(+92) 321 2533925
کشمکش ایمان و عقل
بعض لوگ اپنی مذہب بیزاری کو اس بہانے سے جواز دیتے ہیں کہ ایمان باللہ کا مسئلہ عقلی دلائل پر مبنی نہیں ہے جو ان کے "ذہین" دماغوں کو قائل کر سکے۔ ان کے مطابق ایمان محض خرافات، توہمات اور قدیم لوگوں کی کہانیاں ہیں، جنہیں انسانی عقل نے ارتقائی طور پر قبول کر لیا ہے۔ جبکہ ان کے نزدیک الحاد ایک فطری نتیجہ ہے جس تک عقل تب پہنچتی ہے جب وہ مذہبی پابندیوں اور روایتی تسلط سے آزاد ہو جائے۔
احوالِ حقیقت:
حقیقت ان کے دعوے کے بالکل برعکس ہے۔ الحاد ایسی سوچ کا نام ہے جس کو عقل سے کوئی سروکار نہیں، خاص طور پر مسلم ممالک میں جہاں الحاد کی ابتدا ہو رہی ہے، بلکہ کچھ ضمیر فروش تاجر اسے یہاں منتقل کر رہے ہیں جیسے خراب مال اسمگلنگ کے ذریعے لایا جاتا ہے۔ انہوں نے عقلی پیمانوں میں جانچے بغیر اسے مغرب سے منتقل کر شروع کر دیا ہے۔ چونکہ یہ مغرب کا پروڈکٹ ہے تو ان کی نظر میں تنقید اور عقل کے استعمال سے محفوظ سمجھا گیا ہے۔
اصل مسئلہ کیا ہے ؟
بطور ایک مؤمن میرا ماننا ہے کہ مسئلہ دلائل کی عدم موجودگی یا ان کی کمزوری میں نہیں، بلکہ ان لوگوں کی عقل اور دلوں میں ہے۔ اللہ پر ایمان سمجھ کر دلائل سے قائل ہونے کا نام ہے، تقلید کا نہیں۔ اسی لیے بعض اسلامی فکری مکاتبِ فکر نے مقلد کا ایمان درست نہیں مانا، کیونکہ ان کے نزدیک صحیح ایمان لازمی طور پر ایسے عقلی دلائل پر مبنی ہونا چاہیے جن سے دل کو اطمینان حاصل ہو۔ اگر یہ تفصیل کے ساتھ نہ ہو تو کم از کم اجمالی طور پر ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص صرف اس لیے ایمان لاتا ہے کہ لوگ مؤمن ہیں یا اس کے والدین مؤمن ہیں، اللہ ایسے ایمان کو قبول نہیں کرتا، جب تک وہ خود غور و فکر کرنے اور تحقیق کرنے کے قابل ہو۔ قرآن کریم نے ان لوگوں پر تنقید کی ہے جنہوں نے شرک کو صرف اس لیے اختیار کیا کہ انہوں نے اسے اپنے آباؤ اجداد سے وراثت میں پایا، بغیر اس کے کہ وہ اس موروثی عقیدے کو عقل کی کسوٹی پر پرکھیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اس کی پیروی کرو جو اللہ نے نازل کیا ہے، تو وہ کہتے ہیں، بلکہ ہم اس کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو پایا ہے۔ اگرچہ ان کے آباؤ اجداد نہ کچھ سمجھتے ہوں اور نہ ہی ہدایت یافتہ ہوں؟" (سورۃ البقرہ: 170) ہم صرف اس لیے مؤمن نہیں ہیں کہ ہم پیدا ہی مؤمن گھرانے میں ہوئے یا جغرافیائی حالات نے ہمیں اس پر مجبور کیا۔ ہاں! یہ سچ ہے کہ مقام اور موروثی عقائد ہمیں ایمان کی حقیقت تک پہنچنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، لیکن یہ اس حقیقت کو رد نہیں کرتا کہ ہم نے بلوغت اور پختگی کے بعد مکمل اطمینان کے ساتھ ایمان اور اسلام کو اختیار کیا۔ غور و فکر، تحقیق اور عقل کے استعمال کے بعد ہی ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اللہ موجود ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم،اللہ کے رسول ہیں اور قرآن اللہ کا کلام ہے۔ ہر مسلمان شاید ان عقلی دلائل کا اظہار نہ کر سکے جن پر اس نے اپنا ایمان قائم کیا ہے یہ ایک الگ مسئلہ ہے۔ ہر شخص جو کسی چیز کو محسوس کرتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ اس کا اظہار بھی کر سکے۔ بات کرنا ہی وہ واحد ذریعہ نہیں ہے جس سے مسلمان اپنے ایمان کا اظہار کرتا ہے۔ تاہم اس کا ایمان لازمی طور پر ان عقلی دلائل پر مبنی ہونا چاہیے جنہوں نے اسے اس کے انتخاب پر اطمینان دلایا، اور اللہ تعالیٰ ایسا ایمان صرف قبول کرتا ہے۔
ایمان کے عقلی دلائل کی ضرورت:
اب رہی یہ بات کہ مسلمان ہمیشہ اپنے ایمان کے لیے عقلی دلائل پیش نہیں کرتے، اس کا ہرگز مطلب یہ نہیں کہ ان کے پاس دلائل نہیں ہیں، یا ان کے دلائل کمزور ہیں۔ دراصل ان سے یہ توقع ہی نہیں کی جاتی کہ وہ اپنے ایمان کے لیے عقلی ثبوت کسی ایسے انسان کے سامنے پیش کرے جو خود ان کو نہ نفع پہنچا سکتا ہے نہ نقصان۔ مؤمن کے نزدیک اس کے ایمان کی صداقت پر دلائل مانگنے کا حق صرف اس کے رب کو ہے جس پر یہ ایمان لایا ہے۔ اور یہ دلائل محض بے فائدہ بحث یا جھگڑا نہیں ہیں، بلکہ وہ اعمال اور قربانیاں ہیں جن میں اہل ایمان اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے سبقت لے جاتے ہیں۔ جہاں تک بات ہے ان لوگوں کی جو بحث اور جھگڑے کو اپنا مقصد بناتے ہیں، تو ایسی باتوں کے شیخی بازوں کا انجام معلوم ہے۔ زبان کی فصاحت اور بحث کے فن پر مہارت انسان کی حقیقت کو نہیں بدل سکتے، اور اگر ایمان انسان کو گرا دے تو زبان اسے بلند نہیں کر سکتی۔ جو شخص اپنی قدر کو ان الفاظ میں دیکھتا ہے جو وہ بولتا ہے، یا ان سطروں میں جو وہ لکھتا ہے، مگر اپنے اللہ سے تعلق کو نظرانداز کرتا ہے، تو وہ راہِ حق سے بھٹک گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو اللہ کے بارے میں علم کے بغیر، ہدایت کے بغیر، اور روشن کتاب کے بغیر جھگڑا کرتے ہیں، اپنی گردن کو تکبر سے موڑ کر تاکہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے بھٹکائیں۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے، اور ہم انہیں قیامت کے دن جلانے والے عذاب کا مزا چکھائیں گے۔" (سورۃ الحج: 8-9)
اسلام تعمیری بحث کا حامی ہے:
اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسلام مکالمہ اور تعمیری بحث یا عقل کو معاملات کی جانچ پڑتال میں استعمال کرنے کے خلاف ہے۔ قرآن کریم نے شرک کے دعوؤں کو عقل سے رد کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ اللہ کے نبی حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عقل اور منطق کا استعمال کرتے ہوئے اپنی قوم کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ اللہ کے سوا جن کی وہ عبادت کرتے ہیں وہ عبادت کے لائق نہیں ہیں ۔ جب انہوں نے بتوں کو توڑ ڈالا، تو ان کی قوم نے پوچھا: "کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے، اے ابراہیم؟" حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جواب دیا: "نہیں، یہ کام ان کے بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ بولتے ہیں تو ان سے پوچھ لو۔" پھر وہ اپنے آپ سے کہتے ہیں: "تم ہی ظالم ہو!" پھر وہ اپنی گردنیں جھکاتے ہوئے کہنے لگے: "تمہیں یقیناً معلوم ہے کہ یہ بت نہیں بول سکتے!" حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: "تو کیا تم اللہ کے سوا ان کی عبادت کرتے ہو جو نہ تمہیں فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان؟" (سورۃ الأنبیاء: 62-66) یہ اسلوب قرآن میں متعدد بار آیا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دیگر پیغمبروں کی دعوت میں ایمان کے مسائل پر عقل کے استعمال کا طریقہ اختیار کیا گیاہے۔ اس سیاق وسباق میں ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کریم نے ایسے متعدد الفاظ اور جملے استعمال کیے ہیں جو انسانی عقل کو اس بات پر آمادہ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کائنات میں پھیلائی گئی نشانیوں پر غور وفکر کرے، اور جو آیات اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں پر نازل کی ہیں، ان پر بھی تفکر و تدبر کرے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے بیشمار مقامات پر فرمایاہے: "اگر تم عقل رکھتے ہو..." "کیا وہ نہیں دیکھتے؟" "کہو، دیکھو!" "اور وہ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں..." "کہو، اگر تم سچے ہو تو اپنا برہان لاؤ..." "سو تم عبرت حاصل کرو، اے عقل والو!" وغیرہ، اور اس طرح کی بہت سی آیات قرآن کریم میں ہیں۔ یہ سب اس بات کی دلیل ہیں کہ ایمان محض تقلید محض یا جمود مسلسل کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ غور و فکر، تحقیق و تطبیق اور عقل و تدبر کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔
ایک اہم سوال:
ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایمان عقل اور فکر کے استعمال کا لازمی نتیجہ ہے تو پھر اتنی بڑی تعداد میں لوگ کیوں ایمان تک نہیں پہنچے؟ کیا غیر مؤمنین کی عقل میں کمی ہے؟ یا ایمان کے دلائل کمزور ہیں؟ سادہ سے الفاظ میں اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ ایمان عقل اور فکر کے استعمال کا لازمی نتیجہ ہے، لیکن یہ اللہ تعالیٰ کی عطا بھی ہے، اور یہ ایک امتحان اور آزمائش بھی ہے، جس پر اللہ تعالیٰ نے جنت کی کامیابی اور دوزخ سے نجات کا دارومدار رکھا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی مرضی نے انسان کے لیے دو راستے کھولے ہیں، اور اسے دونوں راستوں کی ہدایت دی ہے، اور اس کو آزادی دی ہے کہ وہ شکر گزار ہو یا ناشکرا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اگر تمہارا رب چاہتا تو زمین میں جو بھی ہے، وہ سب کے سب ایمان لے آتے۔" (سورۃ یونس: 99) "اگر ہم چاہیں تو آسمان سے ان پر کوئی نشانی نازل کریں، اور پھر وہ اس کے سامنے جھک کر سرنگوں ہو جائیں۔" (سورۃ الشعراء: 4) لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان پر کرم کیا اور چاہا کہ وہ بغیر جبر کے خود اپنی مرضی سے اس کی طرف آئے، تو مؤمنین نے اپنی مرضی سے اللہ تعالیٰ کی طرف رخ کیا، اور کافروں نے بھی اپنی مرضی سے اس سے منہ موڑ لیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "تاکہ ہلاک ہونے والا ہلاک ہو واضح دلیل کے ساتھ، اور زندہ رہنے والا زندہ رہے واضح دلیل کے ساتھ۔" (سورۃ الأنفال: 42) چونکہ ایمان ایک امتحان اور آزمائش ہے اس لیے انسان (جسے اللہ نے آزمانا چاہا) کے سامنے اس امتحان کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے کئی امکانات ہونے چاہئیں، ورنہ امتحان کی حقیقت ختم ہو جائے گی۔ اس میں شبہات و وجوہات اور چالبازیوں کا امکان ہونا ضروری ہے۔ انسان کو کبھی کبھار صحیح جواب منتخب کرنے میں مشکل پیش آ سکتی ہے۔ سوالات آپس میں گڈمڈ ہو سکتے ہیں، اور غلط جواب دینے والوں کی تعداد درست جواب دینے والوں سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے۔ یہ ایمان کا امتحان ہے جو انسان کی زندگی کا سب سے اہم امتحان ہے اور جو کامیابی چاہتا ہے اسے سر توڑ کوشش اور بہترین تیاری کی ضرورت ہے۔ مذکورہ بالا سوال پر عقلی دلائل سے ایک سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ کیا حقیقت میں غیر مؤمنین کی عقلیں اور دل ایمان کے مسئلے پر سچائی سے غور کرنے کے لیے تیار ہیں؟ یقیناً کچھ موانع یعنی رکاوٹیں ہیں اگر انسان کو ان کا سامنا ہو تو وہ کبھی بھی ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا، چاہے دلائل کتنے ہی مضبوط ہوں اور چاہے فطرت کتنی ہی سچی لگن سے ہی پکارے۔ انسان اس حقیقت کے قریب جا سکتا ہے اور حقیقت اس سے اتنی قریب ہو سکتی ہے جیسے اس کے جوتے کا تسمہ، لیکن پھر بھی وہ اسے نہیں دیکھے گا اور نہ ہی اس تک پہنچے گا جب تک کہ رکاوٹوں کی دھول اس کے دل پر چھائی ہوئی ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اللہ ایسی قوم کو ہدایت کیسے دے جو ایمان کے بعد کافر ہو گئے، اور گواہی دی کہ رسول حق ہیں، اور ان کے پاس واضح نشانیاں آ چکیں؟ اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔" (سورۃ آل عمران: 86) ایمان کا مقصد یہ نہیں کہ وہ جبر سے ان دلوں میں بس جائے جو اسے مسترد کرتے ہیں، اور نہ ہی اسلام کی روشنی کا یہ مقصد ہے کہ وہ ان لوگوں کے راستوں کو روشن کرے جو اندھیروں کو پسند کرتے ہیں۔ جو شخص ہدایت چاہتا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کے راستوں پر چلنا شروع کرے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: "اور جو لوگ ہماری راہ میں کوشش کرتے ہیں، ہم انہیں اپنی راہیں ضرور دکھا دیں گے، اور بے شک اللہ نیکوکاروں کے ساتھ ہے۔" (سورۃ العنكبوت: 69)
خلاصہ کلام
یہ ہے کہ سائنسدانوں کے مطابق انسان زمین پر کم و بیش تین لاکھ سال سے تشریف فرما ہے۔ نالائقی کا لیول دیکھئے کہ تاریخ یہ اپنی صرف پانچ ہزار سال کی ہی محفوظ رکھ پایاہے، جو اس کی کل عمر کا بمشکل ڈیڑھ فیصد ہے۔ اس معلوم تاریخ میں بھی اس کا خدا بننے کا شوق فرعون کی صورت آج سے 3200 سال قبل واضح دیکھا جاسکتا ہے۔ اور یہ پہلی و آخری کوشش نہ تھی۔ بار بار کی اس ناکام کوشش کے بعد اب حالیہ تاریخ میں اس نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جب یہ خدا نہیں بن سکتا تو کم از کم موجود خدا کا ہی انکار کردے۔ "الحاد" درحقیقت اس کی شکست کا اعلان ہے۔

کالم نگار : مفتی سید فصیح اللہ شاہ
| | |
426     1