(+92) 319 4080233
اچھے لوگ
پانچویں،چھٹی کلاس کا ایک بہت لائق فائق اور اچھا بچہ تھا۔ بچوں اور ٹیچرز کے ساتھ بھی اُسکا رویہ بہت مہذب تھا اور کلاس میں جب بھی کوئی بات ہوتی اور اُسکی باری آتی تو اپنی رائے بڑے ٹھوس انداز میں دیتا ،کوئی سائنس کا موضوع ہو یا اسلامیات کا اُسکا انداز اور بات دونوں میں وزن ہوتا غالباً گھر میں کتابیں پڑھی جاتی ہونگی اور والدین کی بھی بھرپور توجہ میسر ہوگی جو بھی وجہ تھی ٹیچرز اور بچے سب اسکو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے لیکن ایک دن ایک عجیب سا واقعہ ہوا۔
استاد کا عجب انداز:
کلاس میں کچھ شور تھا اور بچوں میں کوئی چھوٹا موٹا سا جھگڑا ہوا تو اُسکا نام بھی آ گیا۔ سر نے اس سے چشمہ اُتارنے کو کہا اور پھر رکھ کے منہ پہ ایک ایک تھپڑ جڑ دیا۔ ساری کلاس سر کے اس رویئے پہ ہکا بکا تھی کیونکہ سب جانتے تھے کہ سر بھی اسکی اچھی عادتوں کی وجہ سے اُسے پسند کرتے ہیں۔ کلاس میں سکوت طاری تھا، اس تھپڑ کا جواز ٹیچر نے یہ دیا کہ کیونکہ تم بہت اچھے بچے ہو اسل لیے تمہیں سخت سزا ملنی چاہیے تاکہ تم آئندہ ایسا نہ کرو ۔ اسوقت کلاس کے ایک اچھے بچے کے ساتھ یہ سلوک اچھا تو نہیں لگا لیکن شاید اسی میں کوئی حکمت ہو ہم سمجھ نہیں سکے۔ آج سوچوں تو ٹیچر کی یہ دلیل بے انتہا بودی لگتی ہے۔ اسکو اس ایک غلطی کا احساس بات کر کے بھی دلایا جا سکتا تھا بلکہ اس کے اچھے رویئے اور لیاقت کی بنا پہ رعایت بھی دی جا سکتی تھی لیکن ایسا نہیں ہوا کیونکہ دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہ ایک بہت ہی عام معاشرتی رویہ ہے ۔ہم اچھے لوگوں سے ایسا ہی سلوک کرتے ہیں۔ ذرا اپنے اطراف نظر ڈالیے۔ اچھا بھائی، اچھی بہن، اچھی اولاد، اچھی بہو، اچھی نند، اچھی بھاوج، اچھی جیٹھانی،اچھی دیورانی الغرض جتنے لوگ رشتوں کے"اچھے خانوں" میں فٹ بیٹھتے ہیں زندگی میں اکثر اُنکی ایسے ہی عزت افزائی کی جاتی ہے۔ اُنکی خوبیوں، اچھے رویوں، سلجھی باتوں، قربانیوں اور لیاقت کو ہم اپنا حق سمجھ کے وصول کرتے ہیں اور موقع ملتے ہی ایک ذرا سی کسی بات پہ کوئی گنجائش دئیے بغیر اُن کے چہرے پہ ایسے ہی تضحیک بھرا تھپڑ دے مارتے ہیں۔ انکی بہ نسبت بے مروت، منہ پھٹ ،بد لحاظ اور بدتمیز لوگ فائدے میں رہتے ہیں۔ کیونکہ اُنکے بارے میں یہ تاثر بن چکا ہوتا ہے کہ یہ تو ہیں ہی ایسے تو اُن سے نہ کوئی توقعات وابستہ کی جاتی ہیں اور کرارا جواب ملنے کے ڈر سے نہ کوئی باز پرس کی جاتی ہے بلکہ اُنہیں ہر موقع پہ خاص اہمیت دی جاتی ہے کہ کہیں کوئی پنگا کوئی فساد کھڑا کر کے رنگ میں بھنگ نہ ڈال دیں۔ دل سے اُنہیں پسند نہ بھی کیا جائے بظاہر ان کی موج ہی رہتی ہے۔ اور پھر ہم سوچتے ہیں کہ دنیا میں اچھے لوگ کم کیوں ہوتے جا رہے ہیں؟ ہم مہربان اور عاجز لوگوں کی قدر نہیں کرتے، انکو وہ عزت اور مقام نہیں دیتے جو دینا چاہیے تو آہستہ آہستہ وہ اچھا کرتے کرتے تھک جاتے ہیں اور پھر وہ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ دوسرا برا کر کے بھی فائدے میں ہے تو وقت کے ساتھ اُنکی روش بھی بدل جاتی ہے۔ ایسے لوگوں کو اللہ تو کسی نہ کسی صورت نواز ہی دیتا ہے ،کبھی اُنکے کام خود بہ خود بن جاتے ہیں اور کبھی انکی خوشیاں دائم ہوجاتی ہیں لیکن نیکی کا جواب نیکی سے نہ دینے والے بندوں کو خراج دینا ہی پڑتا ہے۔ اب بھی وقت ہے، ابھی زندگی باقی ہے اور آپ سوچ سمجھ سکتے ہیں تو اپنے آس پاس کے رشتوں پہ نظر ڈالیں۔ آپکی ساس نرم مزاج ہیں تو اسکا فائدہ نہ اٹھائیں۔ آپ کی بہو خدمت گزار ہے تو اُسکی چغلیاں لگانے سے بچیں اور محبت سے پیش آئیں۔ آپکا بھائی آپ کے ساتھ اچھا کرتا رہا ہے تو اُسکے ساتھ خود غرضی نہ برتیں اُسے چونا نہ لگائیں۔ اولاد فرمابردار ہے تو اس کا بے جا فائدہ نہ اٹھائیں۔آپ کی بھاوج قربانی دیتی آ رہی ہے تو اسے اسکی عادت نہ سمجھیں، نند کے اخلاق کو اُسکی کمزوری نہ گردانیں، آپکی دیورانی آپکا لحاظ کرتی ہے تو اسے اُسکا فرض سمجھ کے جوتے کی نوک پہ نہ رکھیں۔ اچھے اور مہربان لوگوں کی قدر کریں اس سے پہلے کہ وہ برے لوگوں میں بدل جائیں اور آپ اپنا اور دوسروں کا نقصان کر بیٹھیں کہ ہماری دنیا کو مہربان لوگوں کی بہت ضرورت ہے۔
ایک عبرت انگیز واقعہ:
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی قبیلے کا سردار اپنے گھوڑے پر سوار تنہا صحرا میں جارہا تھا، سفر کے دوران اس نے دیکھا کہ ایک شخص ریت میں دھنسا پڑا ہوا ہے، سردار نے گھوڑا روکا، نیچے اترا، اس شخص کے جسم پر سے ریت ہٹائی تو دیکھا کہ وہ جو کوئی بھی تھا بے ہوش چکا تھا ، سردار نے اسے ہلایا جلایا تو، وہ نیم وا آنکھوں کے ساتھ پانی پانی پکارتے ہوئے کہنے لگا، پیاس سے میرا حلق اور میری زبان کسی سوکھے ہوئے چمڑے کی طرح اکڑ چکی ہے اگر پانی نہ پیا تو مر جاؤں گا۔ سردار نے سوچا کہ وضع قطع سے اجنبی دکھائی دینے والا شخص ، جو اردگرد کے کسی بھی قبیلے سے تعلق نہیں رکھتا پتا نہیں کب سے یہاں بے یارو مددگار پڑا ہوا ہے اس نے جلدی سے گھوڑے کی زین کے ساتھ لٹکی ہوئی چھاگل اتاری اور اس اجنبی کے ہونٹوں سے لگا کر اس کی پیاس بجھانے لگا۔اجنبی نے خوب سیر ہوکر پانی پیا سردار کا شکریہ ادا کیا اور کہنے لگا: اے رحم دل شخص!! میرا گھوڑا شاید کہیں بھاگ گیا ہے، کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ تم مجھ پر مزید احسان کرتے ہوئے اپنے ساتھ بٹھا کر کسی قریبی جگہ لے جاؤ جہاں میں اپنی سواری کا بندوبست کرسکوں؟ سردار نے خوشدلی سے کہا: ہاں!! کیوں نہیں، سردار گھوڑے پر سوار ہوکر اس اجنبی سے کہنے لگا آجاؤ میرے پیچھے بیٹھ جاؤ اجنبی بمشکل زمین سے اٹھا اور اٹھ کر دو تین بار گھوڑے پر سوار ہونے کی کوشش کی مگر ہر بار نقاہت کے باعث گرجاتا۔ وہ سردار سے کہنے لگا، اس سنگدل صحرا نے میرے جسم کی ساری طاقت نچوڑ لی ہے ازراہ کرم کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ اتریں اور گھوڑے پر سوار ہونے میں میری مدد کریں؟ سردار بخوشی اتر کر اس اجنبی کو گھوڑے پر بٹھانے میں مدد کرنے لگا اجنبی جیسے ہی گھوڑے پر سوار ہوا اس نے ایک زوردار لات سردار کے پیٹ میں رسید کی اور گھوڑے کو ایڑ لگا کر بھگا لے گیا. سردار نے پیچھے سے آوازیں دیں، تو اس اجنبی شخص نے رک کر کہا، شاید تم خجالت محسوس کررہے ہو کہ ایک اجنبی کے ہاتھوں دھوکا کیسے کھالیا؟؟ تو سنو!! میں ایک راہزن ہوں اور لٹیرے سے رحم کی بھیک مانگنا بے کار ہے اس لیے چیخنے چلانے سے کوئی حاصل نہیں ہوگا. سردار نے جواب دیا کہ میں ایک قبیلے کا سردار ہوں اور بھیک مانگنا یا رحم کی درخواست کرنا ایک سردار کی شان کے خلاف ہوتا ہے۔میں فقط یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بات میری شرمندگی کی نہیں ہے بلکہ جب تم کسی منڈی میں اس گھوڑے کو فروخت کرنے جاؤ گے تو اس نایاب نسل کے گھوڑے کے متعلق لوگ ضرور پوچھیں گے، تو انہیں میرا بتلادینا کہ فلاں قبیلے کے فلاں سردار نے مجھے تحفتاً دیا تھا۔ کسی بھی محفل میں صحرا میں لاچار اور بے یارو مددگار شخص کا روپ دھار کر مدد حاصل کرنے کے بہانے لوٹنے کا قصہ مت سنانا ورنہ لوگ بے رحم صحراؤں میں مدد کے طلبگار اجنبیوں پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیں گے۔
پرفیسر کا حکیمانہ انداز:
کورس تو فقط الفاظ سکھاتے ہیں آدمی ہی آدمی کو بناتے ہیں ایک دن پروفیسر صاحب سے جوتا پالش کرنے والے بچے نے جوتا پالش کرتے کرتے پوچھا ’’ماسٹر صاحب! کیا میں بھی کبھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں؟؟‘‘ پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا’’دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے‘‘ بچے کا اگلا سوال تھا وہ کیسے؟ پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا اور اسکے کھوکھے کی دیوار پر دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں پہلی لکیر پر محنت، محنت اور محنت لکھا دوسری لکیر پر ایمانداری، ایمانداری اور ایمانداری لکھا اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر لکھا۔ بچہ پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا، پروفیسر یہ لکھنے کے بعد بچے کی طرف مڑا اور بولا: ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں۔
پہلا زینہ محنت ہے.
آپ جو بھی ہیں، آپ اگر صبح، دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے. آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں، آپ کی دکان، فیکٹری، دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہیے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہئیے۔آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ پروفیسر نے کہا ’’ہمارے اردگرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں، یہ محنت نہیں کرتے۔ آپ جوں ہی محنت کرتے ہیں آپ نوے فیصد سست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں آپ ترقی کیلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں۔اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے.
ایمانداری چار عادتوں پر مشتمل ہے.
وعدے کی پابندی، جھوٹ سے نفرت، زبان پر قائم رہنا اور اپنی غلطی کا اعتراف کرلینا۔ مطلب یہ ہے کہ آپ محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لو۔وعدہ کرو تو پورا کرو، جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولو، زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو اس پر ہمیشہ قائم رہو اور ہمیشہ اپنی غلطی و کوتاہی اور خامی کا آگے بڑھ کر کھلے دل سے اعتراف کرو۔یقین جانو تم ایماندار ہو جاؤ گے۔ کاروبار میں اس ایمانداری کی شرح پچاس فیصد ہوتی ہے.آپ پہلا تیس فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں. آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری دیتی ہے.اور پیچھے رہ گیا بیس فیصد تو یہ بیس فیصد ہنر ہوتا ہے. آپ کا پروفیشنل ازم، آپ کی اسکل اور آپ کا ہنر آپ کو باقی بیس فیصد بھی دے دے گا.اور اس طرح ایک دن آپ سو فیصد کامیاب ہو جاؤ گے۔ اس کے بعد روفیسر نے بچے کو بتایا۔ لیکن یہ یاد رکھو ہنر، پروفیشنل ازم اور اسکل کی شرح صرف بیس فیصد ہے اور یہ بیس فیصد بھی آخر میں آتا ہے۔ آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے اسی فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں.لیکن یہ کھبی نہیں ہو سکتا کہ آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں۔ لا محالہ آپ کو محنت ہی سے سٹارٹ لینا ہو گا،ایمانداری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا ہو گا اور پھر آخر میں خود کو ہنر مند ثابت کرنا ہوگا۔ آخر میں پروفیسر نے بچے کو بتایا۔ میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا ہے۔جانتے ہو کیوں؟؟ کیونکہ وہ بے ایمان بھی تھے اور سست بھی۔ اور میں نے دنیا کے بے شمار بے ہنروں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ تم آج سے ہی ان تین لکیروں پر چلنا شروع کر دو تم آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگو گے
حاصل کلام:
تمام تر باتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ پائے جاتے ہیں اچھے اور برے۔ اچھے انسان وہ ہوتے ہیں جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں، محبت کرتے ہیں اور ہمیشہ دوسروں کی بھلائی کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں۔ وہ لوگ جو ہماری زندگی کو روشن کرتے ہیں اور ہمیں بہتر انسان بننے میں مدد کرتے ہیں۔ اچھے انسان کی قدر اس لیے کی جائے کہ وہ ہماری زندگی کو بہتر بناتے ہیں۔ وہ ہمیں خوشی، سکون اور اطمینان دیتے ہیں۔ وہ ہمیں ایک بہتر سماج بنانے میں مدد کرتے ہیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا اور اچھے لوگوں کو محض ذاتی مفاد کی بھینٹ چڑھایا گیا تو وہ وقت دور نہیں جب یہ اچھے لوگ دنیا سے ناپید ہو جائیں گے اور یہ جہان نفسا نفسی و طوائف الملوکی اور انارکی سے بھر جائے گا۔ حیوان و انسان کا فرق مٹ جائے گا۔ ذرا سوچئے!! ہم آنے والی نسلوں کو ورثے میں کیا دے کر جارہے ہیں ؟؟

کالم نگار : قرۃ العین صبا
| | |
408