خواب شریعت کا حصہ ہے۔امتی کے لیے خواب کی حیثیت مبشرات کی سی ہے،انبیائےکرام علیہم السلام کا خواب وحی ہوتا تھا۔آپ ﷺ پر وحی کی ابتدا سچے خوابوں سے ہوئی تھی یعنی شریعت میں خواب ہے۔خواب میں تمیز ،صحیح غلط کی پہچان اس میدان کے ماہرین کا کام ہے۔بہت سے لوگ بلاسوچے سمجھے خوابوں کا انکار کردیتے ہیں،یہ گمراہی ہے ۔اشاعرہ نے خواب کو عقائد میں شمار کیاہے۔
بعض احباب کا خیال یہ ہے کہ سلسلہ نقشبندیہ شاذلیہ فقط خوابوں پر چلتاہے،یہ غلط ہے،ہم دین پر چلتے ہیں اور دین میں خواب بھی ہیں اور نبی اکرم ﷺ کامعمول تھاکہ فجرکی نماز کے بعد خواب کے بارے میں پوچھتے اور تعبیر دیتے تھے۔جیساکہ حدیث میں آیاہے:
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ أَقْبَلَ عَلَيْهِمْ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ اللَّيْلَةَ رُؤْيَا؟
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 7017، صحیح مسلم: حدیث نمبر 2264)
ترجمہ:
" حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ جب فجر کی نماز سے فارغ ہوتے تو صحابہ کرامؓ کی طرف متوجہ ہوکر پوچھتے: کیا تم میں سے کسی نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے؟"
سچوں کے خواب سچے ہوتے ہیں۔صحابہ کرام ؓ سچے تھے اُن کے خواب بھی سچے ہوتے تھے۔وہ حضرات تعبیر کو بھی جانتے تھے۔ہمارے ہاں تعبیرات کا علم اکثر علمائے کرام بھی نہیں جانتے،حالانکہ انبیائے کرام کے وارثوں کو خواب کی تعبیرات آنی چاہیے۔
فن تعبیر کی رہنمائی:
کتابیں دیکھ دیکھ کر گمان کی بنیاد پر تعبیرات دینا اچھی بات نہیں ہے۔جس کو تعبیر کا فن سیکھنا ہو وہ یہ عمل کرے،اس کی برکت سے اسے تعبیرات پر کچھ نہ کچھ مہارت حاصل ہوجائےگی۔وہ عمل یہ ہے:
سترہزار مرتبہ کلمہ طیبہ اور تین مرتبہ سورۂ اخلاص پڑھ کر اسے ابن سیرینؒ کوایصالِ ثواب کرے اس کے بعد علامہ ابنِ سیرینؒ کی کتاب ’’تعبیرالرؤیا‘‘کامطالعہ شروع کرے تو اُسے تعبیر کے فن میں رفتہ رفتہ مہارت حاصل ہوجائے گی۔ کمال کے لیے کسی کامل اور متبع سنت مرشد کی نگرانی میں چلہ کشی اور ریاضات کرنا بھی ضروری ہے ۔اس عمل کی برکت سے اتنا علم حاصل ہوجائے گا کہ خواب کو سمجھ جاؤگے۔
تعبیرات کا فن انتہائی دقیق اور باریک ہے۔بہت سے ڈراؤنے اور خوف ناک خوابوں کی تعبیرات بڑی اچھی ہوتی ہیں۔
ہارون الرشید کی اہلیہ کا خواب:
جیساکہ خلیفہ ہارون الرشید کی بیوی زبیدہ نے ایک خواب میں دیکھا جو بظاہر اچھا نہ تھا‘ جبکہ زبیدہ بڑی عابدہ‘ زاہدہ‘ نیک اور اللہ کی والی خاتون تھی‘ اس نے دیکھا کہ میں ایک چوراہے پر ہوں اور جو شخص آرہا ہے‘ مجھ سے زناکا ارتکاب کرکے جا رہا ہے‘ ایک عابدہ زاہدہ خاتون کے لیےایسا خواب نظر آنا بڑا تکلیف دہ ہوتا ہے‘
چنانچہ جونہی اس نے یہ خواب دیکھا تو سخت پریشان ہوئی اور اپنی خادمہ کو کہا کہ تم میرا نام لیے بغیر اس خواب کو اپنی طرف منسوب کرکے وقت کے مایہ ناز معبر علامہ ابن سیرین سے اس کی تعبیر پوچھو‘ زبیدہ نے اپنا نام بتانے سے اس لیے منع کیا کہ نامعلوم اس قسم کے خواب کی کیا تعبیر ہو جو رسوائی کا سبب بن جائے۔خادمہ حکم کے مطابق علامہ ابن سیرین کے پاس پہنچی اور عرض کیا کہ حضرت! میں نے اس قسم کا خواب دیکھا ہے‘
اس کی کیا تعبیر ہے؟ علامہ ابن سیرین نے جب خواب سنا تو فوراً فرمایا یہ تمہارا خواب نہیں ہو سکتا‘ ایسا خواب ہر کس و ناکس نہیں دیکھ سکتا‘ یہ تو کسی خوش نصیب شخص کا خواب ہے‘ پہلے سچ سچ بتاکہ کس کا خواب ہے‘ پھر تعبیر بتاؤں گا‘ خادمہ نے کہا کہ حضرت! جس کا یہ خواب ہے‘ اس نے نام بتانے سے منع کیا ہے‘ علامہ ابن سیرین نے فرمایا کہ پہلے اس سے اجازت لو، ورنہ میں خواب کی تعبیر نہیں بتاؤں گا۔
خادمہ زبیدہ کے پاس واپس آئی اور پوری بات نقل کی کہ ابن سیرین فرماتے ہیں کہ پہلے جس کا خواب ہے اس کا نام بتاؤ‘ پھر تعبیر بتاؤں گا‘ زبیدہ نے خادمہ سے کہا اچھا جا کر میرا نام بتا دو کہ زبیدہ نے یہ خواب دیکھا ہے‘ خادمہ دوبارہ علامہ ابن سیرین کے پاس پہنچی اور عرض کیا کہ یہ خواب زبیدہ نے دیکھا ہے‘ انہوں نے فرمایا کہ میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ یہ کوئی عام خواب نہیں‘ یہ کسی خوش قسمت کا خواب ہی ہو سکتا ہے
اور پھر یہ تعبیر دی کہ اللہ تعالیٰ ملکہ کے ہاتھ سے ایسا صدقہ جاریہ قائم فرما دیں گے جس سے رہتی دنیا تک لوگوں کو فائدہ پہنچے گا‘ خادمہ نے زبیدہ کو جا کر جب خواب کی تعبیر بتائی تو زبیدہ نے فوراً اللہ کا شکر ادا کیا کہ بظاہر خواب تو بڑا عجیب تھا، لیکن تعبیر بہت اچھی پائی۔پھر چند سالوں کے بعد ہارون الرشید نے جب حج پر جانے کا ارادہ کیا تو ملکہ زبیدہ بھی ساتھ تھی
‘ آج سے تقریباً بارہ تیرہ سو سال پہلے ہارون رشید کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں پانی کی بے حد تنگی تھی اور حاجیوں کو پانی کی دستیابی میں خاصی مشقت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ جب ہارون الرشید اور ملکہ زبیدہ مکہ مکرمہ پہنچے تو وہاں کے لوگوں نے ملکہ زبیدہ کے نرم دل ہونے کی وجہ سے ہارون الرشید کے بجائے ملکہ زبیدہ سے درخواست کی کہ مکہ مکرمہ میں پانی کی بہت تکلیف ہے‘ اگر آپ مناسب سمجھیں تو یہاں بآسانی پانی ملنے کا کوئی انتظام کر دیں
‘ ملکہ زبیدہ یہ بات سمجھ گئی کہ یہ بہت اہم جگہ ہے جہاں دوسرے ملکوں سے بھی لوگ آتے رہتے ہیں‘ ان کو پانی کی قلت کا سامنا ہے‘ لہٰذا ان کی یہ تکلیف کسی بھی طرح دور ہونی چاہیے۔زبیدہ نے ہارون الرشید سے پہلے اجازت چاہی جو اس کو جلد ہی مل گئی‘ اس وقت اسلام اپنے شباب پر تھا‘ کافر طاقتیں مسلمانوں کے زیر نگیں تھیں‘ مسلمان دنیا کے اندر غالب تھے اور ان کا ڈنکا بج رہا تھا
‘ اس وقت ہر فن کے بڑے بڑے ماہرین مسلمانوں کے اندر موجود تھے‘ ملکہ زبیدہ نے پوری سلطنت کے اندر یہ اعلان کروا دیا کہ جہاں جہاں کوئی ماہر انجینئر ہیں‘ وہ سب مکہ مکرمہ آجائیں‘ اعلان ہوتے ہی تمام بڑے بڑے شہروں کے ماہرین جمع ہو گئے اور ماہرین کی ایک بڑی جماعت وہاں حاضر ہو گئی‘ ملکہ زبیدہ نے ان سب کو بلا کر یہ کہا کہ مجھ مکہ مکرمہ کے کونے کونے اور گلی گلی میں پانی چاہیے‘ یہ کیسے آئے گا؟ اور کہاں سے آئے گا؟
یہ تمہارا کام ہے۔سارے کے سارے انجینئر سر جوڑ کر بیٹھ گئے‘ سب نے باہم مشورہ کرکے ایک نقشہ تیار کیا اور مکہ مکرمہ کے چاروں طرف نہر زبیدہ کا جال بچھا دیا‘ جہاں بھی کسی پہاڑی میں کوئی چشمہ جاری تھا‘ یا نالی کی شکل میں پانی بہتا تھا‘ ان سب کو نہر کے اندر شامل کر لیا گیا‘ تقریباً چودہ میل لمبی یہ نہر اس انداز سے تیار کی گئی کہ جگہ جگہ ایسے ٹینک بنائے گئے تاکہ اگر کوئی شہر کے باہر ہو تو ڈھکن اٹھا کر ان ذخیروں سے پانی حاصل کر سکے۔
جب نہر زبیدہ تیار ہو گئی تو وہ انجینئر جو اس پورے منصوبے کا ذمہ دار تھا‘ اس نے حساب کتاب کی فائل تیار کرکے بغداد حاضری دی اور ملکہ زبیدہ کے محل میں پہنچا‘ ملکہ زبیدہ اس وقت دریائے دجلہ کے کنارے تفریح کر رہی تھی‘ اس نے اطلاع دی کہ مکہ مکرمہ سے نہر زبیدہ کا حساب لے کر انجینئر حاضر ہوا ہے
‘ زبیدہ نے اسی وقت انجینئر کو طلب کر لیا‘ اس نے فائل پیش کی اور عرض کیا کہ ملکہ صاحبہ! یہ نہر زبیدہ کے منصوبے کی تکمیل کے حساب و کتاب کی فائل ہے‘ آپ نے جو حکم دیا تھا‘ وہ میں نے پورا کر دیا‘ مکہ مکرمہ کی گلی گلی اور کوچے کوچے میں پانی کا وافر انتظام کر دیا گیا ہے‘ اب مکہ مکرمہ کے رہنے والوں اور حج و عمرہ کے لئے آنے والوں کو انشاءاللہ کسی قسم کی پانی کی تکلیف نہیں ہو گی‘ یہ حساب آپ کے سامنے ہے
‘ آپ حساب لے لیجیے اور مجھے اجازت دیجیے۔زبیدہ نے وہ فائل لی‘ اس پر دستخط کیے اور اس کو درمیان میں چاک کرکے دریائے دجلہ میں ڈال دیا اور وہ مشہور جملہ کہا جو تاریخ میں آج بھی محفوظ ہے، بولیں:
"ہم نے آخرت کے حساب کے لیے اس کا حساب چھوڑ دیا۔‘‘
اور کہا کہ اگر ہماری طرف کوئی حساب نکلتا ہے تو لے لو‘ اور اگر ہمارا تمہاری طرف کچھ نکلتا ہے تو ہم نے معاف کیا۔
ملکہ زبیدہ بنت جعفر زوجہ خلیفہ ہارون الرشید عباسی کی بیوی نے جو نہر نکالی تھی وہ دریا دجلہ عراق سے نکال کر موجودہ سعودی عرب کے شہر رفہاء کے قریب سے گذرتی ہوئی مکہ مکرمہ اور میدان عرفات پہنچتی ہے جس کے آثار اب بھی موجود ہیں۔
اسی طرح بعض لوگ خواب دیکھتے ہیں کہ اپنی ہی بیٹیوں یاشیخ کے ساتھ ہم بستری کررہے ہیں، یہ خواب بظاہر اچھا نہیں لیکن اس کی تعبیر اچھی ہے کہ فائدہ یامنفعت پہنچے گی۔
اپنا خواب دوسرے پر لاگو کرنا:
جوخواب شریعت کے مطابق ہے وہ اس شخص کے لیے قابلِ عمل ہے،دوسروں کے لیے نہیں۔اپنے خواب کو دوسروں پر لاگو کرنا جائز نہیں ہے۔بہت سے لوگ آکر مجھے میرے بارے میں اپنے خواب بتاتے ہیں۔
میں انھیں کہتاہوں اپنا خواب اپنے پاس رکھو،جب اللہ چاہے گا مجھ پر منکشف فرمادے گا۔خواب احوال کے مطابق ہوتے ہیں۔جس کسی کاملتا جلتا خواب ہو اسے وہی تعبیر نہیں دی جاتی،جس طرح مفتیانِ کرام ہر مسئلے کی اچھی طرح تحقیق کرکے پر مستفتی کو اس کے حال کے مطابق فتویٰ دیتے ہیں۔غرضیکہ صاحبِ خواب کا خواب اسی کے لیے حجت ہے۔بے سوچے سمجھے خوابوں کاانکار کرنا گمراہی ہے۔
خواب میں زیارت نبوی:
نبی اکرم ﷺ کی زیارت کرنے والے کے خواب کو رد کرنا خطرناک عمل ہے۔ اسے بے سوچے سمجھے جھٹلانا نہیں چاہیے۔ حدیث میں ارشاد ہے:
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ رَآنِي فِي الْمَنَامِ فَقَدْ رَآنِي، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ لَا يَتَمَثَّلُ بِي
(صحیح بخاری: حدیث نمبر 6994، صحیح مسلم: حدیث نمبر 2266)
ترجمہ:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے خواب میں مجھے دیکھا تو اس نے مجھے ہی دیکھا، کیونکہ شیطان میری شکل میں نہیں آ سکتا۔
ایک نبی کاتذکرہ ہوا تو اس میں تمام انبیائے کرام علیہم السلام شامل ہوگئے کہ شیطان کسی نبی کی شکل میں نہیں آسکتا۔کسی نے ایسا خواب دیکھاہو تو اس کے بارے میں اچھا گمان رکھو، ہمیں تو یہی حکم ہے کہ ایمان والوں کے بارے میں اچھا گمان رکھناچاہیے۔خواب کی پہچان بھی ہونی چاہیے کہ یہ خواب حقیقی ہے یا تصوراتی۔صوفیائے کرام کہتے ہیں کہ جو شخص ہر وقت اور ہر معاملے میں نبی اکرم ﷺ کی زیارت کرے یہ اس کا تصور ہے،اس کی فکر کی قوت ہے،خواب نہیں۔بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں نبی اکرم ﷺ نے بتایاہے کہ آپ پر فلاں نے جادو کیاہے۔ہم کہتے ہیں کہ میاں یہ تمھاری عقل کا فتور ہے۔ نبی اکرم ﷺ پر جس نے جادو کیا آپ نے ان کو نہیں بتلایا تو تمھیں کیسے بتادیا؟؟ معلوم ہوا کہ یہ سراسر تمھارا وہم ہے۔
تعبیرات میں مہارت کے لیے ماہرین کی صحبت بھی ضروری ہے۔تاریخ میں تعبیرات کے چند ایک ماہرین کے نام ملتے ہیں۔اس علم کے ماہرین ہر دور میں بہت ہی کم رہے ہیں۔