سب سے پہلے تو آپ کو بہت بہت مبارک ہو آپ کی الجھنوں بھری زندگی کا ایک اور سال اپنے اختتام کو پہنچا۔
درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو:
کیسا عجیب سال رہا نا ؟ کوئی ماں باپ کی آواز سننے کو ترس رہا ہے تو کوئی بچوں سے ملنے کو، کسی کا یار بچھڑ گیا تو کوئی کیرئیر میں ناکام ہو گیا، گھر میں بیوی بچوں کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں، ماں کے ہاتھ کی بنی روٹی کھانا چاہتے ہیں، گلی محلے کے چوک چوراہوں پہ دوستوں کے ہمراہ محفل سجانا چاہتے ہیں مگر جیب خالی ہے۔
ہم سب کی کہانیاں الگ الگ ضرور ہو سکتی ہیں مگر اختتام سب کا ایک ہی جگہ " اگر، مگر، اور کاش" پر ہی ہوتا ہے۔
ہم ایسی زندگی کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں جہاں ہم کچھ بھی ساتھ لے کر نہیں آئے تھے اور پھر ہر چیز کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا کر آخر میں پھر سے خالی ہو کر چلے جائیں گے، کبھی کبھی تو یوں لگتا ہے " کاش میرا جنم ہی نہ ہوا ہوتا" تو اتنے دکھ بھی نہ سہنے پڑتے مگر زندگی تو ایسے ہی ہے نا جینا تو پڑتا ہی ہے۔
کوشش کیا کریں اسے جتنا اچھے سے جی سکیں جی لیا کریں پتہ نہیں کل ہو نہ ہو، ویسے بھی تاخیر کرنے سے چائے ٹھنڈی ہو جاتی ہے، چیزوں کا شوق ختم ہو جاتا ہے، بچے جوان ہو جاتے ہیں، والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں اور زندگی ہی ختم ہو جاتی ہے اور پھر ہمیں ہر اس چیز کے لیے افسوس ہونے لگتا جسے ہم کر سکتے تھے مگر نہیں کیا تھا
اس لیے یہ سوچا کریں کہ آپ کو زندگی میں یہ دن پھر کبھی نہیں ملے گا اس لیے اسے ایسا گزار لیں کہ دوبارہ موقع تلاش کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو۔
یہ دنیا بھانت بھانت کے لوگوں اور نت نئے تجربات و مشاہدات سے عبارت ہے۔کوئی بھی انسان اپنی زندگی کو مکمل طور پر اپنے مطابق نہیں بنا سکتا۔ زندگی ایک سفر ہے جس میں اچھے برے لمحات، کامیابیاں اور ناکامیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔ ہماری خواہشات اور حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے۔
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ زندگی ایک مسلسل سیکھنے کا عمل ہے: ہر تجربہ، چاہے وہ اچھا ہو یا برا، ہمیں کچھ نہ کچھ سکھاتا ہے۔ہر انسان کے اندر کچھ نہ کچھ خامی اور کمی ہوتی ہے۔ ہمیں تمام خوبی و خامی اور خوشی و غمی کو قبول کرکے آگے بڑھنا ہوگا یہی اصول زندگی کو آسان بناتا ہے۔
باپ اک گھنا سائبان:
بڑھتی عمر کے ساتھ مجھے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ یہ زندگی صرف تب تک ہی آسان اور ہلکی ہوتی ہے جب تک سارے بوجھ باپ نے اٹھائے ہوں، جس دن آپ اپنے باپ کی قبر پر مٹی ڈال کر گھر کو واپس لوٹ رہے ہوں گے تو آپ کو محسوس ہوگا کہ آج آپ اس شخص کو اپنے سے دور کر آئے ہو جو اکیلا اس مطلبی دنیا میں آپ کا وفادار تھا،
اور اب آپ کو اس سے دوبارہ ملنے کے لیے مرنا پڑے گا۔
اور پھر بیس سال کے کمسن بدن پر پچاس سالہ شخص کا بوجھ اٹھائے زندگی کا نا ختم ہونے والا سفر شروع کر دیتے ہو، آپ اچانک سے چپ رہنے لگتے ہیں کیونکہ آپ کو کوئی سمجھنے والا نہیں ہوتا اور جو سمجھتا ہے وہ بات کا الگ ہی مطلب نکالتا ہے، آپ کسی سے ناراض نہیں ہوتے مگر بات بھی نہیں کرتے کیونکہ آپ سے خود کی پریشانیاں ہی ختم نہیں ہو رہی ہوتی،
اپنے دکھ کسی سے بیان نہیں کر پاتے اور بس خواہش کرنے لگتے ہیں کہ کاش مجھے کوئی سمجھ لے، سمبھال لے اور گلے لگا کر بولے " بیٹا پریشان مت ہو میں تیرے ساتھ ہوں نا"، لوگ آپ سے بات تو کر رہے ہوتے ہیں مگر دل سے نہیں بلکہ صرف دل رکھنے کے لیے اور دونوں میں بہت فرق ہوتا ہے
اور پھر آپ کی زندگی میں ایسا وقت بھی آتا ہے جب آپ کو اپنے وفادار ہونے پر پچھتاوا ہونے لگتا ہے۔
والدین کے ساتھ سب سے بڑی ایمانداری جو کوئی شخص کر سکتا ہے وہ بس یہ ہے کہ آپ کی وجہ سے کوئی ان کی تربیت پر انگلی نہ اٹھائے، سوچئے آج آپ کے بیٹے کو لوگ آپ کی وجہ سے جانتے ہیں، کیسا منظر ہوگا جب آپ کو لوگ آپ کے بیٹے کی وجہ سے جانیں گے؟ ہر باپ اپنی زندگی میں اپنے بیٹے/بیٹی کو بس اتنا ہی کامیاب دیکھنا چاہتا ہے،
ہر وہ دن جو آپ لغویات میں برباد کرتے ہو اس کے بدلے آپ کے والد کو ایک دن اور مزدوری کرنا پڑتی ہے، اس لیے نیا سال شروع ہوا ہے تو ارادہ کیجئے کہ اس سال خود کو بدلیں گے۔
میری فلاسفی یہ ہے کہ بدلاؤ انسان کے اندر سے شروع ہوتا ہے مثلا انڈا اگر باہر سے توڑا جائے تو اس میں موجود چوزے کی زندگی ختم ہو جاتی ہے لیکن اگر اندر سے ٹوٹتا ہے اس کی زندگی شروع ہوتی ہے یعنی ہر اچھی چیز کی شروعات آپ کے اندر سے ہوتی ہے۔
میرے استاد محترم کہا کرتے تھے کہ " بیٹا اس کھڑکی کو بند کر دیا کو جس سے آنے والی ہوا سے تکلیف ہوتی ہو خواہ پھر باہر کا موسم کتنا ہی سہانا کیوں نہ ہو" مطلب کہ ان تمام چیزوں کو چھوڑ دیجئے جن سے آپ کو اور آپ کے گھر والوں کو کوئی فایدہ نہ مل رہا ہو خواہ وہ کام بظاہر کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو۔
حالات کسی کے لیے بھی سازگار نہیں ہوتے بھائی راستہ خود ہی بدلنا پڑتا ہے، ہر چیز کے لیے حالات سے شکوہ نہیں کیا جاتا، پاؤں کو مٹی سے بچانے کے لیے خود جوتا پہننا پڑتا ہے سارے شہر میں قالین نہیں بچھائے جاتے۔
لاشعور سے شعور کا سفر:
اس امر سے کوئی انکار نہیں کہ دو ڈھائی سو سال پہلے تک عام آدمی کو ڈھنگ سے جینے کی تحریک دینے کا فریضہ شعرا، مصنفین اور مقررین انجام دیا کرتے تھے۔ اساتذہ بھی اس حوالے سے متحرک رہتے تھے۔ یہ بات براہِ راست نہیں سمجھائی جاتی تھی کہ زندگی کس طور بسر کی جائے کہ کامیاب کہلائیں؟؟ شعرا اپنی کاوشوں سے عوام کو بہت کچھ سکھانے کی کوشش کرتے تھے، تاہم یہ کوشش بھی بالواسطہ ہوا کرتی تھی۔ مصنفین بھی معاشرے کی اصلاح میں اپنا کردار ادا کرتے تھے مگر فکشن کے پردے یا پھر مضامین و تجزیے کی شکل میں۔ آپ بیتی لکھنے کا رواج تب تک پروان نہیں چڑھا تھا۔ ریڈیو، فلم اور ٹی وی کا تو دور دور تک پتا نہ تھا بلکہ سچ تو یہ ہے کہ کسی نے اِن عظیم ایجادات کے بارے میں سوچا بھی نہ ہوگا۔
عوام کی اصلاح اور اُن میں کچھ الگ اور زیادہ کرنے کی لگن پیدا کرنے کے حوالے سے لکھنے اور بولنے کا کلچر ڈیڑھ صدی قبل شروع تو ہوا ہے۔
ہزاروں سال سے انسان کو ڈھنگ سے جینے کے قابل بنانے کی خاطر بہت کچھ کہا اور لکھا جارہا ہے۔ ہر تہذیب اور معاشرے میں ایسے اہلِ نظر اور اہلِ قلم ابھرتے رہے ہیں جن کی تحریروں نے لاکھوں کی زندگی بدلی ہے۔ اس سے یہ اندازہ تو کوئی بھی لگا سکتا ہے کہ محنت کی جائے تو لوگوں کو اچھی زندگی بسر کرنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے۔ اصلاحِ معاشرہ کے حوالے سے کی جانے والی کوششیں عام آدمی کو ذہن میں رکھتے ہوئے کی جاتی ہیں۔ عام آدمی اس قدر الجھی ہوئی زندگی بسر کرتا ہے کہ اُسے بہت کچھ سکھانے اور سمجھانے کی ضرورت پیش آتی ہے۔
سب سے پہلے اس حقیقت کو شناخت اور تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ کوئی بھی انسان کسی بھی انسان میں کام کرنے کی بھرپور لگن پیدا نہیں کرسکتا کیونکہ یہ معاملہ انفرادی کہلاتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی میں جب تک سیکھنے کی لگن نہیں ہوتی‘ تب تک وہ زیادہ نہیں سیکھتا مگر دوسری طرف ایسی لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں مثالیں موجود ہیں کہ تربیت اور ماحول کے ذریعے انسانوں کو تبدیل کیا گیا اور پھر معاشروں میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوئیں کہ دنیا دیکھتی رہ گئی۔
اہلِ دانش نے پورے خطے کا مقدر بدلنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ہزاروں مصنفین اور مقررین نے لوگوں کو زندگی کا پورا ڈھانچا بدلنے کی تحریک دی، اُنہیں بتایا کہ جو زندگی وہ بسر کر رہے ہیں وہ پست درجے کی ہے، اگر ڈھنگ سے جینا ہے تو بہت کچھ بدلنا ہوگا اور سب سے پہلے اپنے آپ کو بدلنا پڑے گا۔
معاشرے کو کچھ نیا اور بہتر کرنے کی تحریک دینے والوں نے اپنے حصے کا کام کیا اور دنیا نے تبدیلی کا نظارہ کیا۔
اِس دنیا میں کسی کی بھی صلاحیت کو نکھارا جاسکتا ہے اور کام کرنے کی بھرپور لگن بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔ ہاں‘ رجحان کا ہونا ناگزیر ہے۔
اگر ہر باصلاحیت انسان اپنے طور پر کچھ بن سکتا تو تعلیم و تربیت کے شاندار اداروں کی کوئی ضرورت محسوس نہ کی جاتی۔ موزوں ماحول کی فراہمی سے بھی کسی کو بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار کیا جاسکتا ہے۔
محض پیدائشی وصف کی بنیاد پر کچھ کرنے کے قابل ہونے والی بات آسانی سے ہضم ہونے والی نہیں۔
کامیابی موروثی نہیں اکتسابی ہے:
یہ کہنا کسی بھی درجے میں حقیقت پر مبنی نہیں کہ توارث میں نہ ہو تو کسی میں کام کرنے کی لگن پیدا نہیں کی جاسکتی۔ ہم اپنے ماحول میں ایسے بہت سے کامیاب لوگوں کو تلاش کرسکتے ہیں جن کے پورے خاندان میں کوئی ایک فرد بھی غیر معمولی صلاحیت و سکت کا حامل نہیں ملے گا۔ بیشتر کامیاب لوگ، صلحاء امت، سائنس دان، اداکار، گلوکار، مصنفین اور دیگر ماہرین یا معروف شخصیات
کے گھریلو اور خاندانی حالات کا جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوگا کہ اُنہوں نے آگے بڑھنے کا جذبہ اپنے طور پر پیدا کیا۔اسی طرح بہت سے انتہائی کامیاب افراد کی اولاد اور گھر کے دیگر افراد کسی بھی شعبے میں کچھ بھی خاص نہیں کر پاتے۔ کسی میں کچھ نیا اور اچھا کرنے کی لگن کے نہ پائے جانے اور اس معاملے کے موروثی ہونے میں بہت فرق ہے۔
بہت سے لوگ زندگی کو شاندار انداز سے بسر کرنے کے حوالے سے برائے نام جوش و جذبہ بھی نہیں رکھتے مگر اُن کی اولاد میں محض صلاحیت ہی زیادہ نہیں ہوتی بلکہ کام کرنے کی لگن بھی غیر معمولی ہوتی ہے اور ہم اُنہیں کامیابی کی راہوں پر تیزی سے منزلیں پاتے ہوئے دیکھتے ہیں۔ صلاحیت موروثی ہوسکتی ہے نہ کام کرنے کی لگن۔
انسان اپنے ماحول ہی سے سیکھتا ہے۔اپنے ارد گرد کے ماحول کی بدولت انسان جو کچھ دیکھتے ہوئے بڑا ہوتا ہے اُس کے اثرات قبول کرتا ہی ہے۔
پاکستان اور بھارت میں بہت سے لوگوں کے حالاتِ زندگی کا جائزہ لیجیے تو اندازہ ہوگا کہ اُنہوں نے گھر کے ماحول ہی سے بہت کچھ سیکھا۔ یہی حال دوسرے بہت سے شعبوں کا بھی ہے۔ یہ اکتسابِ فن کا معاملہ ہے نہ کہ موروثیت کا۔ اگر کسی بڑے نامور کے بچے بھی نام پیدا کر رہے ہیں تو یہ موروثی معاملہ قرار دیا جائے گا تو سوال اٹھے گا کہ پھر اُس کے والد بھی مشہور و معروف کیوں نہ تھے؟
ہر انسان کسی نہ کسی شعبے کی طرف جھکتا ہی ہے۔ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ یہ قدرت کا نظام ہے۔ قدرت نے ہر انسان کے لیے کوئی نہ کوئی شعبہ مختص کیا ہوتا ہے۔ یہ موروثی معاملہ نہیں ہوسکتا۔ جو بھی اپنے میلانِ طبع کو پروان چڑھاتا ہے وہ کامیاب ٹھہرتا ہے۔ اِس کے لیے پہلے مرحلے میں ذہن سازی کرنا پڑتی ہے۔
پھر جسم کو بھی اس قابل رکھنا پڑتا ہے کہ بھرپور محنت کے لیے تیار رہے۔ اِس کے بعد تحریک کا نمبر آتا ہے۔ انسان بہت سے لوگوں اور معاملات سے تحریک پاکر اپنی صلاحیت و سکت بڑھا سکتا ہے، کام کرنے کی لگن کا گراف بھی بلند کرسکتا ہے۔ دنیا بھر میں اکثریت آج بھی اس مغالطے میں مبتلا ہے کہ لوگ محض فطری صلاحیت کی بنیاد پر کامیاب ہوتے ہیں۔
فطری صلاحیت کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں مگر صلاحیتوں میں پیدا کیے جانے والے نکھار کو کیا کہیے گا! تربیت کے ذریعے صلاحیتوں کو نکھار کر مہارت میں بدلا جاسکتا ہے اور شاندار کامیابی کے لیے درکار لگن بھی پیدا کی جاسکتی ہے۔