(+92) 321 2533925
ولی اور درجہ ولایت
ایک عام آدمی اور ولی میں بس ایک چیز کا فرق ہوتا ہے وہ یہ کہ عام انسان اپنے خوف اور غم کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہے جبکہ ولی ہرلمحہ کیفیت نماز کو قائم رکھتا ہے جس سے وہ خوف اور رنج سے بے نیاز ہوجاتا ہے۔ کیفیتِ نمازکے قیام سے نماز کے بعد بھی حالتِ نماز کا تسلسل نہیں ٹوٹنے پاتا لہذا ولی ہر لمحہ معراج کی حالت میں ہوتا ہے یعنی اس کے لاشعور میں یہ احساس ہوتا ہے کہ وہ اللہ کو اور اللہ اسے دیکھ رہا ہےاور یہی احساس ولی کے لئے مستقبل کے خوف اور ماضی اور حال کی بے اعتدالیوں سے پیدا شدہ رنج کو بے اثر بنا دیتا ہے۔ پھر ولی نہ کلمہ حق کہنے سے ڈرتا ہے نہ اسے کچھ کھو جانے کاخوف رہتا ہے اور نہ ہی کھوئے گئے کا رنج اسے ستاتا ہے۔ جب وہ دوران نماز تلاوت و تسبیحات کرتا ہے تو قرآن میں موجود اللہ کی آیات اللہ کے فطری قوانین کو اسکے لاشعور میں راسخ کر دیتی ہیں۔ جب اللہ کے فطری قوانین پر یقین کامل لاشعور میں ہو تو ولی محنت، عقل اور تدبُر کی جیتی جاگتی تصویر بن جاتا ہے۔ وہ نہ صرف انسانوں کے لئے مجسمِ رحمت بن جاتا ہے بلکہ دنیاوی زندگی میں بھی وہ کامیاب ترین انسان شمار ہوتا ہے۔ قرآن چونکہ نماز میں اسکی روح پر نازل ہوتا ہے لہذا وہ وہ قرآن میں بیان کی گئی اللہ کی تمام خصوصیات کا ایک معمولی ساحصہ اپنی شخصیت میں منعکس پاتا ہے۔ پھر وہ ایک طرف انسانوں کے لئے مجسمِ رحمت ہوگا اور دوسری طرف اللہ کے دشمنوں کو اس میں ایک باشعوراورمہربان لیکن طاقتور دشمن نظر آئے گا۔
حصول ولایت کا طریقہ کار:
اگر کوئی اللہ کی ولایت چاہتا ہے تو ولی بننے کا طریقہ سمجھ لے۔ یہ بہت آسان ہے لیکن اس کے لئے نماز دوبارہ سیکھنی ہو گی۔ پھر ویسی چالیس نمازیں پڑھنی ہوں گی۔ نماز ہی وہ مہتم باالشان عبادت ہے جس سے کوئی بھی مرد عورت، امیر غریب، کالا گورا، چھوٹا اور بڑا کسی بھی حلال پیشے سے منسلک فرد ولی بن سکتا ہے، لیکن چالیس نمازیں تو پڑھنی ہی ہوں گی۔ ممکن ہے ایسی پہلی نماز سے پہلے بہت سی نمازیں بطور مشق اور بطور ریاض پڑھنی پڑیں لیکن ریاض میں حرج ہی کیا ہے؟ خصوصاً جب انعام ولایت ہو۔ پہلے تو یہ جان لیں کہ ولی کے نزدیک اس بات کی قطعی کوئی اہمیت نہیں کہ نماز ہاتھ باندھ کر پڑھی گئی یا ہاتھ چھوڑ کر۔ اگر ہاتھ باندھے گئے تو سینے پر باندھے یا ناف پر۔ رفع یدین کیا یا نہیں۔ قیام کے دوران دونوں پیروں میں فاصلہ کتنا تھا وغیرذالک۔۔۔۔۔؟؟ جسے ان میں سے جو بھی طریقہ اپنا کر ادب اور حاضری کی کیفیّت خود پر طاری کرنے میں آسانی محسوس ہو وہی طریقہ اپنا لیتا ہے ۔ اصل اہمیت قیام کرنے رکوع و سجود اور حضُوری کے احساس کے تسلسُل کے نہ ٹوٹنے کی ہے۔ ویسے تو ہر مسلمان کی نماز ہی ایسی ہونی چاہیے کیونکہ سبھی کو اللہ کی بندگی اور ولایت کے لئے پیدا کیا گیا اور بندگی حضوری اور حاضری کے تصور کے بغیر کہاں ممکن ہے؟؟ جیسے سبھی کو آنکھیں کان اور دل دے کر بھیجا گیا لیکن سبھی ان سے دیکھنے، سُننے اور سوچنے کا کام کب لیتے ہیں؟ ایسے ہی نماز بھی اب عام مسلمانوں کے لئے ہونے کے باوجود صرف ولیوں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ویسے تو اربوں مسلمان اپنے تئیں روزانہ نمازیں پڑھتے ہیں لیکن یا تو قرآن میں اللہ کے دعوے پر شک کرنا پڑے گا( العیاذ باللہ) جس کی یقیناً کسی صاحب ایمان سے توقع نہیں کی جاسکتی۔ یا پھر یہ ماننا پڑے گا کہ اکثریّت کی نماز ٹھیک نہیں ہے۔ اللہ قرآن میں دعویٰ کرتا ہے کہ نماز بُرائی اورشرمناک حرکات سے سے روک دیتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِؕ} لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارا تو نماز پڑھنے کے باوجود ہر انفرادی، سماجی اور سیاسی رویّہ شرمناک ہے۔ اس کے علاوہ نہ ہی ہم اپنے اردگرد نمازیوں کی زندگی میں کوئی انقلاب دیکھتے ہیں۔لہٰذا پھر مسلمانوں کی نمازوں پر ہی شک کرنا پڑے گا کیونکہ اللہ کا کوئی اور ایسا دعویٰ میری نظر سے نہیں گزرا جس کی سچائی روح پر اثر نہ ڈالتی ہو۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آج کے مسلمان کی نماز میں کچھ کمی ہے کہ وہ نمازی بھی ہے پھر بھی ناکامی اور بُرائی اسکا گھر دیکھ چکی ہے؟؟
نماز کی اصل روح:
سب سے پہلے دیکھتے ہیں کہ نماز ہے کیا اور اللہ نماز کے ذریعے ہم سے کیا چاہتا ہے؟ پھر نماز کے نام پر ہم جو عبادت کر کے خانہ پوری کرتے ہیں اسکا حقیقی نماز سے موازنہ کریں گے۔ جیسے انسان کا جسم ہے جو روح کے بغیر لاش بن جاتا ہے، بالکل اسی طرح نماز کے بھی دو حصے ہیں، ایک نماز کا جسم اور دوسری اسکی روح۔ نماز کا جسم قیام، رکوع و سجود اور نماز کی تلاوت و تسبیحات وغیرہ ہیں اور اسکی روح اللہ کے ہاں حاضری یا حضوری کا احساس ہے۔ وہ احساس جو ہماری معراج ہے۔ معراج ایک ایسی حالت ہے جس میں کوئی انسان خود کو اپنے رب کے سامنے موجود محسوس کرے، آمنے سامنے اپنی گزارشات پیش کرے اور اپنی درخواستوں کا جواب بھی اسی وقت اللہ سے براہِ راست وصول کرے۔ جیسے انسانی جسم روح کے بغیر لاش کہلاتا ہے ایسے ہی نماز میں اگر اللہ سے باالمُشافہ ملاقات کا احساس نہ ہو تو ایسی نماز اُس انسانی جسم کی طرح ہے جس سے روح نکل گئی ہو۔
نماز سے مقصود ربانی:
اللہ صرف نماز پڑھنے کا نہیں اُسے قائم کرنے کا حُکم دیتا ہے۔ قائم کرنے سے مُراد یہ ہے کہ ایک نماز سے دوسری نماز کے وقفے میں بھی حالت نماز کا تسلسُل ٹوٹنے نہ دینا۔ یعنی اللہ کے بالکل سامنے اور قریب ہونے کے احساس کے ساتھ اپنے روز مرہ کے کاموں میں لگے رہنا۔ نماز کا قیام یعنی نماز کے بعد بھی حالت نماز کا تسلسُل جسے سادہ الفاظ میں اللہ کے سامنے ہر لمحہ حاضری کا تصوُر کہا جا سکتا ہے نمازی کو نیکی کا پیکر اور سراپا رحمت بنا دیتا ہے اور اُسکی سماجی زندگی کے ہر پہلو سے نماز جھلکنے لگتی ہے۔ جیسے اللہ کلام پاک میں نیکی کی اصلیت بتلا تے ہوئے فرماتے ہیں کہ مشرق یا مغرب کی طرف رُخ موڑنا (یعنی خالی نماز) نیکی نہیں۔ {لَیْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَ الْمَغْرِبِ} اس آیت میں اللہ تمام ایمانیات کے بعد اپنی مُحبت میں رشتے داروں ،یتیموں مسکینوں اور قرض میں ڈوبے ضرورت مندوں کی مالی مدد کا ذکر کر کے نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کو نیکی کہتا ہے اور پھر قول کی پُختگی اور صبر کا ذکر کرتا ہے۔ آیت کے شروع میں ہی یہ باور کروا دیا گیا ہے کہ مشرق یا مغرب کی طرف رُخ موڑنا (یعنی خالی نماز) نیکی نہیں اور پھر اللہ کی مُحبّت میں انسانوں کے لیے رحمت بننے کا ذکر کرتے ہی نماز قائم کرنے کو نیکی کہنے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اللہ کو ہم سے نماز کے جسم کے ساتھ ساتھ نماز کی روح بھی چاہیے اور نماز کے بعد روزمرّہ زندگی میں حالت نماز بھی چاہیے۔ یعنی اللہ سے مُحبت کی ایسی کیفیّت جس میں نمازی اللہ کے بندوں کی مُحبت اور اُنکی ضروریات پُوری کرنے کو اللہ ہی کی مُحبت جانے۔ یہ سب تو تبھی مُمکن ہے جب خوف اور رنج پر قابو پا لیا جائے۔ یاد رہے کہ یہی دو جذبے انسان کو اپنی ذات میں قید کرتے ہیں لیکن نماز کا قیام کرتے ہی جو معراج یعنی اللہ کے ساتھ کا احساس ملتا ہے وہی نمازی کو ان دونوں جذبوں سے نجات دے کر ولی بنا دیتا ہے۔
کیفیت حضوری کیونکر حاصل ہو؟؟
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی نماز قائم کیسے کی جائے۔۔؟؟ عام مشاہدہ ہے کہ کوئی بھی سفر شروع کرنے کا ارادہ کرتے ہی آپ خود کو سواری میں موجود نہیں پاتے بلکہ اپنا سامان لے کر سواری تک جاتے ہیں بالکل ایسے ہی اس عظیم معراج کو شروع کرنے سے پہلے کی بھی ایک تیاری ہے جس کے بغیر معراج ممکن نہیں اور وہ نماز کی نیت ہے۔ بدقسمتی سے نماز کی اصل نیت کروڑوں میں سے چند لوگ ہی جانتے ہوں گے، ہمیں جو نیت سکھائی جاتی ہے معزرت کے ساتھ وہ نہ تو قرآن مجید میں کہیں مذکور ہے اور ہی سنت میں موجود ہے اور نہ ہی آثار صحابہ سے میل کھاتی ہے۔بلکہ جب ہم کلام الٰہی میں تدبر وتفکر کرتے ہیں تو ہمیں نماز کی اصل نیت ان الفاظ میں ملتی ہے: {اِنِّىْ وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِيْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِيْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ} ترجمہ: مکمل یکسو ہو کر میں نے اپنی توجہ کو اس ذات پر مرکوز کر لیا ہے جو آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ ولی کی نماز یعنی معراج کی تیاری یہ نیت ہے، وہ زبان سے یہ الفاظ ادا کرے یا نہ کرے نماز سے پہلے خود کو زیرِ لب یہ بتاتا ہے کہ میں ساری دنیا سے کٹ کر اس ذات کے حضور ہوں جو سب آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے جیسے ہی وہ یہ الفاظ دہراتا ہے اس کے ذہن میں آسمانوں کا نقشہ دوڑ جاتا ہے۔ ہم تو ایک ہی آسمان کی وسعت سے بھی واقف نہیں جس میں ابھی تک کی معلومات کے مطابق ایک ارب سے زیادہ کہکشائیں ہیں۔ یعنی ایک ارب سے زیادہ سورج اور ہر سورج کے گرد گھومتے ستارے، سیارے اور سیارچے۔ تمام کہکشاؤں میں ہماری کہکشاں ریت کے ایک ذرے جتنی ہے اور ہماری کہکشاں میں ہماری زمین کی حیثیت ایک ذرے جیسی ہے اور اس زمین کی اربوں مخلوقات میں سے ایک میں بھی ہوں جو زمین میں ایک ذرے سے بھی کم حیثیت رکھتا ہوں اور اس سے ملنے جا رہا ہوں جس نے یہ سب پیدا کیا ہے۔ جیسے ہی ولی کے ذہن میں نیت کے دوران یہ نقشہ آتا ہے اسکی ساری انا، غرور اور خودی بھک سے اُڑ جاتی ہے، پھر جیسے ہی وہ نیت یعنی اوپر دی گئی آیت کا اگلا حصہ دہراتا ہے اسکے دل سے اتنے عظیم پیدا کرنے والے کے سامنے حاضری کے تصور سے ہر قسم کا شرک نکل جاتا ہے۔ ظاہر ہے ایسا کیا ہو سکتا ہے جو اتنی عظیم کائنات کے پیدا کرنے والے سے بڑا ہو اسکے ؟؟ ہاں موجودگی کا احساس اس کے دل سے ہر غیر خدا کا خوف اور ماضی کے ہر غم کو نکال دیتا ہے۔ نیت کے ساتھ ہی نمازی ایک خاص ذہنی حالت میں آجاتا ہے اور پھر اپنی کیفیت کا اظہار دل سے نکلے ہوئے" اللہ اکبر"سے کرتا ہے اور نماز شروع کرتا ہے۔اسے الحمد شریف کے ایک ایک لفظ کی سمجھ ہے، وہ اللہ کے شکر سے شروع کرتا ہے اور پھر قرآن کی تلاوت کرتا یا سنتا ہے۔ نماز کے اختتام تک سنا یا بولا گیا ہر لفظ اُسے ہر لفظ کے معنی اور تشریح سمیت اگر سمجھ آتا ہو تو وہ الفاظ نمازی کے لاشعور پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ چونکہ نیت کے دوران ہی وہ ایک طرح کے ٹرانس کی کیفیت میں آجاتا ہے لہذا نماز کے دوران سنی گئی یا پڑھی گئی تمام آیات و تسبیحات اس کے لاشعور پر ویسے ہی اثر کرتی ہیں جیسے کسی ماہر ِ نفسیات کی ہدایات کسی مریض پر اس وقت اثر کرتی ہیں جب ماہرِ نفسیات نے اسے ہیپنا ٹائز کیا ہو۔ ولی تو جو آیات و تسبیحات نماز کے دوران پڑھتا یا سنتا ہےان کا مطلب جانتا ہے لیکن ایک عام نمازی جسے نہ تو سورہ فاتحہ کا مطلب اپنی زبان میں سمجھ آتا ہو نہ اتحیات کا اور نہ دیگر تسبیحات کا، وہ اگر ٹرانس کی کیفیت میں آبھی جائے تب بھی اس کے لاشعور میں اللہ کے قوانین کا علم راسخ نہ ہوگا۔ یعنی اس نے نماز کا جسم تو حاصل کیا لیکن روح سے محروم رہا اور روح کے بغیر جسم لاش کے علاوہ کیا ہے۔۔؟ جسے اللہ کے قانون کا علم ہو اُسکا ایمان ہوگا کہ قُرآن کے بقول اللہ اُتنا ہی دیتا ہے جسکی کوشش کی جائے اور اُسکا قُرآن کےاس قول پر بھی ایمان ہوگا کہ اللہ کسی کی حالت نہیں بدلتا جب تک کوئی خود اپنی حالت بدلنے کی بھرپور کوشش نہ کرے۔ یعنی نمازی کی روح پر اُترے اللہ کے قوانین اُسے پریکٹیکل اورمحنتی انسان بنا دیتے ہیں۔ اُسے چونکہ اللہ کی اپنے ساتھ موجودگی کا احساس بھی ہو گا لہٰذا وہ ناکامی کے خوف کے بغیر صبر سے محنت جاری رکھے گا۔ تبھی نمازی ناکام انسان نہیں ہوتا۔
فطرت الٰہیہ سے استفادہ:
جس نے نماز قائم کر لی اُس نے اللہ کی صفّات کا ایک معمولی سا عکس اپنی فطرت میں مُنعکس کر لیا۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایسی فطرت کے حامل کو ناکامی بھلا کیسے مل سکتی ہے؟؟ نبیﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ نماز کا قیام تھا تبھی آپﷺ صرف تیئیس سال میں اللہ کا نظام پُورے خطۂ عرب میں قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ حالت نماز کا تسلسُل نہ ٹوٹنے دینا ہی وہ بندگی ہے جس کے لیے انسان پیدا ہوا۔اسی لیے کہا جاتا ہے زندگی آمد برائے بندگی زندگی بے بندگی شرمندگی بندگی ہی ولایت ہے لیکن ہر ایک بندگی نہیں کرتا۔ اکثریت خوف اور غم کا بوجھ پسند کرتی ہے۔ ۔۔۔۔!!

کالم نگار : محمد رضوان خالد چوہدری
| | |
336