غصہ انسانی فطرت کا اہم جزو ہے جس سے بحیثیت انسان انبیاء کرام علیہم السلام بھی ماوراء نہیں۔البتہ اس رویئے میں افراط و تفریط سے معاشرتی ناہمواری جنم لیتی ہے۔
حتی کہ امام غزالی کی طرف منسوب قول کے مطابق جسے غصے کے وقت بھی غصہ نہ آئے تو وہ گدھا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ غصہ بر محل آئے اور اس پر قابو پائے اور اپنے قول و فعل سے کسی کو ناجائز ایذاء نہ پہنچائے۔
آج ہم سائنسی اعتبار سے اس پر روشنی ڈالتے ہیں۔جو شخص غصے کی کیمسٹری کو سمجھتا ہو وہ بڑی آسانی سے غصہ کنٹرول کر سکتا ہے۔
مثلاً ہمارے اندر سولہ کیمیکلز ہیں، یہ کیمیکلز ہمارے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں، ہمارے ایموشن ہمارے موڈز طے کرتے ہیں اور یہ موڈز ہماری شخصیت بناتے ہیں۔ ہمارے ہر رد عمل کا دورانیہ بارہ منٹ کا ہوتا ہے۔
مثلاً غصہ ایک جذبہ ہے، یہ جذبہ کیمیکل ری ایکشن سے پیدا ہوتا ہے۔ ہمارے جسم نے انسولین نہیں بنائی یا یہ ضرورت سے کم تھی۔ ہم نے ضرورت سے زیادہ نمک کھا لیا،
ہماری نیند پوری نہیں ہوئی یا پھر ہم خالی پیٹ گھر سے باہر آ گئے، اس کا کیا نتیجہ نکلے گا ؟ ہمارے اندر کیمیکل ری ایکشن ہو گا، یہ ری ایکشن ہمارا بلڈ پریشر بڑھا دے گا اور یہ بلڈ پریشر ہمارے اندر غصے کا جذبہ پیدا کر دے گا اور ہم بھڑک اٹھیں گے
لیکن ہماری یہ بھڑکن صرف بارہ منٹ طویل ہو گی، ہمارا جسم بارہ منٹ بعد غصے کو بجھانے والے کیمیکل پیدا کر دے گا اور یوں ہم اگلے پندرہ منٹوں میں بالکل ٹھنڈے اور نارمل ہو جائیں گے۔
(اب آپ رمضان المبارک میں ہونے والے بلاوجہ کے دنگے وفساد کی تہہ تک پہنچ گئے ہونگے)
خلاصہ کلام
یہ ہوا کہ اگر ہم غصے کے بارہ منٹوں کو مینیج کرنا سیکھ لیں تو پھر ہم غصے کی تباہ کاریوں سے بھی بچ سکتے ہیں۔
بات کو آگے بھڑھاتے ہیں۔
ہمارے چھ بنیادی فطری جذبات ہیں۔ غصہ،خوف، نفرت، حیرت، لطف(انجوائے) اور اداسی۔
ان تمام جذبات کی عمر صرف بارہ منٹ ہو تی ہے۔
ہمیں صرف بارہ منٹ کیلئے خوف آتا ہے، ہم صرف بارہ منٹ قہقہے لگا سکتے ہیں، ہم صرف بارہ منٹ اداس ہوتے ہیں، ہمیں نفرت بھی صرف بارہ منٹ کیلئے ہوتی ہے، ہمیں بارہ منٹ غصہ آتا ہے اور ہم پر حیرت کا غلبہ بھی صرف بارہ منٹ تک ہی رہتا ہے۔
ہمارا جسم بارہ منٹ بعد ہمارے ہر جذبے کو نارمل کر دیتا ہے۔
آپ ان جذبوں کو آگ کی طرح دیکھیں۔ آپ کے سامنے آگ پڑی ہے۔آپ اگر اس آگ پر تھوڑا تھوڑا تیل ڈالتے رہیں گے، آپ اگر اس پر خشک لکڑیاں رکھتے رہیں گے تو کیا ہو گا ؟ یہ آگ پھیلتی چلی جائے گی، بھڑکتی رہے گی۔
ہم میں سے زیادہ تر لوگ اپنے جذبات کو بجھانے کی بجائے ان پر تیل اور لکڑیاں ڈالنے لگتے ہیں چنانچہ وہ جذبہ جس نے بارہ منٹ میں نارمل ہو جانا تھا وہ دو دو، تین تین دن تک وسیع ہو جاتا ہے،
ہم اگر دو تین دن میں بھی نہ سنبھلیں تو وہ جذبہ ہمارا طویل موڈ بن جاتا ہے اور یہ موڈ ہماری شخصیت، ہماری پرسنیلٹی بن جاتا ہے۔ یوں لوگ ہمیں غصیل خان، اللہ دتہ اداس، ملک خوفزدہ، نفرت شاہ، میاں قہقہہ صاحب اور حیرت نشین کہنا شروع کر دیتے ہیں۔
ذرا نہیں پورا سوچیے!!
ا س کردار سازی میں بنیادی ہاتھ کس کا ہے؟ خود آپ اپنی تعمیر کر رہے ہیں
وجہ صاف ظاہر ہے، جذبے نے بارہ منٹ کیلئے ان کے چہرے پر دستک دی لیکن انہوں نے اسے واپس نہیں جانے دیا اور یوں وہ جذبہ حیرت ہو، قہقہہ ہو، نفرت ہو، خوف ہو، اداسی ہو یا پھر غصہ ہو وہ ان کی شخصیت بن کر رہ گیا۔ وہ ان کے چہرے پر ہمیشہ ہمیشہ کیلئے درج ہو کر شخصیت کا لازمی جزو بن گیا۔
یہ لوگ اگر وہ بارہ منٹ خود پر قابو پا کر میانہ روی و اعتدال پسندی کا دامن تھام لیتے تو یہ عمر بھر کی خرابی سے بچ جاتے، یہ کسی ایک جذبے کے غلام نہ بنتے اور نہ اس کے ہاتھوں بلیک میل ہوتے۔
لیکن ہوتا اس کے برعکس ہے ۔
کہتے ہیں کہ جب تمہیں غصہ آئے تو اگر کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ لیکن ہم اسکا بالکل عکس کرتے ہیں۔
کیونکہ ہم سب بارہ منٹ کے قیدی ہیں، ہم اگر کسی نہ کسی طرح یہ قید گزار لیں تو ہم لمبی قید سے بچ جاتے ہیں ورنہ یہ بارہ منٹ ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑتے۔( اچھا مزے کی بات یہ ہے کہ یہ غصہ ہے بھی ذرا سمجھ دار!! ہمیشہ اپنے سے کمتر پر آتا ہے اور اپنے سے برتر کے لیے تو زبان زد عام ہے کہ جا تجھے معاف کیا)
حکماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ عین غصہ کے وقت کوئی فیصلہ نہ کیا جائے۔ بلکہ فی الوقت معاملہ رفع دفع کرکے بعد میں معتدل و مطمئن ذہن سے فیصلہ کیا جائے تو اس کے دور رس نتائج نکلتے ہیں۔
مگر وائے افسوس کہ ہمیں فوری اور بروقت فیصلہ درکار ہوتا ہے اگرچہ بعد میں عمر بھر کا پچھتاوا روگ بن جائے( طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کو اسی تناظر میں دیکھیے)
جب بھی کسی جذبے کے غلبے میں آئیں تو میں سب سے پہلے اپنا منہ بند کر لیں زبان سے ایک لفظ نہیں بولیں۔
غصہ کو ٹھنڈا ہونے دیں ،قہقہہ لگانے کی بجائے صرف ہنسیں اور ہنستے ہنستے کوئی دوسرا کام شروع کر دیں۔ خوف، غصے، اداسی اور لطف کے حملے میں واک کیلئے چلے جائیں ، غسل کرلیں ، فون کرلیں، اپنے کمرے یا میز کی صفائی شروع کر دیں۔ اپنا بیگ کھول کر بیٹھ جائیں، اپنے کان اور آنکھیں بند کر کے لیٹ جائیں
یوں بارہ منٹ گزر جائیں گے اور طوفان ٹل جائے گا۔
عقل ٹھکانے پر آ جائے گی اور آپ فیصلے کے قابل ہو جائیں گے۔
آسمان گر جائے یا پھر زمین پھٹ جائے، منہ نہیں کھولیں
خاموش رہیں اور یہ بات طے شدہ ہے کہ سونامی خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو وہ خاموشی کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔وہ بہرحال پسپا ہو جاتاہے لہذا آپ بھی خاموش رہ کر زندگی کے تمام طوفانوں کو شکست دے سکتے ھیں۔
آخر میں حدیث کی روشنی میں غصے کے اعتبار سے انسانی معاشرے کی تقسیم بتلاتے ہیں۔
نمبر ایک پر ہیں بہترین لوگ جنہیں دیر سے غصہ آئے اور جلدی اتر جائے۔
دوسرے نمبر پر ہیں درمیانے طبقے کے لوگ جنہیں جلدی غصہ آئے اور دیر سے جائے ان میں ایک وصف اچھا اور ایک قابلِ اصلاح ہے
اور تیسرے نمبر پر ہیں بدترین لوگ جنہیں جلدی غصہ آجائے اور دیر سے جائے۔
گویا یہ اپنی اکڑ و برتری کے اس درجہ اسیر ہیں کہ اپنے آگے کسی کی معذرت و معافی کو در خوئے اعتناء نہیں سمجھتے۔