(+92) 321 2533925
اہل علم کا میدان محنت
آپ کو بات پر غور کرنا ہو گا، آپ نے کبھی نہ کبھی کسی چھوٹے یا بڑے سے ضرور یہ کہا یا سُنا ہو گا کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے، یہ بھی کہ اسلام قیامت تک کے ہر انسان یعنی ساری دنیا کے لیے بھیجا گیا اللہ کا دین ہے۔ ان باتوں کا مطلب یہ بنتا ہے کہ اسلام کے پاس دنیا کے رُوحانی، سماجی، معاشی، سیاسی اور ہر قسمی انفرادی اور اجتماعی مسائل کا حل ہونا چاہیے، یہ مکمل ضابطہ حیات جو ہے۔ اب چونکہ بدقسمتی یا شاید خوش قسمتی سے ہم عُلماء کرام کو ہی اسلام کا نمائندہ سمجھتے ہیں تو دنیا کے رُوحانی، سماجی، معاشی، سیاسی اور ہر قسمی انفرادی اور اجتماعی مسائل کا حل بھی انہی کے پاس ہونا چاہیے۔
علماء دین کی عظمت:
ویسے انہیں اسلام کا نمائندہ کہہ کر بھی مجھے لگتا ہے کہ مجھ سے انکی عظمت کا حق ادا نہیں ہُوا کیونکہ انکے بارے میں تاثُر انکے مُجسم اسلام ہونے کا ہے۔ گویا اُصولاََ ان میں سے ہر ایک یا بیشتر کو ایسی صلاحیتوں اور علم و دانش کا حامل ہونا چاہیے کہ انسانیت انکی لیڈرشِپ میں ایسی گلوبل گورنینس وٹنیس کرے کہ اسلام کیپیٹل ازم اور کمیونیزم سمیت انسانی مسائل حل کرنے کے دعوے دار ہر ازم پر اپنی برتری کی عملی اتمامِ حُجت کر دے۔ میری نظر میں مقامِ محمود کی دنیاوی اصل یہی ہو گی۔ لیکن اگر دینی عالم دنیا کے رُوحانی، سماجی، معاشی، سیاسی اور ہر قسمی انفرادی اور اجتماعی مسائل کا ہُومین اور قابلِ عمل حل پیش نہیں کر پا رہا تو اسکا ایک ہی مطلب ہے اور وہ یہ کہ اُسے پھر سے دین سیکھنا ہو گا۔ بظاہر ایک عالم تو بچپن سے قبر تک دین سیکھتا سکھاتا نظر آتا ہے پھر بھی لیکن اگر وہ اپنے عمل اور کاوشوں کے ذریعے دین کو مکمل ضابطہ حیات ثابت کرنے سے معذور ہے یا ایسی ٹیم تیار نہیں کر پاتا جو زندگی کے ہر ایریا سے متعلق دین کے دیے اصولوں کو اپنی لیڈرشپ میں ہر ازم سے مُفید ثابت کر سکیں تو ایسے عُلما کی محنت ایسی ہے جیسے کسی نے ایک ایسے دروازے پر باہر کی طرف زور لگایا جس پر جلی حروف میں پُش لکھا تھا۔
ایک عاجزانہ درخواست
سادہ الفاظ میں میری عُلماء کرام اور دین کے طالبعلموں سے درخواست ہے کہ اپنا فوکس اور نیریٹیو اب حدیث کی ضرورت یا عدم ضرورت، صحیح، ضعیف اور اخبارِ احد کی بحثوں اور فروعی معاملات سے بدل کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور براڈر مشن کی طرف رکھیں اور رسُولﷺ کی زندگی کی ہر سٹیج کا وہ مائکروسکوپک ویو لیں جس سے محمدﷺ کا مقصدِ بعثت آپ پر منکشف ہو۔ جہاں تنہا شروع کی گئی آپﷺ کی تبلیغِ دین سے فتح مکہ کی سٹیج تک پہنچنے تک آپ محمدﷺ کی اُن ترتیب وار اور ہمہ جہت پالیسیوں سے روشناس ہوں جن میں سے ہر ایک کے پیچھے دنیا کے رُوحانی، سماجی، معاشی، سیاسی اور ہر قسمی انفرادی اور اجتماعی مسائل حل کرنے کے قابل نظام بنانے کی کاوش نظر آئے۔ آپ کے یا آپکے بڑوں کے صدیوں پر محیط بظاہر دینی فوکس نے نہ تو دنیا پر اسلام کے الہامی دین اور مکمل ضابطہ حیات ہونے پر کنوِنس کیا ہے نہ ہی آپ کو ہی وہ وقار بخشا ہےجسے آپکے دشمن بھی وقار کہیں، ہاں اس فوکس کےآپکے اتحاد، طاقت اور سمت پر منفی اثرات ضرور مرتب ہُوئے ہیں۔ جس دور میں آپ آپ آن پہنچے ہیں یہاں دین کی اتمامِ حُجّت کا بس ایک ہی طریقہ ہے، اسے ہر ازّم سے مُفید، قابلِ عمل اور انسان دوست ثابت کر کے دکھائیے، قرآن اور محمدﷺ کی زندگی کو قلب میں اتار کر کائنات کے علومِ نافع میں غوطہ خوری سے یہ ممکن ہو سکتا ہے - بس اس کے لیے آپکو وہ مزاکرہ یکسر ترق کرنا ہو گا جس پر صدیوں کے فوکس کے باوجود آپ اس سے پسماندگی فرقہ پرستی اور تشدد کے علاوہ کچھ نہیں نکال سکے۔ اگر معاملہ فقط آپکی پسماندگی، دنیا میں رُسوای اور غلامی کے عذاب تک محدود ہوتا تو کوئی فرق نہ پڑتا، آپکا فوکس بدلنا اس لیے ضروری ہے کہ انسانوں کا حق ہے کہ انکے رُوحانی، سماجی، معاشی، سیاسی اور ہر قسمی انفرادی اور اجتماعی مسائل کا حل دینے والا کوئی مکمل ضابطہ حیات مجسم ہو کر انک سامنے آئے۔
غور طلب امر:
نبُوّت کے اعلان سے گھاٹی میں محصُور کیے جانے تک، گھاٹی میں گُزرے سالوں کے صبر سے ہجرت پر مجبُور ہونے تک، ، غزوات سے خندق کی ایپلائیڈ حکمتِ عملی تک، صُلح حُدیبیہ کے بعد کی معاشی معاشرتی و سیاسی اصلاحات اور اُن اصلاحات سے برپا ہونے والے انقلاب تک، بغیر باقائدہ جنگ کے بغیر مکہ فتح کرنے سے لے کر دیگر قوموں سے مُعاہدات اور بینُ الاقوامی قوانین کی تشکیل تک، ان سب واقعات کے اندر موجُود الہامی نظام کے نفاذ کی حکمتِ عملیاں مُحمدﷺ کی بطور آخری رسُول سُنّتیں ہیں جن میں تحقیق در تحقیق کے بعد ہر دور کے مُسلمانوں کو اپنے اجتماعی اور انفرادی کردار کا تعیُّن کرنا ہو گا۔ اپنے مسائل، وسائل اور صلاحیّت سے تو ہر شخص خُود ہی واقف ہے، اب اُسے اپنے حقائق کا مُحمدﷺ کی زندگی کے کسی ملتے جُلتے دور سے مُوازنہ کرکے اپنے لیے مخصوص انکریمینٹل حکمت اخذ کرکے اپنانی ہوگی اور آپﷺ کے طریق اور ترتیب سے ہی مُختلف سٹیجز پار کرنی ہونگی۔ یعنی ایک مُسلمان کو نہ صرف مُحمدﷺ کی بطور نبیﷺ عمُومی سُنّت کی تصویر بنے رہنا ہے بلکہ مُحمدﷺ کی بطور رسُول حکمتِ عملیاں یا سُنّت اپنا کر ہی اُسکا اپنے مُعاشرے میں کردار مُتحرّک رہے گا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بطور نبی کی سُنّت اُسے یونیورسل اکارڈ آف ماریلیٹی کا نمونہ بنائے گی اور بطور رسُولﷺ آپ کی سُنّت اُسے ایک ایسا انقلابی کردارعطا کرے گی کہ وہ اپنے جیسوں کی سماجی ، سیاسی، مُعاشی اور رُوحانی ترقّی کے لیے آخری لمحے تک سرگرم رہے گا۔ سُنّتِ رسُول کی انفرادیت نہ سمجھ سکنے والے جدید مُحقیقینِ قُرآن کی تحریکیں کیوں بے رنگ اور بے اثر رہتی ہیں یہ شاید اب آپ سمجھ پائیں۔ یہ لوگ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بطور رسول سنت کی ترتیب اور ترکیب کو دین نہیں سمجھتے۔ مُحمدﷺ کی حکمتِ عملیاں نظرانداز کرکے قُرآن سے علمی خزانے ڈھُونڈنے کا دعویٰ تو کیا سکتا ہے لیکن یہ علم مُعاشرتی انقلاب میں کبھی نہ بدلے گا۔

کالم نگار : محمد رضوان خالد چوہدری
| | |
418