نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ فرض نماز کے بعد سب سے زیادہ فضیلت والی نماز رات (کے وقت تہجد ) کی ہے۔ ‘‘ ( مسلم، مشکوٰۃ)
پچھلے دور کی اک تابندہ روش:
پرانے وقتوں میں نماز تہجد بڑی کثرت اور اہتمام کے ساتھ پڑھنے کا رواج تھا، گھر کے بڑے بوڑھے مختلف افراد، مرد و عورتیں رات کے پچھلے پہر بستر چھوڑتے، ٹھنڈے، گرم پانی سے وضو کرتے، پھر مرد حضرات مسجد کی طرف چل دیتے، اور خواتین گھر وں میں مخصوص جگہوں پر تہجد کی نماز ادا کرنے کا اہتمام کرتیں،
اور یہ لوگ سپیدۂ سحر نمودار ہونے تک اسی طرح اپنے محبوبِ حقیقی کے ساتھ راز و نیاز میں ہمہ تن مصروف اور منہمک رہتے، لیکن آج بہت دُکھ اور افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ جب سے نت نئی ایجادات ٹی وی، وی سی آر، ڈش اور انٹر نیٹ بالخصوص فیس بک وغیرہ متعارف ہوئی ہیں، تب سے ہم مسلمانوں سے ہمارا یہ قومی اور دینی ورثہ مکمل طرح سے چھوٹ گیا ہے۔
فرض نماز اور نماز تہجد میں فرق:
کیا آپ کو معلوم ہے فرض نمازوں اور قیام اللیل میں کیا فرق ہے ؟
سب سے زیادہ تحقیق جو میں نے قیام اللیل کے متعلق کی ہے ، اس سے آپ کے تن بدن میں رونگھٹے کھڑے ہو جائیں گے۔
میری خواہش ہو گی کہ آپ سب اس تحریر کو آخر تک لازمی پڑھیں ۔یہ "دعوت کا کارڈ" ہے(رب العالمین)کی طرف سے۔
مجھے رات کے آخری حصے کی نماز (قیام اللیل)نے تعجب میں مبتلا کر دیا! اور میں نے اس میں پایا کہ:
فرض نمازوں کی ندا بشر ہی لگاتے ہیں ، جبکہ قیام اللیل کی ندا رب العالمین لگاتے ہیں ۔
فرض نمازوں کی ندا ہر شخص سنتا ہے ، جبکہ قیام اللیل کی ندا بعض لوگ ہی محسوس کرتے ہیں ۔
فرض نمازوں کی ندا (حي على الصلاة ،حي على الفلاح) ہے ۔
جبکہ قیام اللیل کی ندا ( ھل من سائل فأعطیہ....)
ہے کوئی سوال کرنے والا میں اسے عطا کر دوں ؟
فرض نمازیں تمام مسلمانوں پر فرض ہیں ۔
جبکہ قیام اللیل صرف اللہ کے چُنے ہوئے مؤمن ہی ادا کرتے ہیں ۔
فرض نمازیں بعض لوگوں کی دکھاوے کی نظر ہو جاتی ہیں ۔
جبکہ قیام اللیل چھپ کر اورصرف اللہ کی رضا کے لیے ادا کی جاتی ہے ۔
فرض نمازوں کو ادا کرتے وقت مسلمان دنیاوی سوچوں میں مگن اور شیطانی وسوسوں میں مبتلا رہتا ہے ۔
جبکہ قیام اللیل میں مؤمن دنیا سے منقطع اور آخرت کی فکر میں مگن ہو جاتا ہے ۔
فرض نمازوں میں مسلمان مسجد میں دوسروں سے ملاقات میں مشغول ہو جاتا ہے ،
جبکہ قیام اللیل میں مؤمن اللہ سے ملاقات کا شرف اور اس سے کلام اور سوال کا متلاشی رہتا ہے ۔
فرض نمازوں میں دعا قبول ہونے کا علم نہیں ۔
جبکہ قیام اللیل میں اللہ نے خود اپنے بندوں سے دعا کی قبولیت کا وعدہ کیا ہے ۔
قیام اللیل اس خوش نصیب کو حاصل ہوتی ہے جس سے اللہ کلام کرنا چاہتا ہو،اور اسکے ھم وغم سننا چاہتا ہو ،کیونکہ وہ اپنے اس مؤمن بندے کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے ۔
پس خوش قسمت ہے وہ شخص جس نے اللہ ذوالجلال والاکرام کی طرف سے بھیجا گیا دعوت نامہ کارڈ کی صورت میں حاصل کیا اور اس کے سامنے بیٹھ کر باتیں کیں اور اس سے مناجات کی لذتیں حاصل کیں۔
جب آپ رات کے آخری پہر اندھیروں میں اپنے مالک الملک کے سامنے پیش ہوں تو بچوں والا اخلاق اپنائیں ۔
کہ جب بچہ کوئی چیز مانگتا ہے تو نہ ملنے پر وہ روتا ہے ، یہاں تک کہ حاصل کر لیتا ہے ۔ پس آپ بھی اپنے رب سے بچوں کی طرح مانگیں ۔
اپنے ساتھ دوسروں کو بھی ترغیب دیں تاکہ یہ دنیا مسائل سے نکل کر وسائل کے مالک کی طرف رجوع کرے۔
معرفت الٰہیہ کی نعمت:
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اِس دُنیا میں صرف اور صرف اپنی عبادت، اپنی معرفت اور اپنی پہچان کروانے کے لیے بھیجا ہے، تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اُس کی بندگی کرکے اُس کی ذات کو پہچان کر اور اُس کی معرفت حاصل کرکے اِس دُنیا میں اللہ تعالیٰ کو راضی کرلے، اور پھر آخرت کی ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی عیش و عشرت اور راحت و آرام میں بسر کرے۔
یہی وجہ ہے کہ حضرات انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام ، صحابہ کرامؓ، تابعینؒ، تبع تابعینؒ اور ائمہ مجتہدینؒ نے اپنے تمام شعبہ ہائے زندگی ٗمعاشرت و معیشت، غمی و خوشی، تنگ دستی و فراوانی اور اپنی حرکات و سکنات اور نشست و برخاست کے ہر وقت اور ہر لمحہ میں اِس عظیم مقصد کو اپنے سامنے رکھا اور اس کے اختیار کرنے میں ہمیشہ وہ کوشاں رہے۔
وہ دُنیوی کاروبار، زراعت و تجارت، صنعت و حرفت وغیرہ بھی کرتے تھے، لیکن اُن کے دِل ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی محبت و الفت میں مست و سرشار رہتے اور کسی وقت بھی اُس کی یاد سے غافل نہیں رہتے تھے۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں فرمایا ہے:
{رِجَالٌ لَّا تُلْہِیْہِمْ تِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللّٰہِ وَإِقَامِ الصَّلَاۃِ وَإِیْتَاء الزَّکَاۃِ} (سورہ النور آیت: ۳۷)
’’( یہ وہ لوگ ہیں کہ) جنہیں کوئی تجارت یا کوئی خرید و فروخت نہ اللہ کی یاد سے غافل کرتی ہے، نہ نماز قائم کرنے اور نہ زکوٰۃ دینے سے" (سورہ النور آیت: ۳۷)
یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو رات جیسے پر سکون وقت میں بھی راحت و آرام کے بجائے اپنے محبوبِ حقیقی کے سامنے عبادت و بندگی کے لیے دست بستہ کھڑے ہوتے ہیں، اور نماز میں اُس کے سامنے راز و نیاز میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اِنہی لوگوں کا قرآن مجید میں مختلف انداز میں ذکر فرمایاہے، چنانچہ ایک جگہ ارشاد ہے:
{تَتَجَافٰی جُنُوْبُہُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ خَوْفاً وَّطَمَعاً وَّمِمَّا رَزَقْنَاہُمْ یُنْفِقُوْنَ فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِیَ لَہُمْ مِّنْ قُرَّۃِ أَعْیُنٍ} (سورہ الم السجدۃ آیت: ۱۶، ۱۷)
"اُن کے پہلو (رات کے وقت) اپنے بستروں سے جدا رہتے ہیں، وہ اپنے رب کو ڈر اور اُمید (کے ملے جلے جذبات) کے ساتھ پکار رہے ہوتے ہیں، اور ہم نے اُن کو جو رزق دیا ہے وہ اُس میں سے (نیکی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں، چنانچہ کسی جی کو کچھ پتہ نہیں کہ ایسے لوگوں کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا سامان اُن کے اعمال کے بدلے میں چھپا کر رکھا گیا ہے۔‘‘
ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:
{کَانُوْا قَلِیْلاً مِّنَ اللَّیْْلِ مَا یَہْجَعُوْنَ وَبِالْأَسْحَارِ ہُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ}(سورہ الذاریات آیت:۱۷، ۱۸)
’’وہ رات کے وقت کم سوتے تھے، اور سحری کے اوقات میں وہ استغفار کرتے ہیں۔‘‘
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
{وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّداً وَّقِیَاماً} (سورہ الفرقان آیت: ۶۴)
’’اور (رحمان کے بندے وہ ہیں) جو راتیں اِس طرح گزارتے ہیں کہ اپنے پروردگار کے آگے (کبھی) سجدے میں ہوتے ہیں اور (کبھی) قیام میں"
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
{أَمَّنْ ہُوَ قَانِتٌ آنَائَ اللَّیْْلِ سَاجِداً وَّقَائِماً یَّحْذَرُ الْأٰخِرَۃَ وَیَرْجُوْ رَحْمَۃَ رَبِّہٖ قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لَا یَعْلَمُوْنَ} (سورہ الزمر آیت: ۹)
’’بھلا (کیا ایسا شخص اُس کے برابر ہوسکتا ہے ) جو رات کی گھڑیوں میں عبادت کرتا ہے، کبھی سجدے میں، کبھی قیام میں، آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے پروردگار سے رحمت کا اُمید وار ہے؟ کہو کہ: کیا وہ جو جانتے ہیں اور جو نہیں جانتے، سب برابر ہیں؟ ‘‘
ایک دوسری جگہ ارشاد ہے:
{وَمِنْ أٰنَائِ اللَّیْْلِ فَسَبِّحْ وَأَطْرَافَ النَّہَارِ لَعَلَّکَ تَرْضٰی} (سورہ طہ آیت:۱۳۰)
’’اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دِن کے کناروں میں بھی، تاکہ تم خوش ہو جاؤ۔ ‘‘
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
{إِنَّ نَاشِئَۃَ اللَّیْْلِ ہِیَ أَشَدُّ وَطْئًا وَّأَقْوَمُ قِیْلاً} (سورہ المزمل آیت:۶)
’’بے شک رات کے وقت اُٹھنا ہی ایسا عمل ہے جو جس سے نفس اچھی طرح کچلا جاتا ہے اور بات بھی بہتر طریقے پر کہی جاتی ہے۔ ‘‘
اہتمام نماز تہجد کے لیے تدابیر:
جو شخص اس عظیم سعادت سے بہرہ مند ہونا چاہتا ہے ، اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ عشاء کی نماز کے بعد ، دیگر مشاغل میں اپنے آپ کو مصروف نہ رکھے ۔ عشاء کے بعد کوئی میٹنگ نہ رکھے ، کسی سے ملنے نہ جائے ، دیر تک مطالعہ نہ کرے ، کسی کو رات دیر گئے مدعو نہ کرے (الا یہ کہ کوئی شدید حاجت اور ضرورت ہو ، یا کسی اضطراری صورت حال سے دوچار ہونا پڑے )
عام دنوں اور عام حالات میں ، اپنے ان معمولات پر سختی سے عمل کرے ، ورنہ اندیشہ رہتا ہے کہ آدمی اس نعمت عظمی سے محروم ہو جائے گا ۔نماز تہجد کے اہتمام کے لیے ضروری ہے کہ مؤمن کو نماز تہجد کی اہمیت اور فضیلت کا علم اور احساس ہو۔ اہتمام تہجد کی ایک اور اہم تدبیر یہ بھی ہے کہ مؤمن اپنی موت کو یاد کرتا رہے ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب تم شام کرو تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب تم صبح کر لو تو شام کا انتظار نہ کرو (نہ جانے کب موت آجائے ) اپنی صحت کو اپنی بیماری سے پہلے غنیمت جانو اور اپنی زندگی میں اپنی موت کے لیے کچھ حاصل کر لو ۔ [صحيح بخاري حديث: 6415]
مؤمن کے لیے ضروری ہے کہ وہ شیطان کے حملوں سے اپنے آپ کو بچائے ۔ جب آدمی سوتا ہے تو شیطان اُس پر تین گرہیں لگا دیتا ہے ۔ اگر مؤمن بیدار ہو کر اللہ کا ذکر کرے تو ایک گرہ کھل جاتی ہے ۔ اور اگر وضو کر لے تو دوسری گرہ کھل جاتی ہے اور اگر نماز پڑھ لے تو تیسری گرہ بھی کھل جاتی ہے ۔ پھر وہ اس حال میں صبح کرتا ہے کہ تازہ دم اور پاکیزہ نفس رہتا ہے
ورنہ اُس کی صبح اس حال میں ہوتی ہے کہ وہ خبیث النفس اور سستی کا شکار رہتا ہے ۔ [صحيح بخاري: 1142]
مؤمن کو چاہیے کہ سونے سے پہلے سونے کے مسنون اذکار پڑھ لے ۔ بالخصوص آیت الکرسی پڑھ لے تاکہ شیطان کے شر سے محفوظ ہو جائے اور جلد سوکر جلد بیدار ہو جائے ۔اہتمام تہجد کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ رات میں زیادہ کھا کر نہ سوئے اور دوپہر کے بعد تھوڑی دیر کے لیے قیلولہ ضرور کر لے ۔ یہ قیلولہ نماز تہجد کے لیے اٹھنے میں نہایت مددگار ثابت ہوتا ہے ۔
مندرجہ بالا تدبیروں کو اختیار کرنے سے اُمید کی جاسکتی ہے کہ انسان نماز تہجد کا با قاعدگی سے اہتمام کر سکے گا ۔شب بیداری اور سحر خیزی ہمیشہ صالحین کا شعار رہا ہے ۔
\
خلاصہ کلام:
تہجد ایک ایسی عبادت ہے جو رات کے آخری حصہ میں پڑھی جاتی ہے جس کی کم سے کم تعداد دو رکعت ہے، جس کے پڑھنے کے لئے رسول اکرم ﷺ نے ترغیب دی ہے اور اللہ تعالیٰ نے تہجد پڑھنے والوں کی تعریف کی ہے اور ان کے لئے اجر عظیم کا وعدہ فرمایا ہے اور یہ فرض نمازوں کے بعد سب سے افضل نماز ہے۔
چونکہ ایسے وقت میں سارے افراد سوئے ہوتے ہیں صرف اللہ کا نیک بندہ ہی اپنے نرم نازک بسترے کو چھوڑ کر رضاء الہی کی خاطر اٹھتا اور اپنے آپ کو عبادت الہی میں محو رکھتا ہے اس لئے ایسے وقت میں جو بھی دعا میں کی جاتی ہیں قبول ہوتی ہیں۔
نماز تہجد دراصل قبولیت دعا کا وقت ہے۔ اس وقت جو بھی مانگا جائے اللہ دنیا اور آخرت میں ضرور عطا فرمائے گا۔ آیات قرآنی اور احادیث رسول ﷺ کی روشنی میں نماز تہجد نفلی عبادت ہے لیکن اس کے بیشمار فضائل موجود ہیں یہ دیگر نفلی عبادت میں سب سے افضل ہے۔ اس کا درجہ فرض نماز کے بعد سب سے افضل ہے۔ اسلام میں کوئی بھی کام بے مقصد نہیں کیا جاتا۔ جس طرح دنیاوی کاموں کا کوئی نہ کوئی مقصد ہوتا ہے۔ اسی طرح نفل عبادات بھی کسی مقصد کیلئے کی جاتی ہیں۔ رات کو اٹھ کر تہجد کو قائم کرنے کی بہت سی برکات و فضیلتیں ہیں۔ اللہ ہمیں نوافل سے اپنا قرب عطاء فرمائے اور ہمیں اپنے مقرب پسندیدہ بندوں میں شامل فرمائے۔