(+92) 321 2533925
درجہ ولایت کا حصول
ولی اللہ کا دوست کہلاتا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {اَلَاۤ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ۔ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ} (سورہ یونس آیت 63) ترجمہ: " خوب سن لو! بیشک ا للہ کے ولیوں پر نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ وہ جو ایمان لائے اور ڈرتے رہے"۔
ولی کی پہچان:
ایک عام آدمی اور ولی میں بس ایک چیز کا فرق ہوتا ہے وہ یہ کہ عام انسان اپنے خوف اور غم کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے جبکہ ولی ہرلمحہ "کیفیت نماز" کو قائم رکھتا ہے جیسا کہ روایت میں وارد ہے: {اَن تَعبدَ اﷲَ کَانَّکَ تَرَاہُ، فان لَم تَکن تَرَاہُ فَانَّہ یَرَاکَ} جس سے وہ خوف اور رنج سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ کیفیتِ نمازکے قیام سے نماز کے بعد بھی حالتِ نماز کا تسلسل نہیں ٹوٹنے پاتا لہذا ولی ہر لمحہ معراج کی حالت میں ہوتا ہے یعنی اس کے لاشعور میں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اللہ کو اور اللہ اسے دیکھ رہا ہےاور یہی احساس ولی کے لئے مستبل کے خوف اور ماضی اور حال کی بے اعتدالیوں سے پیدا شدہ رنج کو بے اثر بنا دیتا ہے۔ پھر ولی نہ کلمہ حق کہنے سے ڈرتا ہے نہ اسے کچھ کھو جانے کاخوف رہتا ہے اور نہ ہی کھوئے گئے کا رنج اسے ستاتا ہے۔ جب وہ دوران نماز تلاوت و تسبیحات کرتا ہے تو قرآن میں موجود اللہ کی آیات اللہ کے فطری قوانین کو اسکے لاشعور میں راسخ کر دیتی ہیں۔ جب اللہ کے فطری قوانین پر یقین کامل لاشعور میں ہو تو ولی محنت، عقل اور تدبُر کی جیتی جاگتی تصویر بن جاتا ہے۔ وہ نہ صرف انسانوں کے لئے مجسمِ رحمت بن جاتا ہے بلکہ دنیاوی زندگی میں بھی وہ کامیاب ترین انسان ہو گا۔ قرآن چونکہ نماز میں اسکی روح پر نازل ہوتا ہے لہذا وہ وہ قرآن میں بیان کی گئی اللہ کی تمام خصوصیات کا ایک معمولی ساحصہ اپنی شخصیت میں منعکس پاتا ہے۔ پھر وہ ایک طرف انسانوں کے لئے مجسمِ رحمت ہوگا تو دوسری طرف اللہ کے دشمنوں کو اس میں ایک باشعوراورمہربان لیکن طاقتور دشمن نظر آئے گا۔ اگر کوئی اللہ کی ولایت چاہتا ہے تو ولی بننے کا طریقہ سمجھ لے۔
درجہ ولایت کا حصول:
یہ بہت آسان ہے لیکن اس کے لئے نماز دوبارہ سیکھنی ہو گی۔ پھر ویسی چالیس نمازیں پڑھنی ہوں گی۔ نماز ہی سے کوئی بھی مرد عورت، امیر غریب، کالا گورا، چھوٹا اور بڑا کسی بھی حلال پیشے سے منسلک فرد ولی بن سکتا ہے، لیکن چالیس نمازیں تو پڑھنی ہی ہوں گی۔ ممکن ہے ایسی پہلی نماز سے پہلے بہت سی نمازیں بطور مشق اور بطور ریاض پڑھنی پڑیں لیکن ریاض میں حرج ہی کیا ہے؟؟ خصوصاً جب کہ انعام ولایت ہو۔ پہلے تو یہ جان لیں کہ ولی کے نزدیک اس بات کی قطعی کوئی اہمیت نہیں کہ نماز ہاتھ باندھ کر پڑھی گئی یا ہاتھ چھوڑ کر۔ اگر ہاتھ باندھے گئے تو سینے پر باندھے یا ناف پر۔ رفع یدین کیا یا نہیں۔ قیام کے دوران دونوں پیروں میں فاصلہ کتنا تھا؟ جسے ان میں سے جو بھی طریقہ اپنا کر ادب اور حاضری کی کیفیّت خود پر طاری کرنے میں آسانی محسوس ہو وہی طریقہ اپنا لیتا ہے ۔ اصل اہمیت قیام کرنے، رکوع و سجود اور حضُوری کے احساس کے تسلسُل کے نہ ٹوٹنے کی ہے۔ ویسے تو ہر مسلمان کی نماز ہی ایسی ہونی چاہیے کیونکہ سبھی کو اللہ کی بندگی اور ولایت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور طے شدہ بات ہے کہ بندگی حضوری اور حاضری کے تصور کے بغیر کہاں ممکن ہے!! جیسے سبھی کو آنکھیں کان اور قلوب دے کر بھیجا گیا لیکن سبھی ان سے دیکھنے، سُننے اور سوچنے کا کام کب لیتے ہیں؟ ایسے ہی نماز بھی اب عام مسلمانوں کے لئے ہونے کے باوجود صرف ولیوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
زندگی میں تبدیلی کونکر ممکن ہے:
ویسے تو اربوں مسلمان اپنے تئیں روزانہ نمازیں پڑھتے ہیں لیکن یا تو قرآن میں اللہ کے دعوے پر شک کرنا پڑے گا( العیاذ باللہ) یا پھر اکثریّت کی نماز ٹھیک نہیں۔ اور شک کی کوئی گنجائش نہیں لہذا دوسرا مسئلہ یقینی ہے یعنی نماز میں جان نہیں۔ اللہ قرآن میں دعویٰ کرتا ہے کہ نماز بُرائی اورشرمناک حرکات سے سے روک دیتی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ} ترجمہ: "بلاشبہ نماز بے حیائی اور بری باتوں سے روکتی ہے" لیکن عام مشاہدہ ہے کہ ہمارا تو نماز پڑھنے کے باوجود ہر انفرادی، سماجی اور سیاسی رویّہ شرمناک ہے اور نہ ہی ہم اپنے اردگرد نمازیوں کی زندگی میں کوئی انقلاب دیکھتے ہیں۔ لہٰذا پھر مسلمانوں کی نماز پر ہی شک کرنا پڑے گا کیونکہ اللہ کا کوئی اور ایسا دعویٰ میری نظر سے نہیں گزرا جس کی سچائی روح پر اثر نہ ڈالتی ہو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مسلمان کی نماز میں کچھ کمی ہے کہ وہ نمازی بھی ہے پھر بھی ناکامی اور بُرائی اسکا گھر دیکھ چکی ہے۔ پہلے دیکھتے ہیں کہ نماز ہے کیا اور اللہ نماز کے ذریعے ہم سے کیا چاہتا ہے؟ پھر نماز کے نام پر ہم جو عبادت کا جتن کرتے ہیں اسکا حقیقی نماز سے موازنہ کریں گے۔ جیسے انسان دو چیزوں کا مرکب ہےجسم اور روح۔ جب روح قفس عنصری سے پرواز کر جاتی ہے تو یہ لاش بن جاتا ہے۔ ایک ڈراؤنی حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے۔بالکل اسی طرح نماز کے بھی دو حصے ہیں، ایک نماز کا جسم اور دوسری اسکی روح۔ نماز کا جسم قیام، رکوع و سجود اور نماز کی تلاوت و تسبیحات وغیرہ ہیں اور اسکی روح اللہ کے ہاں حاضری یا حضوری کا احساس ہے۔ وہ احساس جو ہماری معراج ہے۔ معراج ایک ایسی حالت ہے جس میں کوئی انسان خود کو اپنے رب کے سامنے موجود محسوس کرے، آمنے سامنے اپنی گزارشات پیش کرے اور اپنی درخواستوں کا جواب بھی اسی وقت اللہ سے براہِ راست وصول کرے۔ جیسے انسانی جسم روح کے بغیر لاش کہلاتا ہے ایسے ہی نماز میں اگر اللہ سے باالمُشافہ ملاقات کا احساس نہ ہو تو ایسی نماز اُس انسانی جسم کی طرح ہے جس سے روح نکل گئی ہو۔ اگر احکام شریعت کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوگی کہ اللہ صرف نماز پڑھنے کا نہیں اُسے قائم کرنے کا حُکم دیتا ہے۔ اور ان دونوں میں بہت فرق ہے۔قائم کرنے سے مُراد ہے ایک نماز سے دوسری نماز کے وقفے میں بھی حالت نماز کا تسلسُل ٹوٹنے نہ دینا یعنی اللہ کے بالکل سامنے اور قریب ہونے کے احساس کے ساتھ اپنے روز مرہ کے معمولات میں حسبِ معمول لگے رہنا۔ نماز کا قیام یعنی نماز کے بعد بھی حالت نماز کا تسلسُل جسے سادہ الفاظ میں اللہ کے سامنے ہر لمحہ حاضری کا تصوُر کہا جا سکتا ہے نمازی کو نیکی کا پیکراورسراپا رحمت بنا دیتا ہے اور اُسکی سماجی زندگی کے ہر پہلو سے نماز جھلکنے لگتی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ ایک مقام پر نیکی کی اصلیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: { لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ وَ لٰـكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ الْمَلٰٓىٕكَةِ وَ الْكِتٰبِ وَ النَّبِیّٖنَۚ-وَ اٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِۙ-وَ السَّآىٕلِیْنَ وَ فِی الرِّقَابِۚ-وَ اَقَامَ الصَّلٰوةَ وَ اٰتَى الزَّكٰوةَۚ-وَ الْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْاۚ-وَ الصّٰبِرِیْنَ فِی الْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ حِیْنَ الْبَاْسِؕ-اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْاؕ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ( سورہ بقرہ آیت 177) ترجمہ: "اصل نیکی یہ نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق یا مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصلی نیک یہ ہے کہ اللہ اور قیامت اور فرشتوں اور کتاب اور پیغمبروں پر ایمان لائے اور اللہ کی محبت میں عزیز مال رشتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں اور سائلوں کو اور (بیکسوں کی) گردنیں آزاد کرانے میں خرچ کرے اور نماز قائم رکھے اور زکوٰۃ دے اور وہ لوگ جو عہد کرکے اپنا عہد پورا کرنے والے ہیں اور مصیبت اور سختی میں اور جہاد کے وقت صبر کرنے والے ہیں یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں". پس مذکورہ بالا آیات سے ثابت ہوا کہ مشرق یا مغرب کی طرف رُخ موڑنا (یعنی خالی نماز ہی کا پڑھ لینا) نیکی نہیں۔ اس آیت میں اللہ تمام ایمانیات کے بعد اپنی مُحبت میں رشتے داروں ،یتیموں مسکینوں اور قرض میں ڈوبے ضرورت مندوں کی مالی مدد کا ذکر کر کے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کو نیکی کہتا ہے اور پھر قول کی پُختگی اور صبر کا ذکر کرتا ہے۔نیز یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اللہ کو ہم سے نماز کے جسم کے ساتھ ساتھ نماز کی روح بھی چاہیے اور نماز کے بعد روزمرّہ زندگی میں حالت نماز بھی چاہیے۔ یعنی اللہ سے مُحبت کی ایسی کیفیّت جس میں نمازی اللہ کے بندوں کی مُحبت اور اُنکی ضروریات پُوری کرنے کو اللہ ہی کی مُحبت جانے۔ یہ سب تو تبھی مُمکن ہے جب خوف اور رنج پر قابو پا لیا جائے۔ یاد رہے کہ یہی دو جزبے انسان کو اپنی ذات میں قید کرتے ہیں لیکن نماز کا قیام کرتے ہی جو معراج یعنی اللہ کے ساتھ کا احساس ملتا ہے وہی نمازی کو ان دونوں جزبوں سے نجات دے کر ولی بنا دیتا ہے۔
صفت حضوری کی نماز:
سوال یہ ہے کہ ایسی نماز قائم کیسے کی جائے۔۔؟؟ کوئی بھی سفر شروع کرنے کا ارادہ کرتے ہی آپ خود کو سواری میں موجود نہیں پاتے بلکہ پہلے تیاری کرتے ہیں پھر اپنا سامان لے کر سواری تک جاتے ہیں بالکل ایسے ہی اس عظیم معراج کو شروع کرنے سے پہلے کی بھی ایک تیاری ہے جس کے بغیر معراج ممکن نہیں اور وہ نماز کی نیت ہے۔ بدقسمتی سے نماز کی اصل نیت کروڑوں میں سے چند لوگ ہی جانتے ہوں گے، ہمیں جو نیت بچپن سے سکھائی جاتی ہے وہ نہ سنت میں کہیں ملتی ہے نہ آثار صحابہ سے ثابت ہے اور نہ ہی قرآن میں اس طرف کوئی اشارہ ہے۔ خدا جانے کس دور میں کس نے اور کہاں سے یہ ایجاد کرلی ہے۔ نماز کی اصل نیت تو قرآن کریم میں موجود ہے بس ہماری کوتاہی ہے کہ اس طرف دھیان نہیں گیا۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں{ اِنِّیْ وَجَّهْتُ وَجْهِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ} (سورہ انعام آیت 79) ترجمہ: میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام نے جھوٹے معبودوں سے بیزاری ظاہر کرنے کے بعد اپنا عقیدہ اور دینِ حق کا اعلان فرما دیا کہ میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یعنی اسلام کے سوا باقی تمام ادیان سے جدا رہ کر میں اللہ کا بننا چاہتا ہوں اس سے معلوم ہوا کہ دینِ حق کا قیام واستحکام جب ہی ہوسکتا ہے جب کہ تمام باطل دینوں سے بیزاری اور دینِ حق پر پختگی ہو۔ دین کے معاملے میں پلپلے پن کا مظاہرہ کرنے، سب کو اپنی اپنی جگہ درست ماننے اور سب مذاہب میں اتفاق اور اتحاد پیدا کرنے کی کوششیں کرنے سے دینِ حق کا استحکام ممکن نہیں بلکہ عام زبان میں اسے منافقت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
نبی کریم ﷺ کا خاص وظیفہ:
حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نماز شروع کرنے سے پہلے ایک وظیفہ پڑھا کرتے تھے ، اس کے بارے میں حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہ وَجْہَہُ فرماتے ہیں کہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جب نماز شروع کرنے کے لئے کھڑے ہوتے تو یہ پڑھا کرتے تھے: ’’وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَا تِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنََ‘‘ میں نے ہر باطل سے جدا ہو کر اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان اور زمین بنائے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ بیشک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے جو سارے جہانوں کا رب ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں ، اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور میں عام مسلمان ہوں۔ معلوم ہوا کہ ولی کی نماز یعنی معراج کی تیاری یہ نیت ہے، وہ زبان سے یہ الفاظ ادا کرے یا نہ کرے نماز سے پہلے خود کو زیرِ لب یہ بتاتا ہے کہ میں ساری دنیا سے کٹ کر اس ذات کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں جو سب آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے جیسے ہی وہ یہ الفاظ دھراتا ہے اس کے ذہن میں آسمانوں کا نقشہ دوڑ جاتا ہے۔ ہم تو ایک ہی آسمان کی وسعت سے بھی واقف نہیں جس میں ابھی تک کی معلومات کے مطابق ایک ارب سے زیادہ کہکشائیں ہیں۔ یعنی ایک ارب سے زیادہ سورج اور ہر سورج کے گرد گھومتے ستارے، سیارے۔ تمام کہکشاؤں میں ہماری کہکشاں ریت کے ایک ذرے جتنی ہے اور ہماری کہکشاں میں ہماری زمین کی حیثیت ایک ذرے جیسی ہے اور اس زمین کی اربوں مخلوقات میں سے ایک میں بھی ہوں جو زمین میں ایک ذرے سے بھی کم حیثیت رکھتا ہوں اور اب اس سے ملنے جا رہا ہوں جس نے یہ سب پیدا کیا ہے۔ جیسے ہی ولی کے ذہن میں نیت کے دوران یہ نقشہ آتا ہے اسکی ساری انا، غرور اور خودی بھک سے اُڑ جاتی ہے۔ پھر جیسے ہی وہ نیت یعنی اوپر دی گئی آیت کا اگلا حصہ دہراتا ہے اسکے دل سے اتنے عظیم پیدا کرنے والے کے سامنے حاضری کے تصور سے ہر قسم کا شرک نکل جاتا ہے۔ ظاہر ہے ایسا کیا ہو سکتا ہے جو اتنی عظیم کائنات کے پیدا کرنے والے سے بڑا ہو اسکے؟ ہاں موجودگی کا احساس اس کے دل سے ہر غیر خدا کا خوف اور ماضی کے ہر غم کو نکال دیتا ہے۔ نیت کے ساتھ ہی نمازی ایک خاص ذہنی حالت میں آجاتا ہے اور پھر اپنی کیفیت کا اظہار دل سے نکلے ہوئے اللہ اکبر سے کرتا ہے اور نماز شروع کرتا ہے۔اسے الحمد شریف کے ایک ایک لفظ کی سمجھ ہے، وہ اللہ کے شکر سے شروع کرتا ہے اور پھر قرآن کی تلاوت کرتا یا سنتا ہے۔ نماز کے اختتام تک سنا یا بولا گیا ہر لفظ اُسے ہر لفظ کے معنی اور تشریح سمیت اگر سمجھ آتا ہو تو وہ الفاظ نمازی کے لاشعور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ چونکہ نیت کے دوران ہی وہ ایک طرح کے ٹرانس کی کیفیت میں آجاتا ہے لہذا نماز کے دوران سنی گئی یا پڑھی گئی تمام آیات و تسبیحات اس کے لاشعور پر ویسے ہی اثر کرتی ہیں جیسے کسی ماہر نفسیات کی ہدایات کسی مریض پر اس وقت اثر کرتی ہیں جب ماہرِ نفسیات نے اسے ہیپنا ٹائز کیا ہو۔ ولی تو جو آیات و تسبیحات نماز کے دوران پڑھتا یا سنتا ہےان کا مطلب جانتا ہے لیکن ایک عام نمازی جسے نہ تو سورہ فاتحہ کا مطلب اپنی زبان میں سمجھ آتا ہو نہ اتحیات کا اور نہ دیگر تسبیحات کا، وہ اگر ٹرانس کی کیفیت میں آبھی جائے تب بھی اس کے لاشعور میں اللہ کے قوانین کا علم راسخ نہ ہوگا۔ یعنی اس نے نماز کا جسم تو حاصل کیا لیکن روح سے محروم رہا اور روح کے بغیر جسم لاش کے علاوہ کیا ہے۔۔؟ جسے اللہ کے قوانین کا علم ہو اُسکا ایمان ہوگا کہ قُرآن کے بقول اللہ اُتنا ہی دیتا ہے جسکی کوشش کی جائے اور اُسکا قُرآن کے اس قول پر بھی ایمان ہوگا کہ اللہ کسی کی حالت نہیں بدلتا جب تک کوئی خود اپنی حالت بدلنے کی بھرپور کوشش نہ کرے۔ یعنی نمازی کی روح پر اُترے اللہ کے قوانین اُسے پریکٹیکل اور محنتی انسان بنا دیتے ہیں۔ اُسے چونکہ اللہ کی اپنے ساتھ موجودگی کا احساس بھی ہو گا لہٰذا وہ ناکامی کے خوف کے بغیر صبر سے محنت جاری رکھے گا۔ تبھی آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ نمازی ناکام انسان نہیں ہوتا۔ جس نے نماز قائم کر لی اُس نے اللہ کی صفّات کا ایک معمولی سا عکس اپنی فطرت میں مُنعکس کر لیا۔ ایسی فطرت کے حامل کو بھلا ناکامی کیسے مل سکتی ہے؟؟ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ نماز کا قیام تھا تبھی آپﷺ صرف تیئیس سال کے قلیل عرصے میں اللہ کا نظام پُورے خطۂ عرب میں قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ حالت نماز کا تسلسُل نہ ٹوٹنے دینا ہی وہ بندگی ہے جس کے لیے انسان پیدا کیا گیا ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ} (سورہ ذاریات آیت 56) ترجمہ: "اور میں نے جِنّ اور آدمی کو اسی لئے بنایا ہے کہ وہ میری بندگی کریں" بندگی ہی ولایت ہے لیکن ہر ایک بندگی نہیں کرتا۔ اکثریت خوف اور غم کا بوجھ پسند کرتی ہے۔۔۔۔۔۔!!

کالم نگار : محمد رضوان خالد چوہدری
| | |
279