(+92) 319 4080233
کالم نگار

اُسامہ بلوچ

اُسامہ بلوچ

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
پاکستانی ڈرامے میں شرعی پردے کی تضحیک؟
پیمرا سے کارروائی کا مطالبہ:
نام نہاد اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اس وقت ٹی وی سکرینز پر ایک ڈرامہ آن ایئر چل رہا ہے جس میں شرعی پردے کے خلاف گھٹیا ترین اور ناقابل برداشت پراپگنڈہ کیا جا رہا ہے اسلام کے خلاف یہ پراپگنڈہ دیکھ کر یقین نہیں آتا یہ پاکستانی ڈرامہ ہے بلکہ ایسا لگتا ہے جیسے کسی مغربی ملک کا ڈرامہ ہے اس ڈرامے میں ایک شرعی پردہ کرنے والی لڑکی کو یونیورسٹی کے ماحول میں پہلے ایک اجنبی بیوقوف دکھایا جاتا ہے جیسے وہ پرانے زمانے کے دورِجاہلیت سے آئی ہو لڑکیاں برقعے کو چار میٹر اور تمبو کہتی ہیں جی ہاں برقعہ جو شرعی پردہ ہے اسے تمبو کا نام دیا گیا ہے اس ڈرامے میں یہ کوئی انجانے میں کہے گئے الفاظ نہیں ہیں بلکہ باقاعدہ منظم سکرپٹڈ ڈرامہ ہے جس میں سوچ سمجھ کر ایسے الفاظ کا چناو کیا گیا ہے تاکہ شرعی پردہ کو نئی نسل کے سامنے دقیانوسیت باور کرایا جائے پہلے اس لڑکی سے نام نہاد آزادی کے نام پر نقاب اتروایا جاتا ہے لڑکوں کی آنکھوں سے آنکھیں ملانا سکھایا جاتا ہے اور پھر مکمل برقعہ اتروا کر اسے نام نہاد آزادی دی جاتی ہے میں سمجھتا ہوں یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے اسلام کے خلاف ایسا گھٹیا پراپگنڈہ شاید انڈیا میں بھی نہیں ہوتا ہوگا سوشل میڈیا استعال کرنے والے احباب پیمرا کو متوجہ کریں اس ڈرامے کو چینل سمیت مکمل بین ہونا چاہیئے ویسے تو سارے ڈرامے حرام ہیں اسلام کے نام پر بننے والے ملک میں فلم اور ڈراموں کا بننا ہی ایک المیہ ہے لیکن اب بھانڈ اور میراثیوں میں اتنی جرات پیدا ہو گئی ہے کہ انہوں نے ڈراموں کے ذریعے ڈائریکٹ اسلام پر حملے شروع کر دیئے ہیں۔

کالم نگار : اُسامہ بلوچ
| | |
44