(+92) 321 2533925
ملحدین و مستشرقین کی اجتماعی غطی
سورۃ الجاثیہ کی کچھ آیات کا ترجمہ اور قدیم مفسرین کی تفسیر پیش کرکے موجودہ دور کے مغربی نظریات (Western isms) کا جائزہ قارئین کی نظر کیا جاتا ہے۔ سب سے پہلے آیات اور ان کا ترجمہ ملاحظہ کریں:
پہلی آیت:
اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰهُ ( سورہ جاثیہ: آیت:23) ترجمہ: "کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی نفسانی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے"
دوسری آیت:
وَ قَالُوْا مَا هِیَ اِلَّا حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَ نَحْیَا وَ مَا یُهْلِكُنَاۤ اِلَّا الدَّهْرُۚ-وَ مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ اِنْ هُمْ اِلَّا یَظُنُّوْنَ (سورۃ الجاثیۃ آیت 24) ترجمہ: "اور وہ کہتے ہیں ہماری دنیوی زندگی کے سوا کچھ نہیں ہے ہم (بس یہیں) مرتے اور جیتے ہیں اور ہمیں زمانے کے سوا کوئی ہلاک نہیں کرتا، اور انہیں اس کا کچھ بھی علم نہیں ہے، وہ صرف خیال و گمان سے کام لے رہے ہیں۔" ان دونوں آیات کا مضمون دور جدید کے تصور خدا کے منکرین اور مذہب بیزاروں کے فکری اور فلسفیانہ مغالطوں پر واضح نکیر اور تنقید کرتا ہے: پہلی آیت میں انسانی خواہشات کو مرکزِ حیات اور اخلاقی اقدار (Moral values) کا معیار سمجھنے کی مذمت کی جا رہی ہے ۔ اس تصور کو فلسفے میں خواہش پرستی (Hedonism) کہا جاتا ہے۔
ہیڈونزم کی تعریف:
ہیڈونزم ایک ایسا فلسفیانہ نظریہ ہے جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ انسانی زندگی کا سب سے بڑا مقصد لذت (Pleasure) حاصل کرنا اور تکلیف سے بچنا ہے۔ اس نظریے میں خواہشات اور لذت کو زندگی کے فیصلوں کا حتمی معیار قرار دیا جاتا ہے۔
ہیڈونزم کی اقسام:
(۱): اخلاقی ہیڈونزم (Ethical Hedonism): کہ انسان کو ہمیشہ وہی عمل کرنا چاہیے جو زیادہ سے زیادہ خوشی اور لذت کا باعث بنے، بس یہی عمل اچھا کردار ہے بہتر اخلاق ہے۔ (۲): نفسیاتی ہیڈونزم (Psychological Hedonism): اس کے مطابق انسان فطری طور پر صرف اپنی خوشی اور خواہشات کے پیچھے چلتا ہے۔ اپنی خواہش کے علاوہ کچھ اچھا نہیں لگتا۔ سماجی یا یوٹیلیٹیرین ہیڈونزم (Utilitarian Hedonism): اس تصور میں زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ خوشی پیدا کرنا اخلاقی طور پر درست سمجھا جاتا ہے، اس تصور کی وضاحت جیرمی بینتھم (Jeremy Bentham) اور جان اسٹورٹ مل (John Stuart Mill) کے افکار میں ملتی ہے۔ یہ تصور آج مذہب بیزار افراد اور معاشروں میں عام ہو چکا ہے جو آزادنہ خواہشات کی تکمیل پر یقین رکھتے ہیں اور اخلاقی حدود کی نفی کرتے ہیں اور خواہشات کو انسانی زندگی کا واحد معیار قرار دیتے ہیں۔ فلسفیانہ طور پر یہ نقطہ نظر کہ خواہشات معقولیت کا نعم البدل بن سکتی ہیں اخلاقی اضافیت (Moral Relativism) کا باعث بنتا ہے، جہاں ہر فرد اپنی خواہش کے مطابق ’’صحیح‘‘ اور ’’غلط‘‘ کا تعین کرتا ہے۔ ذاتی ترجیحات خودغرضی کو جنم دیتی ہیں جو حقیقی اور مستقل اخلاقی اصولوں کا انکار کرتی ہے، اگر خواہشات انسانوں کی رہنما بن جائیں تو وہ لازمی طور پر ایک غیر متوازن اور خود غرض معاشرہ تشکیل دے گا جو ایک غیر مستحکم سماجی نظام کا سبب بن سکتا ہے۔ قرآن کریم کہتا ہے کہ خواہشات کو ’’معبود‘‘ بنانے کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان اپنی حدود کو نظر انداز کر دیتا ہے اور اپنی کمزوریوں کو خدا کے برابر یا قائم مقام درجہ دینے لگتا ہے۔ یوں انسان اعلیٰ مقاصد (Higher Purposes) سے محروم ہو جاتا ہے، کیونکہ خواہشات عارضی اور ناقابلِ پیشگوئی ہوتی ہیں۔ قرآن کریم کے عمومی مطالعے سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ صرف ایک سپریم اتھارٹی اور قادر مطلق ذات اللہ تعالیٰ ہی اخلاقی رہنمائی فراہم کر سکتی ہے جو انسانی خواہشات سے بلند ہو۔ انسانوں کے مختلف اذھان و متفرق مفادات کبھی اجتماعی مفاد پر یکجا نہیں ہوسکتے۔ پھر یہ بات بھی قابل غور ہے کہ محدود علم و سوچ سے لامحدود کائنات کے اصول و ضوابط کیونکر اور کیسے طے کیے جا سکتے ہیں ؟؟
دنیاوی زندگی حرف آخر نہیں:
دوسری آیت میں ایک اور غلط تصور کی مذمت کی جا رہی ہے وہ ہے ’’دنیاوی زندگی کو آخری حقیقت سمجھنا‘‘ مذہب بیزاروں کا یہ نقطہ نظر مادیّت (Materialism) پر مبنی ہے جو کائنات کی ہر حقیقت کو مادّے تک محدود کر دیتا ہے۔ الحاد (Atheism) کا ایک بنیادی نظریہ یہ ہے کہ کائنات ایک حادثہ ہے، زندگی اور موت نیچرل پروسس یعنی گردش ایام (زمانے کی گردش) کا نتیجہ ہے اور انسانی زندگی کا کوئی مقصد اور معنی نہیں ہے۔ ’’زمانہ‘‘ یعنی فطری پروسس کو انسان کی زندگی کی واحد حقیقت ماننا ایک ایسی فکر ہے جس میں انسانی شعور اور اخلاقیات کے مابعدالطبیعی (metaphysical) پہلو کو سرے سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ’’زمانے‘‘ یعنی فطری پروسس کو ہلاکت کی وجہ سمجھنا ایک بے بنیاد تصور ہے کیونکہ زمانہ خود ایک غیر شعوری اور غیر مختار حقیقت ہے۔ مذکورہ آیت کہتی ہے کہ یہ نظریہ ’’گمان‘‘ پر مبنی ہے۔ نہ کہ ’’علم و منطق اور عقل و شعور‘‘ پر۔ صرف دنیاوی زندگی کو حقیقت ماننے سے انسان اپنے وجود کے معنی اور مقصدیت سے محروم ہو جاتا ہے۔ فلسفیانہ نقطہ نظر سے وجود اور شعور کے بنیادی سوالات کو محض مادیّت (Materialism) کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا۔ وجودیت پسندی(Existentialism) کے فلسفہ میں مادیّت پر مبنی زندگی کی خالی پن (nihilism) کا اعتراف کیا گیا ہے جہاں انسان کسی حتمی مقصد یا اخلاقی رہنما کے بغیر بھٹک رہا ہے۔ خالق کائنات کو نظر انداز کرکے ’’اتفاق‘‘ یا ’’قدرتی قوانین‘‘ کو خالق کا مقام دینا عقلی اور فلسفیانہ تضاد ہے کیونکہ یہ سوال اٹھتا ہے کہ ان قوانین کا ماخذ کیا ہے؟ آیت ان مغالطوں کو رد کرتی ہے جو یہ فرض کرتے ہیں کہ کائنات خود بخود موجود ہو گئی یا اس کا مقصد و غایت نہیں۔ مادیّت کی بنیاد پر زندگی کو صرف اس دنیا تک محدود کر دینا انسان کے وجود کی گہرائی کو نظر انداز کرتا ہے۔ قرآن ایک جامع تصورِ زندگی پیش کرتا ہے جو مادی اور روحانی دونوں پہلوؤں کو شامل کرتا ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ دونوں آیات modern دور کے انسانوں کو دعوت فکر دیتی ہیں کہ خواہشات اور مادیّت پر مبنی زندگی کی بنیاد پر قائم نظام نہ صرف غیر معقول بلکہ غیر مستحکم بھی ہے۔ قرآن ایک ایسے نظام کی دعوت دیتا ہے جو نہ صرف عقلی بلکہ روحانی طور پر بھی انسانی زندگی کو مکمل معنویت فراہم کرتا ہے۔

کالم نگار : مفتی سید فصیح اللہ شاہ
| | |
508     3