(+92) 319 4080233
ہمارا مستقبل ہمارے ہاتھ
مملکت خداداد پاکستان اللہ کا انعام اور معاشرے میں ہماری پہچان ہے۔ ہمیں ہر وقت کے شکوے شکایت کی بجائے خود عملی طور پر کچھ ناگزیر اقدام اٹھانا ہوں گے۔ اپنی بات کو سمجھانے کے لیے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ بر اعظم امریکہ کے غریب ترین ممالک، جن میں پیرو، ارجنٹائن کولمبیا، پیرگوئے اور یوروگوائے نے بیس سال پہلے تک بہت زیادہ بھوک اور رزق میں کمی کا سا منا کیا اس کی ایک وجہ وہی ھے جو ساری دنیا کی مشترک وجہ ھے کہ نالائق حکمران اور منصوبہ بندی کا فقدان۔ لیکن ان پانچ ملکوں کا ایک اتحاد شروع سے موجود ھے جس طرح ہمارا ھے سارک کے نام سے۔ چنانچہ اُس اتحاد کا سالانہ سربراہ اجلاس بیس سال پہلے جو ہوا تھا وہ تاریخی ثابت ہوا اس میں جو فیصلے کیے گے وہ مندرجہ ذیل تھے: 1)۔ زرخیز اور قابل کاشت زمین کا تحفظ مطلب وہاں کوئی تعمیرات نہ ہونے دینا 2)۔ قابل کاشت اراضی کی باقاعدہ تقسیم اور ملکیت کی حد مطلب ہر ایک کو تقریبا پچاس کنال کا فارم دینا 3). بہت (کم زرخیز ) اراضی پر جنگلات اگانا۔ 4). بالکل ہی بیکار (بنجر اراضی) پر مکانات اور دیگر تعمیرات کرنا۔ 5). جس کے پاس دو یا چار کنال زرعی زمین ھے اور وہ ویسے ہی دبا کر بیٹھا ہے زراعت اس نے کرنی نہیں ایک کھیتی یا دوکھیتیاں اس کے پاس ہیں تو وہ اس سے خرید کر پچاس کنال کے فارم میں شامل کر دی جائے اور کچھ کو ان کھیتیوں کے عوض شہر میں مکان دے دیے جائیں۔ پھر ان ممالک نے واقعتاً ایسا کرنا شروع کر دیا دیکھتے ہی دیکھتے خوراک، گوشت، انڈوں اور سبزی پھلوں کی کمی دور ہوتی ہوئی نظر آئی۔ مثلا مقامی کونسل جب کسی بندے کو زرعی فارم دیتی تو ساتھ یہ ہدایت اور ان ہر سختی سے عمل کا کہتی وگرنہ یہ فارم چھین لینے کی دھمکی بھی ساتھ دیتی تھی۔ 1: یہ فارم تماری ملکیت ھے لیکن اولاد میں قابل تقسیم نہیں بس جس بچے کے پاس زراعت کی کم سے کم درجے کی ڈگری ہو گی فارم کا مالک وہ کہلائے گا باقی بہن بھائیوں کو برابری کی رقم دے کر چلتا کرے گا۔ 2: اس فارم کا مالک ہوتے ہوئے تمہارے اوپر لازم ھے کہ دس گائے، تیس بکریاں اور سو پرندے یعنی مرغیاں لازمی فارم میں موجود ہونے چاہئیں۔ 3: فارم کی حدود یا باونڈری بنانے کے لیے اینٹ یا پتھر کی دیوار کے بجائے پھل دار درختوں کی قطار بنے گی۔ 4: فارم کے مالک ہونے کے ناطے تمہارے اوپر لازم ھے کہ فارم کا ایک چھوٹا حصہ سبزیوں کے لیے مختص ہو گا۔ 5: ہر سال کے آخر میں کونسل کے نمائندے تمہارے فارم آکر ایک ایک چیز کا جائزہ لیں گے کہ مطلوبہ چیزوں کی تعداد پوری ھے کہ نہیں ؟ ساتھ ساتھ پیداوار اور جانوروں کی صحت کو بھی چیک کیا جائے گا۔ 6: اگر ہدف پورا ھے تو ٹھیک، اگر کم ھے تو مدد کی جائے گی اور وارننگ بھی دی جائے گی۔ 7: لیکن اگر ہدف سے بڑھ کر پیداورھے تو ایک الیکٹرک ٹریکٹر انعام دیا جائے گا جو ڈیزل وغیرہ پر بھی چلے گا۔ عموما بجلی سے چارج ہو گا اور تمام زرعی ضرویات کو پورا کرے گا۔ سال 2020 میں ان ممالک کے سربراہان کا سالانہ اجلاس آن لائن ہوا اور دنیا کے دوسرے کونے سے ایک زرعی چیمپیئن ملک آسٹریلیا نے بطور ابزرور مہمان شرکت کی سب ممالک نے اس خودکفالت کو عبور کرنے پر خوشی کا اظہار کیا جبکہ اسٹریلیا کی تجویز کو بھی انتہائی صحت افزا جان کر پروگرام کا حصہ بنا دیا گیا۔ آسٹریلیا کی تجویز یہ تھی کہ ہر فارم میں جسطرح جانوروں اور مرغیوں کے لیے کمرے بنانے کی اجازت ھے اسی طرح فارم کے شروع میں مالک کو مکان بنانے کی اجازت دی جائے تا کہ بہتر پرفارم کر سکے لیکن شرط یہ رکھی گئی کہ گھر کی چھت پر سولر پینل لگا کر بجلی خود پیدا کرے گا۔ اسی طرح گوبر گیس پلانٹ لگا کر گیس بنانے کا پابند بھی ہوگا۔ نیز گھر کے استعمال شدہ پانی کو جمع کر کے آبپاشی کے لیے استعمال کرے گا۔ اب آپ اندازہ کریں صرف ایک حکومتی قدم سے سبزیاں پھل دالیں آٹا چاول دودھ گوشت انڈے بھی حاصل ہوئے روزگار بھی ملے گیس اور بجلی بھی بنی اور لوگوں کی زندگیوں میں خوشحالی آتی چلی گئی۔ ملک بھی مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے گئے۔ اب ذرا غور کریں!! پاکستان تو زرخیز مٹی والا زرخیز موسموں والا ملک ہے۔ ہمیں ہاؤسنگ سوسائٹی بنانے سے فرصت ملے تو سوچنا کہ ہم کب ایک قوم بنیں گے ؟؟

کالم نگار : قدیر مصطفائی، برطانیہ
| | |
364