(+92) 319 4080233
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
حال ہی میں کراچی کے ایک معروف دینی ادارے کے مہتمم کی طالب علم کو دی گئی سزا و بد دعا سوشل میڈیا پر زیر بحث ہے۔ اس واقعے کے صحیح یا غلط ہونے سے قطع نظر تعلیمی میدان میں ترقی و تنزلی کے اسباب و عوامل اور محرکات پر بات کریں گے۔ ایک بچہ ایک دن ایک سبق یاد نہ کرے تو آسمان نہیں گرے گا۔ اگر ایک دن کاپی نہیں لکھے گا بھی تو زمین الٹی نہیں ہوگی۔ یہ میں اپنا تجربہ بتا رہوں۔ کوٸی مجھ سے اختلاف کرتا ہے تو بھی وہ میرے لیے قابل احترام ہے۔ جہاں تک میں نے دیکھا ہے تو وہ یہی ہے کہ لوگ اس طرز کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے اور پڑھنے والے بھی اکثر طور پر اس روش کا شکار ہوکر تعلیم سے ہی نفرت کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر کوٸی پڑھنے کا خیال رکھتا ہے تو اسے اک اچھے انداز میں بھی سمجھایا جاسکتا ہے اور وہ بات سن کر قبول بھی کرے گا۔ جب کسی کا شوق ہی پڑھنے کا نہ تو وہ مارنے دھمکانے اور چمڑیاں ادھیڑنے سے اک دین دشمن تو بن سکتا ہے مگر ایک اچھا بھلا انسان ہرگز نہیں۔ اگر میرا مزاج مارو پیٹو والا ہے تو مجھے استاد بن کر ایک دینی درسگاہ کا امیج خراب کرنے کے بجاٸے کوٸی اور کام کرلینا چاہیے۔ اگر چند طالب علموں کو کنٹرول کرنے کا ڈھنگ مجھے نہیں آتا تو مجھے اپنے عہدے سے استعفی دینا چاہیے۔ اگر پیار و محبت کی زبان مجھے نہیں آتی تو مجھے اپنی ذمہ داری سے دست برداری کا اعلان کر لینا چاہیے۔ یہ میری بھول ہے کہ میں کسی کو غیر انسانی سلوک سے راہ راست پر لاٶں گا۔ یہ قصہ کب کا پارینہ ہوچکا کہ مارنے سے انسان سدھرے گا۔ اور یہ سوچ بھی تقریبا دم توڑ چکی ہے کہ تشدد سے اک اچھی فضا ٕ قاٸم ہوگی۔ پتہ نہیں کیوں ہم ایک پرسکون ماحول تشکیل دینے میں ناکام ہوتے نظر آتے ہیں۔ پھر گلہ بھی ہماری زبان پر جاری رہتا ہے کہ جی معاشرے میں محبت، الفت ، بھائی چارگی اور علم دوست لوگ کیوں ناپید ہیں؟ میرا ماننا ہے کہ یہ عہد تعلیم کا ہے۔ تعلیم کے لیے سفر کرنے کا ہے اور استادوں کی رہنماٸی تلے رہنے کا ہے۔ ہاں جی استاد تو راستہ دکھاتا ہے آگے شاگرد سب کچھ کا اہل ہوتا ہے۔ استاد رکاوٹیں ہٹانے کا گر سکھاتا ہے۔ استاد کامیاب زندگی گزارنے کی صلاحیت انسان کے اندر پیدا کر دیتا ہے۔ استاد راہ نما ہوتا ہے۔ استاد خیر خواہ ہوتا ہے۔ استاد ماں ہوتا ہے۔ استاد باپ ہوتا ہے۔ استاد آئینہ ہوتا ہے جس میں انسان اپنی خامیاں دیکھتا ہے تو اسے ٹھیک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ استاد بہترین دوست ہوتا ہے۔ استاد رہن سہن کا طریقہ بتاتا ہے۔ استاد معاشرے میں چلنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ استاد پردیس میں ملا وہ ساتھی ہوتا ہے جو اپنے ہم سفر سے گم ہوچکا ہوتا ہے۔ ہاں استاد وہ معشوق ہے جس سے بچھڑ کر ایک عاشق تڑپتا رہتا ہے۔ لیکن استاد بھی استاد ہو، تعلیم سے متنفر کرنے والا ، جدید تقاضوں سے بے خبر اور بچوں کی چمڑیاں ادھیڑنے والا بے رحم انسان نہ ہو۔ ہمیں سر جوڑنا ہوگا اور اس نکتے پر جمع ہونا ہوگا۔ کہ اس وقت نسل نو کو ہم درست سمت پر کیسے لگائیں؟ ان کے جذبات کو صحیح معنوں میں کیسے نکھاریں؟ انھیں مستقبل کے معمار کیسے بنائیں؟ ان کو تعلیم کا شوق کیسے دلائیں؟ اور سماج میں رائج ہزار قسم کی رکاوٹوں سے بچ بچا کر ان کی کس طرح سے تربیت کریں؟ ان سوالات کو موضوع سخن بنا کر ہمیں لائحہ عمل طے کرنا ہوگا تاکہ معتدل ماحول میں رہ کر ہمارے مستقبل کا معمار بچہ تعلیم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے اور اگلی منزل کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے۔ اس بات کا بھی خیال رکھیں کہ تعلیم میں لگے بچوں کو وقت دیں، پیار و لاڈ کریں اور خصوصی توجہ دیں تاکہ وہ اپنے اوپر کسی کی شفقت کا ہاتھ پا کر مزید یکسوئی اور دلجمعی کے ساتھ آگے بڑھنے کی تگ و دو کرے۔ اگر ہم انھیں بوجھ سمجھ کر تعلیمی اداروں میں ڈالیں گے، تو وہ ہماری آنکھوں سے اوجھل تو ہوں گے مگر ان کا نتیجہ بہت ہی بھیانک بلکہ تعلیم سے دوری کی صورت میں برآمد ہوگا، جو بہر حال ہمارے لیے ایک بھیانک چیلنج کی طرح اژدھے کی مانند منہ کھولے راہ میں ملے گا۔ مار پیٹ کے بجائے محبت سے تعلیم دی جائے۔" یہ ایک ایسا اصول ہے جو نہ صرف تعلیم کے میدان میں بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں لاگو ہوتا ہے۔ یہ بات کیوں اہم ہے؟ آئیے ذیل میں اس کا تجزیہ کرتے ہیں: 1). سیکھنے کی صلاحیت میں اضافہ: جب بچے محبت اور امن کا ماحول محسوس کرتے ہیں تو وہ بغیر کسی خوف کے نئی چیزوں کو سیکھنے اور دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 2). اعتماد میں اضافہ: محبت اور حوصلہ افزائی کا ماحول بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرتا ہے۔ وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنے لگتے ہیں اور نئے چیلنجز کا سامنا کرنے سے نہیں گھبراتے۔ 3). مثبت رویہ: محبت اور احترام کا رویہ بچوں میں مثبت رویہ پیدا کرتا ہے۔ وہ دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرتے ہیں اور سماج میں ایک اچھا کردار ادا کرتے ہیں۔ 4). دائمی سیکھنے کی عادت: جب بچے سیکھنے کو ایک خوشگوار تجربہ سمجھتے ہیں تو وہ پوری زندگی سیکھنے کی عادت ڈال لیتے ہیں اور پھر ترقی کی راہیں ان پر کشادہ ہو جاتی ہیں۔ 5). طویل مدتی اثرات: محبت اور تعلیم کے ذریعے پیدا ہونے والے مثبت اثرات زندگی بھر قائم رہتے ہیں۔ اب زرا تصویر کے دوسرے رخ یعنی جور و جبر پر بھی ایک طائرانہ نظر ڈال لیتے ہیں: 1). سیکھنے میں رکاوٹ: ڈر اور خوف کے ماحول میں بچے سیکھنے پر توجہ نہیں دے پاتے۔ 2). نفسیاتی مسائل: مار پیٹ سے بچوں میں نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں جیسے کہ ڈپریشن، اضطراب اور غصہ وغیرہ۔ 3). سماجی تعلقات میں دشواری: مار پیٹ سے گزرنے والے بچے دوسروں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ 4). ہمیشہ کے لیے نشان: مار پیٹ کے جسمانی اور نفسیاتی اثرات بچوں کی شخصیت پر ہمیشہ کے لیے نشان بن سکتے ہیں۔ہمییں چاہیے کہ تعلیم کے لیے مثبت طریقے رائج کریں جو درج ذیل ہیں: * حوصلہ افزائی: بچوں کی کامیابیوں کو سراہیں اور انہیں حوصلہ دیں۔ * صبر اور بردباری: بچوں کو سیکھنے کے لیے وقت دیں اور ان کی غلطیوں پر صبر کریں۔ * مثبت مثال قائم کریں: خود ایک اچھی مثال قائم کریں تاکہ بچے آپ کو اپنا آئیڈیل سمجھیں۔ * کھیل اور سرگرمیاں: سیکھنے کو مزے دار بنائیں اور مختلف کھیل اور سرگرمیوں کا استعمال کریں۔ * شخصیت سازی پر توجہ: ہر بچے کو انفرادی توجہ دیں اور اس کی ضروریات کو سمجھیں شخصیت کو نکھاریں۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ مار پیٹ کوئی حل نہیں ہے بلکہ مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ محبت، احترام اور مثبت تعلیم کے ذریعے ہم ایک بہتر سماج بنا سکتے ہیں۔

کالم نگار : مولانا عمران مینگل
| | |
357