(+92) 319 4080233
ذرا سوچئے
وقت لگے گا ۔۔۔۔۔۔ جوان۔۔۔۔۔۔۔ سب بہتر اور تمہارے حق میں ہوگا۔ لیکن شروع آج سے نہیں ابھی سے کرنا ہوگا۔۔۔۔۔ مگر کیسے ؟؟ میں بتاتا ہوں کیسے ۔۔۔۔۔۔۔ !
ہر بندہ بشر کی چاہت:
دیکھیں ۔۔۔۔۔۔ پُرسکون زندگی، معاشی استحکام اور لازوال کامیابی، عزت و نام ہر کوئی چاہتا ہے۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ اس کیلئے جو کرنا چاہئیے وہ سب نہیں کرتے ۔۔۔ کوئی کوئی کرتا ہے ۔۔۔۔ لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہے۔۔۔۔ ؟؟؟ ایسا اس لئے کہ ہم اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسئلوں سے ہی باہر نہیں نکلنا چاہتے یا نکلتے نہیں ہیں ۔۔ ہمیں اسی میں مزہ آتا ہے اپنے کمفرٹ زون میں رہنا اچھا لگتا ہے ۔۔۔ بلا ناغہ روزانہ گھریلو کھچ کھچ سنتے رہنا، وقت نہیں ملتا کا راگ آلاپنا۔۔ مہنگائی و نارسائی کا رونا، رونا ۔۔۔ مہینے سے پہلے پیسے ختم ہو جانا ۔۔۔۔ پانی بجلی، گیس، اسکول فیسیں، بل، گروسری میں ہی الجھے رہنا۔۔۔۔ان سب کے بعد سڑک کے کھڈے اور بے ہنگم ٹریفک دماغ کی ایسی دہی بناتے ہیں کہ ذہن کچھ بھی نیا کرنے کو تیار ہی نہیں ہے ۔۔۔۔
خود احتسابی کا عمل:
ضروری ہے کہ کچھ دیر کے لیے کہیں دور جاکر بیٹھیں کسی ساحل سمندر پر جائیں ۔۔۔۔ کسی بہتی ندی یا نہر کا ترنم سنیں، کسی پہاڑ کی چوٹی سے آسمانوں کو چھوئیں ۔۔۔ یا پھر خالی مسجد میں بیٹھ کر کچھ دیر کا مراقبہ کریں ۔۔۔ اور زندگی کی گہما گہمی کو سائیڈ پر رکھ کر صرف اپنے مقصد حیات پر غور کریں ۔۔۔ کہ مجھے کس لئے بنایا گیا تھا اور میں کرکیا رہا ہوں ۔۔۔ میری صلاحیتیں کہاں اور کن کاموں میں ضائع ہورہی ہیں ۔۔۔؟؟ مجھے کرنا کیا چاہئے تھا۔۔۔۔ کیا جو میں ابھی کررہا ہوں میں اس سے کلی طور پر مطمئن ہوں ۔۔۔ کیا یہی میرا مقصد حیات تھا ۔۔۔ میری سانسیں اسی لیے چل رہی ہیں ۔۔۔ اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ میری زندگی کا صرف ایک سال بچا ہے تو میں اس ایک سال میں کیا کیا کرونگا ۔۔۔۔ کیسے وہ ایک سال پورا پلان کروں گا کیسے گزاروں گا اس دوران جب کسی سے ملوں گا تو میرا رویہ اور انداز کیسا ہوگا ۔۔۔۔ کتنی نمازیں چھوڑوں گا اور کتنی پڑھوں گا ۔۔۔؟؟ نیکی و بھلائی کے کون کون سے امور سر انجام دوں گا ، کون کون سی برائیاں و غلط کاریاں چھوڑوں گا ؟؟ بیوی بچوں، بھائی بہنوں، والدین دوست احباب اور پڑوسی سے کیسا برتاؤ کروں گا ۔۔۔ عبادت میں کتنا وقت لگاؤں گا اور دنیا کمانے میں کتنا صرف کروں گا۔۔۔ ؟؟ اور جو بھی کماؤں گا اسے کتنا اور کیسے خرچ کروں گا اور کتنا بچاؤں گا ۔۔۔ تاکہ میرے بعد میری فیملی کے کام آسکے ۔۔۔۔۔۔ اور اپنے معاملات میں کتنا رسک لوں گا ۔۔۔ اپنے کام کو کرنے کیلیے ۔۔۔ کس حد تک جاوں گا۔۔۔ ہم ناں۔۔۔۔۔۔ اپنی ساری پلاننگ اور موٹیویشن میں سب کچھ کرتے ہیں سوائے اپنے مرنے کی پلاننگ کرنے کے ۔۔۔۔ اس لئے ہماری موٹیویشن چار دن سے زیادہ نہیں چل پاتی ۔۔۔ اور چار دن وہی کررہے ہوتے ہیں جو عرصہ بیس سالوں سے کرتے آئے ہیں ۔۔۔ وقت برباد اور رونا دھونا۔۔۔ بقول شاعر: پرانی چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی وہ اب بھی ہے اس بار ذرا اپنی مرنے کی پلاننگ کے ساتھ اپنے کاروبار کی پلاننگ کرکے دیکھئے ۔۔۔۔ ویسے تو ہماری سانس کے اگلے پل کا پتہ نہیں ۔۔۔ پھر بھی اتنی غفلت میں زندگی گزرتی ہے کہ الامان و الحفیظ۔۔۔ شیطان نے ہمیں کتنا مطمئن رکھا ہوا ہے ۔۔۔۔؟؟ خیر۔۔۔۔۔ اگر آپ کو یقین نا آرہا ہو کہ میری زندگی کا صرف ایک سال بچا ہے تو میرے پاس آئیے آپ کے ڈیتھ سرٹیفکیٹ سے لے کر قبر کی بکنگ تک سب کروادوں گا ۔۔۔ اور ساتھ میں کفن، عنبر کی خوشبو اور کان اور ناک کیلئے تھوڑی سی روئی بھی تحفہ میں دوں گا کہ لے جاکر سامنے شوکیس میں سجا دینا۔ آتے جاتے یاد دہانی رہے گی ۔۔۔ بندے کے پتر بن کر کام پر فوکس کروگے ۔۔۔۔ اللہ کے بندے۔۔۔۔۔۔ ! زندگی تھوڑی سی ہے اپنے کام میں سنجیدہ ہوجاؤ اور اپنی صلاحیتوں سے خلق خدا کو فایدہ پہنچانا شروع کردو۔ یہی دنیا اور آخرت دونوں جگہ کام آئے گا۔۔۔۔۔ اور تمہارے سارے مسئلوں کا حل بھی اسی میں ہے ۔۔۔۔ اب موبائل سائیڈ پر رکھو ۔۔۔۔ کاپی پنسل اٹھاؤ ۔۔۔۔ اور اپنا یہ سال پلان کرنا شروع کرو۔۔۔۔ خاص طور سے اپنی ذاتی زندگی، اپنی فیملی، اپنا ذریعہ معاش اور اپنے خدا سے باتوں کے اوقات کو صحیح سے پلان کرو۔۔۔۔ اور ایک سال تک پابندی سے بلا ناغہ اس پلان پر عمل کرو۔۔۔ ان شاء اللہ سو فیصد کامیابی ملے گی ۔۔۔ اب اس تحریر کی پہلی دو لائنیں پڑھ لو۔۔۔۔۔ پتہ سب کو ہوتا ہے بس یاد دہانی کی ضرورت پڑتی رہی ہے ۔۔۔ اس بار کی تحریر آپ کیلئے نہیں میرے اپنے لئے ہے ۔۔ رب راکھا

کالم نگار : خانزادہ عبد الرحمن یوسفزئی ڈائریکٹر مریم ڈیلویپمنٹ سینٹ
| | |
362