کراچی کے ایک معروف مدرسہ میں ایک استاد کا غیر مناسب رویہ اور پھر غلطی کا احساس ہونے پر معافی تلافی کا حالیہ قضیہ جیسے تیسے ختم ہو چکا ( اور مزید لوگوں کو گڑھے مردے اکھاڑنے کا موقع فراہم کرگیا)۔
اب اس قضیے سے وابستہ شخصیات کو چھوڑ کر اس قضیے کے نتائج و عواقب پر سنجیدگی سے غور و فکر شروع ہو جانا چاہیے۔ اور یہ سلسلہ جس قدر جلد شروع ہو جائے اسی قدر بہتر ہوگا، کیوں کہ محسوس یہ ہو رہا ہے کہ جلد یا بہ دیر مدارس اور اہل مدارس کو (خاکم بدہن) ایک اور بڑی آزمائش کا سامنا ہو سکتا ہے اور شاید یہ آزمائش ماضی کی آزمائشوں سے بھی زیادہ بڑی ہو، اصلا بڑی نہ بھی ہو تو بھی اس لیے یہ آزمائش زیادہ مضر ثابت ہو سکتی ہے کہ اس کے لیے بظاہر تیاری کے امکانات دور دور تک دکھائی نہیں دیتے۔ اس کی شکل جو بھی ہو بہرحال موجودہ حالات کے تناظر میں مدارس اور اہل مدارس کے لیے قابل قبول نہیں ہوگی۔ اس لیے فوری اقدامات کی کیا شکل ہو سکتی ہے؟ اس سلسلے میں مطلوب اقدامات کے ضمن میں چند مفید اشارے ہم کر دیتے ہیں۔ اگر اس موضوع پر کوئی ادارہ سنجیدگی سے دل چسپی رکھتا ہو تو تفصیل کے لیے بھی ہم حاضر ہیں۔
جند تجاویز و آراء:
1). مدارس کے بورڈز کو اپنے اپنے دائرہ کار میں آنے والے مدارس اور ان سے وابستگان کے سلسلے میں اب سنجیدہ لائحہ عمل تیار کر لینا چاہیے۔ خصوصاً اپنے اپنے بورڈ کے ساتھ ان کی رجسٹریشن (حکومت مراد نہیں) کے طریقہ کار میں حالات و واقعات دیکھتے ہوئے سنجیدہ تبدیلیاں اور وضاحتیں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔ مثلاً
الف: کسی ایسے مدرسے کا الحاق نہ کیا جائے جس کی زمین مشکوک ہو۔
ب: آغاز میں ہلکا پھلکا سہی لیکن تمام مدارس کے لیے مجلس شوریٰ کے قیام کو لازم قرار دیا جائے۔
3: اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی تنخواہوں کا مسئلہ بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کرتے ہوئے پاکستان کو شہری اور دیہاتی بنیادوں پر اسی طرح آمدنی کے تناسب اور اخراجات کے لحاظ سے، نیز خود مدارس کے حجم اور ان کی حیثیت کے اعتبار سے مختلف زونز میں تقسیم کر کے ان زونز کے دائرے میں آنے والے مدارس کے اساتذہ کے لیے زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم تنخواہوں کی حد متعین کی جائے، اور پھر اس کی پابندی بھی کروائی جائے( جیسا کہ حکومتی سطح پر سالانہ بجٹ میں طے کیا جاتا ہے).
2). ان مدارس کے تدریسی اور غیر تدریسی عملے کی شکایات کو سننے کے لیے بھی مدارس از خود کوئی فورم قائم کریں، جہاں وہ خاموشی کے ساتھ ایسی شکایتیں سننے کے بھی مجاز ہوں اور ان پر عمل درآمد کی قدرت بھی رکھتے ہوں اور اگر اصلاح احوال کی واقعتاً ضرورت ہو تو مشورہ سے قانون سازی کی اہلیت بھی رکھتے ہوں۔
3). مدارس کی سطح پر ہی نظام امتحان کو بھی مزید بہتر کرتے ہوئے اس سے پاس آؤٹ ہونے والے طلبہ کی کم سے کم صلاحیت بھی اہتمام کے ساتھ پیدا کی جائے، تاکہ یہ شکایت دور ہو سکے کہ مدارس کے اسناد یافتہ گان بعض جگہوں پر بنیادی ضروری تعلیم سے بھی بے خبر ہوتے ہیں۔ (یقیناً یہ بات بہت سوں کو ہضم نہیں ہوگی لیکن اگر اس بات کی حقیقت جاننا چاہیں تو دورہ حدیث کے مختلف وفاقوں کے فضلا کو لے کر ان سے صرف معمولی تفسیر اور حدیث کی عربی عبارت وغیرہ پڑھوا کر دیکھ لیجئے۔ صورت حال کی سنگینی کا خود اندازہ ہو سکے گا۔)
4). اسی طرح مدارس میں طلبہ کو دی جانے والی کم سے کم درجے کی سہولتوں کی بھی معیار بندی لازمی ہے، مثلاً ان کے رہائشی کمرے اور ان کی گنجائش، کلاس رومز اور ان میں طلبہ کی گنجائش، طلبہ کی تعداد کے حساب سے واش رومز، اسی طرح ان کی کھانے پینے کی اور صحت کی سہولتوں کے حوالے سے مکمل معلومات کی فراہمی۔ مثلاً انہیں کتنی بار کھانا فراہم کیا جاتا ہے؟ کھانے کے علاوہ صحت کی بنیادی سہولتیں ان کو کیا کیا میسر ہیں؟ یا میسر نہیں ہیں، نیز کیا ان کے لیے کپڑوں کا یا ان کے کپڑوں کے دھونے کا بھی بندوبست ہے، وغیرہ وغیرہ۔
5). اسی طرح ان مدارس میں صحت کی بنیادی ضرورتیں کس قدر پوری ہوتی ہیں کیا فرسٹ ایڈ وغیرہ کا اہتمام ہے یا نہیں ہے اور اگر دن یا رات میں خدا نخواستہ کسی حادثہ سے دوچار ہو جاتے ہیں تو اس سے عہدہ بر آ ہونے کی کتنی تربیت فراہم کی گئی ہے؟
نیز مدارس میں مصروف عمل عملے کے لیے صحت کارڈ طرز کی سہولت کی فراہمی وغیرہ ۔
ان نکات اور سوالات کو قطعاً سرسری یا غیر متعلق نہ سمجھا جائے، نہ انہیں نظر انداز کیا جائے، اس لیے کہ یاد رکھنے کی بات ہے کہ مدارس کو دیئے جانے والے عطیات کا بڑا حصہ دینے والوں کی نظر میں طلبہ ہی کی بنیاد پر ہوتا ہے تو طلبہ کے نام پر آنے والے سرمائے کو یا اس کے بڑے حصے کو طلبہ و اساتذہ پر ہی خرچ ہونا چاہیے۔
لہذا یہ بورڈوں اور وفاقوں کی ذمے داری ہے کہ وہ اس مد میں زیادہ سے زیادہ فنڈز کے استعمال کو یقینی بنائیں تاکہ مدارس کے خیر خواہ ڈونرز کا اعتماد نہ صرف بحال ہو بلکہ مزید مضبوط و مستحکم ہو سکے۔
6).ایک اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ تمام منظور شدہ وفاقوں کو مل بیٹھ کر اپنے تعلیمی نظام میں اور امتحانی طریقہ کار میں ایسی یکسانیت بھی پیدا کرنی چاہیے کہ فاضل کسی بھی وفاق کا ہو اس کا کم سے کم معیار ایک جیسا ہو تاکہ تمام وفاقوں کے فضلا کی اسناد کو ایک نظر سے دیکھا جانا ممکن ہو سکے۔
خلاصہ کلام:
7). ان سب کا ماحاصل یہ ہے کہ دیگر اداروں کی معیار بندی کی طرح ایسے معیارات از خود وفاقوں کو طے کر لینے چاہییں (آئی ایس او سرٹیفکیشن کی طرز پر) جن کی روشنی میں مدارس کی معیاربندی بھی کی جا سکے اور ان کی درجہ بندی بھی ممکن ہو سکے۔
اس حوالے سے دیگر متعلقہ اقدامات جس قدر ممکن ہو سکیں اب ہمیں اٹھا لینے چاہییں یا کم از کم ان کی طرف پیش قدمی شروع کر دینی چاہیے قبل اس کے کہ یہ اقدامات بھی ہم کسی اور کے کہنے پر مجبور ہو کر اٹھائیں اور پھر نہ چاہتے ہوئے بھی وقت ہمارے ہاتھ سے نکل جائے