(+92) 319 4080233
اب تو گھبرا کر کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
ایک آدمی اپنی گاڑی میں اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ راستے میں ایک شخص سے ملاقات ہوئی۔ اس نے اس سے پوچھا: "تم کون ہو؟" اس شخص نے جواب دیا:
"میں دولت ہوں۔"
شوہر نے اپنی بیوی اور بچوں سے پوچھا: "کیا ہم اسے اپنی گاڑی میں بٹھا لیں؟" سب نے کہا: "ہاں، بالکل! دولت سے ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں اور جو چیز بھی چاہیں، حاصل کر سکتے ہیں۔" تو دولت ان کے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گئی اور سفر جاری رہا۔ پھر راستے میں ایک اور شخص سے ملاقات ہوئی۔ شوہر نے پوچھا: "تم کون ہو؟" اس شخص نے جواب دیا:
"میں اختیار اور طاقت ہوں۔"
شوہر نے دوبارہ اپنی بیوی اور بچوں سے پوچھا: "کیا ہم اسے بھی اپنی گاڑی میں بٹھا لیں؟" سب نے یک زبان ہو کر کہا: "ہاں، بالکل! اختیار اور طاقت سے ہم ہر چیز حاصل کر سکتے ہیں۔" تو اختیار اور طاقت بھی ان کے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گئے اور سفر جاری رہا۔ اسی طرح راستے میں کئی لوگ ملے جو دنیا کی مختلف لذتوں اور خواہشات کے نمائندے تھے، اور سب کو وہ گاڑی میں بٹھاتے رہے۔ پھر ایک اور شخص ملا۔ شوہر نے پوچھا: "تم کون ہو؟" اس شخص نے جواب دیا:
"میں دین ہوں۔"
شوہر، بیوی اور بچوں نے سب نے ایک ساتھ کہا: "ابھی اس کا وقت نہیں ہے۔ ہم دنیا کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں اور دین ہمیں ان سے محروم کر دے گا۔ ہمیں اس کی پابندیوں اور حلال و حرام کی قید میں نہیں پڑنا۔ بعد میں ہم دین کی طرف پلٹ آئیں گے، ابھی دنیا کے مزے لوٹنے دو۔" تو انہوں نے دین کو چھوڑ دیا اور گاڑی آگے بڑھتی رہی۔ اچانک راستے میں انہیں ایک چیک پوسٹ نظر آئی، جہاں ایک آدمی نے گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا اور شوہر کو گاڑی سے اترنے کو کہا۔ اس شخص نے شوہر سے کہا: "تمہارا سفر ختم ہو گیا، اب تمہیں میرے ساتھ چلنا ہوگا۔" شوہر حیرت زدہ رہ گیا اور بولا: "میں واپس جا کر دین کو لے آتا ہوں۔" اس شخص نے جواب دیا: "یہ ممکن نہیں ہے، تمہاری زندگی کا سفر ختم ہو چکا ہے اور واپس جانا ناممکن ہے۔" شوہر نے کہا: "لیکن میرے پاس گاڑی میں دولت، اختیار، بیوی، بچے اور سب کچھ موجود ہے!" اس شخص نے جواب دیا: "یہ سب تمہارے کسی کام نہیں آئیں گے۔ تمہیں تو دین کی ضرورت تھی، جو تم نے راستے میں چھوڑ دیا۔" شوہر نے پوچھا: "تم کون ہو؟" اس شخص نے جواب دیا:
"میں تمہاری موت ہوں"
جس سے تم غافل تھے اور جس کی تیاری تم نے نہیں کی۔ شوہر نے مڑ کر دیکھا تو گاڑی میں اس کی بیوی اب گاڑی چلا رہی تھی اور بچے، دولت اور اختیار سب موجود تھے، لیکن اس کے ساتھ کوئی نہیں اترا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ، تمہارے بیٹے، تمہارے بھائی، تمہاری بیویاں، تمہارے رشتہ دار، وہ مال جو تم نے کمایا ہے، وہ تجارت جس کے بند ہونے سے تم ڈرتے ہو، اور وہ گھر جو تم پسند کرتے ہو، تمہیں اللہ اور اس کے رسول اور اس کی راہ میں جہاد سے زیادہ محبوب ہیں، تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے، اور اللہ فاسق لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔" موت ایک حقیقت ہے جس سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ ہمیں ہمیشہ موت کو یاد رکھنا چاہیے تاکہ ہم دنیاوی کاموں میں مگن ہو کر آخرت کو نہ بھول جائیں۔ موت کا ذکر دل کو دنیا کی مادی چیزوں سے دور کرتا ہے اور انسان کو اپنے خالق کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ ہر انسان کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور یہ اس بات کا امتحان ہے کہ ہم نے دنیا میں کیا کیا؟ موت کے بعد انسان کی روح ایک نئی دنیا میں داخل ہوتی ہے جہاں اسے اپنے اعمال کا پھل ملے گا۔ جیسے اعمال ویسا حساب ، لہذا ہمیں موت سے ڈرنا نہیں چاہیے یہ انسان کو کمزور بناتا ہے بلکہ ہمیں موت کی تیاری کرنی چاہیے۔ ہر عمل میں اس کا استحضار ہو موت کی یاد انسان کو گناہوں سے بچاتی ہے اور اچھے اعمال کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
{كُلُّ نَفْسٍ ذَآىٕقَةُ الْمَوْتِ}
" ہر جان کو موت کا مز ہ چکھنا ہے" یعنی یہ طے ہے کہ اس دارِ فانی کو چھوڑنا ہی ہے ،پھر مرنے کے بعد ثواب و عذاب اور اعمال کی جزا کے لئے ہماری ہی طرف تم لوگ پھیرے جاؤ گے تو تم پر لازم ہے کہ ہمارے دین پر قائم رہو اور اپنے دین کی حفاظت کے راستے اختیار کرو۔ یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی زندگی فانی ہے اور ہمیں آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔ اس آیت سے ہم کچھ اہم سبق سیکھ سکتے ہیں: موت ایک حقیقت ہے: موت سے کوئی نہیں بچ سکتا۔ ہمیں اس حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور اس کے لیے ہمیشہ تیار رہنا چاہیے۔ دنیا کی زندگی فانی ہے: دنیا کی تمام نعمتیں اور خوشیاں عارضی ہیں۔ ہمیں آخرت کی زندگی پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف واپسی: ہر انسان کو ایک دن اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہونا ہے اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ نیکی کرنے کی ترغیب: اس آیت سے ہمیں نیکی کرنے اور برائی سے بچنے کی ترغیب ملتی ہے۔ کیونکہ اچھے اعمال کی وجہ سے ہم آخرت میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

کالم نگار : محمد فاروق حسن، جھنگ
| | |
389