(+92) 319 4080233
حسن اخلاق کی اہمیت و ضرورت
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کی رہنمائی کیے بغیر کوئی بھلائی نہیں چھوڑی اور اپنی قوم کو خبردار کیے بغیر کسی برائی کو نہیں چھوڑا ہر شے سے آگاہی فراہم کی کہ منصب رسالت کا تقاضا تھا۔ بُرا کردار ایک کرپٹ کردار ہے جس کی پہچان برائی سے ہوتی ہے۔ قانونی اور اخلاقی فرائض سے مطابقت نہیں رکھتی، اور یہ ایک قابلِ مذمت عمل اور ناروا سلوک ہے جو اکثر دل کی بیماری کا نتیجہ ہوتا ہے۔
ابن قیم رحمہ اللہ نے فرمایا:
تمام بنیادی اخلاقیات کی اساس چار چیزوں پر منحصر ہے: جہالت، نا انصافی، ہوس اور غصہ۔ 1۔ جہالت اچھائی کو بدصورت شکل میں دیکھتی ہے اور بدصورتی کو اچھائی کی صورت میں۔ یہاں کاملیت نا مکمل اور نامکمل ہونا کمال دکھائی دیتا ہے۔ 2۔ بے انصافی کسی چیز کو اس کے مناسب مقام کے علاوہ کسی اور جگہ پر رکھ دیتی ہے تو وہ قناعت کی جگہ ناراض ہوتا ہے۔ 3۔ غصہ ایک شدید جذباتی ردعمل ہے جو مختلف وجوہات کی بنا پر پیدا ہوتا ہے۔ غصے کی جگہ قناعت کرنا، صبر کی جگہ جاہل ہونا، سخاوت کی جگہ بخل کرنا، بخل کے مقام پر عطا کرنا، سختی کے مقام پر نرم ہونا اور نرمی کے مقام پر سخت ہونا، بڑائی کے مقام پر عاجزی اور انکساری کے مقام پر متکبر ہونا۔ 4۔ ہوس یہ ایک ایسی حالت ہے جو اکثر حد سے بڑھ جاتی ہے اور انسان کو کنٹرول سے باہر کر سکتی ہے۔ یہ اسے لالچی،کنجوس، بدتمیز،ذلیل بے بنیاد بنا دیتی ہے اور یہ اکثر غصہ تکبر، نفرت، حسد، جارحیت اور حماقت کا باعث بنتی ہے۔ جس طرح اچھے اخلاق ایک دوسرے سے محبت پیدا کرتے ہیں اسی طرح برے اخلاق ایک دوسرے سے نفرت پیدا کرتے ہیں۔ اگر شرعی قوانین پر عمل کرنے، اچھے اخلاق کی تربیت اور ان پر ثابت قدم رہنے سے بد اخلاقی اچھے اخلاق میں بدل سکتی ہے تو اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ نیز آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اچھا اخلاق ایمان ہے اور بد کردار نفاق ہے۔
بد اخلاقی زہر قاتل:
چنانچہ بد اخلاقی کو بیان کرتے ہوئے ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بخل اور بد اخلاقی جیسی خصلتیں کسی مومن میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ بد اخلاق کو اپنے سے دور رہنے کی وعید سناتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ : بے شک دنیا میں تم میں سے مجھے زیادہ پسند و محبوب اور روزِ قیامت میرے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا جو تم میں سے زیادہ بااخلاق ہو گا، اور تم میں سے دنیا میں مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور روزِ قیامت مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہو گا جو تم میں سے بد اخلاق ہوگا۔ بہت باتیں کرنے والے، زبان دراز اور گلا پھاڑ کر باتیں کرنے والے اسی قبیل کے لوگ ہیں۔ برے کردار کا تذکرہ ہر معاشرے میں بدصورتی کے ساتھ کیا جاتا ہے، دنیا کے ہر طبقہ اور اہل عقل لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں۔ اسلاف اور علماء نے بد اخلاق اور برے کردار والے شخص کے ساتھ صحبت اپنانے سے خبردار کیا ہے۔ فضیل بن عیاض رحمۃ اللّٰہ علیہ نے فرمایا کہ : برے لوگوں کی صحبت اختیار نہ کرو، کیونکہ وہ صرف برائی کی دعوت دیتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مجھے بد اخلاق بندے کے بجائے اچھے اخلاق والے کے ساتھ رہنا زیادہ محبوب ہے۔ حسن رحمۃ اللّٰہ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ : جس کا اخلاق خراب ہے وہ اپنے آپ کو اذیت میں ڈال دیتا ہے۔
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے فرماتے ہیں:
بد اخلاقی مہلک زہر ہے، تباہ کن بربادیاں، ذلت والی رسوائیاں، صریح برائیاں اور یہ خبیث چیزیں ہیں جو انہیں رب العالمین کی بارگاہ سے دور رکھتی ہیں۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ بد اخلاقی دل اور روح کی بیماریاں ہیں، یہ ایسی بیماریاں ہیں جن میں مبتلا شخص ہمیشہ کی زندگی سے محروم ہو جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : ایک مسلمان کو چاہیے کہ وہ لوگوں کے ساتھ گھل مل جائے، وہ جس چیز کو بھی لوگوں میں قابلِ ملامت دیکھے، اس سے اپنے آپ کو خبردار کرے اور اس سے دور رہے، مومن مومن کا آئینہ ہے۔ دوسروں کے عیبوں کو اپنا عیب سمجھتا ہے، اور جانتا ہے کہ خواہشات کی پیروی میں فطرتیں ملتی جلتی ہیں۔ ایک ہم عمر کی جو بھی خصوصیت ہے، دوسرا ہم مرتبہ اپنی اصل سے یا اس سے بڑا یا اس کی کسی چیز سے کبھی نہیں رکے گا، لہٰذا اسے چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو دیکھے اور اسے ہر اس چیز سے پاک کرے جس سے وہ دوسروں کی تذلیل کرتا ہے، اسے نظم و ضبط کے طور پر بیان نہ کرے۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنتی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی اچھی تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو، اور جہنمی وہ ہے جس کے کان اللہ تعالیٰ لوگوں کی بری تعریف سے بھر دے، اور وہ اسے سنتا ہو۔ بلکہ ایک برا کردار اپنے آپ پر ذہنی کوفت، رنج، پریشانی اور مصیبت مسلط کرتا ہے اور دوسروں کے لیے مصیبت لاتا ہے۔ بد اخلاق آدمی اپنی زبان کی وجہ سے لوگوں میں سب سے زیادہ برا سمجھا جاتا ہے، اس پر مصیبت آتی ہے اسے کے کیے کی وجہ سے، اس کے گھر والے اس سے نفرت کرتے ہیں۔
آخری بات !
بری عادات زہر قاتل اور مہلک ہیں یہی خصلتیں وہ خباثتیں ہیں جو رب العالمین کے قرب سے دور کرتی ہیں اور بد اخلاق آدمی کو شیطانوں کے گروہ میں داخل کرتی ہیں یہی وہ دروازے ہیں جو اللہ تعالی کی جلائی ہوئی آگ کی طرف کھلتے ہیں جو دلوں پر چڑھتی ہے۔ برے اخلاق دلوں کی بیماریاں ہیں جن سے اپنی زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ بداخلاقی بہت بری صفت ہے اور دنیا و آخرت میں تباہی و بربادی کا سبب ہے۔ لہٰذا میرے عزیز!! اپنے آپ کو بد اخلاقی سے دور رکھیں اور برے اخلاق سے بچیں اور شروع ہی سے اس کا علاج کریں۔ یہ آپ کے لیے آسانیاں پیدا کر دے گا۔ ورنہ اگر بداخلاقی نے زور پکڑ لیا تو برے اخلاق والے کو تباہ کر سکتا ہے۔

کالم نگار : عبد الجبار سلہری; اسلامک رائیٹرز موومنٹ پاکستان
| | |
4658     2