(+92) 321 2533925
اسلام میں گداگری کی مذمّت
روئے زمین پر اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو تمام بنی نوع انسان کی دنیوی واخروی خیرخواہی کرتاہے،مذہب اسلام کی تعلیم او رپیغام روز اول سے ہی یہی ہے کہ روئے زمین پر امن و شانتی ہو ،ملک وسماج ا ورمعاشرے کا ہرفرد باوقار اور مقدس زندگی گزارے، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہرخیر و بھلائی کے کاموں کو سراہا ہے اور ہر اس کام اور ہر اس حرکت پر قدغن لگایا ہے جس سے سماج و معاشرے اور ملک میں بدامنی پیدا ہوتی ہو،
تقاضائے فطرت:
دین فطرت کا تقاضہ ہے کہ کسی بھی صورت میں انسانیت کی تذلیل و تحقیر برداشت نہیں۔ نماز جیسے سب سے اہم فرض کے لئے بھی دوڑ کر شامل ہونے کو منع کیا گیا ہے تاکہ انسانیت کا وقار مجروح نہ ہو۔بلا ضرورت مال حاصل کرنے کے لئے سوال کرنا یا اسی کو اپنا پیشہ بنا لینا مذموم ہے اور اسی کو گداگری کے پیشہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔یہ ناجائز ہے اور ایسی کمائی حرام ہے۔اسلام نے کسی صورت بھی گداگری کو پسند نہیں کیا بلکہ کسب ِ حلال پر زور دیا ہےیہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم اسلامی تعلیمات سے منہ موڑ کر ہر جگہ ذلیل و خوار ہو رہے ہیں اور اس ذلت کا ایک اہم سبب گداگری ہے کسب حلال کی ترغیب دیتے ہوئے اللہ فرماتے ہیں: تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں اگر تم (زمانہ حج میں تجارت کے ذریعے ) اپنے اسباب پیدا کرو۔ اللہ تعالیٰ جل شانہ نے اس زمین پر سب سے پہلے حضرت آدم ؑ کو مبعوث فرما کر ساتھ ہی ان کو ذریعہ معاش بھی دے دیا کہ اس طریقے سے روزی کماؤ اور کھاؤ۔ اس کے بعد انبیاء کرام ؑ کا ایک سلسلہ شروع ہوا اور ہر نبی نے اپنے لئے کوئی نہ کوئی ذریعہ معاش اپنایاجیسا کہ حضرت آدم ؑ نے کھیتی باڑی اور حضرت زکریا ؑ بڑھئی کا کام کرتے تھے ، حضرت موسیٰ ؑ بھیڑ بکریاں چرایا کرتے تھے ، حضرت ادریس ؑ درزی کا کام کرتے تھے ، حضرت داؤد ؑ آہن گر تھے ، حضرت ابراھیم ؑ بزاز تھے ، حضرت اسمٰعیل ؑ تیر بناتے تھے خود حضرت محمد ﷺ نے مزدوری پر بکریاں بھی چرائیں ، تجارت بھی کی ۔اس سے ثابت ہوا کہ روزگار کما نا ضروری ہے۔ لیکن عام لوگ مختلف تھے ، افراد کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ساتھ لوگ سہل پسندی کا شکار ہوتے گئے ، تو بجائے ہاتھ سے کام کرنے کے لوگوں نے دوسروں کے سامنے دستِ دراز کر دیا۔ یہی گداگری کی ابتداءتھی۔اسلام نے کسی صورت بھی گداگری کو پسند نہیں کیا بلکہ کسب ِ حلال پر زور دیا ہے ۔تاریخ اسلام پر اگر ایک نظر ڈالیں تو معلوم ہو گا کہ صحابہ کرامؓ کو انتہائی مشکل حالات سے بھی گزرنا پڑا ایسے حالات میں بھی انہوں نے وَتَعَاوَنُوْا عَلَی الْبِرِّ وَالتَّقْوٰی کی مثال تو پیش کی مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلایا۔ کیونکہ ان کے پیشِ نظر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانِ عالی شان تھا کہ: ترجمہ: اور ہم نے دن کو (کسبِ) معاش (کا وقت) بنایا (ہے ) کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر پختہ یقین تھا کہ: ترجمہ: اور ہم نے اس میں تمہارے لئے اسباب معیشت پیدا کئے اور ان(انسانوں، جانوروں اور پرندوں) کے لئے بھی جنہیں تم رزق مہیا نہیں کرتے۔
کسب حلال کی افادیت:
مثال کے طور پر اسلام کی ایک مقدس تعلیم یہ ہے کہ سماج و معاشرے کا ہرفرد اپنے ہاتھ سے کمائے جیسا کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے کمانے اور محنت و مزدوری کرکے اپنا اور اپنے خاندان کا پیٹ بھرنے کو سب سے عمدہ کمائی قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ’’ أَطْيَبُ الْكَسْبِ عَمَلُ الرَّجُلِ بِيَدِهِ ‘‘سب سے عمدہ کمائی یہ آدمی کا اپنے ہاتھ سے کام کاج کرکے کماناہے۔ (الصحیحۃ:607،صحیح الجامع للألبانیؒ:1033) دیکھئےجہاں ایک طرف مذہب اسلام نےکام کاج کرکے اپنے ہاتھ سے کمائی کرنے کو سب سے عمدہ کمائی قرار دیا ہے وہیں دوسری طرف مذہب اسلام نے اس بات کو ناپسند کیا ہے کہ کوئی کسی کے سامنے دست سوال دراز کرے یا پھر کشکول گدائی اٹھائے،ناپسند ہی نہیں بلکہ اسلام نے جتنی مذمت گداگری کی ،کی ہے شاید ہی دنیا کے کسی دیگر مذاہب نے کی ہو کیونکہ اس گداگری میں انسانیت کی تحقیر و تذلیل ہے اور اسلام انسانیت کا وقار اور تمکنت چاہتا ہے، تمام انسانوں کو اسی ذلت و حقارت سے بچانے کی فکر کرتے ہوئے اسلام نے یہ تعلیم دی ہےکہ انسان جنگلوں اور پہاڑوں سے لکڑیاں کاٹ کر اور اپنے پیٹھ پر لاد کر بازاروں میں لے جا کر بیچے اور کمائے مگر کسی کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائے چنانچہ حضرت عبداللہ بِن عُمرؓسے مروی حدیث ہے کہ: نبی (ﷺ) نے فرمایا کہ ایک شخص لوگوں سے مانگتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر گوشت کا ٹکڑا نہ ہوگا ۔جمہور علماء ،محققین کے مطابق سوال کر نا /مانگنا/ بھیک مانگنا ایک قبیح عمل ہے ، اور یہ سب کے نزدیک حرام ہے ۔ اور یہ اپنے چہرے اور منہ کو نوچنے کے مترادف ہے جس کی اسلام نے سخت ممانعت کی ہے۔ آپ ﷺ نے ہمیشہ ہاتھ سے روزی کمانے کو ترجیح دی اور اس کی حوصلہ افزائی فرمائی۔ یہ الگ با ت ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے در سے کسی سائل کو خالی نہ لوٹایا مگر اس کی حوصلہ افزائی بھی نہ فرمائی ۔ اس کی وضاحت سنن ابنِ ماجہ کی اس حدیث ِمبارکہ سے بھی ہوتی ہے جس کو حضرت انس ؓبِن مالک روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری مرد نبی (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوا اور سوال کیا۔ آپﷺ نے فرمایا تمہارے گھر میں کچھ ہے ؟ عرض کیا ایک کمبل ہے ۔ کچھ بچھا لیتے ہیں اور کچھ اوڑھ لیتے ہیں اور پانی پینے کا پیالہ ہے۔ فرمایا دونوں لے آؤ۔ وہ دونوں چیزیں لے آیا ۔ رسول اللہﷺ نے دونوں چیزیں اپنے ہاتھوں میں لیں اور فرمایا یہ دو چیزیں کون خریدے گا؟ ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ!! ﷺ میں دونوں چیزیں ایک درہم میں لیتا ہوں۔ آپﷺ نے دو تین مرتبہ فرمایا کہ ایک درہم سے زائد کون لے گا؟ ایک مرد نے عرض کیا میں دو درہم میں لیتا ہوں تو آپﷺ نے دونوں درہم انصاری کو دئیے اور فرمایا ایک درہم سے کھانا خرید کر گھر والوں کو دو اور دوسرے سے کلہاڑا خرید کر میرے پاس لے آؤ اس نے ایسا ہی کیا۔بالآخر اسے کام دھندے پر لگا دیا اور مانگنے سے بچا لیا۔ نہایت افسوس کا مقام ہے کہ بیرون ممالک میں جو لوگ گداگری کا کام کرتے ہیں اور بھیک پر اپنی زندگی گذارتے ہیں ان میں ۲۵ فیصد تعداد مسلمانوں کی ہے ، یعنی ہر چار بھکاری میں سے ایک مسلمان ہوتا ہے ، یہ نہایت تکلیف اور شرم کی بات ہے کہ جس اُمت کے پیغمبر نے تعلیم دی ہو کہ دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے ، گداگری کے لئے وہ اُمت مشہور ہوجائے ، یہ بات بہت کڑوی ہے ؛ لیکن سچائی پر مبنی ہے۔ بقول شاعر: بات تو سچ ہے پر بات ہے رسوائی کی
نہایت تکلیف دہ امر:
کسی بھی معاشرے کے لیے بہ حیثیت قوم یہ بات نہایت شرمناک اور درد ناک ہے کہ چھوٹے چھوٹے بچے جو قوم کے مستقبل ہوتے ہیں، جوان مرد و عورت جن میں محنت اور تگ و دو کی صلاحیت ہوتی ہے وہ ہڈ حرامی و سہل پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہاتھ پھیلا کر خود بھی رسوا ہوں اور ملک و قوم کو بھی پستی میں دھکیلیں جو افراد قوم کا اثاثہ اور اس کے ہاتھ پاؤں ہیں، ان میں بے عملی اور بے ضمیری پیدا ہوجائے، اس سے زیادہ قابل افسوس بات اور کیا ہوسکتی ہے؟؟عبادت کا ماہ رمضان جہاں رونق لاتا ہے وہیں مسلم علاقوں میں گداگروں کا ایک سیلاب بھی لے آتا ہے،مساجد کے سامنے گداگر ،بازاروں میں فقیر ۔۔۔گھر کے دروازوں پر سوالی ۔۔۔ جہاں نظر ڈالیں صرف مانگنے والوں کی ٹولیاں ۔۔۔ ہر کوئی الگ الگ انداز میں مانگتا ہوا نظر آتا ہے ۔ کوئی سامنے سے صدا لگاتا ہے کوئی پیچھے سے ۔ کوئی ہاتھ پھیلا کر گڑگڑاتا ہے تو کوئی دہار لگا کر الغرض ہر ایک سے ہر وقت اور ہر کچھ بس مانگنا ہے۔ پچھلے سال ہی یہ خبر نظر سے گزری تھی کہ سعودی عرب میں گداگری اور بھیک مانگنے پر پابندی لگادی گئی ہے،ساتھ ہی بھیک مانگنے یا ان کی معاونت کرنے والے کو ایک سال قید اور ایک لاکھ ریال تک جرمانہ ہوگا۔اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عالم اسلام کا مرکز کہلانے والا سعودی عرب اس معاملہ میں کس قدر سخت ہے۔ اس کی مذہبی حیثیت اور سماجی و قانونی مسائل کے سبب ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ حد تو یہ ہے کہ اگر کوئی غیر ملکی اس میں ملوث ہوتا ہے تو سزا کے بعد ملک بدر کیا جاتا ہے۔ عرب ممالک میں بھی بھیک مانگنے والوں میں پاکستانی پاسپورٹ پر گئے ہوئے بیشرم و بے حیا سب سے آگے ہیں بلکہ ٹریول ایجنٹ بھکاری مافیا کا نیٹ ورک بھی چلا رہے ہیں۔
ایک اہم سوال کا جواب:
اب یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام میں کیا اس طرح بھیک مانگنا اور دینا جائز ہے؟ کیا مانگنے والا اس بھیک کا مستحق ہے یا دینے والا ثواب کا حقدار ہے ؟ بھیک مانگنا اور بھیک مانگنے کو پیشہ بنانا اسلام میں قطعاً ممنوع ہے ۔ اسلام ہاتھ پھیلانے کی اجازت نہیں دیتا، وہ محنت مزدوری کر کے کمانے کھانے پر زور دیتا ہے، دوسروں کے سامنے دستِ سوال دراز کرنے کی اجازت بہ درجہ مجبوری ہے۔ اسلام میں پیشہ ورانہ بھیک مانگنے اور اسے اپنا خاندانی حق سمجھنے کی قطعاً گنجائش نہیں۔اسلام چاہتا ہے کہ صاحبِ حیثیت افراد اپنے اردگرد کے لوگوں کا خیال رکھیں۔ بلکہ حقدار کی بغیر مانگے مدد کریں۔ اگر ایسا ہوگا تو ضرورت مندوں کو بازاروں، چوکوں، چوراہوں میں مانگنا نہ پڑے۔ ہمارے معاشرے میں پھیلے ہوئے غربت و افلاس کے سائے نے نہ صرف ضرورت مندوں کو ہاتھ پھیلانے پر مجبور کر دیا ہے بلکہ پیشہ وروں نے بھی بھکاریوں کا روپ دھار لیا ہے۔ جو کہ اسلام کی بنیادی تعلیمات اور روح کے سراسر خلاف ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھیک مانگنے کی نہ صرف ممانعت کی ہے بلکہ اس کے خاتمے کے لیے عملی اقدامات بھی کیے ہیں۔
گداگری کا سد باب کیونکر ہو؟
گداگری کے سدباب کے لئے مثبت اور منفی اقدامات کی ضرورت ہے ، مثبت اقدام یہ ہے کہ ایسے بچوں کو تعلیم میں لگایا جائے ، بہت سے سرکاری وغیر سرکاری ادارے ہیں جہاں بچوں کی مفت تعلیم کا انتظام ہے، انھیں ایسے اداروں میں پہنچایا جائے ، جو خواتین اور مرد کام کرنے کے لائق ہیں انھیں مزدوری پر لگایاجائے ، آج کل مزدوروں کی کھپت بہت زیادہ ہے ، اصل دشواری تعلیم یافتہ بے روزگاروں کے لئے ہے اور گداگری کے پیشہ میں زیادہ تر ناخواندہ اور ان پڑھ لوگ ہیں ، انھیں محنت مزدوری پر آمادہ کیا جاسکتا ہے ، جو لوگ واقعی جسمانی اعتبار سے معذور ہوں ان کے لئے اقامت گاہیں قائم کی جائیں ، یا گورنمنٹ کی طرف سے بنے ہوئے رفاہی اداروں تک ان کو پہنچایا جائے ۔ منفی اقدام سے مراد یہ ہے کہ گداگری کی حوصلہ شکنی کی جائے ، مسجدوں اور درگاہوں کے ذمہ داران انھیں وہاں بیٹھنے اور بھیک مانگنے سے روکیں ، مذہبی اجتماعات، جمعہ وعیدین کے مواقع پر بھی انھیں بھیک مانگنے سے منع کیاجائے اور ان کی حوصلہ شکنی کی جائے ، ان کو بھیک نہیں دی جائے ، یہ بھیک مانگیں تو کام کرنے کی ترغیب دی جائے ، اس طرح ان کی حوصلہ شکنی ہوگی اور یہ باعزت طریقہ پر کمانے کے عادی ہوں گے بہت سے لوگ جمعہ وغیرہ میں کھلے پیسے لے کر آتے ہیں اور روپیہ دو روپیہ ہر فقیر کو دیتے چلے آتے ہیں ، بہ ظاہر یہ کارِ خیر ہے ؛ لیکن بالواسطہ یہ اپنی قوم کے ایک گروہ کو گداگری کا عادی بنانا ہے ، اس لئے اس سے اجتناب ہی قوم کے مفاد میں ہے ۔ رسول اللہ ا کا اسوہ ہمارے سامنے موجود ہے ، کہ ایک طرف آپ نے بھیک مانگنے والوں کو دینے سے انکار کر دیا اور دوسری طرف انھیں محنت و مزدوری کر کے اپنی ضروریات پوری کرنے کی ترغیب بھی دی اور اس کی تدبیر بھی فرمائی، اگر ہم اپنی قوم کو اس لعنت سے بچانا چاہتے ہیں تو ہمیں بھی ان میں یہ مزاج پیدا کرنا ہوگا ، کہ وہ اپنے گاڑھے پسینے بہا کر کمائیں اور آدھے پیٹ کھائیں، لیکن دوسروں کے سامنے سوال کے ہاتھ پھیلا کر بے آبروئی کا راستہ اختیارنہ کریں۔رزقِ حلال کی تلقین کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے دوسری جگہ ارشاد فرمایا کہ: تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں اگر تم (زمانہ حج میں تجارت کے ذریعے ) اپنے رب کا فضل (رزق بھی) تلاش کرلو۔ کسی قوم ،قبیلے ، مُلک یا معاشرے کی ترقی کا انحصار اس کے ذرائع معاش پر بھی ہوتا ہے ۔اگر معاشرے میں چوری ، ڈکیتی، گداگری، رشوت، اقربا پروری کا ماحول ہو تو وہ معاشرہ کبھی بھی ترقی کی منازل کو نہیں چھو سکتا۔ اگر اس کے ذرائع معاش صحیح ہوں تو وہ معاشرہ ترقی کی منازل کو طے کرتا ہوا اپنی تقدیر کو بدل سکتا ہے ۔ اس کے بارے قرآن پاک میں ارشاد ہوا، ترجمہ: بیشک اللہ تعالیٰ کسی قوم کی حالت کو نہیں بدلتا یہاں تک کہ وہ لوگ اپنے آپ میں خود تبدیلی نہ لائیں ۔ اس بات کو مولانا ظفر علی خاں ؒ یوں بیان کر تے ہیں: خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نہ ہو جسے خیال اپنی حالت بدلنے کا
مانگنے والوں کا بے تکا عذر:
بھیک مانگنے والے اکثر یہ کہتے ہیں کہ اب جی عادت پڑ گئی ہے ،بڑی کوشش کرتے ہیں اور یہ عادت ختم نہیں ہوتی ان کی یہ بات سو فی صد غلط اور اپنی سستی و کاہلی اور ہڈ حرامی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش ہے کیونکہ آپ ﷺ کی حدیثِ مبارکہ اس کی وضاحت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص اس قبیح فعل سے بچنا چاہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بچائے گا ۔حدیث مبارکہ کے الفاظ یوں ہیں کہ: میرے پاس اگر متاع ہو گی تو میں تم سے بچا کے نہ رکھوں گا اور جو شخص (سوال کرنے سے )بچے گا اللہ اسے (غربت اور سوال کرنے سے )بچائے گا اور جو بے پرواہی ظاہر کرے گا اللہ اسے بے پرواہ(غنی)کر دے گا اور جو شخص صبر کرے گا اللہ اسے صابر بنا دے گا۔ اور کسی کو صبر سے بہتر کوئی چیز(نعمت)عطا نہیں کی گئی۔ پس معلوم ہوا کہ انسان اگر ہمت اور کوشش کرے تو کوئی ایسا کام نہیں جس کو حل نہ کیا جا سکتا ہو مگر شرط اس کے لئے محنت اور کوشش ہے ۔ کسی بھی کام کے سر انجام دینے کے لئے نیک نیت کے ساتھ مصمم ارادہ شرط ہے تو پھر اللہ تعالیٰ اس میں برکت پیدا کر دیتا ہے ۔ سب سے آخر میں اورسب سے اہم پیغام یہ ہے اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے سماج ومعاشرے سے اس گداگری کا خاتمہ کیا جائے تو ہم سب کو ایک کام کرنے کی سخت ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ تمام علماء وخطباء جو منبر ومحراب سے منسلک ہیں وہ اپنے اپنے خطبات ودروس اور بیانات میں اس گداگری کے بارے میں لوگوں کوبیدار کریں، اور اس کے برے انجام سے لوگوں کو ڈرائیں ،اس گداگری سے قوم وملت کا جو خسارہ ہورہاہے اس کو بیان کریں اور لوگوں کو اس بات سے منع کریں کہ وہ تندرست وتوانا شخص کو بھیک دیں،اسی طرح سے مساجد کے ذمہ داروں سے بھی یہ اپیل ہے کہ وہ گداگروں کو عیدین وجمعہ اور دیگر مواقع پر مسجدوں کے دروازوں پر بیٹھنے سے منع کریں، ان کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے ان کو بھیک مانگنے سے منع کریں،ان پر رحم وترس نہ کھائیں،یاد رکھ لیں!ایک روپیہ اور دوروپیہ جو آپ ان کو دیتے ہیں یہی چیز ان کو گداگری کا عادی بناتی ہے اسی لئے اگر ہم اپنی قوم کا بھلا چاہتے ہیں اور اپنی قوم کو اس لعنت سے بچا کر سر بلند کرنا چاہتے ہیں تو پھر براہ کرم اس مشورے پر اور بتائے گئے تمام مذکورہ بالا اسلامی اصول وضوابط پر ضرور بالضرور عمل کریں۔

کالم نگار : علامہ وسیم میواتی
| | |
600