(+92) 319 4080233
کالم نگار

گل نوخیزاختر

گل نوخیزاختر

پروفائل | تمام کالمز
2026/10/14
موضوعات
کچھ لوگوں کویقین ہوتا ہے کہ وہ مکمل نیک ہوچکے ہیں
کچھ لوگوں کویقین ہوتا ہے کہ وہ مکمل نیک ہوچکے ہیں لہذا اب انہیں باقی لوگوں کی زندگی عذاب بنانی چاہیے۔ یہ دوسروں کے چھوٹے سے چھوٹے عمل کو باریک بینی سے دیکھتے ہیں اور کوئی نہ کوئی کیڑا نکال دیتے ہیں۔

یوٹیوب پر کوئی وڈیو اِن کے مزاج کے مطابق نہ ہو تو اس پر بھی زہر یلا کمنٹ کر ڈالتے ہیں۔ان کا دعویٰ ہوتاہے کہ یہ کسی سے نہیں ڈرتے اور ہمیشہ سچ بولتے ہیں۔ایسے لوگ سچ بولنے میں جتنے بہادر ہوتے ہیں سچ سننے میں اتنے ہی خونخوار ثابت ہوتے ہیں۔آپ کبھی کسی ایسے بندے کو اُس کی کوئی خامی بتا کر دیکھئے وہ آپ کا جینا محال کردے گا۔خامی صرف آپ میں ہوتی ہے بتانے والے میں نہیں۔سچ وہ ہے جو دوسرا بتائے، آپ کا سچ توکج بحثی ہے۔میرا ماننا ہے کہ سچ بہت خوبصورت اور میٹھا ہوتاہے لیکن سنانے والے اس میں کڑواہٹ بھر دیتے ہیں اور پھر کندھے اُچکا کر کہتے ہیں کہ ’سچ کڑوا ہوتاہے‘۔زہر میں بھی میٹھا ملا دیا جائے تو ذائقے دار ہوجاتاہے لیکن کھیر میں کوڑھ تمہ ملا دیں گے تو کس کو پسند آئے گی؟یہ رویہ عام طورپر دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک جملہ جو ساری بات، ساری شکایت بیان کرسکتاہے اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا ایسا بدہیئت جملہ شامل کردیا جاتاہے جو بم ثابت ہوتاہے۔

میری گلی میں ایک صاحب رہتے ہیں جو یہی کام کرتے ہیں۔پہلا جملہ بڑے پیار سے بولتے ہیں اور اس کے بعد بات ختم کرنے کی بجائے چھوٹا سا راکٹ لانچر چلا دیتے ہیں۔کسی نوجوان کی بائیک کے سائلنسر سے زیادہ دھواں نکلتا دیکھیں گے تو اسے پیار سے سمجھائیں گے کہ ’بیٹا اس دھوئیں سے تمہاری بائیک کا انجن بھی متاثرہوگا اور فضا میں بھی آلودگی پھیلے گی‘۔ یہاں تک تو بات ٹھیک ہے۔ تاہم اپنی ازلی عادت سے مجبور ہیں لہذا بات ختم کرنے کی بجائے اگلا جملہ لڑھکائیں گے’یونہی لوگوں کی صحت خراب کرو گے تو قبر میں تمہاری لاش کو بجو کھائیں گے‘۔اس آخری جملے کے بعد ساری بات کھوہ کھاتے جاپڑتی ہے اور لڑائی شروع ہوجاتی ہے۔

بچپن سے فلموں میں دیکھتے آرہے ہیں کہ لڑکالڑکی جتنا ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں، اگنور کرتے ہیں بعد میں انہیں اتنی ہی گھمسان کی محبت ہوجاتی ہے۔آٹھویں جماعت میں ماسٹر صاحب ایک راز کی بات بتایا کرتے تھے کہ اگر لڑکیوں پر توجہ نہ دی جائے تو وہ آپ کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں۔ بعد میں پتا چلا کہ بات الٹ ہے۔ جولڑکیوں کو توجہ دیتا ہے وہ اُسی کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں۔برسوں بعد ماسٹر صاحب سے ملاقات ہوئی تو اُن سے اِس ناکام سٹریٹجی کے بارے میں پوچھا۔جواب میں ماسٹر صاحب کے چہرے پر رونق پھیل گئی۔کھلکھلا کر بولے’تم سب کو اِن چکروں سے باز رکھنے کا یہی ایک طریقہ تھا۔‘ماسٹر صاحب کی پلاننگ اپنی جگہ لیکن یہ سچ ہے کہ لڑائی کے بعد کی محبت بہت پائیدار ہوتی ہے۔کبھی ان رشتہ داروں کی طرف جائیں جن سے آپ کئی برسوں سے نہیں ملے، جن سے کوئی خاندانی عداوت ہے۔یقین کریں وہ سب کو چھوڑ کر آپ کی خدمت کے لیے کمربستہ نظر آئیں گے۔زندگی میں نوٹ کیجئے۔آپ کے جتنے پیارے، جتنے جگری دوست ہوں گے ان میں سے کئی ایک ایسے ہوں گے جن سے آپ کی پہلی ملاقات یا تو انتہائی نفرت کے ماحول میں شروع ہوئی ہوگی یا ابتداء کا باعث کوئی لڑائی جھگڑا بنا ہوگا۔ ہمیں سکول میں جو ماسٹر سب سے زیادہ پھینٹی لگاتے تھے وہ آج کہیں مل جائیں تو سب سے زیادہ پیارے لگتے ہیں۔ماں جتنا بچوں کو مارتی ہے بچے اُتنا ہی ماں کے پیار میں گندھے چلے جاتے ہیں۔محبت کی فراوانی نفرت کی طرف رینگنے لگتی ہے جبکہ نفرت ظلم کی طرح ہے حد سے بڑھ جائے تو اکثرمٹ جاتی ہے۔اس کا عملی مظاہرہ آپ سوشل میڈیا پر دیکھتے ہوں گے۔کوئی وڈیو لگتی ہے، نفرت سے بھرپور کمنٹس آتے ہیں۔پھر کچھ ہی دنوں میں یہ ساری نفرت آہستہ آہستہ ملزم کے حق میں جانے لگتی ہے اورلوگ ڈھونڈڈھونڈ کر طرفداری والے نکتے بیان کرنے لگتے ہیں۔فرسٹ امپریشن از دی لاسٹ امریشن والی تھیوری مجھے کبھی بھی ٹھیک نہیں لگتی۔مجھے لگتاہے لاسٹ امپریشن از دی فاسٹ امپریشن۔کسی نے پہلی ملاقات میں کیا کہا تھا یہ معنی نہیں رکھتا، بھول جاتاہے لیکن آخری ملاقات میں جو ہوا وہ زندگی کی سلیٹ پر ثبت ہوجاتاہے۔نہیں بھولتا۔

ایک حیرت انگیز خبر سن لیجئے۔سٹیج ڈرامے اچانک بہت اچھے ہوگئے ہیں۔ میں بھی اس پر یقین نہیں کر رہا تھا لیکن پھر ایک فنکار دوست نے زبردستی مجبور کیا اور لاہور کے تین تھیٹرز پر ڈرامے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اِن میں رقص بھی تھا، مزاح بھی تھا، جملے بازیاں بھی تھیں لیکن وہ مولوی مدن والی بات نہیں تھی جو اِس سے پہلے ہوتی تھی۔سارا کریڈٹ عظمیٰ بخاری کو جاتاہے جنہوں نے عملی قدم اٹھایا اور پنجاب کے سٹیج کو فیملی تھیٹر میں تبدیل کرنے کی ٹھانی۔اس سے بھی زیادہ عملی قدم سٹیج کے اُن فنکاروں نے اٹھایا جنہوں نے پہلے تو یہ تسلیم کیا کہ اس سے پہلے وہ جو کچھ کرتے رہے ہیں ان میں زیادہ تر بیہودگی تھی، پھر یہ عزم کیا کہ اب وہ ایسا کچھ نہیں کریں گے۔ تین ڈرامے دیکھنے کے بعد صورتحال یہ ہے کہ میں نے مزاح بھی انجوائے کیا، کہانی میں دلچسپی بھی محسوس ہوئی اور ایسا لگا جیسے 90کی دہائی کا سٹیج ڈرامہ دیکھ رہا ہوں۔فی الحال سٹیج ڈرامہ سدھر گیا ہے لیکن فلموں میں بیہودگی بڑھ گئی ہے۔حال ہی میں ایک اور پنجابی فلم ریلیز ہوئی ہے۔گھٹیا ترین پروڈکشن کوالٹی، کہانی کا نہ کوئی سر نہ پیر، ناقابل برداشت سین اور رالیں ٹپکاتے گانے۔پھر یہ کہتے ہیں کہ ہمیں داد تو دیں کہ ہم کچھ نہ کچھ کام تو کر رہے ہیں۔یہ کچھ نہ کچھ کام یہ ساری بربادی کی جڑ ہے۔فلم پیسے سے نہیں ذہن سے بنتی ہے۔ذہین دماغوں نے ایک کمرے بلکہ ایک گڑھے تک میں پوری فلم بنا دی اور دیکھنے والوں کو پلکیں تک نہیں جھپکنے دیں۔عظمیٰ بخاری صاحبہ کو اب ایسی پنجابی فلمیں بنانے والوں اور سنسر سرٹیفیکیٹ دینے والوں کو بھی گردن سے دبوچنا چاہیے.

کالم نگار : گل نوخیزاختر
| | |
33