عبد الصمد ہالیجوی کی باتیں
حضرت مولانا تاج محمد امروٹی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس طلباء آتے تھے کہ حضرت ہم بیعت کرنا چاھتے ہیں...
حضرت امروٹی فرماتے...!!!
نہ بابا پہلے عالم بنو .....
پھر اپنے ھاتھ سے کماکر کھاؤ...
تو میرے وظائف نفع دینگے....
پتہ نہیں کس قسم کی روٹیان کھاتے ھو...؟؟
2). پہلے بادشاہ لوگ اللہ والوں اور علماؤں کی عزت کرتے تھے....
انکی تشریف آوری اپنے لئے باعث برکت سمجھتے تھے....
جبکہ آجکل علماء بڑے لوگوں کے پاس جاتے ہیں ...
تو وہ پھلے " انا للہ ......." پڑھتے ہیں ..
پھر ان کو سائیڈ میں بٹھاتے ہیں ..
یہ ھمارے کرتوت ہیں
کہ کہیں رسید لیکے چندہ مانگنے نہ آیا ھو....اپنے اندر استغنی پیدا کرو۔
3). غلط باتیں یا الٹے سوالات نہیں کرنا چاہئیں....
حقیقت میں یہ حالت آپ پر بھی آسکتی ھے...
4). عبادت میں اپنے پر دوسروں کو ترجیح نہ دو..نماز پہلی صف میں پڑھنا باعث فضیلت ھے...لہذا کوئی بھی آجائے ان کو آگے مت کرو
اگر ان کو شوق ہے تو وہ پہلے آئیں....
اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ مجھے نیکی اور عبادت نہیں چاہئے تو لے لے..
5). کچھ طلباء اپنے اساتذہ کیلئے اگلی صف میں جگہ چھوڑتے ہیں ....
تو یہ غلط بات ھے ...
اگر ان کو شوق ھے تو پھلے آیا کریں..
دیر سے آنا اور پھر آگے چلے جانا بھت بد تمیزی ھے..
چاھئے کوئ بھی کرے...
ھمارے مولوی ایک توآئیں گے دیر سے
پھر بڑے اہتمام سے اپنا حق گردانتے ہوئے جاکر اگلی صف میں کھڑے ھوجائیں گے۔
6). ضعیف کمزور لوگوں کو کہتے ہیں ھر اعتبار سے عام ھے ..جسکی سفارش کوئی قبول نہ کرے..یا لوگ اس کی بات کو کوئ حیثیت نہ دیتے ھوں.
پھر فرمایا...! یہ رکشے والوں کی نماز ہم سے کئی گنا بہتر ھے..
باوجود معاشی فکر کے پھر بھی وہ یہاں آکر نماز پڑھتا ھے..
ٹوٹی پھوٹی نماز بھی اللہ اسکی قبول کرتا ھے..کیونکہ وہ خود اللہ کے تھوڑے پر راضی ھے
تو اللہ بھی اس سے نرمی والا معاملہ کرتے ہیں۔
مزید فرمایا کہ ..یہ مزدور اور دیہاڑی لگانے والا اللہ کا محبوب ھوتا ھے..
7). ایک آدمی خانقاہ میں ..مسجد میں...مدرسے میں..بیٹھا ھوا ھے ..
تو اس کو گناہ کا موقع ہی نہیں مل رہا۔
تو یہ کوئ بزرگی نہیں ..
ھاں اگر کوئی شخص بس یا گاڑی میں سفر کرے
وہاں عورتیں بھی ہوں گانے بھی لگے ہوئے ے ہوں ..تو یہاں پر گناہ سے بچنا بزرگی ھے۔
8). پہلے ہمارے اکابر پیٹ پر پتھر باندھتے تھے
اور عوام روزہ وغیرہ ہی کو دین سمجھتے تھے...
اور آجکل جس کا پیٹ بڑا ہو وہی خلیفہ ہے وہی پیر ہے وہی سب کچھ ہے۔
9). پس آجکل دیکھو کہ کس جماعت میں علماء صلحاء زیادہ ہیں اس میں داخل ہوجاؤ..
اپنی اپنی ہانڈیون کو الگ الگ مت پکائیں۔
10). انسان اگر چاہے کہ اللہ میرے گناھ معاف کرے اور رحمت وشفقت کرے...
تو اپنے ماتحت کے ساتھ اچھا برتاؤ کرے
اگر ماتحت پر سختی کروگے تو اللہ بھی اپنے قوانین چلائے گا
11). عمل بہت بڑا مبلغ ھے زبان اتنی بڑی مبلغ نہیں .... لہذا اعمال اچھے کرو ..
لوگ تمہیں دیکھ کر خود ہی سنور جائیں گے..
12). کسی بھی رواج کو یکدم ختم نہیں کرسکتے اسمیں جو خراب چیزیں ہیں اسکو نکال کر اس چیز کو چلنے دو..
13). ہم نے یہ ذہن بنایا ہوا ہے کہ مولوی ھی جنت میں جائیں گے. حالانکہ یہ بات غلط ھے.... اللہ کا میزان ایمان، اخلاص اور قبولیت پر مشتمل ہے۔
14). مولوی کا سدھارنا میرے لئے بہت مشکل ھے اور جاھل کا سدھارنا آسان ھوتا ھے۔ وجہ صاف ظاہر ہے کہ طلب اور احساس ندامت۔
15).جانور جب خراب ھوجائے تو کسی نہ کسی کام تو آہی جائے گا..
اس کا چمڑا اور اس کاگوشت وغیرہ..
جبکہ انسان خراب ہوجائے تو کسی کام کا نہیں رہتا..
16). آجکل جو ہمارا بیڑا غرق ہوتا ھے وہ اس وجہ سے کہ میرا تو یہ عہدہ بنتا ھے ..
میں فلاں عہدے کے لائق ہوں
یہ نہیں کرنا چاھئے ..
آجکل جو تفریق در تفریق ہے اسکی جڑ یہی بات ھے
17). مسجد کے امام میں کوئی غلطی ہو تو اسکو ہٹانا نہیں چاہئے بلکہ بہتری کی گنجائش پیدا کرنا چاہیئے کیونکہ دوسرا امام لاؤگے تو بحیثیت انسان اس میں بھی کچھ نہ کچھ غلطیاں ہونگی پھر کیا کرو گے؟
18). گھر ، محلہ میں اکیلے رہنا..کسی سے ملنا جلنا نہ ہو تو یہ حیوانیت ھے انسانیت نہیں...
تعلقات رکھو ایک دوسرے سے میل جول رکھو معاشرے کے حالات سے باخبر رہو اور دامے درمے سخنے عوام الناس کے مسائل حل کرنے کی سعی کرو۔
19). جہان آپ امام لگو یا مدرس وغیرہ ہو تو وہاں کے لوگوں سے حسن سلوک کرو ان کے ساتھ ایسے چلو کہ تم ان کے محبوب بن جاؤ...
یہ نہیں کہ تھانیدار بن جاؤ ...
تھانیدار کی عزت نہین ھوتی اور نہ اسکو کوئی محبوب رکھتا ہے لہذا تھانیدار مت بنو.
20). جب بھی سنت یا مستحب پر عمل کرنے کا ارادہ کرو تو یہ دیکھو کہ اسکے پورا کرنے سے کسی کو تکلیف تو نہیں ھوتی ..
اگر ھوتی ھے تو اس سنت ومستحب کو چھوڑدو لیکن ایذارسانی سے حتی الامکان گریز کرو ۔
21). پابندی وقت اور تواتر علم کا نور اور شخصیت کی جان ہیں۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے کبھی درس میں غیر حاضری کی ھو اور جب سے مدرس بنا ہوں کبھی بھی جنازہ میں نھیں گیا.....کیونکہ علم ایسے نہیں آتا.علم کیلئے پابندی سے خود کو درس میں حاضر رکھنا پڑتا ھے، درس میں بیٹھو علم خود بخود آجائے گا.
22). جو کام آرام سے ہوسکے وہ کرو جو نہ ہوسکے وہ نہ کرو بلا وجہ خود کو مشقت میں ڈالنا یا ایسے کام کا بیڑا اٹھالینا جو بس کا نہ ہو تو بیڑا غرق ہی ہونا ہے۔
اگر قاعدہ بھی اچھی طرح پڑھا سکو تو عزت ہوگی ورنہ اگر بخاری شریف بھی اچھی طرح نہ پڑھاسکو تو عزت نہیں رہے گی البتہ لقب مل جائے گا، تو بھئی ایسے القابات کا اچار ڈالنا ہے ؟؟ امت کو اب ان چیزوں میں کوئی دلچسپی نہیں رہی کہ فلاں ابنِ فلاں، جگر گوشہ، سجادہ نشین، گدی نشین، فرزند ارجمند!!
23). مجھ سے کوئی پوچھتا ھے کہ مسجد ملی ہے کیا بیان کروں؟
تو میں کہتا ہوں ترمذی ابواب الزھد کھول کر اس کا
ترجمہ کرو.
اس سے بہت فائدہ ھوگا اور کسی قسم کا اختلاف و نزاع بھی نہیں ھوگا.
24). اگر ذہنی سکون اور اطمینان بخش زندگی چاہئیے تو آدمی اپنی ضروریات کو کم سے کم کرے۔اس سے آدمی بہت سی پریشانیوں، مقابلہ سازی اور سوال سے بچ جاتا ھے۔
25). آپ کے مدارس کے ساتھ جو لوگ جس طرح کا بھی تعاون کرتے ہیں ان کو بھی دعا میں یاد رکھیں اگر دعانہیں کروگے تو تمہارا ثواب بھی ان کو ملے گا اور تم مفت میں سر ٹکراتے رھو گے.
26). ہر کسی کی دعوت کو بلا تامل قبول کرو یہ نہ ہو کہ مالدار کی دعوت پہ شوق سے جائے اور غریب کی دعوت سرے سے قبول ھی نہ کرے یا بہانے تراش کر پہلو بچا لے۔
27). توکل کا یہ مطلب نہیں کہ ہاتھ باندھ کر کمرے مین بیٹھ جاؤ اور کہو کہ ضروریات زندگی خود چل کر تمہارے پاس آجائیں گی، یہ عمل درست نہیں اور نہ ہی شریعت میں روا ہے بلکہ توکل یہ ہیکہ رکشہ نکالو اسٹاپ تک،ریڑھی ہے تو سبزی لگاؤ اور گلیوں میں پھرو، کوئی چھوٹا موٹا ہاتھ کا کام کرو اورپھر کہو کہ یا اللہ!! مجھ سے جو ہوسکتا تھا اتنا کیا اب آپ ہی لوگوں کے دلوں میں ڈالنے والے ہیں کہ میرے رکشے میں بیٹھ جائیں،مجھ سے سبزی لے لیں یا دیگر سامان خرید لیں۔ اور تجربہ شاہد ہے کہ اللہ پھر دیتا بھی بے حساب ہے۔
28). کھانے پینے کی اشیاء کا احترام از حد ضروری ہے۔تم طلباء کو کہو یہ ٹکڑے کیوں چھوڑے؟ سالن کیوں چھوڑا ؟ پینے کا پانی کیوں ضائع کیا؟ اور بات یہ ہے کہ محض کہہ دینے سے تو طلباء نہیں مانیں گے جب تک خود ان ٹکڑوں کو کھاؤگے، پلیٹ صاف کروگے،باقی ماندہ گھروالوں کو کھلاؤگے تب کام
بنے گا۔ عملی نمونہ پیش کرنا ہوگا۔یہ نہیں کہ خود بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومو اور کاٹن پہنو اور طلباء کو کہو کہ چنگچی رکشوں میں آجاؤ ، پرانے کپڑے پہنو۔
خود عمل کرو تو کام بنے گا...
جتنے بزرگ گزرے ہیں ان سب نے پہلے خود عمل کیا اور پھر دوسروں کو تلقین کی۔اس نے لوگوں کو متاثر کیا اور لوگ باعمل ہوتے گئے۔
29). مسجد میں دوارن خطاب یا بیان باریک مسئلے نہ چھیڑو اور نہ ہی اختلافی موضوعات کو تختہ مشق بناؤ ۔جو لوگ تمہارے سامنے بیٹھے ہیں انکی کی موجودہ ضروریات کو سمجھو اور پھر ان کے مطابق بات کرو تاکہ انہیں کو فائدہ ہو.
30). بندہ جتنے کم پر اللہ سے راضی ھو اللہ بھی اسکے عمل پر راضی ھوگا
زیادہ کی ہوس موجودہ کا سکون بھی غارت کر دیتی ہے تو پھر ایسے مستقبل کے لیے خود کو کیونکر ہلکان کیا جائے کہ جس میں ہم نے ہونا ہی نہیں ہے؟؟
کالم نگار : یکے از خدام