دور حاضر میں ہر دوسرا شخص فکر معاش میں مبتلا ہے۔ہمارا دعویٰ ہے کہ اگر پانچ منٹ نکال کر یہ تحریر پڑھ لیں ان شاء اللہ پریشانی ختم ہو جائے گی ۔۔۔۔۔۔!!
کامیابی کی کنجی:
ایک دن میں نے کامیابی کا راز کے عنوان سے ایک کتاب پڑھی۔۔۔ کچھ دنوں بعد ایسے ہی اسکرولنگ کرتے ہوئے ایک موٹویشنل اسپیکر کی کامیاب شخص کے موضوع پر ویڈیو دیکھی ۔۔۔ پھر ۔۔۔ چند دن بعد ایک دوست نے کامیابی کے موضوع پر دھواں دار لیکچر دے دیا ۔۔۔
اس دن میں نے تہیہ کرلیا کہ اب مجھے بھی ایک کامیاب آدمی بننا ہے ۔۔۔ اور میں نے اگلے ہی دن اس موضوع پر ایک ورکشاپ میں رجسٹریشن کروالی ۔۔۔ ورکشاپ کرکے ذہن بنا تو پرسنل ڈیویلپمنٹ کے ایک کورس میں داخلہ لے لیا تین مہینے لگا کر کورس بھی مکمل کرلیا ۔۔۔
اس سے سمجھ آیا کہ مجھے کوئی اسکل سیکھنی چاہئیے ۔۔۔ تو گرافک ڈیزائننگ کورس میں داخلہ لے لیا۔۔۔ دو ماہ کا کورس مکمل ہوا تو پتہ چلا کہ آج کل ویڈیو ایڈیٹنگ کا دور ہے لگے ہاتھوں وہ بھی سیکھ لیتے ہیں ۔۔۔
دونوں کورس کرنے کے بعد علم ہوا کہ گرافک ڈیزائنر اور ویڈیو ایڈیٹر تو سو دو سو اور پانچ سو میں مل رہے ہیں تو پھر ایک دوست نے مشورہ دیا کہ ڈیجیٹل مارکیٹنگ کرلو آج کل اسکا بہت اسکوپ ہے ۔۔۔ اگلے ہی دن اس کورس میں بھی حصہ لے لیا ۔۔۔۔ پورے پانچ ماہ اور پچاس ہزار روپے لگا کر ڈیجیٹل مارکیٹنگ بھی سیکھ لی۔۔۔
یہ سب کرنے کے بعد جب ادھر ادھر دیکھا تو کلائنٹ ندارد ۔۔۔ کوئی آرڈر ہی نہیں مل رہا ۔۔۔۔۔ بندہ جائے تو کدھر جائے ؟؟
فائیور پر گگ بھی لگادی بی ہانس پر پروفائل بھی بنالی ۔۔۔ لنکڈ ان بھی چلانا شروع کردیا لیکن وہی مارکیٹ مندی پڑی ہے ۔۔۔ لوکل کلائنٹ آرڈر تو دیتا ہے لیکن اچھے پیسے نہیں دیتا ۔۔۔ جبکہ انٹرنیشنل کلائنٹ اچھے پیسے دیتا ہے لیکن وہاں بھی آرڈر نہیں آرہا ۔۔۔ اب کیا کروں ۔۔۔؟؟
چلو سوشل میڈیا مینجمنٹ یا ای کامرس میں قسمت آزماتے ہیں ۔۔ اب وہ سیکھتے ہیں یہ سب بے کار ہے ۔۔۔ آئندہ زمانہ ای کامرس کا ہے ۔۔۔ خیر ایک مہنگی فیس ادا کرکے ای کامرس کے بیچ میں انرول ہوگئے ۔۔۔ دو سال لگا کر ای کامرس بھی سیکھ لی اور پارٹ ٹائم میں ایس ایم منیجمنٹ کے کا کام سے بھی کچھ واقفیت حاصل کرلی ۔۔۔
مگر پھر وہی کام ندارد اور کلائنٹ گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ۔۔۔ اب کیا کرسکتے ۔۔۔ ؟
مارکیٹ میں کمپٹیشن اتنا بڑھ گیا ہے جو کورس کرو اس کے ہزاروں بیمار پہلے سے موجود ہوتے ہیں اور مارکیٹ کا ریٹ خراب کرکے رکھا ہوا ہے ۔۔۔ کچھ نہیں ہوسکتا بھائی یہاں اب باہر ہی نکلنے کا آپشن رہ گیا ہے ۔۔۔ پیسے جوڑو اور باہر کا ویزہ لگاؤ وہیں جاکر کچھ قسمت آزمائی کریں گے ۔۔۔
یہاں ایسے ہی پانچ دس سال برباد کردیے اور ہزاروں روپے کورسز میں الگ لگے ۔
مگر ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔ بھائی ۔۔۔ رکو ۔۔۔ ذرا صبر ۔۔۔ کرو ۔۔۔!!
ایسے کیسے ۔۔۔
درست سمت کا تعین:
اصل میں بات یہ ہے کہ ہم نے شروع سے ہی غلط ٹرین پکڑی تھی اس لئے ہمارا اسٹیشن نہیں آرہا تھا ۔۔۔ اب اگر آپ کسی بھی اسٹیشن پر اتر گئے ہیں تو ٹیکسی پکڑ کر واپس اپنے اسٹیشن پر آجائیں جہاں صحیح ٹرین اپنے انتظار میں کھڑی ہے ۔۔
صحیح ٹرین وہ ہے جو کام آپ اپنے دل سے، لگن سے، محنت سے، خوشی سے، آرام و سکون سے اور سب سے اچھے طریقے سے کرسکتے ہیں وہی آپ کی اصل اور صحیح ٹرین ہے آج سے اسے پکڑ لیں اور اس میں بلا خوف و خطر بیٹھ جائیں کوئی چاہے کچھ بولے آپ نے اپنی ٹرین سے اترنا نہیں ہے جو دل چاہتا بس اسی ایک کام کو پکڑ کر بغیر رکے کرنا شروع کردیں۔۔۔
کام وہ ہونا چاہئیے جس کو کرنے سے آپ کو تھکن نا ہو ۔۔ کرنے میں مزہ آئے، دماغ میں اس کام سے متعلق نئے نئے آئیڈیاز آئیں ۔۔ وہ کام کام نا لگے بلکہ کھیل لگے ۔۔ اسے کرتے وقت ۔۔ وقت کا بھی پتہ نا چلے وہی صحیح ٹرین ہے وہی آپ کے کرنے کا درست کام تھا ۔۔ جو آپ معاشرے کے ڈر اور کیا کہیں گے لوگوں کی وجہ سے نہیں کرپا رہے تھے ۔۔۔ مگر ایک مشکل ہے !
اگر اب میں وہ کام کرونگا تو جو پہلے سے کام کررہا ہوں اسے چھوڑنا پڑے گا اور جو خرچے میرے اس سے پورے ہورہے ہیں وہ کیسے پورے ہونگے۔۔۔ نہیں بھائی آپ کی بات تو بہت اچھی ہے مگر میں اب کر نہیں سکتا ۔۔۔
جناب ۔۔۔ ! آپ سے کس نے کہا کہ پہلے والا کام چھوڑ دو ۔۔ وہ تو کرتے رہے ۔۔لیکن بس روز کے کم از کم دو گھنٹے اس کام کو اس میں سے تھوڑا وقت بچا کر اسکرولنگ اور مووی کا وقت نکال کر اس کام کو دے دو
آپ ایک بار آج کی شام بیٹھ اپنے دل کی سنو روزانہ دو گھنٹہ اپنے اس من پسند کام کو دے دو ۔۔۔ اور پھر جادو دیکھو ۔۔۔ کرنا کیا ہے ۔۔۔ ؟؟
آج سے اگلے ایک سال تک ۔۔۔۔۔۔۔ یہ پانچ کام کرلو۔۔۔
روزانہ اپنے اس کام سے متعلق ایک تحریر اپنے نام، تعارفی پہچان اور تصویر کے ساتھ وقت مقررہ پر سوشل میڈیا پر ڈال دو۔۔۔
ایسے ہی روزانہ ایک ویڈیو اس کام سے متعلق بناکر یوٹیوب، ٹک ٹاک پر وقت مقرر کرکے اپلوڈ کردو ۔۔
ہر مہینے اس کام کے ایک ماہر سے دوستی بنالو ۔۔ اپنا تعارف ان کو یاد کروادو ۔۔ ان کو دیکھنا اور ان سے سیکھنا شروع کردو۔۔۔
ہر ہفتے اس کام سے تعلق رکھنے کسی بھی ایک فرد کا انٹرویو کرلو ۔۔ جس کیلئے چیٹ جی پی ٹی سے ایک سوال نامہ تیار کرو اور وہ انٹرویو ریکارڈ کرکے چینل اور پیچ پر اپلوڈ کردو
ہر ہفتے اس کام سے متعلق کوئی کتاب، ورکشاپ، میٹ اپ، ٹریننگ سیشن، سیمینار، نمائش، کانفرس وغیرہ میں سیکھنے اور نیٹ ورکنگ کی نیت سے شریک ہوجاؤ۔۔۔ اور کارگزاری کی ویڈیو بناؤ اور تحریر لکھ دو۔۔
ایک سال یہ پانچ کام اخلاص نیت، پوری محنت اور مستقل مزاجی کے ساتھ کرکے دیکھو ۔۔۔ کامیابی نہیں ملے تو کہنا ۔۔ کلائنٹ ڈھونڈتے ہوئے نا آئے تو کہنا ۔۔۔ کمپیٹیشن لگے تو کہنا ۔۔۔ خود کو فیلڈ کا تنہا بادشاہ نا محسوس کرو تو کہنا ۔۔ معاشی حالت بہتر نا ہوجایے تو کہنا ۔۔۔۔۔!!
بس مستقل مزاجی اور جہد مسلسل شرط ہے۔
نیا سال،نیا عزم، نیا آغاز:
نیا سال ہمیشہ ایک نیا موقع لے کر آتا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب ہم اپنی زندگی کے سفر کو نئے زاویے سے دیکھتے ہیں، ماضی کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا جائزہ لیتے ہیں اور آنے والے دنوں کے لیے نئے ارادے باندھتے ہیں۔ ہر سال ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے اندر موجود صلاحیتوں کو پہچانیں اور انہیں بہتر انداز میں استعمال کریں۔
گزشتہ سال کے چیلنجز، مشکلات، اور مواقع نے ہمیں بہت کچھ سکھایا۔ ہر تجربہ ایک سبق تھا، ہر رکاوٹ ایک موقع تھا۔ ان ہی تجربات نے ہمیں یہ سکھایا کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے محنت، صبر اور استقامت ناگزیر ہیں۔
اس سال میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اپنی زندگی کو ایک نئی سمت دوں گا۔ میرا مقصد صرف ذاتی کامیابی نہیں بلکہ ایسا راستہ اختیار کرنا ہے جس سے دوسروں کے لیے بھی آسانیاں پیدا ہوں۔ یہ سال میرے لیے محنت، ایمانداری، اور مستقل مزاجی کا سال ہوگا۔
نئے سال کے لیے میرا عزم یہ ہے کہ میں اپنے ارد گرد کی دنیا میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے کام کروں۔ چاہے یہ تعلیم کا میدان ہو، صحت کی بہتری کا مسئلہ ہو، یا کسی کی زندگی میں امید کی ایک کرن جگانے کی بات ہو، میں اپنی تمام تر توانائیاں ان مقاصد کے لیے وقف کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔
نیا سال ہمیں موقع دیتا ہے کہ ہم پرانی غلطیوں سے سیکھیں اور ان سے سبق لیتے ہوئے اپنی زندگی کو نئے انداز میں ترتیب دیں۔ یہ وقت ہے کہ ہم اپنی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی لائیں، اپنی سوچ کو وسیع کریں، اور اپنے خوابوں کی تکمیل کے لیے نئے عزم کے ساتھ کام کریں۔
زندگی ہورہی ہے مثل برف کم
رفتہ رفتہ گھڑی گھڑی دم بدم
خود احتسابی کا عمل:
بالآخر یہ سال بھی گزر گیا ۔۔۔۔ اس سال اللہ تعالی نے ہمیں بے شمار نعمتیں عطا کیں۔۔۔ صحت دی، علم دیا، مال دیا، طرح طرح کے کھانے نصیب کئے الغرض بہت کچھ ہمیں ملا ۔۔۔۔ اس پر شکر
نماز، روزہ، تراویح، قرآن، عبادات، خاندان، مواقع، کاروبار، ملازمت، خوشی، غمی، خوشحالی، بدحالی، تنگی، فراخی، سارے فیزز سے ہم گزرے ۔۔۔۔ اس پر عاجزی و انکساری
لیکن ہر فرد کیلئے یہ نعمتیں تھوڑی کم یا کچھ زیادہ ہوسکتی ہیں مگر ایک ایسی نعمت ہے جو اللہ تعالی نے ہم سب کو برابر تقسیم کی ہے!! وہ ہے وقت کی دولت اور نعمت ۔۔۔۔
وقت کی قدر و قیمت:
چاہے امیر ہو یا غریب، بوڑھا ہو یا جوان، مرد ہو یا عورت سب کو اللہ تعالی نے ایک جتنا وقت عطا فرمایا ۔۔۔ سب کا دن چوبیس گھنٹے کا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔
لہذا ہم نے اپنا محاسبہ اسی وقت کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا ہے ۔۔کتنی نمازیں پڑھیں۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی تلاوت کی۔۔۔۔ کتنا ذکر و اذکار کیا۔۔۔۔۔۔۔ کتنے اچھے اعمال کیے ۔۔۔۔۔ اللہ کو کتنا راضی کیا ۔۔۔۔۔ مخلوق کی کتنی خدمت کی ۔۔۔۔۔۔۔ کام کو کتنا آگے بڑھایا ۔۔۔۔۔ کتنی کتابیں ختم کیں۔۔۔۔۔۔ گھر، خاندان، ماں، پاب، کو کتنا وقت دیا ۔۔۔۔۔
کتنی کامیابیاں حاصل کیں ۔۔۔۔۔ کتنا کمایا ۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ کتنا خرچ کیا ۔۔۔۔۔ کتنا علم حاصل ۔۔۔۔۔کس ہنر کو کتنا سیکھا ۔۔۔ کیا کھویا کیا پایا۔۔۔۔۔ وغیرہ ۔۔۔ وغیرہ ۔۔۔ہر شخص اپنا محاسبہ خود کرے تاکہ بہتری کی راہ نکل سکے۔
سال میں ہمارے پاس 8،760 گھنٹے، 365 دن اور 12 لیموں میں 52 ہفتے ہوتے ہیں ۔۔۔۔
یعنی تقریبا 365 بار فجر، عصر، مغرب اور عشاء، 313 بار ظہر، 52 جمعے، تقریبا 30 تراویح، دو عیدیں، 15 سطری قرآن میں سے ایک صفحہ (آگے اور پیچھے) پابندی کے ساتھ پڑھیں تو رمضان کے علاؤہ سال میں ایک قرآن ختم کرنے کا موقع اور رمضان میں الگ سے قرآن ختم کرنے کے مواقع ۔۔۔
روز ایک تسبیح کے حساب سے سال میں 36500 بار ذکر کرنے کی استعداد، روز کسی کتاب کے دو صفحات کا مطالعے سے سال میں 150 صفحات والی 5 کتابیں پڑھنے کا موقع۔۔۔۔
اسی طرح روز کم از کم چار گھنٹے کسی اسکل، علم، کام، وژن مقصد، کاروبار یا اپنی زندگی کے کسی بڑے خواب کی تکمیل کیلئے دینے سے ۔۔۔۔ سال میں اگر ۔۔۔۔۔۔ تین سو دن بھی روزانہ 4 گھنٹے دیے تو اس کام، وژن، مقصد، علم، اسکل، یا خواب کی تکمیل کیلئے ہم 1200 گھنٹے لگا چکے ہونگے ۔۔۔
اور میں اللہ پر سو فیصد یقین کے ساتھ اپنی پوری محنت اور ایمانداری پر بھروسہ کرتے ہوئے کہہ سکتا ہوں کہ 1000 گھنٹے مکمل ہوتے ہی مجھے اپنی کامیابی کی منزل صاف نظر آنا شروع ہو جائے گی ۔۔۔۔
میں یہ حربہ/فارمولہ پہلے بھی کئی بار مختلف کاموں کیلئے استمال کرچکا ہوں۔۔ اور گارنٹی رزلٹ پایا ہے ۔۔۔ اس بار آپ بھی آزمائیے ۔۔۔ اور حاصل کر لیجئے جو بھی آپ چاہتے ہیں ۔۔۔
اسی طرح ہم اپنے پیسوں کی صحیح تنظیم سے مڈل کلاس ہوتے ہوئے بھی سال میں ایک عمرہ، ایک پاکستان ٹرپ، ایک مکمل سالانہ فیملی شاپنگ، خاص لوگوں کیلئے کچھ سرپرائز تحائف، ہر ماہ چھوٹی سی فیملی پکنک، گھر میں کسی ضرورت کی مہنگی چیز کی خریداری سمیت بہت سے وہ کام کرسکتے ہیں جو گزشتہ سالوں میں بے ترتیبی یا بد نظمی کی وجہ سے نہیں کرسکے۔۔۔
خلاصہ کلام:
ایک خوبصورت، من چاہی اور پر سکون زندگی کی قیمت زیادہ نہیں اپنی صرف پانچ عادتوں کو بدلنا ہوگا۔ یقین جانیے صرف پانچ سال بعد آپ وہاں ہونگے جہاں کا آپ آج خواب دیکھتے ہیں۔ اور یہ سب تو میں خود اپنے اوپر آزما کر آپ کو بتا رہا ہوں۔
1. بہت زیادہ سوچنے اور پلاننگ کرنے کو ممکنہ عملی اقدام کے ساتھ
2. الزام دینے کی نفسیات کو اپنے موجودہ حالت کی قبولیت کے ساتھ
3. رات کو نیٹ فلیکس اور سوشل میڈیا سرفنگ کو 8 سے نو گھنٹے نیند کے ساتھ
4. ٹاکسک، جامد، بزدل اور حاسد دوستوں/ کمپنی کو Mentors کے ساتھ
5. شکوہ شکائتوں اور رونے دھونے کو شکر گزاری کے ساتھ