(+92) 319 4080233
مفتی احمد الرحمن، حیات و خدمات
امام اہل سنت حضرت مفتی احمد الرحمن رحمہ اللہ( والد بزرگوار) کی وفات کو تقریباً تینتیس برس بیت گئے۔۔۔۔ان کے سانحہ ارتحال کا غم آج بھی جہاں تازہ ہے وہیں ان کی یادیں روز مرہ کی مانند ہی لگتی ہیں۔۔۔والد صاحب رح کی چند معطر یادوں کو چھوٹے بھائی مفتی حذیفہ رحمانی سلمہ نے لکھ کر اپنا درد دل بیان کیا۔۔۔۔۔ انہی کی زبانی ملاحظہ فرمائیں: اباجان رحمہ اللہ تعالی کی پیدائش 6 رجب کی اور وفات 14 رجب کی ہے، یہ آٹھ روز کا سفر ان کا مظاہرالعلوم سہارنپور کے علمی اور روحانی مرکز سے شروع ہوکر 52 سال کے بعد عالم اسلام کے بین الاقوامی مرکز جامعہ علوم اسلامیہ علامہ بنوری ٹاون میں ناناجان محدث العصر علامہ سید محمددیوسف بنوری نوراللہ مرقدہ کے "حیاومیتا" جانشین کے خطاب کے ساتھ ایسا اختتام پذیر ہوا کہ تاقیامت اپنے شیخ و مربی کے پہلو میں ان کو محو استراحت کردیا، نانا جان رحمہ اللہ تعالی کی دوراندیش نظر و فراست نے نوجوانی میں ان کی صلاحیتوں کو پہچان کر ان کو اپنا جانشین بنایا، پھر دنیا نے مدرسہ عربیہ اسلامیہ کو جامعہ علوم الاسلامیہ اور نیوٹاون کوعلامہ بنوری ٹاون بنتے دیکھا، اور اب دنیا اس ادارے کو"جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن" کے نام سے تاقیامت یاد کرے گی۔ چودہ سال کے قلیل عرصے میں جامعہ تمام دینی علوم اور تحریکات کا عالمی مرکز بنا، وہیں پاکستان اور بیرون کے سینکڑوں مدارس و مکاتب کے وجود میں آنے کا ذریعہ بھی بن گیا، یہ سب نانا جان رحمہ اللہ کے اخلاص کا ثمرہ اور ان کی نظر فراست کا نتیجہ ہے، جنہوں نے برطانیہ سے زبردستی پُرزور اصرار کرکے اباجان نور اللہ مرقدہ کو بلایا اور ایک شہرہ آفاق وصیت نامہ تحریر کر کے "حیاومیتا" اپنا جانشین مقرر فرما دیا۔
سانحہ ارتحال:
14 رجب المرجب 1411ھ اکتیس جنوری 1991ء کا سورج والد مرحوم کی رحلت کی خبر غم لیے طلوع ہوا، ہر فرد اس ناگہانی خبر سے غم میں ڈوب چکا تھا، کوئی اس خبر کو جھٹلانا چاہ رہا تھا، لیکن قضا آ چکی تھی، فیصلہ ہو چکا تھا، وہ دن ایک مشفق باپ کی میت حتیٰ کہ قبر میں اترتے دیکھ کر بھی ایک سات سال کے بچے کے لئے چھٹی کے دن اور ایک ایونٹ کے سوا کچھ نہ تھا، جو یتیم ہونے کے مطلب کو کماحقہ نہیں سمجھتا تھا، لیکن گزرتے وقت نے اس کو سارے معانی سمجھا دئیے کہ باپ بچھڑ جانا اور سر سے اس کے سایہ کے اٹھ جانے کا مطلب تپتی دھوپ، چبھتے کانٹوں اور اندھیرے راستوں کے سوا کچھ نہیں۔ یتیمی ساتھ لاتی ہے زمانے بھر کے دکھ باپ زندہ ہو تو کانٹے بھی نہیں چھبنے دیتا لیکن اللہ کی بھی اپنی شان ہے، اس نے والد مرحوم کی دعاؤں کا ثمرہ ہمیں عطا فرمایا۔ والد بزرگوار اپنے شیخ و سسر حضرت المحدث البنوری رحمہ اللہ کے حکم پر جب سب کچھ قربان کردیتے ہیں اور دنیا سے بے سروسامانی کے عالم میں رخصت ہوتے ہیں تو یہ صرف ان کے لئے دنیا و آخرت کی سرخروئی ہی کا باعث نہیں بنا بلکہ ان کی اولاد کی دینی تعلیم و تربیت کا باعث بھی بنا، فللہ الحمد و المنہ
بیٹا لینے آیا ہوں:
حضرت والد صاحب رحمہ اللہ، حضرت حکیم الامت رحمہ اللہ کے خلیفہ اجلّ، تلمیذ شیخ الہند و سہارنپوری حضرت مولانا عبد الرحمن کاملپوری رحمہ اللہ کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے، اور سہارنپور میں 6 رجب 1358ھ مطابق 22 اگست 1939ء کو پیدائش ہوئی۔ ابتدائی تعلیم وہاں اور پھر تقسیم کے بعد دادا جان کی سرپرستی میں خیر المدارس اور تعلیم القرآن راولپنڈی میں رہی، اور 1958-59 میں تکمیل و تخصص کے لئے داد جان نے کراچی نانا جان حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھیجا تو فرمایا کہ اپنا بیٹا آپ کے سپرد کر رہا ہوں، اور حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے جب والد صاحب کو دامادی کے لئے چُنا تو دادا جان رحمہ اللہ کے پاس گئے اور فرمایا کہ *لوگ بیٹی لینے آتے ہیں، میں بیٹا لینے آیا ہوں۔
شیخ کا ادب و احترام:
والد صاحب پر اپنے استاذ و شیخ کا بہت اثر تھا اور ان کی عقیدت، محبت اور احترام کا اندازہ کچھ احوال و واقعات سے لگایا جا سکتا ہے۔ والد اور والدہ دونوں پشتو گھرانے سے تھے، لیکن شادی تک والدہ صاحبہ رحمہا اللہ کو پشتو نہیں آتی تھی، فرماتی تھیں کہ میرے سامنے کوئی پشتو میں بات کرتا تو مجھے سکتہ سا ہوجاتا، اسی بنا پر نانا جان حضرت بنوری رحمۃ اللہ علیہ نے والد صاحب سے فرمایا کہ اس کے ساتھ اردو میں بات کرنا، اس کو پشتو نہیں آتی، بعد میں والدہ صاحبہ کو پشتو آ بھی گئی، لیکن عام انداز و لہجے میں بطور مشورہ شیخ و استاذ کے منہ سے نکلی بات کو تادم مرگ، حکم سمجھ کر اپنے لیے باعثِ سعادت سمجھا اور بعد میں والدہ صاحبہ کو پشتو آ جانے کے باوجود ان کے ساتھ پشتو میں بات نہیں کی۔ شیخ کی محبت اور عقیدت تھی کہ چھوٹے ماموں جان جامعہ کے موجودہ مہتمم استاذ محترم حضرت مولانا سید سلیمان بنوری دامت برکاتہم العالیہ کی تکمیل قرآن مجید کی ایسی عظیم الشان تقریب والد صاحب نے منعقد کی کہ جامعہ میں نہ اس سے پہلے کسی کے لئے ایسی تقریب ہوئی اور نہ شاید آئندہ ہو سکے، اور والد صاحب کا خوشی سے تمتماتا چہرہ ان کے حوالے سے میری چند یاد داشتوں میں آج بھی محفوظ ہے۔
اہتمام و جانشینی:
حضرت نانا جان رحمہ اللہ نے کبار اساتذہ و مشائخ سے مشاورت اور استخارہ کر کے والد صاحب کو جب اپنا جانشین مقرر کیا تو ساتھ ہی یہ حکم بھی تحریر فرمایا کہ آپ کو سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنی ہوگی، والد صاحب نے شیخ کے حکم کی تعمیل میں سب کچھ چھوڑ کر جامعہ کے لئے جو اس وقت مدرسہ عربیہ اسلامیہ تھا، اپنے آپ کو وقف کردیا، پھر یہ مدرسہ عربیہ اسلامیہ "جامعہ علوم اسلامیہ" کے نام سے عالمی مرکز بن کر ابھرا، اور جب کچھ بدخواہوں کو نام و نسبتِ بنوری سے چِڑ ہونے لگی تو والد صاحب نے نہ صرف علاقے کا نام نیو ٹاؤن سے علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کروایا بلکہ پوری دنیا میں اس نام و نسبت سے مراکز دینیہ کا قیام فرما کر شیخ کے نام کو چار دانگ عالم میں پھیلا دیا۔
امام اہل سنت کا خطاب:
جامعہ کے ناظم تعلیمات حضرت مشفق و مربی استاذ محترم حضرت مولانا امداد اللہ صاحب یوسفزئی، جو والد صاحب کے خاص الخاص تلامذہ اور تربیت یافتہ افراد میں سے ایک ہیں اور استاذجی کی شاید ہی کوئی مجلس اور کوئی بیان ایسا ہو کہ اس میں والد صاحب کا تذکرہ نہ ہو، استاذجی فرماتے ہیں کہ سواد اعظم تحریک میں باوجود بڑے بڑے نامور علماء و صلحاء کے مفتی صاحب رحمہ اللہ جیسی کوئی ایسی شخصیت نہ تھی جن پر سب کے سب متفق ہوتے، اسی لئے متفقہ طور پر حضرت مفتی صاحب کو امام اہلسنّت کے لقب سے نوازا گیا تھا۔
آخری لمحات، نصیحت و دعا:
والد صاحب کے پرتَو ہمارے بھائی جان حضرت مولانا عزیز الرحمن نے والد صاحب رحمہ اللہ کی وفات سے تقریبا ایک ہفتہ قبل ہی والد صاحب سے ہی بخاری شریف کی تکمیل کی، اور اس موقع پر والد صاحب نے جو نصائح اور دعائیں کیں، بطور خاص ان میں سے دو ذکر کروں گا اور یہ دونوں باتیں میں نے حضرت بھائی جان اور استاذ محترم مولانا امداد اللہ صاحب سے بھی سنی ہیں۔ دین کی کا کام کرنا چاہتے ہو تو اختلافات سے بچ کر کام کرنا، تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اختلافات میں الجھ کر دین کی محنت کما حقہ نہیں ہو پاتی۔ دوسری ایک دعا جو والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مانگی اور وہ قبول بھی ہوئی کہ "اے اللہ! ہمیں مرتے دم تک تعلیم و تعلم سے وابستہ رکھنا" ابا جان کی اس دعا کی قبولیت کا منظر دنیا نے دیکھا کہ سائٹ کے علاقے میں جامعہ بنوریہ عالمیہ جو والد صاحب ہی کی سرپرستی میں حضرت مولانا مفتی محمد نعیم رحمہ اللہ نے قائم کیا تھا، ابا جان وہاں مشکاۃ شریف کی آخری حدیث کا درس دے کر آئے اور چند گھنٹوں بعد دار فانی سے رخصت ہوگئے۔ وہ رات کبھی نہیں بھول سکتا کہ بنوریہ سائٹ سے واپسی پر مٹھائی لے کر آئے اور مجھے کسی وجہ سے بطور خاص اپنے ہاتھوں سے کھلائی، وہ محبت سے کھلانا اور میرے ہاتھوں سب بہن بھائیوں کو کھلانا ذہن میں ایسا نقش ہے کہ وہ مٹھائی اپنی شیرینی، لذتوں کے باوجود بے ذائقہ لگتی ہے۔ والد صاحب کے انتقال کے وقت چونکہ میں بہت چھوٹا تھا، اس لئے چند باتیں جو یادداشت میں ہیں، کچھ ان میں سے اور کچھ اپنے بڑوں سے سنی ہوئی تحریر کی ہیں، اللہ تعالیٰ والد صاحب رحمہ اللہ کے درجات بلند فرمائے ان کی قبر کو روضۃ من ریاض الجنہ بنائے اور جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے اور ہمیں ان کے نقش قدم چلنے کی توفیق عطا فرمائے، اور خاص طور پر ان کی دعا اے اللہ! ہمیں مرتے دم تک تعلیم و تعلم سے وابستہ رکھنا، ہمارے حق میں بھی قبول فرمائے اور ہمیں بھی مرتے دم تک تعلیم و تعلم سے وابستہ رکھے اور حضرت نانا جان محدث العصر حضرت علامہ محمد یوسف بنوری قدس سرہ کے لگائے ہوئے گلشن جس کی آبیاری والد صاحب نے کی، اس کی خدمت کی مرتے دم تک توفیق عطا فرمائے اور تا قیامت جامعہ کا فیض جاری و ساری رکھے۔ آمین۔

کالم نگار : محمد حذیفہ رحمانی
| | |
556