچاتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین اپنی کم علمی یا محض سستی کی وجہ سے اس امر میں غفلت برتتا ہے۔جبکہ ایک کامیاب بزنس مین ایسے تمام اصول و قوانین پر عمل پیرا ہوتا ہے۔
سیلف ایجوکیشن:
سیلف ایجوکیشن ایک بزنس مین کے لئے نہایت اہمیت رکھتی ہے۔بزنس میگیزینز اور آن لائن بزنس ٹریننگ پروگرامز بزنس کے نئے رجحانات اور تیکنیکس سے آگاہ کرتے ہیں۔مگر ایک ناکام بزنس مین اپنی سیلف ایجوکیشن کا کوئی پلان تشکیل نہیں دیتا۔یہ لاعلمی اسے بزنس کی دنیا میں پیچھے دھکیلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
اپنے مشن سے وابستگی:
کمپنی یا بزنس کے لئے ایک پراثر حکمتِ عملی ترتیب دینے کے لئے بزنس مین کے ذہن میں ایک واضح مشن ہونا ضروری ہے۔یہ مشن ایک گائیڈ لائن کا کام کرتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین کو اول تو مشن کا ادراک ہی نہیں ہوتا اور ہو بھی تو وہ اپنے مشن سے وابستگی کو اہمیت نہیں دیتا جس کا براہ راست نقصان بزنس کو ہوتا ہے۔
کاروباری حریفوں کا تجزیہ:
بزنس کے میدان میں اپنے مدِمقابِل بزنس مینوں Competitors Analysis کی پروڈکٹس اور سروسز کے معیار اور ان کی بزنس کی تیکنیکس کے بارے میں معلومات نہایت اہمیت رکھتی ہے۔مقابلے کی اس دوڑ میں ایک بزنس مین کی خامی دوسرے کی خوبی بن جاتی ہے۔ایک ناکام بزنس مین اس امر میں بھی کوتاہی برتتا ہے اور دوسرں کی نسبت خسارے میں رہتا ہے۔
ترجیحات کا تعین:
یاد رکھیے کچھ چیزیں ارجنٹ ہوتی ہیں جبکہ کچھ اِمپورٹینٹ ہوتی ہیں۔ایک کامیاب بزنس مین ان دونوں میں فرق کرنا بخوبی جانتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین اپنی ترجیحات کا تعین نہیں کر پاتا کہ کونسا معاملہ فوری توجہ کا متقاضی ہے اور کون سا معاملہ کچھ دیر طلب ہے؟ اس ناسمجھی کی وجہ سے بہت سے ضروری اور فوری حل طلب مسائل غفلت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ناقص یادداشت:
بزنس میں کامیابی ایک بہترین یادداشت کا تقاضا کرتی ہے۔ایک کامیاب بزنس مین اچھے حافظے کا مالک ہوتا ہے اور نہایت باریک نقاط کو بھی ذہن نشیں رکھتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین اچھی یاد داشت کا مالک نہیں ہوتا۔اسی خامی کی وجہ سے بہت سی چھوٹی چھوٹی اہم چیزیں اگنور ہو جاتی ہیں جو بعد میں نقصان کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں۔
حساب کتاب میں لاپرواہی:
حساب کتاب جیسے اہم معاملے میں بھی ایک ناکام بزنس مین لاپروائی اور بے دھیانی Deficient Accounting کا مظاہرہ کرتا ہے۔ایسی کمپنی کا اکاؤنٹینگ سیکشن غفلت کا شکار ہوتا ہے۔ اس غفلت کا براہِ راست اثر کمپنی کے بجٹ پر پڑتا ہے اور بعض اوقات کوئی دُوسرا اس سے ناجائز فائدہ بھی اٹھا لیتا ہے۔
موقع شناسی میں مہارت:
ایک کامیاب بزنس مین کی سب سے اہم خوبی موقع شناسی ہوتی ہے وہ مشکلات کے ہجوم میں بھی ایک سنہری موقعے کی پہچان کی صلاحت رکھتا ہے جبکہ ایک ناکام بزنس مین اپنی اس ناشناسی کی وجہ سے کئی اہم مواقع گنوا بیٹھتا ہے۔
تفریح کے لئے وقت نہ نکالنا:
اکثر ناکام بزنس مینوں کے پاس تفریح کے لئے بھی وقت نہیں ہوتا۔مسلسل کام ذہنی تھکاوٹ کا باعث بنتا ہے اور کارکردگی کو متاثر کرتا ہے ۔کامیاب بزنس مین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین مسلسل کام کر کے ذہنی تھکاوٹ کا شکار ہو جاتا ہے جس کا منفی اثر کاروبار پر پڑتا ہے۔
بچت کی افادیت سے ناواقفیت:
ایک بزنس مین کے لئے خریداری نہیں بلکہ خریداری کا طریقہ کار زیادہ اہم ہوتا ہے۔ایک کامیاب بزنس مین ہمیشہ نقد اخراجات سے گریز کرتا ہے۔وہ بارٹر سسٹم کو اپناتا ہے اور اشیاء کے بدلے اشیاء کے لین دین کو اہمیت دیتا ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین بچت کے طور طریقے اپنانے کی کوشش نہیں کرتا اور غیر ضروری اخراجات کی روک تھام کے لئے اقدامات نہیں کرتا ۔
یہ روش اسے بہت جلد مالی بحران کا شکار بنا دیتی ہے۔
پبلک مینیجمنٹ سکِلز:
بزنس اصل میں کئی افراد کی کوششوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنے اور ان کی مشترکہ کوششوں سے ایک مفید نتیجہ برآمد کرنے کا نام ہے۔ایک کامیاب بزنس مین کے اندر لوگوں کی ایک بھیڑ کو ایک آرگنائزڈ گروپ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین پبلک مینجمینٹ کے اس ہنر سے نا آشنا ہوتا ہے۔
اسٹاف کا انتخاب:
کسی بھی کاروبار کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار حسن انتخاب Policy Staff Hiring پر ہوتا ہے۔کمپنی کے کلچر،انوائرنمنٹ اور ڈیمانڈ کے مطابق معقول اور قابل افراد کا انتخاب ایک اہم امر ہے۔ایک ناکام بزنس مین کسی فرد کو ہائر کرتے وقت اس کی خوبیوں، خامیوں اور اس کے اندر موجود پوٹینشل کا صیح اندازہ نہیں کرپاتا۔یہ ناموزوں ہائرنگ بزنس پر اثر انداز ہوتی ہے۔
سٹاف ٹرینگ کا التزام :
کسی کمپنی یا آرگنائزیشن کی انویسٹمنٹ کا ایک بڑا حصہ سٹاف پر خرچ ہوتا ہے ۔لہٰذا سٹاف کیStaff Training & Hiring ہائرنگ اور ٹریننگ کے مناسب انتظامات بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔کامیاب بزنس مین اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہوتا ہے کہ ایک قابل مگر ناتجربہ کار شخص کو ایک بہتر ماحول اور ٹریننگ فراہم کر کے ایک بہتر آؤٹ پٹ لیا جا سکتا ہے۔
ایک ناکام بزنس مین ان اہم عوامل کا ادراک نہیں رکھ پاتا۔
آفس کے بے حساب اخراجات:
آفس کے اخراجات نہایت توجہ طلب اور ضروری عوامل میں شامل ہیں ۔ایک ناکام بزنس مین کو نہ تو ان اخراجات کا صحیح اندازہ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ ان کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس طرح بہت سے چھوٹے چھوٹے مگر غیر ضروری اخراجات بجٹ پر اثرانداز ہوتے ہیں جس کا نتیجہ کسے بڑے المیہ کو جنم دیتا ہے۔
ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی:
ضرورت سے زیادہ خود اعتمادی Over Confidence کسی بھی امر میں ناکامی کا سبب بن سکتی ہے۔ایک ناکام بزنس مین بے جا خود اعتمادی کا شکار ہوتا ہے۔وہ حالات کو مدِنظر رکھنے کی بجائے اپنی سوچ کو مدِ نظر رکھ کر فیصلے کرتا ہے جو عموماً نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
بزنس نیٹ ورک کا قیام:
ایک مناسب بجٹ کے اندر رہتے ہوئے اپنے بزنس کو مارکیٹ کرنا ایک کامیاب بزنس مین کا سب سے بڑا ہنر ہے جس کو بروئے کار لا کروہ ایک بہتر اور منافع بخش بزنس نیٹ ورک کی تشکیل کرتا ہے۔ایک ناکام بزنس مین کارآمد اور مفید نیٹ ورک کے قیام میں ناکام رہتا ہے اور اس کا بہت سا بزنس پوٹینشل غیر نتیجہ خیز سرگرمیوں میں ضائع ہو جاتا ہے۔
جدید ذرائع سے ناواقفیت:
ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے اس دور میں بزنس کو وسعت دینے اور زیادہ منافع بخش ذرائع کی تلاش کے لئے جدید طریقہ کار کو اپنانا ایک کامیاب بزنس مین کی نشانی ہے۔جبکہ ایک ناکام بزنس مین کاروبار کے روایتی طور طریقوں کا پابند بنا رہتا ہے اور اپنے نیٹ ورک کے پھیلاؤ کے لئے آسان اور تیز ترین ذرائع کو استعمال میں نہیں لا پاتا یا جھجھک کا شکار رہتا ہے
جس کی بنا پر وہ بہت سے معاملات میں پیچھے رہ جاتا ہے۔
یہ تو ہوئیں وہ بنیادی غلطیاں جو سرسری جائزہ لینے کے بعد قلم بند کردی گئی ہیں اب آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اپ کونسی غلطی کررہے ہیں ؟؟ اسے پڑھ کر اپنی غلطی کو پہچانیں اور درست کرنے کی کوشش کریں۔